Tuesday, December 20, 2016

نظم

*📚"سچ کہوں گی"*
*✍🏻زارا فراز*   

میں تم سے سچ کہوں گی
جب دل پر تمہاری باتیں
دستک دیں گی
دھڑکن نئے انداز لے کر
دھڑکا کریں گی
مجھے بھی پیار کا الہام ہو گا
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم آنکھیں ملا کر
میرے چہرے پر جهک کر
نظر سے شرارت کرو گے
اپنے مضبوط ہاتھوں کی
انگلیوں  کا ہلکا لمس
میرے ہونٹوں کو دو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم باتیں گھما کر
مجھے تھوڑا ستا کر
مجھے پل بھر رلا کر
محبت سے
اشک پونچھو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم، 
میرے لہجے میں آ کر
میرا سب کچھ گنواں کر
میری پہچان کھو کر
اپنی پہچان دو گے
مجھے اپنا کہو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
محبت کھول دوں گی
وفا کو لفظ دوں گی
نئے انداز دوں گی
میں تم کو چوم لوں گی

No comments:

Post a Comment