Monday, May 8, 2017

Zara Faraz Mukhtasar Nazm

*نظم :---- 64*
*تحریر :---- زارافراز*

چاہتی ہوں
کوئی  ایسی نظم کہوں
جس میں تم
خود کو پا کر
دلکشی کے ساتھ،
پورے دل سے
مسکراؤ
اور میں اس  لمحے  کو
عمر بھر جیتی رہوں.....!!!!!
*مختصر نظم :--- 66*
*تحریر :----  زارافراز*

زندگی  کے پھیکے  رنگوں  سے
دکھ کے کالے سائے
جیت گئے ہیں.......!!
*کالبوت:---- 65*
*تحریر:--- زارا فراز*

عجب بے تکی خواہش ہے میری
میں خود کو
ہر جانب سے دیکھنا چاہتی ہوں
آئینہ خانے میں بیٹھی
اپنی کئی تصویریں بنا چکی ہوں
مگر جب
ہونٹوں کے داہنے گوشے کے
بالکل پاس
زرا اوپر
تِل دھرنے کی کوشش کرتی ہوں
سیاہی پورے چہرے پر
پھیل جاتی ہے....!!!!
*مختصر نظم :---- 67*
*مختصر :--- زارافراز*

دیکھ رہی ہوں
فضا کے  رنگ کتنے پھیکے پڑ گئے ہیں
بالکل میرے خوابوں جیسے
*مختصر نظم :--- 68*
*تحریر : ----زارافراز*

گزشتہ  شب
تمہارے شغل کے گواہ سب تھے
ٹوٹی ہوئی  چوڑی
خون کا قطرہ
دو چائے  کے کپ تھے....!
*نظم :--- 70*
*عنوان :---- زخم*
*تحریر :------ زارافراز*

میری ذات کا مشکوک ہونا
بلکہ مجرم ہونے کے لیے
میرے ہاتھ کا سرخ ہونا ہی کافی ہے
اس سے آگے کون سوچے گا
کہ یہ ہاتھ قاتل ہیں
یا زخمی....!!
*مختصر نظم :-----71*
*تحرير :-----  زارافراز*

آنکھیں  کا خمار
اتنا کہتا  ہے
نیند کی طلب
اور جاگنے کی خواہش بس
*مختصر نظم :--- 69*
*تحریر :---- زارافراز*

ذات کے میری بوسیدہ سے
گھر، آنگن، بستی اور سرحد
جس پر چلتی شاہی اس کی
میری ذات........
حکومت اس کی
نا دوں پھر بھی
چھین  ہی لے گا
*مختصر نظم :--- 72*
*تحرير :-----زارافراز*

آنکھیں پڑھ لو...
یہ میرا  آخری کلام ہے
*مختصر نظم :---74*
*تحرير :------ زارافراز*

مجھے تم
تنہا چھوڑ دو
میں اپنے ساتھ ہی خوش ہوں.....
زارا فراز
*مختصر نظم :--- 73*
*تحرير :----- زارافراز*

کتنی  شفاف ہے وہ  آواز
بالکل جھرنے جیسی
جس دل پر گرے
آئینہ کر دے.....
*مختصر نظم :------ 76*
*عنوان :--- "قصہ"*
*تحریر :------ زارافراز*

وہ بے وفا نہیں تھا
  بدل گیا۔۔------
*مختصر نظم :----- 75*
*تحرير :------- زرا فراز*

وہ میری
خودکشی سے
پہلے ہی
مجھ کو مار ڈالا تھا
*مختصر نظم :-----77*
*تحریر :------زارافراز*

میں کوئی ایسی نظم کہوں
جس میں تم خود کو دیکھ کر
ایسے مسکراو کہ
میں جی اٹھوں……
*مختصر نظم :------79*
*تحریر :------- زارافراز*

ایسا لگتا ہے
میں خود کے اندر
دفن ہو چکی ہوں ----
*مختصر نظم :----78*
*تحریر :------- زارافراز*

مجھے اپنی دھڑکن کی
بے ترتیبی اور بھی
اچھی لگنے لگتی ہے
جب تمہاری مدہوش نگاہیں
میرے چہرے پر
ٹھہر جاتی ہیں ---
*مختصر نظم :---- 80*
*تحریر :------ زارافراز*

کبھی تم چاند بن کر
اترو ......!!
میری انکھوں میں ----
*نظم :-----81*
*تحرير:----- زارافراز*

بس ....
میری زندگی کے ایک روز
جی کر دیکھ لو
محبت،درد، بے چینی،بے قراری
وارفتگی اکیلے پن کا احساس اور
پهر نارسائی کے تمام دکھ
جان جاو گے.........
*نظم:-----38*
✍🏻 *تحریر :----- زارافراز*

یہ کیسی  آزادی ہے  کہ
حیات بے کراں کی دیواروں پر
کھلنے والے سارے دریچے
وا کردیے گئے ہیں
پهر بهی ایک حبس ہے کہ
سارے ماحول میں پھیل رہا ہے
گھٹن سی اپنے اندر اترتی جاتی ہے
ایک اندھیرا ہے جو سارے وجود کو
اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے
ایک لامتناہی اداسی ........
جو سانس لینے ہی نہیں دیتی
تنہائی کا احساس ایسا جیسے
زندہ رہنے کا جواز ہی چهن گیا ہو
بے جواز خواب،
اپنی آخری آرام جا  پر پڑے
اپنے ہونے نہ ہونے کا
ماتم کرتے جا رہے ہیں
آواز دور نہیں جاتی
آزادی مل گئی لیکن
آزادی کی نادیدہ فلک بوس دیوار پر
سبز،گلابی شب و روز چن دیے گئے ہیں-
*نظم :---- 82*
*تحرير :----- زارافراز*

تم چاند بن کے
اترو
میری آنکھوں میں
میرے  اندر کے سارے موسموں کو
بھر دو
اپنی چاہتوں  کی روشنی  سے!
*نظم :---61*
*تحریر :---- زارافراز*

محبت کے ارکان میں
زندگی کا جینا
ایک اہم رکن ہے
وہ زندگی سے منکر تھا
سو آخری وقت میں
محبت سلب ہوگئی اس کی
*نظم :--- 83*
*تحرير :---- زارافراز*

*تمہاری یاد کا سورج*
*جب نکلتا ہے*
*ہمارے آنکھ میں دریا*
*اچھال دیتا ہے*
*نظم :--- 83*
*تحرير :---- زارافراز*

*تمہاری یاد کا سورج*
*جب نکلتا ہے*
*ہماری آنکھ میں دریا*
*اچھال دیتا ہے*
*مختصر نظم :--- 85*
*تحرير :------- زارافراز*

ترے قرب نے مجھے
تنہائی بخشی
*نظم :----84*
*تحرير :----- زارافراز*


دل وحشی کو
چاٹ رہی ہے 
دھیرے دھیرے دل آنگن کی
ویرانی.....
*نظم :-----86*
*عنوان :---تلخ سچائی*
*تحریر :----- زارافراز*

میری خودکشی سے
پہلے ہی
وہ مجھ کو مار ڈالا تھا
*نظم :---- 87*
*تحرير :---- زارافراز*

کبھی کبھی
ایسا لگتا ہے
محفلیں  ہوتی ہیں
اور دل تنہا ہوتا ہے
*مختصر نظم :--- 88*
*تحرير :---- زارافراز*

