Monday, May 8, 2017

Zara Faraz Nazm

*نظم :------31*
*عنوان :---"""موسم"""*    
*تحریر :----- زارافراز*       

سنو.....!!!
میں تمہاری بے وفائی کو
لفظ دینا ہی  نہیں چاہتی
سو آج تک.....
تمہاری آنکھوں کے بدلتے رنگ کے
قصے  نہیں  لکھے
تمہارے سفاک لہجے کے تمام کذب
الفاظ زہر بن کے لمحہ بہ لمحہ
میرے دل کو نیلا کر رہے ہیں
تمہارے ساتھ  کے گلاب لمحے
وقت  کی  شاخ سے جهڑ کر
خزاں کے موسم  کے سپرد کردیے گئے ہیں
اب آنکھیں خالی ہیں 
خواب  بے مایا
میری رنج زدہ راتوں نے
بارش کے موسم میں بهی
آنسوؤں کا نمکین ذائقہ
بہت جبر اور شدتوں سے چکها ہے
لیکن تمہیں اس سے کیا
سنا ہے ......
تمہارے شہر ذات میں پهر سے
زمستاں کی سہانی رت آئی ہے
اور گزری شبوں کی طرح
تمہارے بستر پر
شکنیں پڑنے لگی ہیں -
*نظم :-------- 32*
*عنوان :-- شاید مجھ کو فون  کرے گا*
*تحریر :--- زارافراز*

ہر آہٹ پہ میری دھڑکن
اپنی ہر  رفتار سے بڑھ  کر
نا جانے کیوں دھڑک رہی ہے
ہوا کی انگلی
جب جب دستک
دیتی ہے دروازے پر
میں بیٹھے بٹھائے چونک رہی ہوں
دروازے سے
جھانک کے ہر دم
دیکھ رہی ہوں
دور  تلک سناٹا پا کر
مایوسی کی  چادر اوڑھے
واپس دھیمے قدموں سے
اپنے  کمرے لوٹ رہی ہوں
گھر پہ جس دم فون بجے تو
دل میں اور  بھی 
ہلچل پاؤں
تیز روی سے فون اٹھاؤں
اور جب وہ آواز نہ پاؤں
ایک ہی پل میں
مرتی جاؤں
میں اس کو کیسے بتلاؤں
"ترک وفا کے بعد بھی جاناں
دل کے ایک گوشے میں اب بھی
امیدوں   کی  دیپ ہے روشن"
ہر دستک پہ،
اس کی  آہٹ
ہر آہٹ پہ، اس کی خوشبو
ہر خوشبو پہ، اس کی  آمد
سوچ رہی ہوں..........
وہ  آئے گا
نا آئے تو فون کرے گا...
*نظم :---- 33*
*عنوان :--- میں آج اسے خط لکھوں گی*
*تحریر :---- زارافراز*

میں نے سوچا ہے
"دل نکلا کر اپنا
کاغذ پہ رکھ دوں گی
داستان  لکھوں گی محبت  کی
ساری بیتابی،
بے کل اور بے چین  راتوں  کی کہانی
لکھ ڈالوں  گی
اس بتا دوں گی
تنہائی، کیسا عذاب  ہوتا ہے
سانس چلتی ہے مگر
زندہ  ہونے کا احساس  نہیں ہوتا
آہٹ ہوتی ہے مگر،
کوئی  دروازے پر دستک نہیں  دیتا
میری سانسوں میں کبھی کبھی، کسی لمحے
خوشبو سی اترتی ہے
مگر اس کے جسم کا لمس میسر نہیں  ہوتا
محروم محبت  کے
اس احساس  تلے
میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی  ہوں
مگر تب بھی اس کی انگلیوں کی پوریاں،
میرے آنسو نہیں چنتیں'
میں اسے کہہ دوں گی
اسے میں بے پناہ
پیار کرتی ہوں
میں گر جیتی ہوں
تو بس اس امید پر
کبھی وہ مجھے  اپنے  شانے کا سہارا  دے  گا
مجھے بھی ٹوٹ  کر پیار کرے گا
وہ بس پیار ہی پیار دے گا
خفا ہر گز نہ ہو گا
مگر وہ  جانِ حیات....!
میں نے سوچا ہے
آج اسے خط لکھوں گی
وہ مسلسل کئی رتوں  سے
خفا ہے مجھ سے
کتنا چپ چپ سا
اکھڑا اکھڑا سا
رہنے لگا ہے مجھ سے
وہ یہ بھی جانتا ہے
اس کی ناراضگی
میری بیتابی کو بڑھا دے گی
اداس کر دے گی
مگر وہ مکمل  بے پرواہ ہے
میری کیفیت  سے،
میں گھبرائی گھبرائی سی
بس اسی کی فکر میں
ہلکان ہو کر
صحر سے زرا پہلے
نیند کے آغوش  میں چلی بھی جاؤں  تو
خواب اسی کے دیکھوں گی
وہ سب جانتا ہے پر
وہ ہر لمحہ یہ چاہتا ہے
تجدید وفا کرتی رہوں
میں آج اسے خط لکھوں گی
دل نکال کر اپنا
کاغذ پر رکھ ہوں گی
جذبات  کو الفاظ  دوں گی
میں اسے سچ بول دوں گی
*نظم :------- 34*
*عنوان : ---- میں اب ڈر گئی ہوں*
*تحریر  :---- زارا فراز*

