*نمبر :----- 12*
*عنوان :----- اکیلا*
*تحریر :---- زارا فراز*
یہ سانحہ تو اس پر کئی بار گزرا تھا۔
اس عمل کو اس نے کئی بار دہرائے تھے
کتنی بار اس درد ناک منظر کو اپنی آنکھوں کے سمندری گوشے میں ہمیشہ کے لئے قید کیا تھا
پھر۔۔۔۔ آج اس نے اپنی آخری خواہش۔۔۔۔ جو جانے کب…
حسرتوں میں بدل گئی تھی
آخری بار
چہرہ دیکھ کر اس پر کفن ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ لرز رہے تھے
آنکھیں گیلی تھیں
ضبط کے باوجود وہ روپڑا تھا
وہ اتنا کمزور تو نہیں تھا لیکن۔۔۔۔۔
آج چاروں کاندھے بھی اسے اکیلے ہی دینے تھے
آج وہ ہارا ہوا شخص لگ رہا تھا
کوئی اسے دلاسہ دینے والا نہیں تھا
نہ کوئی اس کا غم بانٹ سکتا تھا
نہ کوئی آنسو پونچھ سکتا تھا
نہ کوئی اس کے غم میں ڈوبے الفاظ سہہ سکتا تھا۔۔۔
وہ شکشتہ پا۔۔۔۔۔۔
اپنی آخری خواہش بھی دفنا کر۔۔ مٹی پلید کرنے لگا۔۔۔
ایک گرم آنسو۔۔۔ اس کے رخسار سے ڈھل کر
زمین کی نمی کے ساتھ جذب ہو گئے۔۔
*نمبر :------- 13*
*عنوان :---- آخری چہرہ*
*تحریر :----- زارا فراز*
اس کی آنکھیں عمر کا سفر طے کرتے کرتے تھک چکی تھیں، ان تھکی ہوئی آنکھوں سے اس نے دھندھلے منظر میں سب سے پہلے ماں کا چہرہ دیکھا۔۔ جس کی چھاتی سے لگی وہ محبت چوس رہی تھی۔ پھر وہ شفیق باپ جس کی شہادت کی انگلی تین برس تک تھامے رکھا تھا اچانک وہ انگلی اس کے گرفت سے چھوٹ گئی۔ اور پھر ماں نے بھی آنکھیں بند کر لیں۔ اب تائی کا چہرہ نظر آتا ہے جن کے لئے اس کا وجود بوجھ تھا۔ اور تائی کابیٹا جس کی آنکھوں کی چمک کو، محبت سمجھ بیٹھی تھی وہ ہوس ہی تو تھی، جس نے اس کو سوتی کے بڑے سے ڈوپٹے میں بھی برہنہ کر دیا تھا۔ اب…… ابھر کر شریک حیات کا چہرہ سامنے آگیا۔۔ پورے ایک ماہ اس نے اسے اپنی محبت اور قربت سے سیراب کیا تھا، پھر دنیا کہ بھیڑ میں ایسے گم ہوا کہ دوبارہ وہ چہرہ ملا ہی نہیں۔۔ اب تو وہ جان چھڑکنے والی ساس کی آنکھوں میں بھی چبھتی تھی۔ ایک ننھا وجود جو اس کے جسم سے نکلا تھا۔ وہ اس کی آنکھوں کا تارا تھااس نے اسے اپنے لہو سے سینچا،، جوانی رنگ لائی۔۔ پھر اسے بھی ماں کبھی نہیں یاد آئی۔۔ دو گز کی زمین سے لگی دیوار پر وہ تمام چہروں کا فریم لگا ئے جی رہی تھی۔۔۔ پھر آخری چہرہ نظر آیا جس نے سارے چہرے کو مٹانےکے بعد اس کی سانسیں ہی کھینچ لیں ۔۔۔۔
*نمبر :----14*
*عنوان :--- کمزور فیصلہ*
*تحریر :------ زارافراز*
ایک بار پهرمیں نےقلم اٹهایا ہے اس لئے کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے نہ میرے پاس الفاظ ہیں ،نہ بات کرنے کا سلیقہ، نہ تم سے آنکھیں ملا کر بات کر سکتی ہوں
میں اپنے آپ کو بھی مخاطب کرنے کے حیلے ڈھونڈتی ہوں اور تم سے بولنے کے لیے تو مجھے بہت ہمت چاہیے
دل کے ویرانے میں بارش کی بوندوں سے بہت دور۔۔۔۔۔۔۔۔ بنجر زمین میں اپنی خواہشات کو دفنانے کا خیال لے کر چپ چاپ تمہارے پہلو سے اٹھ آئی ہوں…
تمہاری نظر میں، میں خودپسند، جزباتی، بِن موسم بوند بوند برس کر دریا بن جانے والی عورت ہوں.........