تشنہ لبوں کو رکھا
جو تو نے
میرے لبوں  پر
مدّت کے بعد،  وہ شخص
شدت سے یاد آیا
*نظم :--------- 60*
*تحریر :----- زارافراز*

پہلی نظم کی اشاعت پر
پاپا میرے پاس آئے
حزن و ملال ایسا تھا
ان کے چہرے پر
جیسے
فصیلوں کی بلندی کو پھلانگ کر
عزت دار گھرانے کے نام و نہال باپ کی
جوان بیٹی 
بھاگ گئی ہو ---
*نظم :----- 89*
*تحرير :---- زارافراز*

بہت حیران ہوں جاناں
کہ اتنے صاف لفظوں میں
محبت کو بیاں کر کے
یہ مجھ کو رازداں کرکے
جگر کے بھید کہہ دینا
اظہارِ دل بھی کر دینا

کہاں میں اس کے قابل ہوں
کہ تم کو ہم سفر چن لوں
ابھی تم میرے دنیا کے نئے مہمان ہو جاناں
ابھی تم نے نہیں  جانا
یہ میری زندگانی کُل
میں اپنی ہی کہانی میں
فقط  کردار ہوں سچی
میں تم کیا بتاؤں کہ
میں اب بھی امتحاں میں ہوں
محبت کی  کہانی میں
ہر ایک داستاں میں ہوں
تمہیں ایک روز میں اپنی
کہانی  پھر سناؤں گی
تمہیں  سب کچھ بتاؤں گی
تمہیں سب کچھ بتاؤں گی....
تمہیں حیران کر دوں گی......
📚 *نظم:----  91*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*
سنو جاناں!
تمہیں  مجھ سے شکایت ہے
کہ تم سے بولتی کم ہوں
کسی رستے کے نکّڑ پر
میں تم سےاتفاقاً مل  بھی جاؤں تو
فقط رسمی سی باتیں ہی
کر کے لوٹ جاتی ہوں 
تمہارا دل دکھاتی ہوں
مگر میں کیا کہوں  تم سے
تمہیں  کیسے بتاؤں کہ.....
تمہیں کیا کیا بتاؤں کہ....
میں اب  بھی امتحاں میں  ہوں
میں اب بھی امتحاں میں ہوں
یہ میری بے بسی ہے کہ
تمہیں کچھ کہہ نہیں  سکتی
زرا سی  لب کشائی پر
تمہیں  تکلیف تو ہوگی
زرا سا ٹوٹ جاؤگے
تو پھر سے روٹھ جاؤ گے

مجھے معلوم ہے  جاناں
کہ تم بھی امتحاں میں  ہو
تمہیں بھی روگ چاہت کا
مسلسل کھا رہا ہے ناں؟
تمہیں  بھی رات بھر جاناں
نہیں ملتی ہے راحت ناں؟
تمہاری نیندیں بھی آنکھوں سے
کوسوں دور رہتی ہیں
تمہیں  بھی ایسا لگتا ہے.
محبت نہ ملی گر تو
خوشی بھی خودکشی کر لے
ابھی آنکھیں تمہاری بھی
بہت سے خواب بنتی ہیں
مجھے معلوم ہے  جاناں
دعاوں کے فقط کچھ حرف
تمہارے ساتھ رہتے ہیں
تمہارا حوصلہ ہیں وہ
میں یہ بھی جانتی ہوں کہ
تمہیں  منزل  ملے گی جب
محبت ہم قدم ہوگی
تمہاری  زندگی میں  پھر
میرا ہونا،  نہیں ہونا
کوئی  معنی نہ رکھّے گا
ہنسو گے تم بھی ماضی پر
اور ہنس کر بول اٹھّو گے
"یہ میں بھی کتنا پاگل تھا
اسے دنیا سمجھتا تھا
مگر صرف ایک لڑکی پر
یہ دنیا رک نہیں جاتی
اگر وہ ہم سفر ہوتی
توکچھ آسان تھا جینا
مگر اب بھی نہیں  مشکل
میں  جی سکتا ہوں  اس کے بن"

سنو جاناں!
گزرتی ساعتوں کے  ساتھ
تمہارا فیصلہ یہ بھی
غلط ہرگز نہیں  ہوگا
مگر جو بھی فیصلہ کرنا
اسی پہ تم جمے رہنا
کسی آہٹ کو پاکر تم
کسی بھی موڑ پر رک کر
پلٹ کر پھر نہیں  تکنا
تمہیں  میں سچ بتاتی ہوں
بہت سی  آہٹیں جاناں
قدم آدم نہیں  ہوتیں
مجھے یہ خوف ہے لاحق
کہیں سرکش بلائیں ہی
لپٹ کر سبز قدموں سے
تمہیں ویران نہ کر دے
فقط بس  اس لئے جاناں
بہت  مشغول رہتی ہوں
عبادت میں، دعاؤں میں
یہی بس عزم ہے میرا
خدا سے جانِ جاناں کی
ضمانت لے کر اٹھوں گی
قیامت تک خدائے پاک
کی پناہوں میں
میں تم کو  دے کے آٹھوں گی
سنو اک بات  اور جاناں
میری ہی ذات سے
کسی بھی پل
بدگمانی تم نہیں  پالو
میں  تم سے سچ بتاتی ہوں
میں اک سچی لڑکی ہوں
*نظم :----90*
*تحرير :---- زارافراز*

وفا کے شوخ قصوں میں
یہ میرا تذکرہ کیسا
کئی صدیوں سے میری تو
دکھوں کی داستانوں سے
بڑی ہی ہمنوائی ہے
مرے دل نے بھی چاہت میں
ہمیشہ چوٹ کھائی ہے
سو اب ہے التجا میری
اے میرے ہمسفر تجھ  سے
مجھے آزاد تو کر دے
فقط اپنی  محبت سے....!!
📚 *نظم  :----  92*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

حبیبی سن رہے ہو ناں!
کبھی یہ میری حسرت تھی
کبھی یہ دل  کو خواہش تھی
کبھی جب تم  پکارو گے
مجھے دل سے بلاؤگے
مجھے *زارا* پکارو گے
فقط یہ نام تھا مجھے کو
بہت پیارا
مگر اب  نجانے کیوں
میری طبیعت بدلتی ہے
میری چاہت مچلتی ہے
تمہارا ساتھ ہے ہر پل
جو دل کو شاد رکھتا ہے
تمہیں یہ بھی  بتا دؤں کہ
اب میں  چاہتی کیا ہوں
تم جب بھی محبت سے
میرے  بازو کو تھامو گے
کلائی میری پکڑو گے
فقط اس گھڑی ہم دم
تمہیں اتنی اجازت ہے
مجھے *زارا* نہیں کہنا
مجھے  *جاناں* پکارو گے
📚 *نظم :----- 93*
✍🏻 *تحریر:----- زارا فراز*

