*نظم :---- 64*
*تحریر :---- زارافراز*
چاہتی ہوں
کوئی ایسی نظم کہوں
جس میں تم
خود کو پا کر
دلکشی کے ساتھ،
پورے دل سے
مسکراؤ
اور میں اس لمحے کو
عمر بھر جیتی رہوں.....!!!!!
*مختصر نظم :--- 66*
*تحریر :---- زارافراز*
زندگی کے پھیکے رنگوں سے
دکھ کے کالے سائے
جیت گئے ہیں.......!!
*کالبوت:---- 65*
*تحریر:--- زارا فراز*
عجب بے تکی خواہش ہے میری
میں خود کو
ہر جانب سے دیکھنا چاہتی ہوں
آئینہ خانے میں بیٹھی
اپنی کئی تصویریں بنا چکی ہوں
مگر جب
ہونٹوں کے داہنے گوشے کے
بالکل پاس
زرا اوپر
تِل دھرنے کی کوشش کرتی ہوں
سیاہی پورے چہرے پر
پھیل جاتی ہے....!!!!
*مختصر نظم :---- 67*
*مختصر :--- زارافراز*
دیکھ رہی ہوں
فضا کے رنگ کتنے پھیکے پڑ گئے ہیں
بالکل میرے خوابوں جیسے
*مختصر نظم :--- 68*
*تحریر : ----زارافراز*
گزشتہ شب
تمہارے شغل کے گواہ سب تھے
ٹوٹی ہوئی چوڑی
خون کا قطرہ
دو چائے کے کپ تھے....!
*نظم :--- 70*
*عنوان :---- زخم*
*تحریر :------ زارافراز*
میری ذات کا مشکوک ہونا
بلکہ مجرم ہونے کے لیے
میرے ہاتھ کا سرخ ہونا ہی کافی ہے
اس سے آگے کون سوچے گا
کہ یہ ہاتھ قاتل ہیں
یا زخمی....!!
*مختصر نظم :-----71*
*تحرير :----- زارافراز*
آنکھیں کا خمار
اتنا کہتا ہے
نیند کی طلب
اور جاگنے کی خواہش بس
*مختصر نظم :--- 69*
*تحریر :---- زارافراز*
ذات کے میری بوسیدہ سے
گھر، آنگن، بستی اور سرحد
جس پر چلتی شاہی اس کی
میری ذات........
حکومت اس کی
نا دوں پھر بھی
چھین ہی لے گا
*مختصر نظم :--- 72*
*تحرير :-----زارافراز*
آنکھیں پڑھ لو...
یہ میرا آخری کلام ہے
*مختصر نظم :---74*
*تحرير :------ زارافراز*
مجھے تم
تنہا چھوڑ دو
میں اپنے ساتھ ہی خوش ہوں.....
زارا فراز
*مختصر نظم :--- 73*
*تحرير :----- زارافراز*
کتنی شفاف ہے وہ آواز
بالکل جھرنے جیسی
جس دل پر گرے
آئینہ کر دے.....
*مختصر نظم :------ 76*
*عنوان :--- "قصہ"*
*تحریر :------ زارافراز*
وہ بے وفا نہیں تھا
بدل گیا۔۔------
*مختصر نظم :----- 75*
*تحرير :------- زرا فراز*
وہ میری
خودکشی سے
پہلے ہی
مجھ کو مار ڈالا تھا
*مختصر نظم :-----77*
*تحریر :------زارافراز*
میں کوئی ایسی نظم کہوں
جس میں تم خود کو دیکھ کر
ایسے مسکراو کہ
میں جی اٹھوں……
*مختصر نظم :------79*
*تحریر :------- زارافراز*
ایسا لگتا ہے
میں خود کے اندر
دفن ہو چکی ہوں ----
*مختصر نظم :----78*
*تحریر :------- زارافراز*
مجھے اپنی دھڑکن کی
بے ترتیبی اور بھی
اچھی لگنے لگتی ہے
جب تمہاری مدہوش نگاہیں
میرے چہرے پر
ٹھہر جاتی ہیں ---
*مختصر نظم :---- 80*
*تحریر :------ زارافراز*
کبھی تم چاند بن کر
اترو ......!!