میں اب ڈر گئی ہوں
تمہاری محبت  کے فسوں سے
لمس دے کر
تم نے اپنی دھڑکن کا
مجھے دل کے نہاں  خانے میں رکھا
کتنی شدت سے چاہا
سدا تمہاری چاہت پر
اپنے جذبوں سے زیادہ مان رکھا
تم نے اپنی ذات کی حصار سے
تمام باتیں مرے لہجے میں اتار دی ہیں
میں کم سخن لڑکی
بولنے کے آداب سیکھ چکی ہوں
زندگی کے اصل روپ دکھانے
تم مجھے چاند کے آنگن پہ لے آئے ہو
تمہارا بازو تھامے
میں اب اونچائی پر ہوں
مگر محسوس کر رہی ہوں
تم دھیرے دھیرے
سارے اختیار چھین رہے ہو
میں اب ڈر گئی ہوں
تمہاری اس بے اختیاری سے.....
*نظم :---35*
*عنوان :--- زندگی ترے بنا*
*تحریر :----- زارافراز*

بارشوں کے شور میں
آندھیوں کے درمیاں
دکھوں کی تیز  دھوپ میں
آنسوؤں کے درمیان
میں بہت اداس ہوں
زندگی  ترے بنا
بے یقین منزلیں
بے امان راستے
طویل رہ گزر ہے پر
سائباں کہیں نہیں
جانِ جاں ترے سوا
ہم سفر کوئی نہیں
بن ترے یہ زندگی
ہر خوشی سے دور ہے
غموں سے چور چور ہے
ہاں مگر...  مری آنکھیں
تیری راہ تکتی ہیں
تیرے خواب  بنتی ہیں
تجھ سے پیار کرتی ہیں
پر تجھے خبر نہیں
میری بے قراری کی
بے قرار دھڑکنیں
تیرا نام لیتی ہیں
تو ہی میری ہر خوشی
تو ہی میری زندگی
*زندگی* ترے بنا
میں بہت اداس  ہوں
دکھوں  کی تیز دھوپ  میں
آنسوؤں کے درمیاں
میں بہت اداس ہوں
زندگی  ترے بنا
*نظم....36*
*"میں نے اس کو فون کیا تھا"*
*تحریر ........ زارافراز*

کل    شب  یہ   ادراک  ہوا   تھا
کوئی  میرے   ہجر   میں   بیٹھا
مجھ   کو ہی بس  سوچ  رہا  ہے
کتنے    لمحے   بیت  گئے   ہیں
وہ   بس  مجھ  کو  ڈھونڈ رہا ہے
اس کو بھی ہے لمس کی خواہش
مری    خوشبو   ڈھونڈ   رہا  ہے

اس    خوشبو   کی  بات  جو آئی
تب  سے  دل  بے  چین   ہوا  ہے
کل   شب    اپنی    نیند   اڑا  کر
آنکھوں    میں   امید  سجا     کر
میں نے    اس   کو   فون کیا  تھا

