Monday, May 8, 2017

Shairi Zara Faraz

*غزل 28:----- واپس لوٹ آؤں گی*
*تحرير :--- زارافراز*

طبیعت جب سنبھل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی
زرا یہ دل بہل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی

ابھی ہر  راہ میں میری جھلستی دھوپ ٹھہری ہے
زرا سی  شام ڈھل جائے  تو واپس لوٹ آؤں گی

ابھی طوفان اٹھا ہے میرے دل کے دریچے سے
زرا موسم بدل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی

ابھی تو ضبط ہے باقی،  کہ آنکھیں خشک ہیں میری
زرا نینا پگھل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی

محبت کی نشانی جو میرے  تکئے کے نیچے ہے
کبھی وہ خط بھی جل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی

ابھی تو زندگانی امتحاں کے دور ہی میں ہے
بلا  رستے سے ٹل جائے  تو واپس لوٹ آؤں گی

ابھی اک خواب پلکوں پر  لئے پھرتی ہوں میں جاناں
حقیقت میں وہ ڈھل جائے تو واپس لوٹ آؤں گی
*غزل....31*
*زارا فراز*

نہ کوئی پھول ہوں ابّو ،  نہ ہی تلوار ہوں ابّو
فقط میں ایک لڑکی ہوں،  تبھی تو خار ہوں ابّو

اگر بیٹا ہوا ہوتا زمانہ شادماں  ہوتا
مگر میں آپ کی بیٹی ہی آخر کار ہوں ابّو

میں ان کے سرخ  ہونٹوں پر  بہت دلکش تبسم ہوں
میں اپنی ماں کی آنکھوں  کا حسیں سنگار ہوں ابّو

کوئی  موسم اتر آئے تو پھر مجھ کو سنواریں لوگ
زمانے بھر کی نظروں میں  کوئی دیوار ہوں ابّو ؟

زمانے بھر کے آگے یہ نمائش کس لیے میری
بتائیں کیا بھلا میں حسن کا بازار ہوں ابّو؟

یہ ہر بیٹی کی فطرت ہے جھکا کر سر جو کہتی ہے
"مری ڈولی اٹھائیں کہ ،  میں اب تیار ہوں ابّو"

ابھی تو ایک چوکھٹ سے نکالی جا چکی ہوں میں
پرایا ہے نیا آنگن،  سراپا بار ہوں ابّو

ابھی جس گھر کی زینت ہوں،  وہ گھر مجھ پہ قیامت ہے
مصائب کے محاذوں پر سپہ سالار ہوں ابّو

یہ  دل میرا  شکستہ ہے، کہیں مر ہی نہ جاؤں میں
میں اپنے نفس پر اک بوجھ ہوں،  آزار ہوں ابّو

بہت ہمت جٹا کر تو وہ خط میں نے لکھا لیکن
مگر میں یہ نہ  لکھ پائی "بہت بیمار ہوں ابو"
*غزل :---- 32*
*تحرير :---  زارافراز*

چلو اب یوں بِتاتے ہیں سہانی شام ہم دونوں
خدا کے نام سے پی لیں وفا کے جام ہم دونوں

ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ زمانہ اب ستائے گا
بھلا کیسے چکائیں گے وفا کے  دام ہم دونوں

بہت دشواریاں ہوں گی،  شرر ہم کو مٹا دیں گی
جہاں میں گر مچائیں جو کوئی  کہرام ہم دونوں

کہاں تک ہم چھپائیں گے کہانی اس محبت کی
چلو اب کر ہی دیتے ہیں  فسانہ عام ہم دونوں

ترا قصہ ادھورا ہے، غزل میری ادھوری ہے
مکمل کر سکیں گے کیا ادھورے کام ہم دونوں

میسر ہو نہیں سکتا،  وفا کی سیج پر سونا
لحد میں ہی  کریں گے اب فقط آرام ہم دونوں
*غزل مسلسل33*
*زارا فراز*
*عظیم عورت*

خدا کی اس سر زمیں پہ تم تھیں فلک کا تارہ،  عظیم عورت
ہمیں خبر ہے، تمہیں،  تمہارے غموں نے مارا عظیم عورت

تمام جیون قدم جما کر کھڑی رہیں آپ حوصلے سے
مصیبتوں کے محاذ پر ایک بے سہارا، عظیم عورت

سوا  خدا کے کبھی بھی اک پل ڈری نہیں تم زمانے بھر سے
کوئی بھی دشمن جو پاس آیا وہ تم سے ہارا. .عظیم عورت

تمہاری ممتا کے زیر سایہ پلے بڑھے ہم جواں ہوئے ہیں
طویل عرصہ تلک ملا تھا ہمیں سہارا عظیم عورت

