*نظم :----- 1*
*"میں کتنی سخت جاں ہوں"*
*(لمحہء کرب) میری ڈائری سے* *16/12/2009*
*تحریر... زارا فراز*
*جمشید پور*
میں کتنی سخت جاں ہوں
____تین رتوں کے طویل انتظار کے بعد
وہ پہلی بار میرے پاس آئی تھی
اور آنکھیں کھول کر میری سمت دیکھا تھا
اس وقت......
ان نظروں میں عجیب سی ساحری تھی
وہ مجھے اچھی لگی تھی
اور وہ ادائے دلبرانہ
اپنے ننھے ہاتھوں کو بار بار منہ پر رکھنا
جیسے یہ ادا بھی اس نے میری چرائی ہو.....
... مگر جانے کیوں
وہ روتی نہیں تھی
اپنے جیسے بچوں کی طرح،
اور پھر
کچھ ہی لمحے بعد
اس کا کراہنا
". . آہ.... آہ..... آہ..."
اتنا چھوٹا سا وجود
مکمل جسم
نازک سی جان
معصوم روح
مگر____کوئی تکلیف تھی اَن کہی....
مسلسل بے خودی کا عالم رہا تھا.
...........
میں کتنی کم نصیب ہوں
اس کی زندگی کی پہلی رات
ماں کے آغوش سے محروم
مشینوں اور آلات کے درمیاں گزر رہی تھی
ٹیوب لگی ہوئی.......
اس کے نازک جسم میں خون منتقل کیا جاتا رہا
حالات بہتر کب تھے...
سانسیں اُکھڑنے لگیں....
آکسیجن لگا دی گئی
"آہ..... آہ.... آہ..... "
اب وہ نرم، و معصوم سی
تکلیف میں ڈوبی ہوئی
آواز مدھم پڑچکی تھی
بس جسم سانس لیتا رہا
اور دو ساکت نظریں
اس پر جمی ہوئی تھی
" کیا ہوگا... آگے کیا ہونے والا ہے"
ہر طرف خطر کے آلام بج رہے تھے
اس گھڑی میں خود کو سنبھالے کھڑی تھی
میں کتنی سخت جاں تھی!
..........
میں کتنی سخت جاں تھی
پھر بھی رو رہی تھی
دعا کے الفاظ جیسے
ہونٹوں تک آکر
دم توڑ جاتے تھے
"اللہ میرے اللہ "
اس سے آگے بس آنسو تھے
جو کانچ کے جھولے میں
سوئے ننھے وجود کی سفید چادر میں
جذب ہوتے جا رہے تھے
.........
سمجھ میں آیا
کیوں زباں پر آکر
دعا کے الفاظ پورے نہ ہوئے تھے
مجھے تو اس کوکھونا تھا
اس سے دور ہونا تھا
یادوں کے سہارے جینا تھا
___زندگی کی پہلی اور آخری رات..... اس نے
مشینوں اور آلات کے درمیاں گزاری تھی
دوسری رات
وہ اتنی دور جاچکی تھی
جہاں سے واپسی کی تمام راہیں
مستبعد ہوتی ہیں!!
میں آج بھی خود کو سنبھالے کھڑی ہوں
میں کتنی سخت جاں ہوں
*نظم :----3*
*عنوان:---خدائے برتر*
*تحریر :--- زرا فراز*
*( دعائیہ نظم )*
خدائے برتر
یہ تیرے بندے
نبی کی امت
تری زمیں پر،
تری ہی نعمت تو کھا رہے ہیں
مگر نہ جانے
یہ نعمتوں کے بدل میں ہر پل،
تجھی سے شکوہ کناں ہیں ہر دم
میرے خدایا
یہ ترے بندے
نبی کی امت
یہ کس ڈگر پر نکل پڑے ہیں
یہ راہِ حق سے بھٹک رہے ہیں
گلی میں تاشے بجا رہے ہیں
جو کہہ رہے ہیں
عجب طرح سے بنا کے خود کو
نبی کا عاشق.....
نبی کی سنت سے
کیوں ہیں منکر؟
کیا ڈھول تاشے.
یہ
شرک و بدعت
انہیں بتادے یہ دین ہے کیا؟
ہیں جن کے شیدا
یہ تیرے بندے
نبی کی امت.....
جو چودہ صدیاں.کئی برس پہلے
اس زمیں پر
وہ نورِ ہستی، وہ ماہ -کامل، ذہین آنکھیں، صبیح چہرہ،
نبی الآخر کو بطیجا تو نے.
مبعوث، مولا......!!
نبی ہمارے
زمین پہ آکر
مٹا گئے تیرگی کے سائے
ہر ایک دل میں .جلائی شمعیں
خدائے واحد کے علم کی اور
آگہی کی
تو پھر یہ بندے
نبی کی امت
کیوں دین حق سے بھٹک رہے ہیں
ہر ایک مسلک
ہر ایک فرقہ
کیوں دوسروں سے
ہے سخت نالاں....
ہر ایک کہتا ہے دوسرے سےکہ
"تو ہے کافر.. ہوں میں مسلماں "
کہ "تو ہے کافر.. ہوں میں وہابی"
کی"تو ہے ہے کافر..... میں ہی ہوں حق پر
کہ میں کتابی.. ہوں میں نمازی"
مگر خدارا
یہ ساری امت
یہ تیرے بندے
تجھی کو واحد بھی مانتے ہیں
بنی کو آخر بھی مانتے ہیں
یہ پڑھتے ہیں کلمہ طیبہ بھی
بھلا یہ کافر ہوئے تو کیوں کر؟
کہ خود کو سنّی بھی کہنے والے
وہابی خود کو بتانے والے
بریلوی ..دیو بندی کی رٹ لگانے والے
یہ اہل سنت..یہ اہل قرآں....
یہ سب ہی خود کو
مسلماں کہتے ہیں پر عجب ہے؟
جداجدا راہیں ہیں سبھوں کی
نبی کی امت
یہ تیرے بندے
یہ کس ڈگر پر نکل پڑے ہیں
اے میرے مولا
اے میرے خالق
تو ہم سبھی کو
بنا دے اپنے حبیب کا سچا امتی اب
تو میری جیسی
حقیر اور ناتواں بشر سے
نبی کے پہنچائے دین کا کوئی کام لے لے
نبی کے رستے پہ جان لے لے
تو ہم سبھوں کو
سمجھ عطا کر
تو دین حق پر ہی موت دینا....
میرے خدارا .......