میری انکھوں میں ----
*نظم :-----81*
*تحرير:----- زارافراز*
بس ....
میری زندگی کے ایک روز
جی کر دیکھ لو
محبت،درد، بے چینی،بے قراری
وارفتگی اکیلے پن کا احساس اور
پهر نارسائی کے تمام دکھ
جان جاو گے.........
*نظم:-----38*
✍🏻 *تحریر :----- زارافراز*
یہ کیسی آزادی ہے کہ
حیات بے کراں کی دیواروں پر
کھلنے والے سارے دریچے
وا کردیے گئے ہیں
پهر بهی ایک حبس ہے کہ
سارے ماحول میں پھیل رہا ہے
گھٹن سی اپنے اندر اترتی جاتی ہے
ایک اندھیرا ہے جو سارے وجود کو
اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے
ایک لامتناہی اداسی ........
جو سانس لینے ہی نہیں دیتی
تنہائی کا احساس ایسا جیسے
زندہ رہنے کا جواز ہی چهن گیا ہو
بے جواز خواب،
اپنی آخری آرام جا پر پڑے
اپنے ہونے نہ ہونے کا
ماتم کرتے جا رہے ہیں
آواز دور نہیں جاتی
آزادی مل گئی لیکن
آزادی کی نادیدہ فلک بوس دیوار پر
سبز،گلابی شب و روز چن دیے گئے ہیں-
*نظم :---- 82*
*تحرير :----- زارافراز*
تم چاند بن کے
اترو
میری آنکھوں میں
میرے اندر کے سارے موسموں کو
بھر دو
اپنی چاہتوں کی روشنی سے!
*نظم :---61*
*تحریر :---- زارافراز*
محبت کے ارکان میں
زندگی کا جینا
ایک اہم رکن ہے
وہ زندگی سے منکر تھا
سو آخری وقت میں
محبت سلب ہوگئی اس کی
*نظم :--- 83*
*تحرير :---- زارافراز*
*تمہاری یاد کا سورج*
*جب نکلتا ہے*
*ہمارے آنکھ میں دریا*
*اچھال دیتا ہے*
*نظم :--- 83*
*تحرير :---- زارافراز*
*تمہاری یاد کا سورج*
*جب نکلتا ہے*
*ہماری آنکھ میں دریا*
*اچھال دیتا ہے*
*مختصر نظم :--- 85*
*تحرير :------- زارافراز*
ترے قرب نے مجھے
تنہائی بخشی
*نظم :----84*
*تحرير :----- زارافراز*
دل وحشی کو
چاٹ رہی ہے
دھیرے دھیرے دل آنگن کی
ویرانی.....
*نظم :-----86*
*عنوان :---تلخ سچائی*
*تحریر :----- زارافراز*
میری خودکشی سے
پہلے ہی
وہ مجھ کو مار ڈالا تھا
*نظم :---- 87*
*تحرير :---- زارافراز*
کبھی کبھی
ایسا لگتا ہے
محفلیں ہوتی ہیں
اور دل تنہا ہوتا ہے
*مختصر نظم :--- 88*
*تحرير :---- زارافراز*
تشنہ لبوں کو رکھا
جو تو نے
میرے لبوں پر
مدّت کے بعد، وہ شخص
شدت سے یاد آیا
*نظم :--------- 60*
*تحریر :----- زارافراز*
پہلی نظم کی اشاعت پر
پاپا میرے پاس آئے
حزن و ملال ایسا تھا
ان کے چہرے پر
جیسے
فصیلوں کی بلندی کو پھلانگ کر
عزت دار گھرانے کے نام و نہال باپ کی
جوان بیٹی
بھاگ گئی ہو ---
*نظم :----- 89*
*تحرير :---- زارافراز*
بہت حیران ہوں جاناں
کہ اتنے صاف لفظوں میں
محبت کو بیاں کر کے
یہ مجھ کو رازداں کرکے
جگر کے بھید کہہ دینا
اظہارِ دل بھی کر دینا
کہاں میں اس کے قابل ہوں
کہ تم کو ہم سفر چن لوں
ابھی تم میرے دنیا کے نئے مہمان ہو جاناں
ابھی تم نے نہیں جانا
یہ میری زندگانی کُل
میں اپنی ہی کہانی میں
فقط کردار ہوں سچی
میں تم کیا بتاؤں کہ
میں اب بھی امتحاں میں ہوں
محبت کی کہانی میں
ہر ایک داستاں میں ہوں
تمہیں ایک روز میں اپنی
کہانی پھر سناؤں گی
تمہیں سب کچھ بتاؤں گی
تمہیں سب کچھ بتاؤں گی....
