Tuesday, December 20, 2016

نظم

*📚''زمین مجھے  پکارتی ہے''*

*✍🏻زارا فراز*

تم جو ازل سے ہی میری باتوں میں گم تهے
آج آواز کے نابود ہونے پر وحشت زدہ ہو
یہ تو سوچو !!!
متنفس ہونے کے باوجود بهی میں نے
آوازیں کیوں دفنادیں
سوچا تها محبت کو آزادی ملے گی تو
میرے ہونٹوں کی ہنسی کو شاداب رکهوگے
مگر کچھ بهی نہیں ایسا
جس طرح سوچا تها
جس طرح آسان سمجھ بیٹھی تهی
اگر شہر خموشاں میں آوازیں دفنانے کا
فیصلہ کیا ہے تو
کیا غلط کیا
تم صرف یہ وعدہ لے لیتے
"دعا میں یاد رکھنا"
با خدا عمر ہوں ہی سجدے میں گزار دیتی
اب تو میں نے خود کو خدا کے سپرد کردیا ہے
چند لمحوں کے لیے آزاد ہوتی ہوں
مگر میری باتوں سے مطمئن نہ ہوپاوگے
بهلا کیا روح کی تسکین پاوگے
وقت ختم ہوا
دیکھو ! زمین مجھے پکارتی ہے
اجازت دو .....!!!

نظم

*📚"سچ کہوں گی"*
*✍🏻زارا فراز*   

میں تم سے سچ کہوں گی
جب دل پر تمہاری باتیں
دستک دیں گی
دھڑکن نئے انداز لے کر
دھڑکا کریں گی
مجھے بھی پیار کا الہام ہو گا
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم آنکھیں ملا کر
میرے چہرے پر جهک کر
نظر سے شرارت کرو گے
اپنے مضبوط ہاتھوں کی
انگلیوں  کا ہلکا لمس
میرے ہونٹوں کو دو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم باتیں گھما کر
مجھے تھوڑا ستا کر
مجھے پل بھر رلا کر
محبت سے
اشک پونچھو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم، 
میرے لہجے میں آ کر
میرا سب کچھ گنواں کر
میری پہچان کھو کر
اپنی پہچان دو گے
مجھے اپنا کہو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
محبت کھول دوں گی
وفا کو لفظ دوں گی
نئے انداز دوں گی
میں تم کو چوم لوں گی

نظم

*📚نظم.....*
*عنوان... میں محبت ہوں*
*✍🏻تحریر...  زارا فراز*

------------------------
زندگی کی اجڑی ہوئی صورت لے کر
میں زمانے کی نظر میں ہوں
جانتی ہوں ....
گزرتے وقت کے بے اعتبار چہرے
وضاحتوں کے قائل ہیں
میں محبت ہوں
خود کو منوانے کا ہنر بھی جانتی ہوں
لیکن میری آرزوؤں کے رستے
نا جا نے کب اپنی منزلوں کو پائیں گے
میں تمہیں بتاؤں
محبت سے نا آشنا لوگ
سپنوں کے موتی چنتی ہوئی آنکھیں
گروی رکھ دیتے ہیں
بے نور ہوں
اپنی منزل کے ہزار رستے خود تلاشنا  میرا حوصلہ ہے
راہوں میں حائل ہونے والی
ضدی چٹانیں بھی
میراراستہ نہیں  روک سکتیں
زندگی کی اجڑی ہوئی صورت لے کر
میں خود ان ریت  لمحوں کا
دروازہ کھٹکھٹاونگی
جہاں بے وفائیاں
پھر کسی نئے محبوب کے ساتھ
مجھے گم کردینے کا
منصوبہ بنا رہی ہے......

Friday, December 2, 2016

نظم

*مختصر نظم*
*زارافراز*

زندگی  کے پھیکے  رنگوں  سے
دکھ کے کالے سائے
جیت گئے ہیں...!