میرے خدارا
*نظم :----2*
*عنوان : مراسم کیوں بڑھائے تھے*
*تحریر :--- زارافراز*
کبھی سوچا نہ تھا میں نے
نگاہیں پھیر لو گے تم
مجھے یوں چھوڑ دو گے تم
یہ رشتہ توڑ دو گے تم
تمہیں گر چھوڑ دینا تھا
مجھے یوں توڑ دینا تھا
مراسم کیوں بڑھائے تھے
مرے قدموں پہ رکھنے کو
ستارے توڑ لائے تھے
میرے ہر خواب کو تم نے
دئے تھے جاویدانی رنگ
مگر پھر کیوں کیا ایسا
سبب کچھ تو بتا دیتے
کہ لمبی اس جدائی کا
سبب اس بے وفائی کا
سنو جاناں!
کیوں ؟ایسا کیوں کیا تم نے
خموشی اوڑھ لی اک دم
نگاہیں پھیر لی مجھ سے
سماعت ہو گئیں ویراں
یہ راتیں ہو گئیں تنہا
اجالے بجھ گے دن کے
یہی خوشبو مرے تن کی
یہی سانسیں ہیں مضطر سی
پلٹ کر کیوں نہیں دیکھے
مری زلفیں، مری آنکھیں، مرے رخسار میرے لب
رگ دل کے تڑخنے کی صداؤں کو......
بہاریں اب نہیں آتیں
مرے ویران جیون میں
مری پلکوں پہ ہر دم بس
اداسی جھلملاتی ہے
کوئی جب غور سے دیکھے
تو آنسو، مسکراتے ہیں
مگر دل کانپ جاتا ہے
طبیعت پھر اچانک ہی
مچل کر چیخ اٹھتی ہے
میں اپنی ذات کے اندر
اسی لمحے
گھٹن محسوس کرتی ہوں
غموں سے چور رہتی ہوں
میں تم کو یاد کرتی ہوں
بتاو کیوں کیا ایسا
مجھے یوں چھوڑ دینا تھا
مجھے تنہائیاں دے کر
نگاہیں پھیر لینی تھی
سبب کوئی بتا دیتے
مراسم کیوں بڑھائے تھے؟
بچھڑنے کا ہی سوچا تھا
تو کیوں نزدیک آئے تھے
مراسم کیوں بڑھائے تھے؟؟؟
*نظم :-------4*
*عنوان :---"اک بار کہا ہوتا...*
*تحریر :----- زارا فراز*
اک بار کہی ہوتی
وہ بات مجھے جاناں
اقرار کیا ہوتا
جذبوں کو چھوا ہوتا
پاکیزہ تصور میں
الماس بچھے ہوتے
پر کیف فضا ہوتی
ہونٹوں پہ دعا ہوتی
جذبات کی سرحد سے
آواز تجھے دیتی
آواز کو سن کر تم
بیتاب سے ہو جاتے
مہتاب سے جل اٹھتے
بیتاب سے ہو جاتے
تم روشنی بن جاتے
پھر اڑ کے چلے آتے
آتے ہی میری جاناں
باہوں میں مجھے لے کر
چہرے پہ میرے جھک کر
رخسار میرے چھوکر
ہونٹوں کےتبسم کو
ہونٹوں سے پیا ہوتا
دھیرے سے کہا ہوتا
*"تم میری محبت ہو"*
*"تم میری محبت ہو"*
کچھ سوچ میں غلطاں ہوں
اور فکر میں ہوں تیری
جب ہجر کے عالم میں
کٹتی ہیں تری راتیں
ہونگی وہ عذابِ جاں
سانسوں میں بھی ہوگا پھر
بے نام سا سناٹا
تھم تھم گزرتی ہیں
میری بھی ہر اک شامیں
تنہائیاں ، برساتیں....
بے کیف سبھی راتیں
تم جاگتے ہوگے ناں
میری ہی طرح جاناں
تم سوچتے ہو گے ناں
مجھ کو بھی یوں ہی جاناں
تم دل کےسہارے ہو
تم جان سے پیارے ہو
دیتی ہوں صدا تم کو
ایک بار چلے آؤ
آکر یہ مجھے کہہ دو
*"تم میری ضرورت ہو"*
*"تم میری ضرورت ہو"*
دہلیز محبت پہ
بیٹھی ہوں بہت تنہا
بے کیف سے لہجے کی
بے نام اداسی ہے
ایک آس لئے دل میں
میں تم سے مخاطب ہوں
ہر آس میرے اندر
دم توڑتی جاتی ہیں
خوشیاں بھی میری آنچل
اب چھوڑتی جاتی ہیں
کب تیرے ہلیں گے لب
کب مجھ کو پکارو گے
میں سوچ رہی کب سے
تم ضبط بھی ہارو گے
تمہیں مانگ رہی رب سے
تم میری دعا میں ہو
اے کاش میری جاناں
تم میری طرح بن کر
ایسے ہی دعاؤں میں
مجھے مانگ لیا ہوتا
جذبات کے رو میں کبھی
اتنا تو کہا ہوتا
"تم میری امانت ہو"
*"ایک بار کہا ہوتا"*
*" تم میری امانت ہو"*
سو بار کہا ہوتا
*" تم میری محبت ہو"*
*" تم میری ضرورت ہو"*
*نظم :----- 5*
*عنوان :--جنید بھائی*
*تحریر..... زارا فراز*
ہر ایک دل کو اداس کر کے
چلے گئے تم
جنید بھائی.....
مجاہدینِ وطن سے تھے تم
جو راہِ حق میں
نکل پڑے تو
کبھی نہ لوٹے
اجل کو ہنس کے گلے لگایا
گلے لگا کر، اسی کے ہمراہ
چلے گئے تم
ہر ایک دل کو اداس کر کے
گزر گئے تم
جنید بھائی
تمہارا جانا.... یہ کیسا غم ہے
سگے تمہارےتو رو پڑے سب
جو غیر تھے وہ سنبھل نہ پائے
جدائی ارضی نہ سہہ سکے تھے
جمیل بھائی بھی ہوش کھو کر گرے زمیں پر
مگر عجب سا وہ سانحہ تھا
کہ پل میں جس نے
تمام امت پہ ضرب ڈالی تھی
کردیا تھا
جہان خالی
بکھر گئے ہو کے ریزہ ریزہ،
سبھی مسافر
کسے خبر تھی وہ مر چکے ہیں
جو دل کی دنیا میں جی رہے ہیں
تو آہ زارا.....