اداس نظریں،لبوں کی آہیں
بتا رہی ہیں  کہ رو چکے ہو
میں جانتی ہوں مجھ ہی سے جاناں!
چھپا رہے ہو کہ رو چکے ہو
شبِ گزشتہ کہاں تھے جاناں ؟
کن مصائب میں گھر چکے تھے؟
تم آہیں بھرتے رہو گے یوں ہی
یا مجھ کو کوئی  خبر بھی دو گے؟
لحافِ غم میں  کیوں چھپ رہے ہو
خوشیاں تم کو ہی دھونڈتی ہیں
یہ بز دلی ہے،  کہ بس ایک پل میں
ضبط کھو کر ہی رو چکے ہو
تمہارے سنگ تو  ابھی ہوں میں بھی
ابھی تو تم بھی ہو کچھ مکمل
آخر خود کو کیوں سمجھ رہے ہو
اجڑے، بکھرے   اور ادھورے!!!
تم حد سے زیادہ  ہی سوچتے ہو
میں جانتی ہوں کہ رو چکے ہو
کیا اپنی زارا کو کھو چکے ہو؟
کیا یہ بھی کم ہے کہ دوست ہیں ہم
پھر  یہ بتاؤ کیوں رو رہے ہو
جتنا رونا تھا رو چکے تم
اشک پونچھو اور مسکرادو
آہ جاناں،  یہ میرا سارا
ستارہ  آنچل بھگو چکے ہو
یہ سرخ آنکھیں،   اداس لہجہ
بتا رہے ہیں  کہ رو چکے ہو
میں جانتی ہوں  مجھ ہی سے جاناں
چھپا  رہے ہو کہ رو چکے ہو
*ایک شعر*

پھر کسی ظالم کے زد میں آ نہ جائے آشیاں
سوچتی ہے ایک چڑیا گھر بچانا چاہئے

*زارا فراز*
*ایک شعر*

میں اب ڈرنے لگی ہوں زندگی سے
مرے اندر کوئی مرنے لگا ہے....
*زارا*
*ایک شعر*

*"یہ ترک محبت کا قصہ،  کچھ ایسے  عمل میں  آیا ہے*
*اس نے بھی پلٹ کر نا دیکھا،  میں نے بھی اسے آواز  نہ دی"*
*واپسی*

ماضی کی دہلیز پہ جا کر
یادوں کے تابوت سجا کر
عشق کو ابدی نیند سلا کر
تیری دنیا لوٹ آئی ہوں

*زارا فراز*
*ایک شعر*

تمہیں محسوس ہوتا ہے
مرا ہونا،  نہیں ہونا؟

*زارافراز*
*ایک شعر*

وہ جو کھلتے گلاب  جیسا تھا
وہ بھی چہرہ اداس رہتا ہے
زارا
*دو شعر*

موسم کوئی گلاب سا ٹھہرا ہے آج بھی
آنکھوں پہ ان کے خواب کا پہرا ہے آج بھی
لاتے نہیں ہیں کوئی بهی شکوہ زباں پہ ہم
حالانکہ اپنا زخم تو گہرا ہے آج بھی

زارافراز
*ایک شعر*

میں  غموں  کی سچّی  کتاب ہوں
مجھے قہقہوں سے لکھا نہ کر

*زارا*
ایک شعر

*خدایا میں ایسا ہنر چاہتی ہوں*
*جو پل میں محبت کو میرا بنادے*

زارافراز
*ایک شعر*

نگاہیں پھیر لی اس نے
محبت  چھوڑ دی شاید

*زارا*
*ایک شعر*

اس کے اندر،  میں مر گئی شاید
جو مری شاعری میں  جیتا ہے

*زارافراز*
*میری ڈائری سے*
*تحریر :--- زارافراز*

ایسا لگتا ہے
میں خود کے اندر
دفن ہو چکی ہوں
*ایک  شعر*
گر مرے  اختیار میں ہوتا
میں ترا انتخاب کر لیتی

*زارا  فراز*
*میری ڈائری سے*
*تحریر :---- زارافراز*

کچھ لوگ  بند کتاب کی طرح ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے کی کوشش کریں تو ورق ورق  چاک ہوتا جاتا ہے تحریر پھر بھی واضح نہیں ہوتی
*تحریر :------  زارافراز*

جب روح زخمی ہو جائے
تب بھی آنکھوں میں ہی
کرب اترتا ہے مگر
چھلکنے والے انسو کا
کوئی رنگ ہی نہیں ہوتا
گیلی پلکیں دیکھ کر
لوگ یہی سمجھتے ہیں
"شاید" آنکھوں میں
ریت پڑگئی ہے"----
*ایک شعر*
آج وہ اس قدر ہنسا کہ لگا
قہقہے ہی مجھے رلا  دیں گے

*زارافراز*
*نظم 94..  نیا قانون*
*تحریر..... زارا فراز*

سہ رنگی  جھنڈوں کو لے کر
گلی گلی میں
گھوم رہا ہے
ننھا سا اک پیارا بچہ
شور مچا کر آتے جاتے
ہر اک شخص کو روک رہا ہے
بول رہا ہے
"جھنڈے لے لو"
"جھنڈے لے لو"
"اپنا گھر اور کار سجاؤ"
"اپنے  بچوں کو بہلاؤ"
دور کہیں افلاک کی آنکھیں
آنسو روکے، 
دکھ سے اس کو
دیکھ رہی ہیں
سوچ رہی ہیں
کاغذ کے بے جان یہ جھنڈے
بے شک  ملک کی  شان ہیں لیکن
جس کے دم سے رشک ارم
اس ملک کا گوشہ گوشہ ہوگا
بن کپڑوں کے
اس بچے کو
کوئی اک پوشاک دلا دے
تین دنوں سے بھوکا ہے وہ
کھانے کا سامان دلا دے
جگ سے جو افلاس   مٹا دے
اک ایسا قانون  بنا دے....
*95   محبت بھی عبارت ہے*
*زارا فراز*

محبت بھی عبادت ہے
عبادت  دل سے ہوتی ہے
تمنائیں مقدس ہیں
انھیں ہی سینچ کر دل میں
وفا پروان چڑھتی ہے
وہ کیسے  لوگ ہوتے ہیں
عبادت کے لئے بھی جو
کبھی رمضان
کبھی شعبان
کبھی معراج کی شب کو
فقط مخصوص کرتے ہیں
عبادت کے لئے کوئی بھی دن مخصوص کیا کرنا؟
محبت بھی عبادت ہے
اسے بھی لوگ جانے کیوں
کسی مخصوص ماہ و سال پر کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟
مرے دل کو یہ لگتا ہے
محبت بس عبادت ہے
"عبادت روز ہوتی ہے"
قضا جس نے محبت کی
وہی چاہت ادھوری کی
ادھورا عشق
ادھورا پیار
ادھوری چاہتیں...... اے دوست!
کبھی تکمیل کیا پائیں
بہت سے لوگ  ہوتے ہیں
ادھورا پیار کرتے ہیں
آدھوری راہ تک  چل کر
کہیں منزل سے پہلے ہی
سہارا چھین لیتے اور
وعدے توڑ دیتے ہیں
وہ دل بھی توڑ دیتے ہیں
محبت چھوڑ دیتے ہیں
عبادت چھوڑ دیتے ہیں
محبت بھی عبادت ہے
*الفاظ کا ر شتہ*
*تحریر...... زارا فراز*