تمہیں حیران کر دوں گی......
📚 *نظم:---- 91*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*
سنو جاناں!
تمہیں مجھ سے شکایت ہے
کہ تم سے بولتی کم ہوں
کسی رستے کے نکّڑ پر
میں تم سےاتفاقاً مل بھی جاؤں تو
فقط رسمی سی باتیں ہی
کر کے لوٹ جاتی ہوں
تمہارا دل دکھاتی ہوں
مگر میں کیا کہوں تم سے
تمہیں کیسے بتاؤں کہ.....
تمہیں کیا کیا بتاؤں کہ....
میں اب بھی امتحاں میں ہوں
میں اب بھی امتحاں میں ہوں
یہ میری بے بسی ہے کہ
تمہیں کچھ کہہ نہیں سکتی
زرا سی لب کشائی پر
تمہیں تکلیف تو ہوگی
زرا سا ٹوٹ جاؤگے
تو پھر سے روٹھ جاؤ گے
مجھے معلوم ہے جاناں
کہ تم بھی امتحاں میں ہو
تمہیں بھی روگ چاہت کا
مسلسل کھا رہا ہے ناں؟
تمہیں بھی رات بھر جاناں
نہیں ملتی ہے راحت ناں؟
تمہاری نیندیں بھی آنکھوں سے
کوسوں دور رہتی ہیں
تمہیں بھی ایسا لگتا ہے.
محبت نہ ملی گر تو
خوشی بھی خودکشی کر لے
ابھی آنکھیں تمہاری بھی
بہت سے خواب بنتی ہیں
مجھے معلوم ہے جاناں
دعاوں کے فقط کچھ حرف
تمہارے ساتھ رہتے ہیں
تمہارا حوصلہ ہیں وہ
میں یہ بھی جانتی ہوں کہ
تمہیں منزل ملے گی جب
محبت ہم قدم ہوگی
تمہاری زندگی میں پھر
میرا ہونا، نہیں ہونا
کوئی معنی نہ رکھّے گا
ہنسو گے تم بھی ماضی پر
اور ہنس کر بول اٹھّو گے
"یہ میں بھی کتنا پاگل تھا
اسے دنیا سمجھتا تھا
مگر صرف ایک لڑکی پر
یہ دنیا رک نہیں جاتی
اگر وہ ہم سفر ہوتی
توکچھ آسان تھا جینا
مگر اب بھی نہیں مشکل
میں جی سکتا ہوں اس کے بن"
سنو جاناں!
گزرتی ساعتوں کے ساتھ
تمہارا فیصلہ یہ بھی
غلط ہرگز نہیں ہوگا
مگر جو بھی فیصلہ کرنا
اسی پہ تم جمے رہنا
کسی آہٹ کو پاکر تم
کسی بھی موڑ پر رک کر
پلٹ کر پھر نہیں تکنا
تمہیں میں سچ بتاتی ہوں
بہت سی آہٹیں جاناں
قدم آدم نہیں ہوتیں
مجھے یہ خوف ہے لاحق
کہیں سرکش بلائیں ہی
لپٹ کر سبز قدموں سے
تمہیں ویران نہ کر دے
فقط بس اس لئے جاناں
بہت مشغول رہتی ہوں
عبادت میں، دعاؤں میں
یہی بس عزم ہے میرا
خدا سے جانِ جاناں کی
ضمانت لے کر اٹھوں گی
قیامت تک خدائے پاک
کی پناہوں میں
میں تم کو دے کے آٹھوں گی
سنو اک بات اور جاناں
میری ہی ذات سے
کسی بھی پل
بدگمانی تم نہیں پالو
میں تم سے سچ بتاتی ہوں
میں اک سچی لڑکی ہوں
*نظم :----90*
*تحرير :---- زارافراز*
وفا کے شوخ قصوں میں
یہ میرا تذکرہ کیسا
کئی صدیوں سے میری تو
دکھوں کی داستانوں سے
بڑی ہی ہمنوائی ہے
مرے دل نے بھی چاہت میں
ہمیشہ چوٹ کھائی ہے
سو اب ہے التجا میری
اے میرے ہمسفر تجھ سے
مجھے آزاد تو کر دے
فقط اپنی محبت سے....!!
