📚 *غزل 52*
✍🏻 *زارا فراز*
دیارِ دل کے اس سورج کا ڈھلنا بھی ضروری تھا
سہانی شام کا موسم بدلنا بھی ضروری تھا
میسر تھیں مجھے شامیں کبھی گلزار رستوں پر
مگر پھر ہجر کے صحرا میں چلنا بھی ضروری تھا
نہ چھوڑیں گے ہم ساتھ اک دوجے کا، وعدہ تھا
ہمیں اپنی کی باتوں سے بہلنا بھی ضروری تھا
ذرا پہلے محبت سے نگاہیں چار کرنی تھیں
ہمیں پھر عشق کے دریا میں جلنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ کر لیتے غموں سے اپنے سمجھوتا
مگر پھر دل کی دنیا کا بدلنا بھی ضروری تھا
مقدر میں لکھا تھا سو مصائب کے محاذوں پر
قدم کا لڑکھڑانا پھر سنبھلنا بھی ضروری تھا
📚 *غزل 53*
✍🏻 *زارا فراز*
بھلا یہ زندگی بھی زندگی معلوم ہوتی ہے؟
کہ جس میں ہر گھڑی بس بے بسی معلوم ہوتی ہے
مہک اٹھّا ہے یہ جیون اسی کی ذات کے دم سے
مری بیٹی مجھے تازہ کلی معلوم ہوتی ہے
محبت کی نگاہوں سے سمندر پی لیا ہم نے
"مگر پھر بھی بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہے."
سکوں سارے زمانے کو محبت ہی سے ملتا ہے
نہ جانےکیوں مجھےہی بےکلی معلوم ہوتی ہے
بھلا میں راستہ، منزل کا کس حیلے سے پاؤں گی
مجھے اب دور تک بس تیرگی معلوم ہوتی ہے
🕋 *نعت 54*
✍🏻 *زارا فراز*
معطر فضا عمر بھر چاہتی ہوں
میں شہرِ مدینہ میں گھر چاہتی ہوں
سراپا ہوں ڈوبی گناہوں میں مولا
میں اب زندگی پاک تر چاہتی ہوں
تجھے واسطہ تیرے محبوب کا ہے
میں اپنی دعا میں اثر چاہتی ہوں
جدائی کا درد اب سہا بھی نہ جائے
کہ طیبہ کی جانب سفر چاہتی ہوں
میں ایمان لائی ہوں حبِّ نبی(ص) پر
انہیں بے طرح ٹوٹ کر چاہتی ہوں
مرے دل میں ایمان کا نور پھیلے
میں ان کے چمن میں سحر چاہتی ہوں
📚 *غزل 55*
✍🏻 *زارا فراز*
کن سوچوں میں ڈوب گئی ہیں گہری آنکھیں
کون سے سپنے دیکھ رہی ہیں تیری آنکھیں
جب بھی موقع پاؤ ان کو تک لینا
جیون کا ہر بھید کہیں بھیگی آنکھیں
دھیرے دھیرے طرز بھی تیرا بدلا تھا
پھر وہ دن آیا تو نے بدلی آنکھیں
میں بھی کھول کے اپنا یہ دل،سچ رکھ دوں
کھل کر جب اظہار کریں تیری آنکھیں
اوٹ میں آنچل کے یہ سوچ کے کر لی ہے
دل کا بھید نہ کہہ ڈالیں میری آنکھیں
کاش کہ پھر سے لوٹ آئے ان کا بچپن
تیری آنکھ سے مل کھیلیں میری آنکھیں
بھور سمے تک جاگنے والے لڑکے سن
ہمراہی ہیں تیری پیار کی، تیری آنکھیں
No comments:
Post a Comment