ملال اس کا سدا رہے گا
کہ دید آخر نہ ہو سکی تھی
گلاب جیسے حسین بچے
تمہاری چاہت، جگر کے ٹکڑے
جنہیں خدا کے سپرد کر کے
نکل پڑے تم تھے دین حق پر
وہ پیارے بچے
وہ راہ تکتے ہی سو گئے ہیں
تو رب سے کہنا
"خدائے برتر
گلاب جیسے ،حسین بچے،
میرے جگر کے عزیز ٹکروں کو
میرے غم سے بچا لے مولا"
جنید بھائی
سبھی دلوں کا چراغ تھے تم
سبھی کے آنکھوں کے خواب تھے تم
جنید بھائی
ہر ایک لب پر
تمہارے نغمے مچل رہے ہیں
ہزاروں آنکھیں پگھل رہی ہیں
جہان بھر میں
ہر ایک امت
یہ کہہ رہی ہے
"وہ سادہ فطرت،
دوست طبیعت
حسین لہجہ و انکساری
کبھی نہ جن کو بھلا سکیں گے
ہمارے دینی جنید بھائی"
جنید بھائی
تمہاری باتیں
تمہارے نغمے
ہمارے دل میں
دعائیں بن کر
سدا رہیں گے
نظر میں دنیا کی مر گئے تم
مگر دلوں میں رہو گے زندہ
جنید بھائی..... جنید بھائی
*نظم :-----8*
*تمہیں دیکھ کے یوں لگتا ہے*
*تحریر... زارافراز*
تم تو وہ تھے کہ
نگاہوں میں اتر جانے والے
تم تو وہ تھے
ہر بات پہ مسکانے والے
تم تو وہ تھے
باتوں میں بہل جانے والے
تم تو وہ تھے
ہر سانس میں گھل جانے والے
تم تو وہ تھے
شدت سے مجھے چاہنے والے
تم تو وہ تھے
جو شکایت بھی نہیں کرتے تھے
تم تو وہ تھے
جو اظہار محبت سے بھی ڈر جاتے تھے
تم تو وہ تھے
جسے چاہنے کی بھول ہوئی مجھ سے
تم تو وہ تھے کہ
میرے ہونٹوں کی دعا ہوتے تھے
تم تو وہ تھے
میں صدا جس کو دیا کرتی تھی
تم تو وہ تھے
میں جسے یاد کیا کرتی تھی
تم تو وہ تھے
میں جسے جانِ سخن کہتی تھی
تم تو وہ تھے
جسے ایمان میں کہتی رہتی
تم تو ارمان ہوا کرتے تھے
تم میری جان ہوا کرتے تھے
تم تو وہ تھے
جو عداوت سے بھی گھبراتے تھے
تم تو وہ تھے
کہ جو موسم سے بھی ڈر جاتے تھے
تم تو وہ تھے
کہ جو روٹھے بھی کبھی گر مجھ سے
خود ہی بیتاب چلے آتے تھے
تم تو وہ تھے
کہ جو غیروں پہ بھی قربان ہوا کرتے تھے
تم تو فیاض ہوا کرتے تھے
تم مرا مان ہوا کرتے تھے
تم مری جان ہوا کرتے تھے
تم نہیں تھے
خواہش پہ مرنے والے
تم نہیں تھے
تم نہیں تھے
خواب سجانے والے
تم حقیقت میں جیا کرتے تھے
تم نہیں تھے
موسم سا بدلنے والے
تم نہیں تھے
بے سمت سفر کرنے والے
تم نہیں تھے
مجھے چھوڑ، گزرنے والے
تم. نہیں تھے
پھولوں کو مسلنے والے
تم نہیں تھے
دل توڑ کے ہنسنے والے
تم تو وہ ہو کہ جسے دیکھ کے یوں لگتا ہے
"تم کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے"
*نظم :-------6*
*تحریر :---- زارافراز*
بڑی ہی مضطرب لڑکی
ملی تھی شام کل مجھ سے
کہ نم سی سبز آنکھوں میں
بڑا ہی سوز تھا پنہاں
بہت سنجیدگی اوڑھے
وہ کتنی کم سخن سی تھی
بہت پوچھا بھی تھا میں نے
کہانی اس کے جیون کی
وہ بس چپ چاپ سی مجھ کو
تکی جاتی تھی حسرت سے
وہ کہتی تھی
جدائی بھی، بہت تکلیف دیتی ہے
یہ بالکل موت جیسی ہے
سنو میری کہانی تم
وفا کی زندگانی تم
وہ اک لڑکا
بہت اپنا تھا وہ میرا
بہت ہی چاہتا تھا وہ
مجھے پلکوں پہ رکھتا تھا
مجھے ہر روز تکتا تھا
مگر ایک روز وہ مجھ سے
جو روٹھا، پھر نہیں مانا
اسے تو دور جانا تھا
جدائی مجھ کو سہنا تھی
کسی خوشتر کے دل میں ہی
رہائش اس نے پا نی تھی
ناجانے کب، کسی لمحے
میں اس کے دل کی دنیا سے
بہت خاموش قدموں سے
نکل کر،
کر گئی ہجرت
مگر پھر اس کی دنیا میں
نیا گلشن، نئے منظر
ہوئے آباد
پھر اس کے ساتھ دل اپنا،
بہت برباد.اجڑا سا..نظر آیا
اسی دن سے
خموشی بھی، اداسی بھی
مرے ہی ساتھ رہتی ہے
جو میرا ساتھ دیتی ہے
مجھے آباد رکھتی ہے
میں کچھ بولوں تو اس سے قبل
یہ لہجہ
سسک کر رونے لگتا ہے
مجھے خاموش رہنے دو"
وہ لڑکی جو
ملی تھی شام کل مجھ سے
میرے اندر کسی گمنام گوشےمیں
کہیں
رہنے لگی ہے اب
*نظم :----- 7*
*عنوان :--- فون کیا تھا، بات تو کرتے*
*تحریر :---- زارافراز*
چپکے سے خود فون لگا کر
دیر تلک خاموش رہے تم
فون کیا تھا بات تو کرتے
جذبوں کو الفاظ تو دیتے
یوں ہی مجھے آواز تو دیتے
لے کر گہری سانس زرا سی
ہونے کا احساس تو دیتے
فون کیا تھا بات تو کرتے
آخر مجھ کو فون لگا کر
کن سوچوں میں ڈوب گئے تھے
کن خوابوں کو سینچ رہے تھے
کون سے سپنے دیکھ رہے تھے
یا پھر باتیں تول رہے تھے
چپ چپ رہ کر بول رہے تھے
فون کیا تھا بات تو کرتے
لہجہ اور انداز سجا کر
باتوں میں کچھ بات بنا کر
کچھ پل میٹھی باتیں کرتے
جذبوں کو الفاظ تو دیتے
یوں ہی مجھے آواز تو دیتے
دھیرے سے جذبات کے رو میں
بس تم میرا نام ہی لیتے.......