نہ میں نے تم کو دیکھا ہے
نہ تم نے مجھ کو دیکھا ہے
ہمارے درمیاں رشتہ
فقط لفظوں کا قائم ہے
تمہاری بزم میں جانے
میں کیسے کس طرح  پہنچی
مگر جس روز سے آئی
تمہاری بزم میں جاناں!
اسی دن کے کسی لمحے
تخیل کے مراحل سے
گزر میرا ہوا تھا پھر
اسی پل ہی مرے اندر....
ہوا ادراک الفت کا
مجھے پل میں سمجھ آیا
وفا کیا چیز ہوتی ہے؟
دعا کیا چیز ہوتی ہے؟
دعا جو ہر گھڑی مجھ کو
مرے احباب دیتے ہیں
مری ہر اک پریشانی کو یہ آسان کرتی ہے
میں نازاں ہوں کہ قسمت میں
کئی احباب ہیں میرے
انہیں احباب میں مجھ کو
ملا اک بھائی پیارا سا
ملا اک دوست بھی سچا
ملی پیاری سی اک بہنا
کبھی میں تھی ادھوری سی
مگر اب ہوں مکمل میں
مجھے حاصل رفاقت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہے
یہ دونوں جانتے ہیں کہ
ہمارے درمیان قائم
فقط  لفظوں کا رشتہ ہے
محبت سے جو بڑھ کر ہے
عبادت سے ذرا کم ہے...!!!!
*میں اداس ہوں*
*زارا فراز*

اے اداس دل
تجھے  کیا پتہ
مجھے حق ملا نہیں پیار کا
میں غریب تھی
میں غریب ہوں
مرے سر پہ کوئی بھی چھت نہیں
مری زیست میں بڑی دور تک
ہے مصیبتوں کی دھوپ بس
مری زندگی میں
کہیں نہیں
کوئی شائبہ بھی بہار کا
میں  ہوں بے اماں
نہ کبھی ملیں
مجھے چاہتیں
نہ کبھی کسی کی رفاقتیں،
مجھے بس ملی ہیں
اداسیاں
میں اداس تھی
میں اداس ہوں
*نظم*
*زارافراز*

یہ میرا تجھ سے وعدہ ہے
کہ اک دن لوٹ آؤں گی
تری محفل  سجاؤں گی
بہت سے لوگ  کہتے ہیں
کہ میرے بن تری محفل
بہت ویران رہتی ہے
ہاں میرے بعد کسی نے پھر
تجھے ہنستے نہیں  دیکھا
مگر ترا یہ وعدہ تھا
مجھ سے دور ہو کر بھی
کبھی غمگین نہ ہو گے
مگر پھر کیوں تری آنکھوں
بجھتی جاتی ہیں..  آخر کیوں
مگر پھر کیوں ترا لہجہ
شکستہ ہے؟ بکھیرتے ہو
وہ دیکھو چاند نکلا ہے
ستارے جھلملاتے ہیں
یہ میرا تجھ سے  وعدہ ہے
میں اک دن لوٹ آؤں گی.....

Zara Faraz Nazm

*نظم :------31*
*عنوان :---"""موسم"""*    
*تحریر :----- زارافراز*       

سنو.....!!!
میں تمہاری بے وفائی کو
لفظ دینا ہی  نہیں چاہتی
سو آج تک.....
تمہاری آنکھوں کے بدلتے رنگ کے
قصے  نہیں  لکھے
تمہارے سفاک لہجے کے تمام کذب
الفاظ زہر بن کے لمحہ بہ لمحہ
میرے دل کو نیلا کر رہے ہیں
تمہارے ساتھ  کے گلاب لمحے
وقت  کی  شاخ سے جهڑ کر
خزاں کے موسم  کے سپرد کردیے گئے ہیں
اب آنکھیں خالی ہیں 
خواب  بے مایا
میری رنج زدہ راتوں نے
بارش کے موسم میں بهی
آنسوؤں کا نمکین ذائقہ
بہت جبر اور شدتوں سے چکها ہے
لیکن تمہیں اس سے کیا
سنا ہے ......
تمہارے شہر ذات میں پهر سے
زمستاں کی سہانی رت آئی ہے
اور گزری شبوں کی طرح
تمہارے بستر پر
شکنیں پڑنے لگی ہیں -
*نظم :-------- 32*
*عنوان :-- شاید مجھ کو فون  کرے گا*
*تحریر :--- زارافراز*

ہر آہٹ پہ میری دھڑکن
اپنی ہر  رفتار سے بڑھ  کر
نا جانے کیوں دھڑک رہی ہے
ہوا کی انگلی
جب جب دستک
دیتی ہے دروازے پر
میں بیٹھے بٹھائے چونک رہی ہوں
دروازے سے
جھانک کے ہر دم
دیکھ رہی ہوں
دور  تلک سناٹا پا کر
مایوسی کی  چادر اوڑھے
واپس دھیمے قدموں سے
اپنے  کمرے لوٹ رہی ہوں
گھر پہ جس دم فون بجے تو
دل میں اور  بھی 
ہلچل پاؤں
تیز روی سے فون اٹھاؤں
اور جب وہ آواز نہ پاؤں
ایک ہی پل میں
مرتی جاؤں
میں اس کو کیسے بتلاؤں
"ترک وفا کے بعد بھی جاناں
دل کے ایک گوشے میں اب بھی
امیدوں   کی  دیپ ہے روشن"
ہر دستک پہ،
اس کی  آہٹ
ہر آہٹ پہ، اس کی خوشبو
ہر خوشبو پہ، اس کی  آمد
سوچ رہی ہوں..........
وہ  آئے گا
نا آئے تو فون کرے گا...
*نظم :---- 33*
*عنوان :--- میں آج اسے خط لکھوں گی*
*تحریر :---- زارافراز*

میں نے سوچا ہے
"دل نکلا کر اپنا
کاغذ پہ رکھ دوں گی
داستان  لکھوں گی محبت  کی
ساری بیتابی،
بے کل اور بے چین  راتوں  کی کہانی
لکھ ڈالوں  گی
اس بتا دوں گی
تنہائی، کیسا عذاب  ہوتا ہے
سانس چلتی ہے مگر
زندہ  ہونے کا احساس  نہیں ہوتا
آہٹ ہوتی ہے مگر،
کوئی  دروازے پر دستک نہیں  دیتا
میری سانسوں میں کبھی کبھی، کسی لمحے
خوشبو سی اترتی ہے
مگر اس کے جسم کا لمس میسر نہیں  ہوتا
محروم محبت  کے
اس احساس  تلے
میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی  ہوں
مگر تب بھی اس کی انگلیوں کی پوریاں،
میرے آنسو نہیں چنتیں'
میں اسے کہہ دوں گی
اسے میں بے پناہ
پیار کرتی ہوں
میں گر جیتی ہوں
تو بس اس امید پر
کبھی وہ مجھے  اپنے  شانے کا سہارا  دے  گا
مجھے بھی ٹوٹ  کر پیار کرے گا
وہ بس پیار ہی پیار دے گا
خفا ہر گز نہ ہو گا
مگر وہ  جانِ حیات....!
میں نے سوچا ہے
آج اسے خط لکھوں گی
وہ مسلسل کئی رتوں  سے
خفا ہے مجھ سے
کتنا چپ چپ سا
اکھڑا اکھڑا سا
رہنے لگا ہے مجھ سے
وہ یہ بھی جانتا ہے
اس کی ناراضگی
میری بیتابی کو بڑھا دے گی
اداس کر دے گی
مگر وہ مکمل  بے پرواہ ہے
میری کیفیت  سے،
میں گھبرائی گھبرائی سی
بس اسی کی فکر میں
ہلکان ہو کر
صحر سے زرا پہلے
نیند کے آغوش  میں چلی بھی جاؤں  تو
خواب اسی کے دیکھوں گی
وہ سب جانتا ہے پر
وہ ہر لمحہ یہ چاہتا ہے
تجدید وفا کرتی رہوں
میں آج اسے خط لکھوں گی
دل نکال کر اپنا
کاغذ پر رکھ ہوں گی
جذبات  کو الفاظ  دوں گی
میں اسے سچ بول دوں گی
*نظم :------- 34*
*عنوان : ---- میں اب ڈر گئی ہوں*
*تحریر  :---- زارا فراز*