📚 *نظم :---- 92*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*
حبیبی سن رہے ہو ناں!
کبھی یہ میری حسرت تھی
کبھی یہ دل کو خواہش تھی
کبھی جب تم پکارو گے
مجھے دل سے بلاؤگے
مجھے *زارا* پکارو گے
فقط یہ نام تھا مجھے کو
بہت پیارا
مگر اب نجانے کیوں
میری طبیعت بدلتی ہے
میری چاہت مچلتی ہے
تمہارا ساتھ ہے ہر پل
جو دل کو شاد رکھتا ہے
تمہیں یہ بھی بتا دؤں کہ
اب میں چاہتی کیا ہوں
تم جب بھی محبت سے
میرے بازو کو تھامو گے
کلائی میری پکڑو گے
فقط اس گھڑی ہم دم
تمہیں اتنی اجازت ہے
مجھے *زارا* نہیں کہنا
مجھے *جاناں* پکارو گے
📚 *نظم :----- 93*
✍🏻 *تحریر:----- زارا فراز*
اداس نظریں،لبوں کی آہیں
بتا رہی ہیں کہ رو چکے ہو
میں جانتی ہوں مجھ ہی سے جاناں!
چھپا رہے ہو کہ رو چکے ہو
شبِ گزشتہ کہاں تھے جاناں ؟
کن مصائب میں گھر چکے تھے؟
تم آہیں بھرتے رہو گے یوں ہی
یا مجھ کو کوئی خبر بھی دو گے؟
لحافِ غم میں کیوں چھپ رہے ہو
خوشیاں تم کو ہی دھونڈتی ہیں
یہ بز دلی ہے، کہ بس ایک پل میں
ضبط کھو کر ہی رو چکے ہو
تمہارے سنگ تو ابھی ہوں میں بھی
ابھی تو تم بھی ہو کچھ مکمل
آخر خود کو کیوں سمجھ رہے ہو
اجڑے، بکھرے اور ادھورے!!!
تم حد سے زیادہ ہی سوچتے ہو
میں جانتی ہوں کہ رو چکے ہو
کیا اپنی زارا کو کھو چکے ہو؟
کیا یہ بھی کم ہے کہ دوست ہیں ہم
پھر یہ بتاؤ کیوں رو رہے ہو
جتنا رونا تھا رو چکے تم
اشک پونچھو اور مسکرادو
آہ جاناں، یہ میرا سارا
ستارہ آنچل بھگو چکے ہو
یہ سرخ آنکھیں، اداس لہجہ
بتا رہے ہیں کہ رو چکے ہو
میں جانتی ہوں مجھ ہی سے جاناں
چھپا رہے ہو کہ رو چکے ہو
*ایک شعر*
پھر کسی ظالم کے زد میں آ نہ جائے آشیاں
سوچتی ہے ایک چڑیا گھر بچانا چاہئے
*زارا فراز*
*ایک شعر*
میں اب ڈرنے لگی ہوں زندگی سے
مرے اندر کوئی مرنے لگا ہے....