یو ں ہی مجھے تم زارا کہتے
زارا... زارا... زارا کہتے
زارا میری زارا کہتے....
فون کیا تھا بات تو کرتے.....!
فون کیا اور آس جگا کر
ہجر کی شب میں پیاس بڑھا کر
تم سوچوں میں ڈوب گئے تھے
کتنے پل خاموش رہے تھے
فون کیا تھا بات تو کرتے.....!!!!
*نظم :9*
*تحریر :---زارافراز*
*"اب کے برس"*
❧❧❧❧❧❧❧
اب کے برس بھی
سال نو کی ابتدا
گئے برس کی طرح
تنہائیوں میں پوشیدہ
اداس چہروں کے ساتھ
گزر رہی ہے
سوچا تھا
سال کی آخری شب
تمہارے سنگ گزاروں
اس برس کی آخری شب کو
گزرتے ہوئے دیکھا تو
دل چاہا......
تمہیں آخری رات کا سکون بخشوں
مگر یہ تو لمحوں کا کھیل سا لگا
اور اب میں نئے برس میں ہوں
دل چاہتا ہے
اس سالِ نو کی ابتدا میں تمارے ساتھ کروں
تمہیں ڈھیر سارا پیار
اور دعائیں دوں
دعائیں تو ہر لمحہ تمہارے لئے
میرے لبوں پر ہیں
زندگی۔۔۔۔۔!
تمہیں کیسے یقین دوں
تم مجھے کس قدر عزیز تر ہو
تمہاری خوشیاں، میری ہنسی ہے
تم مسکراؤ تو میں جی اٹھوں
تم پاس آؤ تو میں، مہک اٹھوں
آج کی شب
اپنے ہونٹوں کے جام میرے نام کر دو
آج کی شب
میری آنکھوں کی پیاس بجھا دوکہ
میری آنکھیں تمہاری دید کی پیاسی ہیں
مگر میں آج کی شب
صرف آج کی شب
محبت کے لئے مخصوص کیوں کروں
تم سے محبت کرنے کے لئے تو
یہ نیا سال تو کیا۔۔۔
ایک عمر بھی کم ہوگی۔۔۔
میں تو ابدی زندگی تک
تمہارے ساتھ کی تمنائی ہوں
مگر اس برس بھی
میرے حصے میں جدائی ہے
*نظم :-------10*
*عنوان :------- سفاکی*
*تحریر :---- زارا فراز*
میں چاہتی ہوں
تم میری محبت کو اذیت دو
اس قدر سفاکی کی حد تک زخم دو کہ
میں تمہارےلمس کی تمنا بھول جاؤں
اپنے اندر کے بھیڑیے صفت درندے کےپنجوں کے ناخن سے
میرے چہرے کے نقوش بگاڑ دو
تاکہ میں خود کی پہچان بھی کھو دوں
میرے اندر کبھی جو
محبت انگڑائی لے تو
تم سارا جسم توڑ دو
میں پھر اپنے جسم کو
سمیٹ کر یک جا کروں اور
پھر تم سے محبت کروں
تمہارا لمس مانگوں
تمہاری سفاک طبیعت
ایک بار پھر مجھ پر ہنسے
تم اپنے سرد لہجے سے
میرے جذبوں میں یخ جما دو
تم تواپنی شعلہ برساتی نظروں سے
میرے جسم کو جھلسا دو
سنو……!!!!
تم مجھے پھر نئے طریقے سے توڑ دینے کا منصوبہ بناو
میں چاہتی ہوں
تم میری محبت کو ایسی اذیت دو کہ
مجھے تمہارے ظلم کی انتہا سے
پیار ہو جائے
تمہاری سفاکی مجھے محبوب ہو جائے
کیوں کی تمہاری اذیت پسند
طبیعت کے باوجود بھی
مجھے فخر ہے کہ تم میرے ہو
میں سب کچھ سہ سکتی ہوں
لیکن جب تم نگاہ بدلو گے
اگلے ہی لمحے
میرے جسم پر رسنے والے تمام زخم
لطف دینا بھول جائیں گے
محبت تب بھی زندہ رہے گی
مگر یہ عورت مر جائے گی۔۔۔۔۔۔
*نظم :------11*
*عنوان :خودکشی سے پہلے*
*تحریر :------زارافراز*
خودکشی سے پہلے
جب میں زندہ تھی
میری زندگی دعا جیسی تھی
رفتہ رفتہ دعا کی شدت میں
کمی آنے لگی
میں عجب بے تکا شعر گانے لگی
وہ بدروحوں کی طرح ناپاک آرزوئیں
مجھ کو چھونے لگیں بہکانے لگیں
میرے چھالے پڑے تلووں کو
چاٹ کر سہلانے لگیں
میں کم فہم لڑکی…
جستجوئے حقیقت سے بے خبر
شوریدگی کی دھرتی پر
کتنے مان سے چلتی تھی
اور جب ایسا لگامیرے وجدان کی
کوکھ بھرنے لگی ہے
تکبر سے ہواوں میں اڑی جاتی تھی
مگر جب وہ لوگ جو تلاش رضائے خداوندی میں متشرّع تھے
مجھے ملے اس پل
بس ایک لمحے کو
ندامت سے سر جھکا تھا
مگر میرے چراغ تلے روشنی ہی نہ تھی
ہر راستہ بھتکا ہوا تھا…
سو تمام عمر
شہادت کی انگلیوں سے
مٹّی کریدنے کے عمل سے
ہاتھ دکھ گیا
کچھ حاصل نہ ہوا
ان دنوں میں زندہ تھی
خودکشی سے پہلے۔۔۔۔!