میں اب ڈر گئی ہوں
تمہاری محبت  کے فسوں سے
لمس دے کر
تم نے اپنی دھڑکن کا
مجھے دل کے نہاں  خانے میں رکھا
کتنی شدت سے چاہا
سدا تمہاری چاہت پر
اپنے جذبوں سے زیادہ مان رکھا
تم نے اپنی ذات کی حصار سے
تمام باتیں مرے لہجے میں اتار دی ہیں
میں کم سخن لڑکی
بولنے کے آداب سیکھ چکی ہوں
زندگی کے اصل روپ دکھانے
تم مجھے چاند کے آنگن پہ لے آئے ہو
تمہارا بازو تھامے
میں اب اونچائی پر ہوں
مگر محسوس کر رہی ہوں
تم دھیرے دھیرے
سارے اختیار چھین رہے ہو
میں اب ڈر گئی ہوں
تمہاری اس بے اختیاری سے.....
*نظم :---35*
*عنوان :--- زندگی ترے بنا*
*تحریر :----- زارافراز*

بارشوں کے شور میں
آندھیوں کے درمیاں
دکھوں کی تیز  دھوپ میں
آنسوؤں کے درمیان
میں بہت اداس ہوں
زندگی  ترے بنا
بے یقین منزلیں
بے امان راستے
طویل رہ گزر ہے پر
سائباں کہیں نہیں
جانِ جاں ترے سوا
ہم سفر کوئی نہیں
بن ترے یہ زندگی
ہر خوشی سے دور ہے
غموں سے چور چور ہے
ہاں مگر...  مری آنکھیں
تیری راہ تکتی ہیں
تیرے خواب  بنتی ہیں
تجھ سے پیار کرتی ہیں
پر تجھے خبر نہیں
میری بے قراری کی
بے قرار دھڑکنیں
تیرا نام لیتی ہیں
تو ہی میری ہر خوشی
تو ہی میری زندگی
*زندگی* ترے بنا
میں بہت اداس  ہوں
دکھوں  کی تیز دھوپ  میں
آنسوؤں کے درمیاں
میں بہت اداس ہوں
زندگی  ترے بنا
*نظم....36*
*"میں نے اس کو فون کیا تھا"*
*تحریر ........ زارافراز*

کل    شب  یہ   ادراک  ہوا   تھا
کوئی  میرے   ہجر   میں   بیٹھا
مجھ   کو ہی بس  سوچ  رہا  ہے
کتنے    لمحے   بیت  گئے   ہیں
وہ   بس  مجھ  کو  ڈھونڈ رہا ہے
اس کو بھی ہے لمس کی خواہش
مری    خوشبو   ڈھونڈ   رہا  ہے

اس    خوشبو   کی  بات  جو آئی
تب  سے  دل  بے  چین   ہوا  ہے
کل   شب    اپنی    نیند   اڑا  کر
آنکھوں    میں   امید  سجا     کر
میں نے    اس   کو   فون کیا  تھا

فون کیا تھا،  بات   بھی کی  تھی
دل   کو    گو    آرام   ملا    تھا
پھر   بھی ہجر کی بے کل  راتیں
اس   کی  خوش  آواز  اور  باتیں
اس   کے  من  کا  بھید  بتا   کر
دھڑکن   کی    رفتار    بڑھا  کر
میرے    تن   میں   آگ  لگا   دی
اف !!!  کیوں اس کو فون کیا  تھا
*نظم :----- 37*
*تحریر :------ زارافراز*

ہوائیں تم ذرا سن لو .....
اسے کہنا
وہ رستہ، جس پہ چل کر وہ
ابھی گزرا ہے  بے کل سا
بہت ہی منتشر سا تھا
پریشاں حال لگتا تھا
جدائی نے اسے ڈس کر
عجب سا کر دیا نیلا
مجھے لگتا ہے ایسا کہ
اسے بھی ایک دن شاید
محبت مار ڈالے گی
اسے کہنا.......
کہ اس نے جس طرح اب تک
عذابِ ہجر جھیلا ہے
میرے  تن میں بھی
زہر ایسا
سرایت کر چکا کب کا

اگر وہ اپنے دل کے زہر کو  گر سہہ نہ پائے تو
زہر کا رنگ  جب
سارے بدن میں پھیل جائے تو
اسے کہنا
وہ میرے پاس آجائے
فقط ایک بار مل جائے
میں اس کا زہر سارا
اپنے اندر تک اتاروں گی
اسے میں  زندگی کی
خوشیاں ساری
دان کر دوں گی...
اسے کہنا
وہ  اپنے کرب کو جب سہہ نہ پائے تو
بنا میرے کبھی جب رہ نہ پائے تو
میں اسکے درد و غم اور سارے دکھ
کو
منتقل  کر کے
اسے  آرام دوں گی
پھر اپنا نام دوں گی
کیوں کہ میری زندگی ہے وہ
*نظم :----- 38*
*تحریر :----- زارافراز*

یہ کیسی  آزادی ہے  کہ
حیات بے کراں کی دیواروں پر
کھلنے والے سارے دریچے
وا کردیے گئے ہیں
پهر بهی ایک حبس ہے کہ
سارے ماحول میں پھیل رہا ہے
گھٹن سی اپنے اندر اترتی جاتی ہے
ایک اندھیرا ہے جو سارے وجود کو
اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے
ایک لامتناہی اداسی ........
جو سانس لینے ہی نہیں دیتی
تنہائی کا احساس ایسا جیسے کہ
زندہ رہنے کا جواز ہی چهن گیا ہے
بے جواز خواب،اپنی آخری آرام جا  پر پڑے
اپنے ہونے نہ ہونے کا
ماتم کرتے جا رہے ہیں
آواز دور نہیں جاتی
آزادی مل گئی لیکن
آزادی کی نادیدہ فلک بوس دیوار پر
سبز،گلابی شب و روز چن دیے گئے ہیں-
*نظم:-----39*
*عنوان : وہ دل کے پاس رہتے ہیں*
*تحریر:----- زارافراز*