جس کا دل تمہاری مٹھی میں ہے
تم سمجھتے ہو کہ تم حاکم ہو زندگی بھر ہاتھ نہ لگانے کی قسم کھانے والے دوسرے ہی لمحے نہ صرف اپنی قسم ہی توڑ دی بلکہ ایک عورت کی نسوانیت کو بھی پامال کر دیا
پھر ایسے بے نیاز ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں… لیکن وقت کے ساتھ تم بالکل بدل گئے ہو
سچ کہوں…۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کٹی ہوئی شاخ کی مانند اب تمہارے دونوں بازو اپنی ہی نااہلی کو سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں ......
تنہائی پسند اندر تک سرد موسم کی طرحٹھنڈے احساسات کے مالک۔۔۔۔۔
چپ چاپ تمہارا صرف گھورتے رہنا۔۔۔۔ بہت تکلیف دیتا ہے جذبات سے عاری۔۔۔ محبت کے لمس سے محروم تمہارا لہجہ میری ڈھڑکنوں کو بیزار کرنے لگا ہے۔۔۔ ہمسفر یہ گاڑی یوں نہیں چلتی۔۔۔۔۔ میں نے بہت سوچا پر نباہ کی کوئی ننھی کرن نہیں نظر آتی میں نے تم سے ترک تعلق کے سارے جواز ڈھونڈ لیے ہیں۔ فیصلہ لینے سے پہلے تمہارے دستخط ضروری ہیں
لیکن…… ...
اب بھی ہونٹوں پہ ایک دعا کانپ رہی ہے اس لئے کہ میں ایک کمزور عورت ہوں اور میری یہ کمزوری مجھے خط لکھنے ہی نہیں دے گی
خوش ہو جاو کہ میں اپنا فیصلہ واپس لے رہی ہوں کیوں کہ میں زندگی کے اس موڑ پہ ہوں جہاں عورت اپنے لیے جینا بھول جاتی ہے۔۔ میں تو یہ بھی بھول گئی کہ ایک ادھوری عورت۔۔۔ مکمل خط نہیں لکھ سکتی……۔۔۔۔۔۔
خدا حافظ…..
*نمبر :----17*
*مائکروفکشن*
*عنوان:---- نامرد*
*تحریر:---- زارا فراز*
"جب سے تم جیسی ہیجڑا نما عورت مجھ پر مسلط ہوئی ہے میری زندگی برباد ہو گئی ہے!"
احساسات کے خول سے باہر نکلے بغیرآج بھی وہ سر جھکائے اس کے لفظوں کی کاٹ برداشت کرتی رہی پھر اچانک ہاتھ میں پکڑی ڈائری رکھ کر خاموشی سےکمرے کے دروازے سے یوں نکل گئی جیسے زخمی کر دینے والے الفاظ کے تیروں سے نجات پانے کا صرف ایک ہی در باقی ہو۔
اس کے جاتے ہی نجانے کیا سوچ کر وہ اس کی ڈائری آٹھا کرورق گردانی کرنے لگا۔ یقین تھابرف کے جیسی ٹھنڈی عورت کا کوئ معشوق نہیں ہوگا مگر تجسس غالب آگیا۔
اسے ڈائری کے صفحات پر چند سطور کئی جگہ درج ملیں۔
"میرے جسم کا کوئی حصہ باقی نہیں جہاں تمہاری محرومی کے نشانات ثبت نہ ہو تم میری روح کے گھاؤ دیکھنے سے محروم ہو۔۔ میں نہیں جانتی تمہاری سفاکیت کی آخری حد کیا ہے۔ تم ابھی تک میرے اندر کی عورت کو بیدار نہ کر سکے۔ کبھی اپنی محبت کی گرمی مجھ میں منتقل تو کرو۔۔۔ !! میں تمہیں جواباً اپنی سچی اور بے لوث محبت کا تحفہ نہ دوں تو کہنا!"