تمہارے بچے،  جگر کے ٹکرے سسک رہے ہیں بلک رہے ہیں
رواں ہے اشکوں کے سیل میں اک غموں کا دھارا،  عظیم عورت

لحد میں تم جاکے سوگئی ہو، ہمیں بھلا کر، ہمیں رلا کر
تمھاری یاد آگئی ہمیں تو تمھیں پکارا عظیم عورت
*غزل35*
*زارا فراز*

ہر اک کہانی
کا باب لڑکی

ہے زندگی کا
نصاب لڑ کی

ہے شاعرانہ
سا خواب لڑکی

زمانہ بگڑا
"خراب لڑکی"

ہے تلخ جملہ
"عذاب لڑکی"

نشہ کسی کا
شراب،  لڑکی

غزل کی محفل
رباب لڑکی

حسین منظر
"گلاب لڑکی"

ہے اک قیامت
"شباب لڑکی"

سوال "تشنہ"
جواب "لڑکی"

ترا محافظ
حجاب، لڑکی
*غزل34*
*زارا فراز*
"
شاعری
دل لگی

فکر دل
آگہی

بے وفا
زندگی

موت بھی
خوش روی

علمِ دیں
روشنی

راستے
اجنبی

عشق ہے
بے خودی

یہ جہاں
تیرگی

حسن ظن
تازگی

فکروفن
بندگی

دَور ہے
آخری

ہے کوئی
آدمی؟
*مزاحیہ شاعری:--- 35*
*تحرير :---- زارافراز*

مچائیں آج محفل میں  زرا کہرام ہم دونوں
ہمیں کس بات کا ڈر ہے کہ ہیں بدنام ہم دونوں

ہمیں دونوں کی باتوں سے ہوا سردرد دونوں کو
لگا کر آؤ سو جاتے ہیں  جھنڈو بام ہم دونوں

تری امی مخالف ہیں مرے ابو ہیں انکاری
ادھورا عشق چھوڑیں اور کریں آرام ہم دونوں

بڑے نوٹوں نے رو رو کر کہا مودی کے چیلوں سے
"قصور اتنا تو بتلاؤ..... ہوئے کیوں خام ہم دونوں"

کبھی اپنی رہائش تھی امیروں  کی تجوری میں
اور اب کچرے کے ڈبّے میں کریں آرام ہم دونوں

کسی دن میں پہن لوں گی،  کسی دن تم پہن لینا
چکا دیتے ہیں اس چپل کے مل کر دام ہم دونوں
*غزل:-----36*
*تحرير :---  زارا فراز*

فضاؤں میں محبت کی کریں برسات ہم دونوں
اسی رم جھم سی بارش میں گزاریں  رات ہم دونوں

بھلا کتنی ہی رنجش ہو ہمارے درمیان  لیکن
کبھی نہ روٹھ کر سوئیں، کسی  بھی رات، ہم دونوں

چلو ہم ساتھ چلتے ہیں  زمانے کو دکھانے کو
زمانہ  جل ہی جائے گا جو ہوں گے ساتھ ہم دونوں

میں اب سنجیدگی اوڑھوں ،تو تم  بھی نرم ہو جاؤ
چلوں اب یوں بدلتے ہیں کئی عادات ہم دونوں

میں کوئی گیت  گاتی ہوں،  غزل کوئی سناؤ تم
چلوچھیڑیں محبت کے حسیں  نغمات ہم دونوں

خموشی اب نہیں  جچتی ہمارے ہونٹ پر اک پل
بنانے سے ہی بنتی ہے،  بنائیں بات ہم دونوں
📚 *غزل:-----22*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

جدائی گر مقدر ہے مراسم کیوں بڑھائیں ہم
یہیں  تک ساتھ  تھا شاید ،  یہیں سے لوٹ جائیں ہم

چلو اب یوں بھی کر دیکھیں،  محبت آزماتے ہیں
تعلق کچھ بڑھانے سے ہی پہلے توڑ جائیں ہم

کبھی قسمت کے دروازے پہ  دستک تک نہیں ہوتی
مقدر  سو گیا اپنا اسے کیسے جگائیں ہم

ہمارے ہونٹوں پہ جمنے لگی ہے برف گردش کی
تمہیں اب گیت الفت کے بھلا کیسے  سنائیں ہم

چلو اب پونچھ لیتے ہیں چھلکتی آنکھ کے آنسو
ہمیں بھی مت رلاؤ تم،  تمہیں بھی کیوں رلائیں ہم

یہی تقدیر ہے اپنی کہ لے لیں فیصلہ آخر
ہمیں بھی بھول جاؤ تم،  تمہیں بھی بھول  جائیں ہم