فون کیا تھا،  بات   بھی کی  تھی
دل   کو    گو    آرام   ملا    تھا
پھر   بھی ہجر کی بے کل  راتیں
اس   کی  خوش  آواز  اور  باتیں
اس   کے  من  کا  بھید  بتا   کر
دھڑکن   کی    رفتار    بڑھا  کر
میرے    تن   میں   آگ  لگا   دی
اف !!!  کیوں اس کو فون کیا  تھا
*نظم :----- 37*
*تحریر :------ زارافراز*

ہوائیں تم ذرا سن لو .....
اسے کہنا
وہ رستہ، جس پہ چل کر وہ
ابھی گزرا ہے  بے کل سا
بہت ہی منتشر سا تھا
پریشاں حال لگتا تھا
جدائی نے اسے ڈس کر
عجب سا کر دیا نیلا
مجھے لگتا ہے ایسا کہ
اسے بھی ایک دن شاید
محبت مار ڈالے گی
اسے کہنا.......
کہ اس نے جس طرح اب تک
عذابِ ہجر جھیلا ہے
میرے  تن میں بھی
زہر ایسا
سرایت کر چکا کب کا

اگر وہ اپنے دل کے زہر کو  گر سہہ نہ پائے تو
زہر کا رنگ  جب
سارے بدن میں پھیل جائے تو
اسے کہنا
وہ میرے پاس آجائے
فقط ایک بار مل جائے
میں اس کا زہر سارا
اپنے اندر تک اتاروں گی
اسے میں  زندگی کی
خوشیاں ساری
دان کر دوں گی...
اسے کہنا
وہ  اپنے کرب کو جب سہہ نہ پائے تو
بنا میرے کبھی جب رہ نہ پائے تو
میں اسکے درد و غم اور سارے دکھ
کو
منتقل  کر کے
اسے  آرام دوں گی
پھر اپنا نام دوں گی
کیوں کہ میری زندگی ہے وہ
*نظم :----- 38*
*تحریر :----- زارافراز*

یہ کیسی  آزادی ہے  کہ
حیات بے کراں کی دیواروں پر
کھلنے والے سارے دریچے
وا کردیے گئے ہیں
پهر بهی ایک حبس ہے کہ
سارے ماحول میں پھیل رہا ہے
گھٹن سی اپنے اندر اترتی جاتی ہے
ایک اندھیرا ہے جو سارے وجود کو
اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہے
ایک لامتناہی اداسی ........
جو سانس لینے ہی نہیں دیتی
تنہائی کا احساس ایسا جیسے کہ
زندہ رہنے کا جواز ہی چهن گیا ہے
بے جواز خواب،اپنی آخری آرام جا  پر پڑے
اپنے ہونے نہ ہونے کا
ماتم کرتے جا رہے ہیں
آواز دور نہیں جاتی
آزادی مل گئی لیکن
آزادی کی نادیدہ فلک بوس دیوار پر
سبز،گلابی شب و روز چن دیے گئے ہیں-
*نظم:-----39*
*عنوان : وہ دل کے پاس رہتے ہیں*
*تحریر:----- زارافراز*

جو دل کے پاس رہتے ہیں
بہت ناراض رہتے ہیں.....
چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر
خفا دن رات رہتے ہیں
جو آدھی رات ہوتی ہے
تو ان سے بات ہوتی ہے
وفائیں ساتھ ہوتی ہیں
دعائیں سا تھ ہوتی ہیں
وہ دل کے صاف لگتے ہیں
ریا سے پاک لگتے ہیں
میں ان سے کہہ نہ پاوں گی
مجھے وہ خاص لگتے ہیں
رہوں جب بھی کبھی تنہا
تصور میں
خیالوں میں
وہ میرے پاس ہوتے ہیں
وہ میرے  ساتھ ہوتے ہیں
نئے الفاظ ہوتے ہیں
نئے انداز ہوتے  ہیں
حسیں آواز ہوتی ہے
جواں جذبات ہوتے ہیں
وفائیں سر اٹھاتی ہیں
روپہلی شام سی آنکھیں
حیا سے جھک سی  جاتی ہیں
مرا مکھڑا اٹھا کر وہ
زرا زلفیں ہٹا کر  وہ
میرے رخسار پر جھک کر
محبت ثبت کرتے ہیں
وفا کا گیت گاتے ہیں
مگر پھر رات جاتے ہی
سحر کی بات آتے ہی
وہ مجھ سے روٹھ جاتے ہیں
وہ دل کے پاس رہتے ہیں
مگر ناراض  رہتے ہیں....
*نظم :----- 40*
*تحریر :------ زارافراز*