جو دل کے پاس رہتے ہیں
بہت ناراض رہتے ہیں.....
چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر
خفا دن رات رہتے ہیں
جو آدھی رات ہوتی ہے
تو ان سے بات ہوتی ہے
وفائیں ساتھ ہوتی ہیں
دعائیں سا تھ ہوتی ہیں
وہ دل کے صاف لگتے ہیں
ریا سے پاک لگتے ہیں
میں ان سے کہہ نہ پاوں گی
مجھے وہ خاص لگتے ہیں
رہوں جب بھی کبھی تنہا
تصور میں
خیالوں میں
وہ میرے پاس ہوتے ہیں
وہ میرے  ساتھ ہوتے ہیں
نئے الفاظ ہوتے ہیں
نئے انداز ہوتے  ہیں
حسیں آواز ہوتی ہے
جواں جذبات ہوتے ہیں
وفائیں سر اٹھاتی ہیں
روپہلی شام سی آنکھیں
حیا سے جھک سی  جاتی ہیں
مرا مکھڑا اٹھا کر وہ
زرا زلفیں ہٹا کر  وہ
میرے رخسار پر جھک کر
محبت ثبت کرتے ہیں
وفا کا گیت گاتے ہیں
مگر پھر رات جاتے ہی
سحر کی بات آتے ہی
وہ مجھ سے روٹھ جاتے ہیں
وہ دل کے پاس رہتے ہیں
مگر ناراض  رہتے ہیں....
*نظم :----- 40*
*تحریر :------ زارافراز*

فصل گل کی خوشنماں ہوائیں
پھر آج تمہاے دروازے پہ
دستک دیتی ہے
معلوم ہے تم آج بھی نکلو گے
خوشگمانیوں میں ڈوبے ہوئے
جذبات کے رو میں
ڈگماتے لڑکھڑاتے
نئی امید کے ساتھ…
مگر سوچو… !!
اس بار تم
دل کس پہ لٹاو گے
سنو… !!
اس بار بھی تم
محبت ہار جاو گے.…!!!!
*نظم :----- 41*
*تحریر :---- زارافراز*

کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں
جب محبت نے
تمہارا وجود پاکر
ایک روپ دھار لیا ہے تو
یہ تصویر دھندلی سی کیوں ہے
عکس مٹے مٹے سے کیوں ہیں
تم مکمل روپ لے کر
سامنے کیوں نہیں آتےاور
میں یہ بهی سوچتی ہوں
بے پناہ چاہتوں کا یقین
ہم دونوں کی  آنکھوں میں پنہاں ہے
پهر یہ بے بسی ہمارے چہرے کا
احاطہ کیوں کرنے لگی ہے
اور جب زندگی.....
تنہا گزارنے ہی کا نام ہے تو
شاہراہ حیات پر تمہارا ملنا
ضروری تها.......؟؟؟؟
*نظم :----- 42*
*عنوان :--- " تمہاری یاد"*   
*تحریر :----- زارافراز*  
     
جان ....!!!
تمہارے کمرے کی  تیسری جانب
کھلنے والے دریچے پر
جہاں سے  ہر شب چاند جهانکتا ہے تمہیں
اسی  سمت آج  موسم کی پہلی بارش کا
اجلا منظر تمہارا منتظر ہے
تم آنکھ اٹهاو اور پلکوں پر
ان بارشوں کی ننهی بوندوں کو
چن لو .......
موسم کی  پہلی بارش اور
محبت  کے نرم جذبوں میں
بڑی مناسبت ہے
میں آج بارش میں بهیگتے ہوئے
بہت دیر تلک.....
محبت  کی حدت پاتی رہی
جذبوں کی تمازت میں سلگتی رہی
کیا کہوں....!!!
تم یاد ہی کچھ اس شدت سے
آئے تھے کہ ........
*نظم :------ 43*
*تحریر : ----- زارا فراز*

جانتے ہو۔۔۔۔
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
وہ ملتا ہے
بات بھی کرتا ہے
میری کلائی کو تھام کر
اسی انداز میں
چوم بھی لیتا ہے
میں اس کےچہرے پر
خوشی کے سارے رنگ
سمیٹنا چاہتی ہوں
تو اس کا چہرہ سپاٹ ہو جاتا ہے
اور اس کا لہجہ
ایک دم کاٹ دار
وقت کی ناگن نے
محبت کی فضا میں
اپنی سانسیں پھونک کر
زہر گھول دیا ہے
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
*نظم :-------- 44*
*عنوان:---- آدم خور*
*تحریر :------ زارافراز*

میں تمہارا آئینہ ہوں
  مجھے غور سے دیکھو
میں انسانوں کے گلے میں
پنجے  گاڑ کر
خون چوس لیتی ہوں
جسم کے پارچے بنا کر کھاتی ہوں
اگر  بوٹیاں کرتے ہوئے خنجر
استعمال کرتی ہوں تو
اپنی بے ثبوتی کے لئے
خنجر میں لگے خون
اپنی زبان سے چاٹ کر
صاف کر دیتی ہوں
میں تمہارا آئینہ ہوں
*نظم :--------45*
*عنوان :----  خیالِ مقدس*
*تحریر :------ زارا فراز*

میرا خیالِ تقدس۔۔۔۔۔۔
محبت کی اینٹوں سے، 
وفاکےگارے سے
تعمیر ہونےوالا
وہ کعبہ ہے
جہاں جب بھی تم آئے
احرام میں آئے۔۔۔……!!!
*نظم :---------- 46*
*عنوان :------ تحفظ*
*تحریر :------ زارا فراز*

میں کیا کروں
میرے اندر کی چپ
اب بہت بولنے لگی ہے
اس کی شور مچاتی خاموشیاں
میرے کان سل کر نے لگی ہیں
وحشت زدہ سی
کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھی ہوں
اس سے پہلے کہ
ان چیخوں کی زور سے
میرا وجود چٹخے
پھر ٹوٹ جائے
میں چاہتی ہوں
محبت  مجھے تحفظ میں لے لے
*نظم :------ 47*
*عنوان :----- میرے ہوجاو* 
*تحریر : ----- زارافراز*

دل مرا بھی کرتا ہے
ہنس کے تم ملو  مجھ سے
رکھ کے ہاتھ سینے پر
چھو کے میری دھڑکن کو
کر لو بات چاہت سے
.
تم خفا  ہوئے مجھ سے
چھائی  بے قراری سی
بے قرار دھڑکن کو
کاش تم سمجھ پاتے
روٹھتے نہیں ہر گز
عشق کر چکے ہوتے
مجھ پہ مر چکے ہوتے

مجھ کو آزمانے کا
اب خیال چھوڑو بھی
دوستی نبھانی ہو
زندگی بنانی ہو
بھول کر انا ساری
میرے پاس آجاو
میرے ساتھ ہو جاو
بھلا کے ساری دنیا کو
بس مرے ہی ہو جاؤ......!!!!!
*نظم :--------- 48*
*عنوان :----- کاش یہ دل بهی*
*تحریر :------ زارا فراز*

کاش دل بھی کوئی
کا غذ کا ٹکڑا ہوتا
میں اسے سامنے رکھ کر
روشنی کے سارے رنگ چرا کر
اس پہ رنگ بھرتی
بہت آراستہ کرنے کے بعد
خوب صورت،شوخ لہجے میں
تمہارے نام کے مکمل وجود سے
اٹھنے والی خوشبو کو
قید کر کے محبت لکھ دیتی
اور ساری دنیا کی سب سے اونچی
ہوا کے دوش پر لہراتا ہواچھوڑ دیتی
ساری دنیا جب  محبت کو
میری آنکھ سے دیکھتی
تو مجھ پر رشک کر تی ---
*نظم :------ 49*
*تحریر:----- زارا فراز*