اس نے نفرت سے ڈائری کے صفحے پر تھوک دیا۔ اوراسے دور فضا میں اچھال دی۔۔۔
*نمبر :----- 15*
*عنوان :--- پیسے کی چوٹ*
*تحریر :---- زارا فراز*
"مجبوریوں" نے میری پشت پر دونوں ہاتھ باندھ کر، لا محدود "ضرورت" کی فہرست اور چند "مڑے تڑے نوٹ" تھما دئے۔۔ جس سے نہ بھوک مٹ سکتی تھی نہ ضرورت پوری ہوسکتی تھی ۔; میں اسے لے کر اپنی سانسوں کو بمشکل ہموار کرتے ہوئے زندگی کی دوڑ، دوڑ تی ہوئی ایسی دکان پر پہنچی۔ جہاں چیزیں، میری مٹھی میں دبے ہوئے نوٹوں سے بہت زیادہ قیمتی تھیں ۔ دکاندار میری آنکھوں میری جھانک کر ضرورت کی فہرست دیکھی اور مسکرایا۔ اس نے پیچھے سے آ گر میرے ہاتھ میں "کرارے نوٹ" اور اپنی "شیطانی خواہش" کی فہرست تھما دیے اس نے پل بھر میں مجھے غلام کر لیا تھا۔ ایک دم سے میری آنکھیں تمام ضرورتوں سے خالی ہو گئیں۔ میرے قیدی ہاتھ اپنے اختیارات کھوتے گئے۔ میرے اندر کی غریب، لاچار عورت پیسے کی چوٹ سے زخمی ہو گئی
*نمبر :----- 16*
*مائکروفکشن*
*عنوان :---- ڈھونگی*
*تحریر :---- زارا فراز*
"باجی میری بیٹی بہت بیمار ہے اس کے دل کا آپریشن ہونے والا ہے علاج کے لئے بہت پیسے درکار ہیں۔ میں غریب عورت، پیسے کہاں سے لاوں؟۔۔ میری مدد کرو باجی۔ مجھے آپ کے پاس شاہد بھائی کی عورت نے بھیجا ہے۔۔ ﷲ ان کا بھلا کرے۔ انھوں نےبھی میری مدد کی۔۔ یہ دیکھو باجی تین ہزار روپے دئیے ہیں انہوں نے۔۔۔۔۔۔۔ "
"اچھا"
"باجی آپ میری مدد کرو شاہد بھائی کی عورت نے کہا تھا آپ بڑے دل والی ہیں غریبوں کی مدد کرتی ہیں۔۔ باجی میری بچی کی جان بچا لو" روتے ہوئے اس نےمیرے سامنے آنچل پھیلا دیا
میں نے اندر سے پانچ ہزار روپےلا کر اس کے ہاتھ میں تھما دئیے۔۔ کہ شاہد بھائی کی وائف نے تین دیا تو مجھے پانچ دینا چاہئے۔۔۔۔۔
وہ عورت چلی گئ میں نے شاہد بھائی کی وائف کو فون کیا۔
"بھابھی آپ نے دوپہر کو کسی ضرورت مند خاتون کو میرے گھر بھیجا تھا؟ "
"ماریہ… یہی بات میں تم سےپوچھنے والی تھی"
*نمبر :-----18*
*عنوان :---- سفر*
(یادگار لمحے)
*تحریر :---- زارافراز*
جب میں ہوسٹل میں تھی تو چھُٹیوں میں ابّو ہی لینے آتے تھے۔ چونکہ امسال ابّو امّی حج کے لئے گئے ہوئے تھے، اس لئے بھائی جان مجھے لینے آئے تھے، اتفاق سے فرحین کے بھائی بھی اسے لینے آئے تھے۔۔۔ صرف اسما کے ابّو آئے تھے۔ ہم تینوں ایک ہی شہر کی تھیں۔ ایک ساتھ ہی گھر سے ہاسٹل کا سفر کیا کرتیں۔
ہم گھر جانے کی خوشی میں جلدی جلدی پیکنگ کر کے کار میں آ کر بیٹھ گئیں۔
گاڑی منزل کی طرف روانہ ہو گئی۔ راستے میں ظہر کا وقت ہو گیا۔۔ اس وقت ہم ایک چھوٹا ساقصبہ میں پہنچ چکے تھے سامنے مسجد نظر آئی۔ نکل نے ڈرائیور کوگاڑی روکنے کو کہا۔ مسجد کے پاس ہی ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ جس کی کچی صحن پر ایک اماں بی بیٹھی ہوئیں تھیں۔۔ ہم نےان کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ … تو انھوں نے اجازت دے دی۔ انکل اور دونوں بھائی مسجد جا چکے تھے۔
ہم تینوں وضو کر کے اماں سے جائے نماز مانگی۔۔ وہ ہمیں ایک تاریک سے کمرے میں لے گئیں۔ میں نے کمرے میں نظر ڈالی تو کمرہ خالی تھا۔ سوائے ایک طرف لکڑی کی الماری میں گانے اور قوالی کی کیسٹ، ٹیپ رکارڈ اور۔ دو ساؤنڈ باکس کے کچھ نہ تھا۔ انھوں نے ایک بوسیدہ سی چادر دی۔۔ ہم نے اسے بچھا کر نماز پڑھی۔۔ اور اماں بی کا شکریہ ادا کر کے باہر نکل گئیں۔