*زارا*
*ایک شعر*
*"یہ ترک محبت کا قصہ، کچھ ایسے عمل میں آیا ہے*
*اس نے بھی پلٹ کر نا دیکھا، میں نے بھی اسے آواز نہ دی"*
*واپسی*
ماضی کی دہلیز پہ جا کر
یادوں کے تابوت سجا کر
عشق کو ابدی نیند سلا کر
تیری دنیا لوٹ آئی ہوں
*زارا فراز*
*ایک شعر*
تمہیں محسوس ہوتا ہے
مرا ہونا، نہیں ہونا؟
*زارافراز*
*ایک شعر*
وہ جو کھلتے گلاب جیسا تھا
وہ بھی چہرہ اداس رہتا ہے
زارا
*دو شعر*
موسم کوئی گلاب سا ٹھہرا ہے آج بھی
آنکھوں پہ ان کے خواب کا پہرا ہے آج بھی
لاتے نہیں ہیں کوئی بهی شکوہ زباں پہ ہم
حالانکہ اپنا زخم تو گہرا ہے آج بھی
زارافراز
*ایک شعر*
میں غموں کی سچّی کتاب ہوں
مجھے قہقہوں سے لکھا نہ کر
*زارا*
ایک شعر
*خدایا میں ایسا ہنر چاہتی ہوں*
*جو پل میں محبت کو میرا بنادے*
زارافراز
*ایک شعر*
نگاہیں پھیر لی اس نے
محبت چھوڑ دی شاید
*زارا*
*ایک شعر*
اس کے اندر، میں مر گئی شاید
جو مری شاعری میں جیتا ہے
*زارافراز*
*میری ڈائری سے*
*تحریر :--- زارافراز*
ایسا لگتا ہے
میں خود کے اندر
دفن ہو چکی ہوں
*ایک شعر*
گر مرے اختیار میں ہوتا
میں ترا انتخاب کر لیتی
*زارا فراز*
*میری ڈائری سے*
*تحریر :---- زارافراز*
کچھ لوگ بند کتاب کی طرح ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے کی کوشش کریں تو ورق ورق چاک ہوتا جاتا ہے تحریر پھر بھی واضح نہیں ہوتی
*تحریر :------ زارافراز*
جب روح زخمی ہو جائے
تب بھی آنکھوں میں ہی
کرب اترتا ہے مگر
چھلکنے والے انسو کا
کوئی رنگ ہی نہیں ہوتا
گیلی پلکیں دیکھ کر
لوگ یہی سمجھتے ہیں
"شاید" آنکھوں میں
ریت پڑگئی ہے"----
*ایک شعر*
آج وہ اس قدر ہنسا کہ لگا
قہقہے ہی مجھے رلا دیں گے
*زارافراز*
*نظم 94.. نیا قانون*
*تحریر..... زارا فراز*
سہ رنگی جھنڈوں کو لے کر
گلی گلی میں
گھوم رہا ہے
ننھا سا اک پیارا بچہ
شور مچا کر آتے جاتے
ہر اک شخص کو روک رہا ہے
بول رہا ہے
"جھنڈے لے لو"
"جھنڈے لے لو"
"اپنا گھر اور کار سجاؤ"
"اپنے بچوں کو بہلاؤ"
دور کہیں افلاک کی آنکھیں
آنسو روکے،
دکھ سے اس کو
دیکھ رہی ہیں
سوچ رہی ہیں
کاغذ کے بے جان یہ جھنڈے
بے شک ملک کی شان ہیں لیکن
جس کے دم سے رشک ارم
اس ملک کا گوشہ گوشہ ہوگا
بن کپڑوں کے
اس بچے کو
کوئی اک پوشاک دلا دے
تین دنوں سے بھوکا ہے وہ
کھانے کا سامان دلا دے
جگ سے جو افلاس مٹا دے
اک ایسا قانون بنا دے....