نظم

*مختصر نظم*
*زارافراز*

دیکھ رہی ہوں
فضا کے  رنگ کتنے پھیکے پڑ گئے ہیں
بالکل میرے خوابوں جیسے

نظم

*مختصر نظم*
*زارافراز*

گزشتہ  شب
تمہارے شغل کے گواہ سب تھے
ٹوٹی ہوئی  چوڑی
خون کا قطرہ
دو چائے  کے کپ تھے....!

نظم

*کالبوت*
*تحریر....  زارا فراز*

عجب بے تکی خواہش ہے میری
میں خود  کو
ہر جانب  سے دیکھنا چاہتی  ہوں
آئینہ خانے میں بیٹھی
اپنی کئی تصویریں  بنا چکی ہوں
مگر جب
ہونٹوں  کے داہنے گوشے کے
بالکل پاس
زرا اوپر
تِل دھرنے کوشش  کرتی ہوں
سیاہی پورے  چہرے پر
پھیل جاتی ہے....!!!!

نظم

*مختصر نظم*
*زارافراز*
ذات کے میری بوسیدہ سے
گھر،  آنگن،  بستی اور سرحد
جس پر چلتی شاہی اس کی
میری ذات.....
حکومت اس کی
نا دوں پھر بھی
چھین  ہی لے گا

نظم

*نظم*

کتنی  شفاف ہے وہ  آواز
بالکل جھرنے جیسی
جس دل پر گرے
آئینہ کر دے.....

*زارا*

نظم

*نظم*

کبھی  ایسا بھی ہوتا ہے
محفل ہوتی ہے
اور دل تنہا ہوتا ہے

*زارا...*

نظم

*مختصر سی نظم*

*مجھے چھیڑ جائے*
*کبھی ایک بار...*
*تری قربتوں کا نشہ*
*پھر صنم عمر بھر*
*میں ترے جسم کی*
*خوشبوؤں کے قصیدے  لکھوں*

*زارافراز*

نظم

*چھوٹی سی نظم*

کل شب مجھ سے روٹھ کے تم
رخ کو بدل کر
سو بھی چکے تھے
پھر میں ساری  رات یونہی
اجڑی، بکھری، 
بے کل سی
پشت پہ تیری
انگشت شہادت
پھیر رہی تھی
اپنا ہی  نام لکھ  رہی تھی

*زارافراز*

نظم

*مختصر ترین نظم*

*ایک سوال*

*میں تنہا ہوں*
*مگر کیوں  کر؟*

*زارافراز*

نظم

*مختصر سی نظم*

*جب چاندنی*
*رات کی  باہوں پہ سر رکھتی ہے*
*یہ منظر آنکھ سے میری*
*سہا نہیں جاتا*
*میں آنکھیں موند لیتی ہوں*

*زارا*

نظم

*مختصر سی نظم*

*رات کی آہٹ پاتے ہی*
*یادیں.....*
*چونک  سی جاتی ہیں*
*میرے اندر.....  میرا ماضی*
*سسک کے رونےلگتا ہے*

نظم

*مختصر سی نظم*

*تاریک راتوں کی*
*مہیب خاموشی میں*
*اگر ماضی جاگ جائے تو*
*غم بولتا ہے ناں....؟*

*زارافراز*

نظم

*مختصر سی نظم*

*مجھے چھیڑ جائے*
*کبھی ایک بار...*
*تری قربتوں کے نشہ*
*پھر صنم عمر بھر*
*میں ترے جسم کی*
*خوشبوؤں کے قصیدے  لکھوں*

*زارافراز*

نظم

*مختصر نظم*
میں اپنی عمر سے زرا اور بڑی ہوکر
زندگی....…!!!!
تجھے سوچنے لگی ہوں

*زارا فراز*

نظم

📚✍🏻 *انتساب*

*زندگی کے  ان اداس  لمحوں  کے نام*
*جس نے مجھے، تنہائی  کے کرب*
*اور درد کی لذّت سے*
*آشنا کیا*