بھائی جان وغیرہ بھی مسجد سے نکل کر گاڑی کے سمت آرہے تھے۔۔۔ اچانک میں مسجد کا رخ دیکھ کر سورج کی طرف دیکھی اور سر پر ہاتھ مار کر بولی۔
. "یار قبلہ کے بجائے ہم نے پورب کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہیں۔۔۔ اماں بی بھی نے بھی صحیح سمت نہیں بتائی"۔ بھائی مسکرانے لگے۔۔
"چلو اب گھرجا کر نماز دہرا لینا۔"
ہم لوگ اپنی بیوقوفی پر جی بھر کر شرمندہ ہوئے"
گاڑی دوسری منزل کی طرف چل پڑی۔ شام کو عصر کی نمازاور چائے ناشتے کے لئے ہم ایک جگہ پھر ٹھہرے۔ خالی میدان میں دری بچھا کر دونوں بھائی اور انکل نے نمازادا کی۔ انکل سامنے ہوٹل سے چائے لینے چلے گئے۔ بھائی جان اورعرفان بھائی ہمارے پیچھے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔ اور پھر ہم تینوں نے نمازکی نیت کر لی۔ نماز سے فارغ ہو کرمیں یوں ہی ارد گرد کا خاموشی سے جائیزہ لگی۔ دیکھاکہ میرے بھائی میرے پیچھے، فرحین کے پیچھے اس کے بھائی کھڑے تھے۔ تبھی اسما کے بالکل پاس ایک کتّا آکر کھڑا ہو گیا… میری ہنسی چھوٹ گئی۔۔
" ھا ھا… اسما کا بھائی اب آیا" میری شرارت سمجھ کر فرحین قہقہہ لگانے لگی اور اسما میرے بازو پر گھوسے جمانا شروع کر دیا۔۔۔۔ میں اوہ… آہ کرنے لگی…
انکل چائے ناشتہ لے آئے ہم نے ناشتہ کیا۔۔ چائے کی آخری کش لے رہی تھی کہ عرفان بھائی نے ہم تینوں سےمخاطب ہو کر استفہام کیا۔۔۔۔۔۔ " بھئی چائے کیسی ہے"
"اچھی ہے… بس گلی نہیں ہے… " میرے برجستہ جواب پر عرفان بھائی کا قہقہہ بے ساختہ تھا… سبھی مسکرانے لگے۔۔۔۔۔ یوں یہ سفر مسکراتے ہوئے گزر گیا
*نمبر :---- 20*
انہماک کے لئے خصوصی مائکرو فکشن
(تجرباتی نمونے)
*تحریر :----- زارا فراز*
*........ بے برگ .......*
وہ آنکھیں جس پر بہاروں نے پھول باندھ دیے تھے۔ سفید ململ کے ٹکرے کو دیکھ کر ایسے حیران تھیں جیسے سادہ رنگ۔۔۔۔ زندگی کا آخری چہرہ ہو، اس کے بعد چہرہ سفید رنگ میں یوں گم ہو جائے گا کہ پھول چننے والی سبز آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ اس نے زندگی کو بہت امید کے ساتھ چھوکر بھی دیکھا لیکن وہ یخ راتوں کی طرح ایسی سرد اور خاموش تھی جیسے کبھی سانس بھی نہ لی ہو۔
وہ چیخ اٹھی۔اس کی آواز سناٹوں کو چیرتی گئی ۔۔کسی نے اس کی نبض تھام لی ، آواز بالکل پاس سے ابھری اور شہر ذات کی فصیلوں سے ٹکرا کر گونج پیدا کرنے لگی۔ وہ اب جان گئی تھی کہ اس کی پہلی بے برگ و نوا تخلیق ہی آخری تخلیق ہے جس میں زندگی کی رمق بھی باقی نہ تھی۔۔ اس بے برگ تخلیق کے سیاہ لہو نے اس کی کوکھ کو ہمیشہ کے لئے بنجر کر دیا تھا۔ اس نے سفید ململ کے ٹکڑے کو سینے سے لگا لیا۔ سبز آنکھیں پتھر کی ہو چکی تھیں۔
*نمبر :-----19*
*عنوان:--- پرسکون*
*تحریر :---- زارا فراز*
وہ پہلے پہل تازہ سکی ہوئی گرم روٹیاں سر پر رکھتی تو اسے بڑا سکون ملتا، لیکن یہ سکون بھی عارضی تھا۔ اس کی تکلیف دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ علاج کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ پرکھوں کی زمین بیچ نہ سکی کیوں کہ وہ اجداد کی نشانی تھی اس سے حلف لیا گیا تھا کہ وہ پرکھوں کی یہ نشانی ہمیشہ ایسے ہی اپنے ساتھ رکھے گی۔ سو وہ آج مجبور تھی۔ خاندان ختم ہو گیا تھا وراثت پاس تھی لیکن کسی کام کی نہیں تھی۔ اور شاید یہ مرض بھی اسے وراثت میں ملا تھا ۔ جب وہ پہلی بار قدیم طرز پہ بنی اجڑی ہوئی حویلی کے اس خالی حصے میں گئی تھی جہاں انسان نہیں جنگلی پھول بستے تھے ان پھولوں کے بے شمار رنگ اور شکلیں تھیں، وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سبزہ زار باغ کے پھول زہریلے ہیں یا موذی۔۔ وہ تو تازہ، بنیفشی رنگ کےپھول توڑ توڑ کر اپنے آنچل میں سمیٹ رہی تھی۔ اچانک اس کی آنکھ میں چبھن سی ہوئی۔ اس نے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی سے آنکھ بے دردی سے مسل ڈالی۔ آنکھیں بالکل سرخ ہو گئیں لیکن چبھن کم نہیں ہوئی ۔ وہ دوڑ کر واپس اپنے تاریک کمرے میں آئی چراغ لئے سنگھاسن کے سامنے کھڑی ہو کر انگلیوں سے آنکھیں کشادہ کر کے ان کے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے آنکھ کی پتیلوں کے درمیان ایک باریک سا زرہ نظر آیا۔ دوپٹے کے پلّو اور پانی کے چھیٹیں مار کر نکالبے کی تمام تر کوشش کے باوجود بھی نہیں نکلا۔ وہ جب جب پلک جھپکتی اسے شدید چبهن کا احساس ہوتا۔ ایسا لگتا جیسے ٹوٹے ہوئے شیشے کی بے شمار کرچیاں آنکھ میں چُبھ گئیں ہوں۔
ایک بار پھر وہ آنکھیں پھیلائے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔ وہ زرہ پہلے سے کافی بڑا، کیڑے کی شکل میں نظر آ رہا تھا، وہ سہم گئی سفید کیڑا اس کی آنکھ کے نرم گودے کو چاٹ کر پرورش پا رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے وہ اتنا بڑا ہو گیا کہ بےشمار پھولوں کے رنگ کی طرح کیڑے کے رنگین پاؤں نظر آنے لگے۔ سارے پاؤں اس کی آنکھ کی پتلی میں چبھے جا رہے تھے۔ وہ کراہ اٹھی۔ پھر وہ یہ دیکھ کر ساکت رہ گئی کہ کیڑا آنکھوں کی پتلی پر حرکت کر رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے وہ پتلی میں سراخ کر کے آنکھوں کے اندر گم ہو گیا۔ وہ تکلیف سے بلبلا اٹھی۔ ۔ کیڑے کے غائب ہوتے ہی اس کا باطن اندھا ہو گیا۔ آنکھیں ہوتے ہوئے بھی وہ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی تھی۔ اسے لگتا وہ کیڑا اب اس کے دماغ میں رینگ رہا ہے۔ ایک عجیب سی بیچینی اسے گھیر رکھی تھی۔وہ اکیلی، گھر میں تکلیف سے چیخ اٹھتی آرام نہیں ملتا تو سکی ہوئی گرم روٹیاں اپنے سر پر رکھ لیتی۔ شروع شروع میں تو اسے بہت آرام ملا۔ رفتہ رفتہ اس سے بھی سکون اٹھتا گیا۔ جب بھی کیڑا اس کے دماغ کے اندر کاٹتا وہ دیوانہ وار اپنے بال نوچنے اور پاگلوں کی طرح چلانے لگتی۔ ۔ آج وہ مجبور ہو کر اس وراثت کا سودا کرنے نکلی تھی۔ جب وہ بازار میں لوگوں کےہجوم میں پہنچی۔ اچانک کیڑے نے اس کے دماغ کے اندر کاٹنا شروع کر دیا۔ وہ ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بے ہوش ہو گئی۔ لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے پانی چھڑکا ہوش نہ آیا۔ لوگوں نے مجنوں سمجھ کر اس کے گردن پر پاوں رکھ دیا۔۔۔ اس کی آنکھیں ابلنے لگیں۔۔ اس نے سنا کوئی کہہ رہا تھا "یہ مجنوں نہیں مرگی کی مریضہ ہے چپل سنگھاؤ" لوگ ناک کے قریب چپل لا کر سنگھانے لگے۔ وہ تب بھی ساکت پڑی رہی۔ ۔ ناچار لوگوں نے جوتے سے اس کے سر پر ضرب لگائی تب اسے بڑا سکون ملا۔۔ وہ آنکھیں موندے جوتے کھاتی رہی۔ اب وہ پرسکون تھی۔۔
*نمبر :-----22*
*عنوان :--- لوک کہانی*
*تحریر :----- زارا فراز*
قدیم لوک کہانی یوں تھی
وہ ساحروں کی دنیا
انسانوں جیسی آبادی…
پریوں کی جھرمٹ…
وہ پریوں کی ملکہ
بے حد خوب صورت
بیشمار پھولوں کے زیورات سے آراستہ…
پھولوں سے اٹھنے والی خوشبو… بالکل کسی کومل سی دوشیزہ کی سانسوں کی مہک جیسی تھی…
وہ خوشبو نا ختم ہونے والی…
دور تک پھیلتی ہوئی......