فصل گل کی خوشنماں ہوائیں
پھر آج تمہاے دروازے پہ
دستک دیتی ہے
معلوم ہے تم آج بھی نکلو گے
خوشگمانیوں میں ڈوبے ہوئے
جذبات کے رو میں
ڈگماتے لڑکھڑاتے
نئی امید کے ساتھ…
مگر سوچو… !!
اس بار تم
دل کس پہ لٹاو گے
سنو… !!
اس بار بھی تم
محبت ہار جاو گے.…!!!!
*نظم :----- 41*
*تحریر :---- زارافراز*

کبھی کبھی یہ سوچتی ہوں
جب محبت نے
تمہارا وجود پاکر
ایک روپ دھار لیا ہے تو
یہ تصویر دھندلی سی کیوں ہے
عکس مٹے مٹے سے کیوں ہیں
تم مکمل روپ لے کر
سامنے کیوں نہیں آتےاور
میں یہ بهی سوچتی ہوں
بے پناہ چاہتوں کا یقین
ہم دونوں کی  آنکھوں میں پنہاں ہے
پهر یہ بے بسی ہمارے چہرے کا
احاطہ کیوں کرنے لگی ہے
اور جب زندگی.....
تنہا گزارنے ہی کا نام ہے تو
شاہراہ حیات پر تمہارا ملنا
ضروری تها.......؟؟؟؟
*نظم :----- 42*
*عنوان :--- " تمہاری یاد"*   
*تحریر :----- زارافراز*  
     
جان ....!!!
تمہارے کمرے کی  تیسری جانب
کھلنے والے دریچے پر
جہاں سے  ہر شب چاند جهانکتا ہے تمہیں
اسی  سمت آج  موسم کی پہلی بارش کا
اجلا منظر تمہارا منتظر ہے
تم آنکھ اٹهاو اور پلکوں پر
ان بارشوں کی ننهی بوندوں کو
چن لو .......
موسم کی  پہلی بارش اور
محبت  کے نرم جذبوں میں
بڑی مناسبت ہے
میں آج بارش میں بهیگتے ہوئے
بہت دیر تلک.....
محبت  کی حدت پاتی رہی
جذبوں کی تمازت میں سلگتی رہی
کیا کہوں....!!!
تم یاد ہی کچھ اس شدت سے
آئے تھے کہ ........
*نظم :------ 43*
*تحریر : ----- زارا فراز*

جانتے ہو۔۔۔۔
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
وہ ملتا ہے
بات بھی کرتا ہے
میری کلائی کو تھام کر
اسی انداز میں
چوم بھی لیتا ہے
میں اس کےچہرے پر
خوشی کے سارے رنگ
سمیٹنا چاہتی ہوں
تو اس کا چہرہ سپاٹ ہو جاتا ہے
اور اس کا لہجہ
ایک دم کاٹ دار
وقت کی ناگن نے
محبت کی فضا میں
اپنی سانسیں پھونک کر
زہر گھول دیا ہے
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
*نظم :-------- 44*
*عنوان:---- آدم خور*
*تحریر :------ زارافراز*

میں تمہارا آئینہ ہوں
  مجھے غور سے دیکھو
میں انسانوں کے گلے میں
پنجے  گاڑ کر
خون چوس لیتی ہوں
جسم کے پارچے بنا کر کھاتی ہوں
اگر  بوٹیاں کرتے ہوئے خنجر
استعمال کرتی ہوں تو
اپنی بے ثبوتی کے لئے
خنجر میں لگے خون
اپنی زبان سے چاٹ کر
صاف کر دیتی ہوں
میں تمہارا آئینہ ہوں
*نظم :--------45*
*عنوان :----  خیالِ مقدس*
*تحریر :------ زارا فراز*

میرا خیالِ تقدس۔۔۔۔۔۔
محبت کی اینٹوں سے، 
وفاکےگارے سے
تعمیر ہونےوالا
وہ کعبہ ہے
جہاں جب بھی تم آئے
احرام میں آئے۔۔۔……!!!
*نظم :---------- 46*
*عنوان :------ تحفظ*
*تحریر :------ زارا فراز*