*نظم :------12*
*عنوان :--آرزو مدینہ*
*تحریر :-----زارافراز*
حقیقت میں کبھی میں نے
سبز گنبدتو نہیں دیکھی
لیکن خیالوں میں ہزاروں بار
ان کے شہر ہو آئی
احساسات کی دنیا میں چلتی ہوں
تو ننگے پاؤں چلتی ہوں
چمکتی فرش پہ چلتے ہوئے
مجھے وہ چودہ سو سال پہلے کی
گرم پتھریلی زمین یاد آتی ہے
زمین اب بھی وہی ہے
بس اس کی صورت بدل گئی ہے
جس پر آج بھی وہ مقدس لمس باقی ہے
وہاں ٹھنڈے فرش پہ
پیشانی ٹیک دینے سے
میرے اندر کے جلتے موسم کو
بہت تسکین ملتی ہے
میری خیالوں کی دنیا
اس قدر حسّاس ہے کہ
اسی حالت میں میری بیتاب نگاہیں
سنہری جالیوں کے اوٹ میں
الجھی سی رہتی ہیں کہ
معجزہ ہو اور میری آنکھوں کو
قرار آجائے
وہاں جو ہوائیں چلتی ہیں
پاکیزہ اور شفایاب
میں جب تک اس معطّر فضا میں
سانس لیتی ہوں
زندہ رہتی ہوں
خیالوں کا تسلسل
جس دم ٹوٹ جاتا ہے
میں پھر ظلمت کی دنیا میں
لوٹ آتی ہوں----
*نظم:-----13*
*عنوان :- بےچہرہ وجود کی غرض*
*تحریر :----- زارافراز*
ٹھہرو میں تم کو اس کی کہانی سناتی ہوں
وہ کیوں تمہاری ذات کا حصہ بننا چاہتی ہے
" یہ تو پرانی بات ہے کہ
انسان کچھ پانے کی تلاش میں
اپنے "میں " کو کھو دیتا ہے
اس نے بھی خود کو کھو دیا ہے
مگر اب وہ اردو زبان کے بازو تھامے،
لفظوں کے بازار کی روشن پیشانی جیسی شبنمی زمین پر
دو زانوں بیٹھی،شہر ذات کی گویائی
چن رہی ہے
اس کی ذات میں پہلا ادراک
ان کٹی ہوئی انگلیوں کی قسمت کا ہوا
جو قلم اٹھانے کے جرم میں
جسم سے جدا کر دی گئیں تھیں
اس کی آنکھیں اب بھی سلامت ہیں
وہی اس کی گہری دوست بھی ہیں
وہ ان دوست آنکھوں سے
کہانیوں کے " کالبد" کو
چھونا چاہتی ہے
اور شاید تمہاری ذات میں پنپ کر
اپنا " پہلا جنم " کا
استحصال چاہتی ہے
اب وہ اس اعتراف سے نہیں ڈرتی
کہ
اس نے چاہت میں
غرض کو شامل کر لیا ہے
یہ وہی ہے جو نقاب رخ سے
چہرہ اتار کر
بے چہرہ وجود کے ساتھ
تمہارے سامنے کھڑی
تم سے آنکھیں ملا ک
بات کرتی ہے
*نظم :----16*
*عنوان: میں نے خود پہ ظلم کیاہے*
*تحریر :----- زارافراز*
میں نے خود پہ ظلم کیا ہے
خود کو تجھ میں چھوڑ آئی ہوں
بھیگی آنکھیں، اترا چہرا
جسم سلگتا چھوڑ آئی ہوں
میری ذات کی اونچی منزل
ذروں میں تبدیل ہوئی ہے
ریزہ ریزہ خواب تمنا
اشکوں میں محلول ہوئے ہیں
اب رنگوں کی تھال اٹھا کر
پھینک دییے ہیں
چہرہ، آنکھیں، لب اور گیسو
جسم بنانا بھول گئی ہوں
بند کمرے میں کانچ کا پیکر
چھوڑ آئی ہوں
اپنے فن کی نا اہلی پہ
کیا رونا اب
دھیرے دھیرے میں نے
خود کو جان لیا ہے
سچ بهی ہے یہ
جانے کتنے خواب تهے میرے
پهر بهی میں نے ان آنکھوں کو
بےنوری کے درد دییے ہیں
میں نے خود پہ ظلم کیا ہے
خود کو تجھ میں چھوڑ آئی ہوں
*نظم :---------14*
*عنوان: میں تم سے سچ کہوں گی*
*تحریر :------زارافراز*
میں تم سے سچ کہوں گی
جب دل پر تمہاری باتیں
دستک دیں گی
دھڑکن نئے انداز لے کر
دھڑکا کریں گی
مجھے بھی پیار کا الہام ہو گا
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم آنکھیں ملا کر
میرے چہرے پر جهک کر
نظر سے شرارت کرو گے
اپنے مضبوط ہاتھوں کی
انگلیوں کا ہلکا لمس
میرے ہونٹوں کو دو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم باتیں گھما کر
مجھے تھوڑا ستا کر
مجھے پل بھر رلا کر
محبت سے
اشک پونچھو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
جب تم،
میرے لہجے میں آ کر
میرا سب کچھ گنواں کر
میری پہچان کھو کر
اپنی پہچان دو گے
مجھے اپنا کہو گے
میں تم سے سچ کہوں گی
محبت کھول دوں گی
وفا کو لفظ دوں گی
نئے انداز دوں گی
میں تم کو چوم لوں گی
*نظم :------ 15*
*عنوان :---- "جان تمنا"*
*تحریر:------ زارافراز*
تشنہ لب ہوں اور آب ہو تم
گلشن کی طرح شاداب ہو تم
اے شوخ نظر
اے حسن ادا
اے جانِ غزل
تجدید وفا
نظروں میں میری
آباد ہو تم
تعبیر نہیں جن سپنوں کی
آنکھوں کے میرے
وہ خواب ہو تم
تاریخ مہرو وفا دل کے
جو مٹ نہ سکے
وہ باب ہو تم
چوما بھی جسے
چاہا بھی جسے
جی بھر کے جسے
آنکھوں نے میری، دیکھا بھی نہیں
وہ پیکر حسن زریاب ہو تم
انجان سہی
پہچان تری
دھڑکن کی میری، آواز ہو تم
ہاتھوں کی مرے، ریکھاوں میں
اک تیرا نام نہیں ملتا
ایک عزم لئے، دل پھرتا ہے
جیون کی میری،
تلاش ہو تم
اے حسن سخن....!!
بس اتنا بتا............ !
کیا میری طرح بیتاب ہو تم.....؟؟؟
*نظم :-----18*
*عنوان :---- محبوب مرے*
*تحریر :------- زارافراز*
اس دل میں مرے
چاہت کے تری
جلتے ہیں دئے....
محبوب مرے
آنکھوں میں مری کچھ سپنے ہیں
جو اپنے ہیں.....