دلکش حسین سراپا… حوروں کی مثال…
اور ایک خوب صورت شہزادہ
محبت کا بیٹا
اندھا لڑکا
جس کے ایک ہاتھ میں مور کے پنکھ… جس کے تمام رنگتوں سے نا آشنا
مگر اس کے نرم گرم لمس سے بخوبی واقف
دوسرے ہاتھ میں پری کا وہ مرمری دست جس کی تراشی ہوئی تیسری انگلی کی
بیش بہا انگھوٹی میں لگے' جگمگاتا نگینہ…
جس کا راز کہانی لکھنے والے کے سیوا کوئی نہیں جانتا تھا
بظاہر کہانی کے مرکزی کردار … پری اور اندھے لڑکے تھے
پری کے پاوں ہواوں میں تھے
اسکے دست اب بھی شہزادے کی گرفت میں ہے
وہ تیز ہواوں کی سواری پہ سوار
اوپر ہی اوپر اڑتے جا رہے ہیں
ان کے پیچھے اک اژھام
شور و غل
پھردور تک خاموشی…
آخیر میں کھڑی ایک لڑکی…
(کہانی کا اصل کردار)
اس کے چاروں سمت تنہایوں کا ہالہ
ہرنی جیسی انکھوں میں… خزن و ملال کی داستان
چہرے پہ نارسائی کے تمام دکھ بہت واضح تھے
یہ دکھ اس کے نہیں… کہانی کار کے تھے
یہ کہانی… اس کی آخری کہانی تھی
بہت مدتوں کے بعد اس کی تاریخ بھلا دی گئ
دھیرے دھیرے صفحہ قرطاس سے کہانی اٹھالی گئ
پھر اس کتاب میں گھاس اگ آئے…!
*نمبر :-----21*
*عنوان :--- خودکلامی*
*تحریر :---- زارا فراز*
ضرور کہیں اپنے جذبات کی شدتوں میں کمی ہے کہ میری دعائیں عرش کو نہیں چھوتیں
مجھے زندگی کوجینا نہیں آتا لیکن کبھی کبھی کسی حسین لمحے کو جینے لگتی ہوں اور جب تمہاری تصویر مجھ کو تکتی ہے میرا آنچل خود سرکنے لگتا ہے- میں نہیں جانتی یہ خود سپردی کا احساس ہر آن میری خاموشیوں کا امتحان کیوں لیتا ہے جب کہ میں خودسے بھی بولنا چھوڑ چکی ہوں.......
سنو……! نہ جانے کیوں میں اب بھی اپنے اطراف، محبت کی باز گشت سننا چاہتی ہوں، مجھے ایسا لگتا ہے تمہاری آواز اس سےبہت ملتی ہو گی جب سے میں صبا کےجھونکے اور خوشبو کے لمس سے محروم ہوئی، دل کی دشت تنہائی میں سناٹا اترنے لگا ہے یہ سناٹا اب میرے وحشت کدے کی دیواروں تک چڑھ آیا ہے اس سے پہلے کہ اپنی سماعت سے بھی محروم ہو جاؤں ندی کی طرح بہتی اپنی شفاف آواز سنادینا میرے بھیگے جذبوں کا اعتراف بھی سن لو........!!
مجھے اب بھی سبز ہونے کی آرزو ہے۔۔
*نمبر :----23*
*عنوان:----- دستخط*
*تحریر :----- زارا فراز*
وہ اس کی باہوں کے حصار میں تھی اس کےچہرے پر کئی خوبصورت رنگ ایک ساتھ ٹھہر گئے تھے۔ اس نے محبت سے اس کی پیشانی چوم لی
"جان ایک خوش خبری سناؤں" ایک ادا سے کہا
"سناؤ"اس نے اس کے ہونٹوں کے پیمانے کو لبوں سے لگا لیا
"تم باپ بننے والے ہو"
"کیا....؟؟؟"
اسے لگا کسی نے پگھلا ہوا سیسہ اس کی سماعت میں انڈیل دیا ہو، یک لخت ہی اس کی گرفت دھیلی پڑ گئی اور مٹھیاں بھینچ کر سوچوں میں گم ہو گیا۔ اس کی غیرت اسے نوچ رہی تھی۔
" کیا ہوا " وہ ایک دم ہی پریشان ہوئی تھی
اس نے دوبارہ اسے باہوں کے حلقے میں لیا اور چومنے لگا، چند لمحوں کے بعد وہ نیند کی آغوش میں تھی۔ وہ بھی مطمئن تھا مگر اس کی سوچ اسی نقطے پر تھی کہ اس کی مردانگی کو سرٹیفکیٹ تو مل گیا ہے لیکن اس سرٹیفکیٹ پر دستخط کس نے کیے ؟ ۔۔۔۔
*نمبر :-----26*
*عنوان:---- بھکارن*
*تحریر:---- زارا فراز*