میں کیا کروں
میرے اندر کی چپ
اب بہت بولنے لگی ہے
اس کی شور مچاتی خاموشیاں
میرے کان سل کر نے لگی ہیں
وحشت زدہ سی
کانوں میں انگلیاں ڈالے بیٹھی ہوں
اس سے پہلے کہ
ان چیخوں کی زور سے
میرا وجود چٹخے
پھر ٹوٹ جائے
میں چاہتی ہوں
محبت  مجھے تحفظ میں لے لے
*نظم :------ 47*
*عنوان :----- میرے ہوجاو* 
*تحریر : ----- زارافراز*

دل مرا بھی کرتا ہے
ہنس کے تم ملو  مجھ سے
رکھ کے ہاتھ سینے پر
چھو کے میری دھڑکن کو
کر لو بات چاہت سے
.
تم خفا  ہوئے مجھ سے
چھائی  بے قراری سی
بے قرار دھڑکن کو
کاش تم سمجھ پاتے
روٹھتے نہیں ہر گز
عشق کر چکے ہوتے
مجھ پہ مر چکے ہوتے

مجھ کو آزمانے کا
اب خیال چھوڑو بھی
دوستی نبھانی ہو
زندگی بنانی ہو
بھول کر انا ساری
میرے پاس آجاو
میرے ساتھ ہو جاو
بھلا کے ساری دنیا کو
بس مرے ہی ہو جاؤ......!!!!!
*نظم :--------- 48*
*عنوان :----- کاش یہ دل بهی*
*تحریر :------ زارا فراز*

کاش دل بھی کوئی
کا غذ کا ٹکڑا ہوتا
میں اسے سامنے رکھ کر
روشنی کے سارے رنگ چرا کر
اس پہ رنگ بھرتی
بہت آراستہ کرنے کے بعد
خوب صورت،شوخ لہجے میں
تمہارے نام کے مکمل وجود سے
اٹھنے والی خوشبو کو
قید کر کے محبت لکھ دیتی
اور ساری دنیا کی سب سے اونچی
ہوا کے دوش پر لہراتا ہواچھوڑ دیتی
ساری دنیا جب  محبت کو
میری آنکھ سے دیکھتی
تو مجھ پر رشک کر تی ---
*نظم :------ 49*
*تحریر:----- زارا فراز*

جانتے ہو۔۔۔۔
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
وہ ملتا ہے
بات بھی کرتا ہے
میری کلائی کو تھام کر
اسی انداز میں
چوم بھی لیتا ہے
میں اس کےچہرے پر
خوشی کے سارے رنگ
سمیٹنا چاہتی ہوں
تو اس کا چہرہ سپاٹ ہو جاتا ہے
اور اس کا لہجہ
ایک دم کاٹ دار
وقت کی ناگن نے
محبت کی فضا میں
اپنی سانسیں پھونک کر
زہر گھول دیا ہے
میں نے اس کا اعتبار کھو دیا ہے
*نظم :-----51*
*تحریر :-----  زارافراز*

یہ کیسی سرد مہری جنگ
ہمارے درمیان چھڑ گئی جاناں
کہ محبت تم بھی کرتے ہو
محبت میں بھی کرتی ہوں
تم میں نہیں ہوتی
تمہاری آنکھوں میں رکنے کو
مجھے کوئی پل نہیں ملتا
تمہاری سانسوں میں جینے کو
کوئی لمحہ نہیں ملتا
ہاں مگر آج بھی تم
آفس جانے سے کچھ پہلے
بڑے انداز سے
کلائی تھام کر میری
نرم بوسہ بھی لیتے ہو
مگر تم کچھ اس طرح جاناں
کہ تم جلدی میں ہوتے ہو --
*نظم:----50*
*تحریر:---زارافراز*

میں جب بولا کرتی ہوں
کیا تم کو اچھی لگتی ہوں؟
میرے چپ کا راز نہ جانو
مجھے کبھی نہ اپنا مانو
پھر بھی چاہو
ہنس کر بولوں
آنسو روکوں
درد چھپا لوں
تم سے دل کے بھید بتاؤں
خوشبو بن کر ساتھ رہوں اور
تنہائی میں دل بہلاؤں
میرے چپ کی قفل کو توڑو
مجھ سے بولو
مجھے  پکارو
*نظم :------52*
*تحریر :-----  زارا فراز*