چاہت ہے بڑی
اس دل مرے
تصویر تری
بنتی ہی رہے
باتوں میں مری، ترا ذکر رہے
ہونٹوں پہ مرے، ترا نام سجے
سانسوں میں مری تری سانس ملے
خوشبو اترے، مدہوش کرے
محبوب مرے
کوئی میرے سوا، ترا ذکر کرے
کوئی اور تجھے، چاہا جو کرے
گزرے گی گراں، یہ بات مجھے
محبوب مرے
ہے عرض میری
بس اتنی سی
تومیرے سوا
کسی دوجے کو الفت کی ادا، دکھلا نہ کبھی
تو میرے سوا
زلفوں کی ہوا، سنگت کا نشہ، غیروں کی کبھی پایا نہ کرے
محبوب مرے....
📚 *نظم:---- 19*
*عنوان :---اے پیارے لڑکے*
*تحریر:----زارا فراز*
مری غزل اور میری نظمیں
بڑی ہی چاہت سے پڑھنے والے
سنو اے لڑکے...!!!!
تمہیں یہ ضد ہے
تمہاری خاطر، میں شعر لکھوں
میں کوئی ایسی غزل بھی لکھوں
جس میں تم ہو
مگر یہ سوچو
اے پیارے لڑکے
تمہاری خاطر
اگر میں لکھوں
جو شعر کوئی
غزل سناؤں
تو کیا میں گاؤں
بھلا یہ کیسے
تمہیں غزل میں،
میں اپنی رکھ لوں
ہو تم امانت
کسی کے دل کے
کہ تم دعا ہو
کسی اور لب کے
تم بس چکے ہو
کسی اور دل میں
کوئی ہے جو تم کو
بڑے ہی چاہت سے زندگی میں
بسا رہا ہے
جو کہہ رہا ہے
ہر ایک لمحہ
تم ہی کو اپنا.....
میں جانتی ہوں
تم ہو امانت کسی کے دل کے.......
مگر میں پھر بھی
تمہاری ضد کو سمجھ رہی ہوں
سنو اے لڑکے
اے پیارے لڑکے
تمہاری خاطر
یہ پہلی اور آخری بھی
شاعری جو
میں نے کر لی
سنو اے لڑکے.....!!!!!!
کرو یہ وعدہ
کبھی مجھے تم
خودی کی خاطر
نظم کہنے کی نہ ضد کرو گے
تم بات کرنا.....
مزاق کرنا....
مگر کبھی بھی
میرے اصولوں کو توڑ کر تم
دل کو میرے دکھی نہ کرنا......
مری غزل اور میری نظمیں
بڑی ہی چاہت سے
پڑھنے والے
اے پیارے لڑکے........
تمہاری خاطر
مری یہ کاوش
بھی آخری ہے......
*📚نظم :--- 17*
*✍🏻تحریر :--- زارافراز،*
میں بند کمرے میں
آج پھر سے
افق کی لالی.غروب منظر
کے جھٹپٹے میں
شام سے ہی
گلاب لمحوں کی
ڈائری کو
لئے ہوں بیٹھی
تمہیں ہی بس سوچے جا رہی ہوں
تمہیں خبر ہے
کہ میں نے اس میں
تمہاری باتیں
تمہاری یادیں
وہ پیاری نظمیں
سمیٹ لی ہیں
جو میری خاطر لکھی تھیں تم نے
وہ ساری نظمیں.... وہ ساری غزلیں
کبھی جو تم نے
میری محبت میں ڈوبے ڈوبے
لکھی تھیں جاناں
میں آج بھی جب
وہ ساری نظموں .. وہ ساری غزلوں کو
گنگناؤں... یا شعر در شعر
پڑھتی جاوں
مجھے تمہاری شدید چاہت
جنونِ الفت کے سارے لمحے....
بے طرح سے ہیں یاد آتے،
ہیں وقفے وقفے سےجان لیتے ..
میں لفظ در لفظ بے خودی میں
اک اک سطر تم کو
ڈھونڈتی ہوں
تمہارے پچھلے تمام اشعار
گندھے ہوئے تھے
میری محبت کے ہفت رنگ سے
تمہارا قوس و قزح سا لہجہ بکھر رہا تھا
کتابِ دل پر
مگر سنا ہے
کہ آج کل تم
نئے ہنر آزما رہے ہو
نئی غزل گنگنا رہے ہو
میں، اب تمہارے حسین لہجے کی شاعری میں
کہیں نہیں ہوں
...بے وجہ اور
بے سبب ہی
تمہاری دنیا سے کھو گئی ہوں
مگر میں اب بھی
سبھی گزشتہ پرانی نظموں میں.
ڈھونڈتی ہوں تمہاری چاہت
وفا میں ڈوبے جو شعر میری نظر سے گزرے
گئے دنوں کے گلاب لمحے
بڑی ہی شدت سے
یاد آئے
میں بند کمرے میں
آج پھر سے
شام سے ہی
گلاب لمحوں کی
ڈائری میں
خود کو ہر دم
تلاشتی ہوں
میں پھر سے تم کو پکارتی ہوں...!
*نظم: ----------20*
📚 *عنوان:---- وہ ایک لڑکا*
✍🏻 *تحریر:---- زارافراز*
وہ ایک لڑکا
جو دل کی دنیا
بسانے والا
وفا کے نغمے سنانے والا
شریر لہجے کی سادگی سے
کسی کو اپنا بنانے والا
وہ ایک لڑکا
جگر میں میرے
ناجانے کب سے
بسا ہوا ہے
ہیں جس کی آنکھیں
بھی جھیل جیسی
ہیں جس کی باتیں
بھی خواب جیسی
حسین لہجہ
کھلا تبسم
ہنسی کی باتیں
وہ جب کرے تو
گمان یہ ہو
کوئی ستارہ زمیں پہ اترا
وہ ایک لڑکا.....
مرے ہی جیسا
غموں میں ڈوبا
دکھوں کا مارا
بجھا بجھا سا
اداس لڑکا
میری کہانی
مری غزل میں
بسا ہوا ہے
میں سچ کہوں تو
وہ ایک لڑکا
کہ جس کے دل میں
کہیں نہیں ہوں
مگر وہ لڑکا
مری محبت کی انتہا ہے
*نظم:----------21*
*تحریر:------ زارافراز*
*ایک مظلوم و عاجز بچے کی دعا اپنے وطن شام کے لئے*
میں ایک ننھا سا ہوں بھکاری
تمہارے در پر کھڑا ہوا ہوں
میرے خدایا، مجھے بچا لے
تیری زمیں ہے.... ترے ممالک
تو سارے جگ کا ہے تنہا خالق
میرے خدایا
تو جانتا ہے
میں ایک بےبس و بے سہارا
ہوں اس وطن کا میں رہنے والا
جہاں کبھی ترے انبیاء کا
ہوا اشارہ
فرشتے نازل ہوئے جہاں پر
وحی بھی اتری اسی زمیں پہ......