"دس روپئے دے دو بابا صبح سے بھوکی ہوں " اس نے اپنی گندی سی ہتھیلی، میرے سامنے پھیلا دی۔ اس کی پوشاک جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی۔ اسٹیشن پر ایسے بے شمار پیشہ ور بچے اور عورتیں نظر آرہیں تھیں ۔ میں اسے نظر انداز کر کے آم کھا تا رہا، اور چھلکے پیپر میں لپیٹ کر ایک طرف ڈال دئیے۔ میری مطلوبہ ٹرین آچکی تھی اس پر سوار ہوگیا۔ اور کھڑکی کے پاس اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا وہ لڑکی اپنے سامنے پیپر پھیلائے آم کے چھلکے اور گٹھلی چوس رہی تھی۔ میں بے ساختہ جیب میں پڑے سکّےٹٹولنے لگا۔ لیکن ٹرین اپنی رفتار پکڑ چکی تھی۔۔
*افسانہ :-----8*
*عنوان :--- کورا کاغذ*
*تحریر:---- زارا فراز*
ابھی چند ساعت پہلے ہی اس کی آنکھ لگی تھی کہ اچانک چونک کر اٹھ بیٹھا اسے ایک دردناک نسوانی چیخ سنائی دی وہ رفتہ رفتہ قریب اور تیز ہو نے لگی۔ ایسی چیخ جو زیست میں پہلی بار سنی تھی۔ خوف و دہشت سے اس کا بدن کانپنے لگا....... محراب نما کمرے کے چاروں طرف آوازیں اُگ رہی تھیں پھر وہ آواز آگے بڑھی اتنی کہ وہ چھو سکتا تھا۔ مگر چھو نہیں سکا ۔ کیوں کہ وہ بے چہرہ آوازیں تھیں۔
آواز کے سوز اور کرب نے اسے بے چین کر دیا۔ آواز تھی کہ سارے کمرے کواپنی گرفت میں لیتی جا رہی تھی۔ ماحول میں ایک گونج سی پیدا ہو رہی تھی۔ آواز اس کی سماعت میں پگھلے ہوئے شیشے کی طرح اترنے لگی۔ اس نے وحشت کے عالم میں کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ پھر بھی آواز سرعت سے اس کے وجود میں اتر گئی۔۔ اور اس کے جسم کے سارے اعضا بولنے لگے۔۔ چیخ، قہقہوں میں بدل گئی ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر وحشت ذدہ ہنسی، ہنسنے کے بعد، دھیرے دھیرے آہوں میں معدوم ہونے لگی۔۔ اور پھر ایک دم سے رونے لگی……
وہ آنکھیں پھیلائے چاروں سمت، آواز کا چہرہ تلاش کر رہا تھا
"اب بھی نہیں پہچانا"
اس کی آنکھوں میں شناسائی ابھری
"میں دفنائی ہوئی آواز ہوں…… الماری کے آخری حصے میں مدفون ہوں…… مجھے باہر نکالو"
وہ اپنے جسم کو سمیٹ کر الماری تک آیا اور اس کے آخری خانے میں کچھ تلاش کرنے لگا تھوڑی دیر میں اس کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی۔ ٹیبل پر رکھ کر ڈائری جوں ہی کھولی فضا میں الفاظ کے ساتھ کافور کی بو پھیل گئی۔۔ یوں جیسے کسی تازہ مردے کا کفن کھول دیا گیا ہو۔
"خدیجہ……… " وہ اس "اسم" کی طرف لپکا تھا جو اس سے چند قدم کے فاصلے پر فضا میں جھول رہا تھا
" ٹھہریں… میں اب آپ کی دسترس سے باہر ہوں… بہت دن آپ کے وجود کے گوشے میں قید رہی… بہت دنوں تک آپ کی محبت کا مان لئے جیتی رہی۔ کیوں کہ میں زندہ رہنا چاہتی تھی۔ محبت کو جینا چاہتی تھی۔ جس کی ابتدا میں نے آپ کی انگلی تھام کر کی۔ مجھے کتنا مان تھا کہ یہ ہاتھ مجھے گرنے سے سنبھال لیں گے۔ اور کتنی بار جب میں اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے گرنے لگی تھی تو آپ نے تھام لیا تھا۔۔ مگر جب میں نے بولنا سیکھا تو مجھے بے زبان کر دیا گیا۔ اب میں معصومیت کی عمر سے نکل کر عورت بننے والی تھی۔ ہاں مگر ایک بار تین سکنڈ کے لئے زبان دی گئی تھی تا کہ میں ایجاب کے مرحلے سے گزر سکوں۔ میں نے اپنے تمام فرائض کو محبت سمجھ کر نبھایا… آپ نے جو چاہا میں نے وہ کیا۔ میں جانتی تھی آپ کے بغیر میرے لئے خیر کا دروازہ بند ہو جائے گا۔۔ " آواز کا نادیدہ چہرہ ایک دم بھیگ گیا تھا۔۔ اس کا دل چاہا بڑھ کر اسے سینے سے لگا لے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