عزیز ساتھی....!! کہاں گئے تم
حیات میری....اجاڑ کر اب.
کہاں میں ڈھونڈوں
وہ زندگی جو
تمہاری کھلتی ہنسی کے سائے
گزر رہی تھی
کہاں میں پاؤں...... وہ پیارے نغمے
تمہارے لب پہ وفا کی لئے  پر
سجے ہوئے تھے

عزیز  ساتھی
کہاں گئے تم  خفا سے ہو کر
رلا کے مجھ کو
میں تم کو برسوں سے جانتی ہوں 
تمہارا  برتاو..... انکساری
تمہارے لہجے  کی نرمیاں بھی
تمہاری باتوں میں شوخیاں تھیں
مگر گئے تم.
بنا کہے ہی........
کہاں میں دھونڈوں
اب ان دنوں کو
کہ جس میں تم ہی
بہت ہی چاہت سے ان لبوں پر
وفا کی سرخی سجا رہے  تھے
جھکی ہوئی تھیں   دراز پلکیں
تم ہی تو ان میں
حیا کا کاجل لگا رہے  تھے
وہی گھڑی تھی
کہ جب جبیں پر
گلاب موسم اتر رہے تھے

جو پاس تھے تم
خفا نہیں   تھے
مگر مجھے لگ رہا ہے ایسے
کسی کی باتوں میں  آگئے ہو
تم اپنی *جاں* کو بھلا  گئے ہو....
عزیز ساتھی ....  کہاں گئے تم
*نظم :------   53*
*عنوان :----- عورت*
*تحریر :----- زارا فراز*

جب محبت کا چشمہ پھوٖٹتا ہے
ندی بہتی ہے
واددی…  جنگل، شہر
پھر گاؤں کی
پکڈندیوں سے ہوکر
بہت دور صحرا میں پہنچتی ہے
ہر خطّہ کو سیراب کرتی ہے
جب تھک کر ہوجاتی ہے چور
تب......
سمندر کی چھاتی میں
اترنے سے پہلے
عورت کا روپ دھار لیتی ہے…۔!!
📚 *نظم :----54*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

محبت سن...!!!
تمہارے  کان میں مجھ کو
ابھی ایک بات کہنی  ہے
تمہیں  ایک راز کہنا ہے
تمہیں  اپنے،
شکستہ دل کے بارے میں
مجھے سب کچھ  بتانا ہے
کہ  نا آسودہ سے  نینوں کی
بہت دکھ سے بھری اپنی
کہانی بھی سنانی ہے
تمہیں  یہ بھی بتانا ہے
کہ تم ایک بار پھر  شاید
کتابوں سے نکل کر
میرے  ویراں دل کی دنیا میں
کہیں آباد ہوتے جا رہے ہو
میرے جذبے
تمہارے  جاویدانی رنگ سے
ہر پل ..نکھرتے جا رہے ہیں
اور میں اب  کافی حد تک
سارے جذبوں کو  سمجھنے
لگ گئی  ہوں
کبھی ترکِ تعلق کے ارادے
دل میں تم سے طے کئے تھے... اب
ارادے ٹوٹے جاتے ہیں
بکھرتی جا رہی ہوں میں ....
سمٹنا چاہتی ہوں پھر
اسی خاطر
تمہارے  پاس
آئی ہوں یہ سننے......
تمہیں  کیا یاد آتی ہوں؟؟
📚 *نظم :--- 55*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*
کسی تنہا مسافر  کو
میں  تکتی جا رہی ہوں
نہ اس سے میری
کوئی آشنائی ہے
نہ اس سے  میری
کوئی دلربائی ہے
مگر نہ جانے کیوں
مجھے لگتا ہے ایسا
وہ بھی میرے جیسا ہی
بہت تنہا  ہے
میں کیسے خود میں
اتنی  ہمت لاؤں
درمیاں کے سارے
فاصلے مٹا کر
اس کے پاس جاؤں
اور پیچھے سے
اس کی آنکھوں  پر
دھیرے سے
ہاتھ رکھ کر،  پوچھوں
"بوجھیں مجھے"
مگر وہ کچھ بھی نہ کہے مجھ سے
بس میرے ہاتھوں  پر دیر  تک
اپنے ہاتھ رکھے ہوئے
کسی سوچ میں ڈوبا رہے
وہ بے سبب ہی مجھ کو اپنے پاس رکھے.....
میں جتنے پل
اس کا لمس پاوں گی
خوش رہوں گی
میں ان چند لمحوں میں،
یقیناً.... 
جیتی رہوں گی...
📚 *نظم :-----   56*
*عنوان:-----  کیا میں نے بھی تھا*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