اس وطن کی سر زمیں پر
قدم مبارک
ہمارے آقا کے پڑ چکے ہیں
وہی وطن ہے
قرآن میں جس کا ذکرآیا
وہ منکشف سب پہ ہو رہا ہے
وہ دِکھ رہا ہے
ہوئی ہے سچ ساری پیشن گوئی
میں مانتا ہوں اے میرے مولا
میرے وطن میں جو ہےتباہی
شہید بہنیں شہید بھائی
ہر ایک سو
صرف خون ریزی
لہو کا دریا سا بہہ رہا ہے
بہن ہماری ردا لٹا کر
گنوا کےعزت
موت کو خود گلے لگایا
جوان بھائی نے جاں گنواں دی
ہوا ہے مقتول کنبہ سارا
کیا گیا مجھ کو
بے سہارا
لہو میں ڈوبا میں چیختا ہوں
کوئی مسیحا ادھر تو آئے
کبھی تو ظلم و ستم سے اک دن
ہمیں بچائے
اسیرِ رنج و الم بہت ہیں
معاف کر دے
نجات دے دے
اے میرے مولا
میں ہوں بھکاری
میں ترے آگے
بلند ہیں خالی ہاتھ میرے
خدا تجھی سے میں مانگتا ہوں
میرے وطن کے
جابروں کو
مٹا دے مو لا
مرے وطن کو بچا لے مولا
مرا شہر *حلب* آج پھرسے
جل رہا ہے
یہ آگ پل میں بجھا دے مولا
ہر ایک سو شہر جل رہا ہے
کہاں ہیں دنیا کے کلمہ گو سب
سہم گئے ہیں
کیا مصلحت ہے
کوئی اپنی مدد کو آئے
کوئی تو اٹھّے؟ جو ظلم جورو جفا مٹائے ......
کہاں ہیں وہ کلمہ گو مسلماں
کوئی تو ائے.
جو فتح یابی ہمیں دلائے
اے میرے مالک میں ہوں بھکاری
تمہارے در پہ کھڑا شکستہ
میں مانگتا ہوں پناہ تیری
میرے وطن کو بچا لے مولا
میں *شام* کا اک غریب بندہ
میں امن کا طالب
مرے وطن کو قدیم جیسا وطن بنا دے،
محبتوں کا چمن بنا دے
*نظم :------- 22*
*عنوان :---- دسمبر اب نہیں آنا*
*تحریر.... زارا فراز*
زمانہ وہ محبت کا
کہ جس میں پیار کا ہونا
کبھی لکھا تھا قدرت نے
مجھے بھی چھو کے دیکھا تھا
بڑی انمول چاہت نے
تمہارے سرد ہاتھوں سے
وہ میرے گال کو چھونا
مجھے پھر چھیڑ کر کہنا
"تو میری جان ہے .... جاناں"
زمانہ وہ محبت کا
جو اب ماضی کا حصہ ہے
محض الفت کا قصہ ہے
بہت ہی یاد آتا ہے
دسمبر کے فضاؤں میں
ہوا کے سرد جھونکے کا
میں جب بھی لمس پاتی ہوں
مجھے گزرے دسمبر کی
وہ راتیں یاد آتی ہیں
نگاہیں شوق میں اتری
وہ باتیں یاد آتی ہیں
تمہارے سرد ہاتھوں کی
شرارت یاد آتی ہے
تمہارے ہونٹ پہ ٹھہری
محبت یاد آتی ہے
میں اب یہ سوچتی ہوں کہ
یہ موسم کیوں بدلتے ہیں
کہ جن میں خواب جلتے ہیں
یہ آنکھیں کیوں پگھلتی ہیں
نئے کچھ زخم دینے کو
دسمبر پھر سے آتا ہے
یہ ہم کو توڑ جاتا ہے
دسمبر اب نہیں آنا...
دسمبر اب نہیں آنا............
*نظم :------ 23*
*عنوان :----- میں محبت ہوں*
*تحریر :------- زارا فراز*
زندگی کی اجڑی ہوئی صورت لے کر
میں زمانے کی نظر میں ہوں
جانتی ہوں ....
گزرتے وقت کے بے اعتبار چہرے
وضاحتوں کے قائل ہیں
میں محبت ہوں
خود کو منوانے کا ہنر بھی جانتی ہوں
لیکن میری آرزوؤں کے رستے
نا جا نے کب اپنی منزلوں کو پائیں گے
میں تمہیں بتاؤں
محبت سے نا آشنا لوگ
سپنوں کے موتی چنتی ہوئی آنکھیں
گروی رکھ دیتے ہیں
بے نور ہوں
اپنی منزل کے ہزار رستے خود تلاشنا میرا حوصلہ ہے
راہوں میں حائل ہونے والی
ضدی چٹانیں بھی
میراراستہ نہیں روک سکتیں
زندگی کی اجڑی ہوئی صورت لے کر
میں خود ان ریت لمحوں کا
دروازہ کھٹکھٹاونگی
جہاں بے وفائیاں
پھر کسی نئے محبوب کے ساتھ
مجھے گم کردینے کا
منصوبہ بنا رہی ہے......
*نظم :-------24*
*عنوان :--زمین مجھے پکارتی ہے*
*تحریر :----- زارافراز*
تم جو ازل سے ہی میری باتوں میں گم تهے
آج آواز کے نابود ہونے پر وحشت زدہ ہو
یہ تو سوچو !!!
متنفس ہونے کے باوجود بهی میں نے
آوازیں کیوں دفنادیں
سوچا تها محبت کو آزادی ملے گی تو
میرے ہونٹوں کی ہنسی کو شاداب رکهوگے
مگر کچھ بهی نہیں ایسا
جس طرح سوچا تها
جس طرح آسان سمجھ بیٹھی تهی
اگر شہر خموشاں میں آوازیں دفنانے کا
فیصلہ کیا ہے تو
کیا غلط کیا
تم صرف یہ وعدہ لے لیتے
"دعا میں یاد رکھنا"
با خدا عمر ہوں ہی سجدے میں گزار دیتی
اب تو میں نے خود کو خدا کے سپرد کردیا ہے
چند لمحوں کے لیے آزاد ہوتی ہوں
مگر میری باتوں سے مطمئن نہ ہوپاوگے
بهلا کیا روح کی تسکین پاوگے
وقت ختم ہوا
دیکھو ! زمین مجھے پکارتی ہے
اجازت دو .....!!!