جانتے ہو۔۔۔۔
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
وہ ملتا ہے
بات بھی کرتا ہے
میری کلائی کو تھام کر
اسی انداز میں
چوم بھی لیتا ہے
میں اس کےچہرے پر
خوشی کے سارے رنگ
سمیٹنا چاہتی ہوں
تو اس کا چہرہ سپاٹ ہو جاتا ہے
اور اس کا لہجہ
ایک دم کاٹ دار
وقت کی ناگن نے
محبت کی فضا میں
اپنی سانسیں پھونک کر
زہر گھول دیا ہے
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
*نظم :-----51*
*تحریر :-----  زارافراز*

یہ کیسی سرد مہری جنگ
ہمارے درمیان چھڑ گئی جاناں
کہ محبت تم بھی کرتے ہو
محبت میں بھی کرتی ہوں
تم میں نہیں ہوتی
تمہاری آنکھوں میں رکنے کو
مجھے کوئی پل نہیں ملتا
تمہاری سانسوں میں جینے کو
کوئی لمحہ نہیں ملتا
ہاں مگر آج بھی تم
آفس جانے سے کچھ پہلے
بڑے انداز سے
کلائی تھام کر میری
نرم بوسہ بھی لیتے ہو
مگر تم کچھ اس طرح جاناں
کہ تم جلدی میں ہوتے ہو --
*نظم:----50*
*تحریر:---زارافراز*

میں جب بولا کرتی ہوں
کیا تم کو اچھی لگتی ہوں؟
میرے چپ کا راز نہ جانو
مجھے کبھی نہ اپنا مانو
پھر بھی چاہو
ہنس کر بولوں
آنسو روکوں
درد چھپا لوں
تم سے دل کے بھید بتاؤں
خوشبو بن کر ساتھ رہوں اور
تنہائی میں دل بہلاؤں
میرے چپ کی قفل کو توڑو
مجھ سے بولو
مجھے  پکارو
*نظم :------52*
*تحریر :-----  زارا فراز*

عزیز ساتھی....!! کہاں گئے تم
حیات میری....اجاڑ کر اب.
کہاں میں ڈھونڈوں
وہ زندگی جو
تمہاری کھلتی ہنسی کے سائے
گزر رہی تھی
کہاں میں پاؤں...... وہ پیارے نغمے
تمہارے لب پہ وفا کی لئے  پر
سجے ہوئے تھے

عزیز  ساتھی
کہاں گئے تم  خفا سے ہو کر
رلا کے مجھ کو
میں تم کو برسوں سے جانتی ہوں 
تمہارا  برتاو..... انکساری
تمہارے لہجے  کی نرمیاں بھی
تمہاری باتوں میں شوخیاں تھیں
مگر گئے تم.
بنا کہے ہی........
کہاں میں دھونڈوں
اب ان دنوں کو
کہ جس میں تم ہی
بہت ہی چاہت سے ان لبوں پر
وفا کی سرخی سجا رہے  تھے
جھکی ہوئی تھیں   دراز پلکیں
تم ہی تو ان میں
حیا کا کاجل لگا رہے  تھے
وہی گھڑی تھی
کہ جب جبیں پر
گلاب موسم اتر رہے تھے

جو پاس تھے تم
خفا نہیں   تھے
مگر مجھے لگ رہا ہے ایسے
کسی کی باتوں میں  آگئے ہو
تم اپنی *جاں* کو بھلا  گئے ہو....
عزیز ساتھی ....  کہاں گئے تم
*نظم :------   53*
*عنوان :----- عورت*
*تحریر :----- زارا فراز*

جب محبت کا چشمہ پھوٖٹتا ہے
ندی بہتی ہے
واددی…  جنگل، شہر
پھر گاؤں کی
پکڈندیوں سے ہوکر
بہت دور صحرا میں پہنچتی ہے
ہر خطّہ کو سیراب کرتی ہے
جب تھک کر ہوجاتی ہے چور
تب......
سمندر کی چھاتی میں
اترنے سے پہلے
عورت کا روپ دھار لیتی ہے…۔!!
📚 *نظم :----54*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

محبت سن...!!!
تمہارے  کان میں مجھ کو
ابھی ایک بات کہنی  ہے
تمہیں  ایک راز کہنا ہے
تمہیں  اپنے،
شکستہ دل کے بارے میں
مجھے سب کچھ  بتانا ہے
کہ  نا آسودہ سے  نینوں کی
بہت دکھ سے بھری اپنی
کہانی بھی سنانی ہے
تمہیں  یہ بھی بتانا ہے
کہ تم ایک بار پھر  شاید
کتابوں سے نکل کر
میرے  ویراں دل کی دنیا میں
کہیں آباد ہوتے جا رہے ہو
میرے جذبے
تمہارے  جاویدانی رنگ سے
ہر پل ..نکھرتے جا رہے ہیں
اور میں اب  کافی حد تک
سارے جذبوں کو  سمجھنے
لگ گئی  ہوں
کبھی ترکِ تعلق کے ارادے
دل میں تم سے طے کئے تھے... اب
ارادے ٹوٹے جاتے ہیں
بکھرتی جا رہی ہوں میں ....
سمٹنا چاہتی ہوں پھر
اسی خاطر
تمہارے  پاس
آئی ہوں یہ سننے......
تمہیں  کیا یاد آتی ہوں؟؟
📚 *نظم :--- 55*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*
کسی تنہا مسافر  کو
میں  تکتی جا رہی ہوں
نہ اس سے میری
کوئی آشنائی ہے
نہ اس سے  میری
کوئی دلربائی ہے
مگر نہ جانے کیوں
مجھے لگتا ہے ایسا
وہ بھی میرے جیسا ہی
بہت تنہا  ہے
میں کیسے خود میں
اتنی  ہمت لاؤں
درمیاں کے سارے
فاصلے مٹا کر
اس کے پاس جاؤں
اور پیچھے سے
اس کی آنکھوں  پر
دھیرے سے
ہاتھ رکھ کر،  پوچھوں
"بوجھیں مجھے"
مگر وہ کچھ بھی نہ کہے مجھ سے
بس میرے ہاتھوں  پر دیر  تک
اپنے ہاتھ رکھے ہوئے
کسی سوچ میں ڈوبا رہے
وہ بے سبب ہی مجھ کو اپنے پاس رکھے.....
میں جتنے پل
اس کا لمس پاوں گی
خوش رہوں گی
میں ان چند لمحوں میں،
یقیناً.... 
جیتی رہوں گی...
📚 *نظم :-----   56*
*عنوان:-----  کیا میں نے بھی تھا*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