*95 محبت بھی عبارت ہے*
*زارا فراز*
محبت بھی عبادت ہے
عبادت دل سے ہوتی ہے
تمنائیں مقدس ہیں
انھیں ہی سینچ کر دل میں
وفا پروان چڑھتی ہے
وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں
عبادت کے لئے بھی جو
کبھی رمضان
کبھی شعبان
کبھی معراج کی شب کو
فقط مخصوص کرتے ہیں
عبادت کے لئے کوئی بھی دن مخصوص کیا کرنا؟
محبت بھی عبادت ہے
اسے بھی لوگ جانے کیوں
کسی مخصوص ماہ و سال پر کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟
مرے دل کو یہ لگتا ہے
محبت بس عبادت ہے
"عبادت روز ہوتی ہے"
قضا جس نے محبت کی
وہی چاہت ادھوری کی
ادھورا عشق
ادھورا پیار
ادھوری چاہتیں...... اے دوست!
کبھی تکمیل کیا پائیں
بہت سے لوگ ہوتے ہیں
ادھورا پیار کرتے ہیں
آدھوری راہ تک چل کر
کہیں منزل سے پہلے ہی
سہارا چھین لیتے اور
وعدے توڑ دیتے ہیں
وہ دل بھی توڑ دیتے ہیں
محبت چھوڑ دیتے ہیں
عبادت چھوڑ دیتے ہیں
محبت بھی عبادت ہے
*الفاظ کا ر شتہ*
*تحریر...... زارا فراز*
نہ میں نے تم کو دیکھا ہے
نہ تم نے مجھ کو دیکھا ہے
ہمارے درمیاں رشتہ
فقط لفظوں کا قائم ہے
تمہاری بزم میں جانے
میں کیسے کس طرح پہنچی
مگر جس روز سے آئی
تمہاری بزم میں جاناں!
اسی دن کے کسی لمحے
تخیل کے مراحل سے
گزر میرا ہوا تھا پھر
اسی پل ہی مرے اندر....
ہوا ادراک الفت کا
مجھے پل میں سمجھ آیا
وفا کیا چیز ہوتی ہے؟
دعا کیا چیز ہوتی ہے؟
دعا جو ہر گھڑی مجھ کو
مرے احباب دیتے ہیں
مری ہر اک پریشانی کو یہ آسان کرتی ہے
میں نازاں ہوں کہ قسمت میں
کئی احباب ہیں میرے
انہیں احباب میں مجھ کو
ملا اک بھائی پیارا سا
ملا اک دوست بھی سچا
ملی پیاری سی اک بہنا
کبھی میں تھی ادھوری سی
مگر اب ہوں مکمل میں
مجھے حاصل رفاقت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہے
یہ دونوں جانتے ہیں کہ
ہمارے درمیان قائم
فقط لفظوں کا رشتہ ہے
محبت سے جو بڑھ کر ہے
عبادت سے ذرا کم ہے...!!!!
*میں اداس ہوں*
*زارا فراز*
اے اداس دل
تجھے کیا پتہ
مجھے حق ملا نہیں پیار کا
میں غریب تھی
میں غریب ہوں
مرے سر پہ کوئی بھی چھت نہیں
مری زیست میں بڑی دور تک
ہے مصیبتوں کی دھوپ بس
مری زندگی میں
کہیں نہیں
کوئی شائبہ بھی بہار کا
میں ہوں بے اماں
نہ کبھی ملیں
مجھے چاہتیں
نہ کبھی کسی کی رفاقتیں،
مجھے بس ملی ہیں
اداسیاں
میں اداس تھی
میں اداس ہوں
*نظم*
*زارافراز*
یہ میرا تجھ سے وعدہ ہے
کہ اک دن لوٹ آؤں گی
تری محفل سجاؤں گی
بہت سے لوگ کہتے ہیں
کہ میرے بن تری محفل
بہت ویران رہتی ہے
ہاں میرے بعد کسی نے پھر
تجھے ہنستے نہیں دیکھا
مگر ترا یہ وعدہ تھا
مجھ سے دور ہو کر بھی
کبھی غمگین نہ ہو گے
مگر پھر کیوں تری آنکھوں
بجھتی جاتی ہیں.. آخر کیوں
مگر پھر کیوں ترا لہجہ
شکستہ ہے؟ بکھیرتے ہو
وہ دیکھو چاند نکلا ہے
ستارے جھلملاتے ہیں
یہ میرا تجھ سے وعدہ ہے
میں اک دن لوٹ آؤں گی.....