کہا میں نے بھی تھا تم سے
کبھی نہ روٹھنا مجھ سے
کبھی نہ دل دکھانا تم
کبھی نہ دور جانا تم
مگر جاناں...
ہمارے درمیان کیسی
یہ بکھری سرد مہری جنگ
تباہی دل میں لائی ہے
ہزاروں شب رلائی  ہے
محبت میں بھی کرتی ہوں
محبت تم بھی کرتے ہو
سنو جاناں
انا کے خول کی قیدی
رہائی چاہتی ہوں اب
ترے  قدموں  پہ رکھ کر دل
وفائیں  چاہتی ہوں اب
میری چاہت تمہیں ہر شب
سدائیں دیتی رہتی ہیں
کبھی سوچا نہ تھا میں نے
کہ گہری نیند  میں جا کر
سہانے خواب  میں کھو کر
مجھے تم بھول جاؤ گے
خودی سے روٹھ جاؤ گے
کہا میں نے بھی تھا تم سے
کبھی نہ روٹھنا مجھ سے
*خطائیں بھول کر میری*
*مرے جاناں چلے آؤ*
*نظم :---- 57*
*عنوان :--- "صیاد"*
*تحریر : --- زارا فراز*

میرے صیاد
میں تیرے طلسمی دیس کی داسی ہوں
بہت دنوں،
تیرے وجود کے گوشے میں
قید رہی
تم نے میرے پرواز کے پر
کاٹ ڈالے تھے
آج جب میرے نئے پر نکل آئے تو
تم نے بھی مجھے
آزادی کا پروانہ دے دیا
مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھو
میں اڑنا بھول چکی ہوں
*نظم :------58*
*عنوان :----- افق کے پار*
*تحریر :----- زارافراز*

افق کے پار جہاں تم ہو
جہاں سے تم مجھے آواز دیتی ہو
جو راستہ تم نے چھوڑ رکھا ہے
میرا اعصا.......
مجھے اس ہی طرف لے چلا ہے
ان ہی رستوں پر تمہاری یادوں کے
ننھے قدموں کی نشانیاں
تمہارے نرم و نازک بدن کی
پر چھائیاں ہیں
ان کی رستوں پر
میری نگاہیں بچھی ہوئی ہیں
تمہارے لمس کو چھو رہی ہیں
مگر میری بچی
تم کیوں کھو گئی ہو
میری گود سونی ہوگئی ہے
میری ممتا پیاسی رہ گئی ہے
تشنگی بڑھتی جا رہی ہے
تم میرے پہلو میں کب سماوگی
تم مجھ کو اپنے پاس کب بلاوگی
*نظم :-----59*
*تحریر :----- زارافراز*

میں آدھی رات کو
بام پہ جا کر
چاند سے آنکھیں ملا کر
بات کرتی ہوں
تو اکثر سوچتی ہوں
مرے اندر شرمائی
گھبڑائی سی لڑکی
آوارہ کیسے ہوگئی
*نظم :----- 62*
*تحریر :------ زارافراز*

مجھے وہ دن، سنہرے پل
ہمیشہ یاد آتے ہیں
جہاں تم تھے، محبت تھی
خوشی کی اک دنیا تھی
یہاں غم ہے،جدائی ہے
تمہارے بن
یہ دل وحشت زدہ ہے
یہ گھر وحشت کدہ ہے
*نظم :------63*
📚 *سالِ نو کے تعلق  سے ایک دعائیہ نظم .....*
*سال نو کی ابتداء ہے*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

اے ربِ کُل تو یہ جانتا ہے
کہ سال نو کی یہ ابتداء ہے
وہ سالِ ماضی گزر چکا  ہے
برس جو گزرے......
کہ جس میں ہم نے
وہ دن بھی دیکھے
کہ جس میں سورج کی روشنی تھی
مگر اندھیرا ہی پھیلتا تھا
زمیں...... کہ جس میں
لہو کی سرخی ہی پھیلتی تھی
ردا کی خاطر ہماری بہنیں
تڑپ رہی تھیں
ہمارے بھائی، ہمارے  ہم دم
جو ہار بیٹھے ہیں جاں کی بازی.......