"اب نہیں بابا… اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔۔ …ماں کے انتقال کے بعد میں دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے آپ نے بیٹی کو ہمیشہ دوسرے درجے پر رکھا۔ میری چاہ کے باوجود بھی مجھے وہ تعلیم نہیں دلا سکے جس کی میں خواہشمند تهی، آپ کو خدشہ تھا کہ میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ زبان بھی حاصل کر لوں گی۔ ۔ میرا بھائی، جو مجھ سے تین برس چھوٹا تھا اسے تعلیم کے بعداچھے عہدے پر فائز ہونے دیا۔ اسے مکمل آزادی دی اسے اپنے پسند کی ہم سفر چننے کا پورا اختیار دیا۔ وہ ولایت میں اپنی زندگی جی رہا ہےاور میں بابا؟؟ " آواز نے بے دردی سے آنسو پونچھے تھے۔۔۔ مجھ سے تو میری زبان تک چھین لی کہ میں بول نہ سکوں اپنے حق کے لئے زبان بھی نہ کھول سکوں۔ وااااہ بابا۔۔ " وہ کرب ناک ہنسی ہنس دی ۔۔۔ وہ خاموش مورت بنا نادیدہ چہرے کو پلک جھپکائے دیکھ رہا تھا
....پھر مجھے ایسے شخص سے باندھ دیا جو مجھ سے بیس سال بڑا تھا۔ جس کے ساتھ جب میں چلتی تو لوگ مجھے اس کی بیٹی سمجھتے۔ اور میں شرمندہ سی ہو جاتی۔ ۔۔ آپ کے گھر پہ تو میں مہمان بن کر زندگی گزارتی رہی۔ لیکن اس نئے گھر کو اپنا سمجھ بیٹھی۔ میں اسے اپنے طور پر سجانا سنوارنا چاہتی تھی۔ اپنی زندگی جینا چاہتی تھی۔ محبت کو اپنے اندر اتارنا چاہتی تھی۔۔ میرے اندر ایک دم سے شوخیاں اتر آئیں۔۔ میں اترانے لگی۔ لیکن اسے، شادی شدہ عورت کے یہ رنگ ڈھنگ پسند نہیں تھے۔ مجھے اس کے مطابق جینا تھا مجھے شوخ اور خوبصورت کپڑے نہیں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے تھے۔ وہ میرے اندر، مجھ سے بیس سال بڑی عورت دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ جو اپنی شباب کی عمر اپنے مطابق جی چکا تھا دوستوں کے یہاں ہنگامہ خیزی کر کے قہقہے لگا چکا تھا۔ لیکن مجھ پر زور سے ہنسنے کی پابندی لگا دی۔ اپنی مرضی سے گھرسے باہر جانے پر پابندی تھی ۔ میں کوئی بھی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتی تھی۔ مجھے بہت جلد سمجھ میں آگیا کہ یہ بھی میرا گھر نہیں ہے۔
ہاتھوں میں سجی ہوئی مہندی کی مہک اسے گھاس کی بدبو لگتی تھی۔ چوڑیوں کی کھنک اس کی نیند میں خلل ڈال رہی تھی۔۔۔۔۔ اور تو اور محبت کے چونچلے اسے بالکل پسند نہیں تھے۔ بابا میں نے اپنی ساری خواہشات کا بلا گھونٹ دیا۔ لیکن مجھے محبت کے ناز بہت پسند تھے محبت کے بغیر کبھی نہیں جی سکتی تھی۔ میں علیحدگی کا فیصلہ لے کر آپ کے پاس آئی مگر ایک بار پھر آپ نے مجھے خاموش کر دیا کہ تمہادی قسمت ہے۔ لیکن بابا قسمت کے ساتھ کچھ اختیارات بھی ہوتے ہیں ۔ میں جان گئی عورت اس اختیار کوبھی اپنی مرضی سے استعمال نہیں کر سکتی، میں اپنی زندگی، محبت کے بغیر نہیں جینا چاہتی تھی۔ مگر آپ میرے درد کو کہاں سمجھے۔ میں اپنے غموں کو سینے میں لئے واپس اس کے گھر لوٹ گئی۔ لیکن میرا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا۔ یہ غم مجھے اندر سے دیمک کی طرح چاٹ گیا۔۔ میں خون تھوک تھوک کر بے رحم دنیا سے رخصت ہو گئی۔ لیکن آپ جان لیں میں طبعی موت نہیں مری میرے قاتل آپ ہیں" روتے روتے بے چہرہ آواز ایک دم سفاک ہوگئی۔
"خدیجہ… خدیجہ… " ہوا میں ہاتھ پھیلائے ہوئے وہ دیوانہ وار دوڑ رہا تھا۔ اب کمرے سے آوازیں بالکل معدوم ہو گئیں الفاظ فضا میں ٹوٹ کر بکھرتے گئے ۔۔۔ آواز کا درد اور کرب اس کے اندر منتقل ہو گیا تھا۔۔ اس کے آنسو ڈائری کے کورے کاغذ کو بھگو رہے تھے...
No comments:
Post a Comment