کہا میں نے بھی تھا تم سے
کبھی نہ روٹھنا مجھ سے
کبھی نہ دل دکھانا تم
کبھی نہ دور جانا تم
مگر جاناں...
ہمارے درمیان کیسی
یہ بکھری سرد مہری جنگ
تباہی دل میں لائی ہے
ہزاروں شب رلائی  ہے
محبت میں بھی کرتی ہوں
محبت تم بھی کرتے ہو
سنو جاناں
انا کے خول کی قیدی
رہائی چاہتی ہوں اب
ترے  قدموں  پہ رکھ کر دل
وفائیں  چاہتی ہوں اب
میری چاہت تمہیں ہر شب
سدائیں دیتی رہتی ہیں
کبھی سوچا نہ تھا میں نے
کہ گہری نیند  میں جا کر
سہانے خواب  میں کھو کر
مجھے تم بھول جاؤ گے
خودی سے روٹھ جاؤ گے
کہا میں نے بھی تھا تم سے
کبھی نہ روٹھنا مجھ سے
*خطائیں بھول کر میری*
*مرے جاناں چلے آؤ*
*نظم :---- 57*
*عنوان :--- "صیاد"*
*تحریر : --- زارا فراز*

میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں،
تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں
*نظم :------58*
*عنوان :----- افق کے پار*
*تحریر :----- زارافراز*

افق کے پار جہاں تم ہو
جہاں سے تم مجھے آواز دیتی ہو
جو راستہ تم نے چھوڑ رکھا ہے
میرا اعصا.......
مجھے اس ہی طرف لے چلا ہے
ان ہی رستوں پر تمہاری یادوں کے
ننھے قدموں کی نشانیاں
تمہارے نرم و نازک بدن کی
پر چھائیاں ہیں
ان کی رستوں پر
میری نگاہیں بچھی ہوئی ہیں
تمہارے لمس کو چھو رہی ہیں
مگر میری بچی
تم کیوں کھو گئی ہو
میری گود سونی ہوگئی ہے
میری ممتا پیاسی رہ گئی ہے
تشنگی بڑھتی جا رہی ہے
تم میرے پہلو میں کب سماوگی
تم مجھ کو اپنے پاس کب بلاوگی
*نظم :-----59*
*تحریر :----- زارافراز*

میں آدھی رات کو
بام پہ جا کر
چاند سے آنکھیں ملا کر
بات کرتی ہوں
تو اکثر سوچتی ہوں
مرے اندر شرمائی
گھبڑائی سی لڑکی
آوارہ کیسے ہوگئی
*نظم :----- 62*
*تحریر :------ زارافراز*

مجھے وہ دن، سنہرے پل
ہمیشہ یاد آتے ہیں
جہاں تم تھے، محبت تھی
خوشی کی اک دنیا تھی
یہاں غم ہے،جدائی ہے
تمہارے بن
یہ دل وحشت زدہ ہے
یہ گھر وحشت کدہ ہے
*نظم :------63*
📚 *سالِ نو کے تعلق  سے ایک دعائیہ نظم .....*
*سال نو کی ابتداء ہے*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

اے ربِ کُل تو یہ جانتا ہے
کہ سال نو کی یہ ابتداء ہے
وہ سالِ ماضی گزر چکا  ہے
برس جو گزرے......
کہ جس میں ہم نے
وہ دن بھی دیکھے
کہ جس میں سورج کی روشنی تھی
مگر اندھیرا ہی پھیلتا تھا
زمیں...... کہ جس میں
لہو کی سرخی ہی پھیلتی تھی
ردا کی خاطر ہماری بہنیں
تڑپ رہی تھیں
ہمارے بھائی، ہمارے  ہم دم
جو ہار بیٹھے ہیں جاں کی بازی.......

گئے برس میں
بہت  سی آنکھوں نے اپنی پلکوں پہ پھول ٹانکے تھے کچھ وفا کے
کسی نے دیکھے تھے خواب سارے
کسی نے پائی تھی تعبیر اس کی
کسی نے خوابوں کو توڑ ڈالا
کسی کو تونے جدائی بخشی
کسی کو تو نے خدائی بخشی
کوئی پریشاں تھا حکمراں سے
کوئی تو نالاں تھا اس جہاں سے

گئے برس میں
بہت سی دھڑکن
محبتوں سے نباہ کی تھی
بہت سے لوگوں نے رنجشوں سے ملائی آنکھیں تھیں
ہنس رہے تھے
جہان بھر میں
کہیں  تھیں خوشیاں
کہیں تھی رنجش
کہیں تھی تلخی
کہیں تھی فرحت
کوئی تھا شاداں
کوئی تھا اجڑا
کسی کے غم نے،
کسی کے دل کو..... کسی کے سر کو
ترے  ہی در پر جھکا دیا تھا
کسی کی خوشیاں،
کسی کی نظروں نے خاک کردیں
کسی کا اپنا بچھڑ گیا تھا
کسی کی چاہت ہی مر گئی تھی
کسی کی دنیا اجڑ گئی تھی
کسی نے الفت کے گھر  بسائے
کسی نے نفرت کی بیج بوئے
کہیں پہ چاہت کے پھل اُگے تھے
کہیں پہ پھیلی وفا کی خوشبو
کہیں کہیں پہ جفا کے آہو
کہیں اجالا،  کہیں اندھیرا
کہیں جدائی
کہیں ملن تھا
کہیں تھا ساتھی
کہیں تھا سایہ
کہیں ہوا پھر سے قتل و غارت
کسی وطن میں تھی نوٹ بندی

مرے خدارا....!!!!!!
یہ کیسے بندوں کو تو نے دے دی ہے حکمرانی
زمیں  پہ ہم نے بھی دیکھ لی ہے
عذاب مہلک و آسمانی
یہ تیری قدرت
کہ  اس برس ہم
گزر کے آئے ہیں امتحاں سے
یہ سال نو کی جو ابتداء ہے
تو میری سانسوں کی یہ دعا ہے

اے میرے خالق....
تو اس برس میں تو رحمتوں کا نزول کرنا
بچھڑنے والوں کو پھر سے ان کی  محبتوں  سے قریب کر نا
کہ سچ کو  میرا رفیق کرنا
جو رنج میں غم میں مبتلا ہیں
انہیں دکھوں سے نجات دے دے
جو بے سکوں ہیں......
سکون دے دے
ہے جن گھروں میں....
ذرا بھی تنگی
مرے خدا اس کو دور کر دے
ہر ایک کو دے تو رزق خالص
مریض لوگوں کو تو شفا دے
تو صحتِ کُل انہیں  عطا کر
ہمارے جسموں کو دے وہ طاقت
کہ ہم کریں بس تری عبادت....
اے ربِ کُل تو یہ جانتا ہے!!!
کہ سال نو کی یہ   ابتدا ہے

تو اس گھڑی کو......
دے ایسی فرحت
وہی مسرت
جو مجھ کو تجھ سے قریب کر دے
گئے برس کا کوئی بھی دکھ ہو
یا ہو وہ رنجش
بھلا دے مولا
کہ لغزشوں کے تمام دفتر
مٹا دے مولا

میرے خدارا....!!
میں سوچتی ہوں
یہ سالِ نو بھی تو رنج دے گا
کئی مسافر کی جان لے گا
میری کہانی بے انت ہو گی
نہیں بھروسہ....
کہ اس کے آخر میں جی سکوں گی؟
یا آنے والے  برس میں کوئی
نئی کہانی بھی لکھ سکوں گی؟
یا لوگ مرقد پہ آکے میرے
پڑھیں گے کتبہ.......
تجھے پتہ ہے.... 
اے ربِ کل تو یہ جانتا ہے......
کہ کس برس میں ہے موت کس کی.... 
یہ سالِ نو کی تو ابتداء ہے.......!!!