*نظم :---- 25*
*عنوان :--- خلوت کی کہانی*
*تحریر :---- زارافراز*
رات میری خلوت کی
بس یہی کہانی تھی
جھوٹا آسرا دے کر
تم کو نیند آنی تھی
تم نے یہ کہا تھا کل
پاس تیرے آؤں گا
دوستی نبھاؤں گا
کر کے پیار کی باتیں
دل ترا لبھاؤں گا
خواب کی طرح لیکن
تیرا وعدہ جھوٹا تھا
میرا دل تو ٹوٹا تھا
تم نے جس کے بانہوں میں
کل کی شب گزاری تھی
خواب کی پری کیا وہ
مجھ سے زیادہ پیاری تھی
جانتی ہوں یہ بھی کہ
دفتروں کے میلے میں
ڈھیروں ذمہ داری تھی
ان کو کرتے کرتے پھر
تھک گئے تھے تم آخر
خواب گاہ پر جاتے
سو گئے تھے میٹھی نیند
کیا تمہیں خبر بھی ہے
کس طرح سے میں نے وہ
ہجر شب گزاری تھی
نام کی سہاگن تو
صبح تک کنواری تھی
رات جیسے ناگن تھی
لمحےمجھ کو ڈستے تھے
دیر تک خموشی تھی
دور تک خموشی تھی
ایسے میں تری خاطر
منتظر نگاہیں تھیں
تجھ کو سوچتا تھا دل
غم زدہ تھا میرا دل
رات میری خلوت کی
بس یہی کہانی تھی
دل نہیں خفا تم سے
کہہ رہا ہے اب مجھ سے
نا رہوں جدا تم سے.......!
*نظم :-------- 26*
*عنون :-مری محبت کہاں ملے گی*
*تحریر :----- زارافراز*
کئی رتوں سے
تلاش اس کی
ہے میرے دل کو
مرے جگر کو
مری محبت
کہاں ملے گی
وہ کب ملے گی
سنوار دے گی
جو زندگی کو
سکون دل کا
بھی کھو گیا ہے
یہ عشق جانے مجھے ہوا کب ؟
خدا ہی جانے
جو جانتا سب
وہی کرے گا مرا بھلا بھی
جو سب کو بے حد نوازتا ہے
یقین کامل مجھے ہے رب پر
مگر نہ جانے
یہ سوچتی کیوں
مری محبت
کہاں ملے گی
وہ کب ملے گی
کدھر ملے گی
وہ گر ملے گی
فلک پہ مجھ سے
میں اس سے جا کر
وہیں ملوں گی
میں کھل اٹھوں گی
ساتھ اس کے
میں خوش رہوں گی
کے ساتھ اس کا
سدا رہے گا
وفا رہے گی
خدا رہے گا ---
*نظم :-------- 27* *عنوان :-------"تمہارے نام"*
*تحریر : ------ زارا فراز*
میں تم سے مل کر
کتنی بار
تمہاری انکھوں میں
اتر چکی ہوں
کتنی بار
تمہارے ہونٹوں کو
قریب سے چھو کر دیکھا ہے
کتنی بار
تمہارے لہجے کی
سچائی میں ڈوبی
کتنی بار تمہاری زبان سے
ادا ہونے والے
پیارے لفظوں پر
ایمان لے آئی
اب آخر میں
تم نے خود کو
مجھ پر آشکار کیا ہے
کچھ کچھ مجھ سے پیار کیا ہے
لیکن پھر بھی
کبھی کبھی
کہیں کہیں پر
تم مجھ کو بالکل بیگانہ لگتے ہو
تم بتاؤ
ایسے کیوں لگتے ہو --
*نظم :----------- 28*
*عنوان :------ دوست*
*تحریر :------ زارافراز*
میرے سخن ور .....!!!
تمہیں یاد تو ہوں گے
وہ گزرے ہوئے گلاب لمحے
جنہوں نے ہماری مشترکہ اداسیوں سے
بڑے خلوص کے ساتھ دوستی کی تھی
تب میں نے تمہاری آواز کے لہجے سے
لہجہ ملاکر،گفتگو کا آغاز کیا تها
ہمارے درمیاں ان کہی باتیں
درد بے کراں اور
آخری رات کے شبنمی آنسوؤں میں
بڑی ہم آہنگی تھی
پهر کیا ہوا.....!!!
تمہارا لفظ تراش لہجہ
جس نے مجھے بهی خوشبو بنا دیا تها
لیکن تمہاری لامتناہی خاموشی نے
مجھ سے میرا لہجہ چهین لیا ہے
میری نظموں کا بدن ایک بار پهر
پھول بنتے بنتے رہ گیا ہے
میری تم سے گزارش ہے
مجھے وہ گلاب لمحے دان کرو
جو ہمیں پهر سے "دوست" کردیں
*نظم:------ 29*
*عنوان :-- جب تم نے فون کیا تھا*
*تحریر :-----زارافراز*
کل جب تم نے فون کیا تھا
تم سے میری بات ہوئی تھی
شاید پہلی بار ہوئی تھی
پھر بھی مجھ کو
یوں لگتا ہے
برسوں پہلے
انجانے میں
تم سے میری بات ہوئی تھی
دھیما لہجہ
نرم ہنسی کو
میں اب بھی پہچان گئی ہوں
تم نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا
نام بدل کر فون کیا تھا ------
*نظم:------ 30*
*عنوان :---- اداس لڑکی*
*تحریر:----- زارافراز*
تمہیں کیا یاد آتی ہے
وہ گم صم کم سخن لڑکی
تمہاری بات پر دھیرے سے جو کان
دھرتی تهی
رکھ کر ہاتھ ہونٹوں پر پر جو بہت مسکراتی تهی
جو دیتی تھی فقط "ہوں "اور "ہاں "میں ہی جواب اپنا
بڑی پیاری ادائیں تھیں ،ادائیں دلبرانہ تهیں
مگر تم .....
ہوجاتے تھے اس سے ناراض یونہی اکثر
وہ تم سے گھبرائی سی رہتی تھی
اور روز و شب جاناں بس
تمہیں ہی کال کرتی تھی
سحر سے کچھ ذرا پہلے
جب اس کا فون تم لیتے تھے تو
وہ کم سخن لڑکی
بہت چپ چاپ رہتی تهی
بہت گم صم
کھوئی سی وہ لڑکی
تمہیں کیا یاد آتی ہے؟
گھایل سی
پاگل سی
زخم خوردہ وہ کم سخن لڑکی
کیا تمہیں کبهی یاد آتی ہے ......
بتاؤ نا.........؟
No comments:
Post a Comment