گئے برس میں
بہت  سی آنکھوں نے اپنی پلکوں پہ پھول ٹانکے تھے کچھ وفا کے
کسی نے دیکھے تھے خواب سارے
کسی نے پائی تھی تعبیر اس کی
کسی نے خوابوں کو توڑ ڈالا
کسی کو تونے جدائی بخشی
کسی کو تو نے خدائی بخشی
کوئی پریشاں تھا حکمراں سے
کوئی تو نالاں تھا اس جہاں سے

گئے برس میں
بہت سی دھڑکن
محبتوں سے نباہ کی تھی
بہت سے لوگوں نے رنجشوں سے ملائی آنکھیں تھیں
ہنس رہے تھے
جہان بھر میں
کہیں  تھیں خوشیاں
کہیں تھی رنجش
کہیں تھی تلخی
کہیں تھی فرحت
کوئی تھا شاداں
کوئی تھا اجڑا
کسی کے غم نے،
کسی کے دل کو..... کسی کے سر کو
ترے  ہی در پر جھکا دیا تھا
کسی کی خوشیاں،
کسی کی نظروں نے خاک کردیں
کسی کا اپنا بچھڑ گیا تھا
کسی کی چاہت ہی مر گئی تھی
کسی کی دنیا اجڑ گئی تھی
کسی نے الفت کے گھر  بسائے
کسی نے نفرت کی بیج بوئے
کہیں پہ چاہت کے پھل اُگے تھے
کہیں پہ پھیلی وفا کی خوشبو
کہیں کہیں پہ جفا کے آہو
کہیں اجالا،  کہیں اندھیرا
کہیں جدائی
کہیں ملن تھا
کہیں تھا ساتھی
کہیں تھا سایہ
کہیں ہوا پھر سے قتل و غارت
کسی وطن میں تھی نوٹ بندی

مرے خدارا....!!!!!!
یہ کیسے بندوں کو تو نے دے دی ہے حکمرانی
زمیں  پہ ہم نے بھی دیکھ لی ہے
عذاب مہلک و آسمانی
یہ تیری قدرت
کہ  اس برس ہم
گزر کے آئے ہیں امتحاں سے
یہ سال نو کی جو ابتداء ہے
تو میری سانسوں کی یہ دعا ہے

اے میرے خالق....
تو اس برس میں تو رحمتوں کا نزول کرنا
بچھڑنے والوں کو پھر سے ان کی  محبتوں  سے قریب کر نا
کہ سچ کو  میرا رفیق کرنا
جو رنج میں غم میں مبتلا ہیں
انہیں دکھوں سے نجات دے دے
جو بے سکوں ہیں......
سکون دے دے
ہے جن گھروں میں....
ذرا بھی تنگی
مرے خدا اس کو دور کر دے
ہر ایک کو دے تو رزق خالص
مریض لوگوں کو تو شفا دے
تو صحتِ کُل انہیں  عطا کر
ہمارے جسموں کو دے وہ طاقت
کہ ہم کریں بس تری عبادت....
اے ربِ کُل تو یہ جانتا ہے!!!
کہ سال نو کی یہ   ابتدا ہے

تو اس گھڑی کو......
دے ایسی فرحت
وہی مسرت
جو مجھ کو تجھ سے قریب کر دے
گئے برس کا کوئی بھی دکھ ہو
یا ہو وہ رنجش
بھلا دے مولا
کہ لغزشوں کے تمام دفتر
مٹا دے مولا

میرے خدارا....!!
میں سوچتی ہوں
یہ سالِ نو بھی تو رنج دے گا
کئی مسافر کی جان لے گا
میری کہانی بے انت ہو گی
نہیں بھروسہ....
کہ اس کے آخر میں جی سکوں گی؟
یا آنے والے  برس میں کوئی
نئی کہانی بھی لکھ سکوں گی؟
یا لوگ مرقد پہ آکے میرے
پڑھیں گے کتبہ.......
تجھے پتہ ہے.... 
اے ربِ کل تو یہ جانتا ہے......
کہ کس برس میں ہے موت کس کی.... 
یہ سالِ نو کی تو ابتداء ہے.......!!!

No comments:

Post a Comment