حیاتِ بے کراں میں جب کبھی پھر سے ملیں جاناں
ہمیں تم بھی نہ پہچانو، نہ تم کو جان پائیں ہم
*37*
📚 *غزل*
✍🏻 *زارا فراز،  جمشدپور*

مقدس  زمیں اور فضا چاہتی ہوں
مدینے کی  دلکش ہوا چاہتی ہوں

میں اب جا رہی ہوں مدینے کی جانب
کہ فضلِ خدا جا بجا، چاہتی ہوں

مجھے اب نہیں  ہے زمانے کی پروا
میں اپنے خدا کی رضا چاہتی ہوں

لکھوں گی میں اپنی کتاب غزل میں
میں کیا سوچتی ہوں، میں کیا چاہتی ہوں

بہت  جی لیا ہے  زمانے کی خاطر
میں اب زندگی  بے ریا چاہتی ہوں

مری بے خودی اب یہی کہہ رہی ہے
تو کیا کر رہی ہے؟  میں کیا چاہتی ہوں

جو مجھ کو زمانے کے شر سے بچا لے
میں عصمت  کی ایسی ردا چاہتی ہوں

نہیں چاہئے مجھ کو  ہاتھوں  کے  کنگن
مری ماں!  تری میں دعا چاہتی ہوں

مٹا دے خیالوں سے ماضی کی یادیں
میں خوش کن سا اک حادثہ چاہتی ہوں

کبھی مجھ پہ چھائے محبت کا موسم
خُنُک سی پھواریں، گھٹا چاہتی ہوں

میں خونِ جگر سے غزل لکھ  رہی ہوں
سو، ہر شعر میں کربلا  چاہتی ہوں

گناہوں میں  ڈوبی ہوئی ہوں سراپا
مجھے بخش دے اے خدا! چاہتی ہوں
📚 *غزل:-----22*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

جدائی گر مقدر ہے مراسم کیوں بڑھائیں ہم
یہیں  تک ساتھ  تھا شاید ،  یہیں سے لوٹ جائیں ہم

چلو اب یوں بھی کر دیکھیں،  محبت آزماتے ہیں
تعلق کچھ بڑھانے سے ہی پہلے توڑ جائیں ہم

کبھی قسمت کے دروازے پہ  دستک تک نہیں ہوتی
مقدر  سو گیا اپنا اسے کیسے جگائیں ہم

ہمارے ہونٹوں پہ جمنے لگی ہے برف گردش کی
تمہیں اب گیت الفت کے بھلا کیسے  سنائیں ہم

چلو اب پونچھ لیتے ہیں چھلکتی آنکھ کے آنسو
ہمیں بھی مت رلاؤ تم،  تمہیں بھی کیوں رلائیں ہم

یہی تقدیر ہے اپنی کہ لے لیں فیصلہ آخر
ہمیں بھی بھول جاؤ تم،  تمہیں بھی بھول  جائیں ہم

حیاتِ بے کراں میں جب کبھی پھر سے ملیں جاناں
ہمیں تم بھی نہ پہچانو، نہ تم کو جان پائیں ہم
*38 غزل*
*زارا فراز*

رکھو جذبہ دین رحمت یقیناً
تو حاصل کروگے سعادت یقیناً

وہی ہوگا جنت میں اعلی مکاں پر
جو کرتا ہے ماں کی  اطاعت، یقیناً

مرے دوستوں کو بھی فرصت نہیں اب
انہیں مل گئی ہے رفاقت یقیناً

عجب حرکتیں آج کل کررہے ہیں
"انہیں  ہو گئی ہے  محبت یقیناً"

سکوں سارے عالم میں ہوجائے پل میں
سجادو عمر سی عدالت ، یقیناً

کبھی آئینے کا کرو سامنا تم
تو اترے گی چہرے سے صورت یقیناً

وہ کچھ  اس ادا سےپُکارےتھےمجھ کو
تڑپ اٹھّی تھی میری چاہت یقیناً

ہَوا کہہ رہی ہے ذرا زلف کھولو
ہے خوشبو کی اس کوضرورت یقیناً
📚 *غزل :----*
✍🏻 *تحریر :---  زارافراز*

ایک محبت میں مری اتنا تماشا ہوگا
میں نے سوچا ہی کہاں تھا کبھی ایسا ہوگا

یہ جو گلزار نظر آتا ہے کوچہ کوچہ
میرا دیوانہ یہاں سے کبھی گزرا ہوگا

ناز تھا جس کو بلندی پہ ہماری کل تک
آج اغیار کی محفل میں وہ بیٹھا ہوگا

روز ٹکراتی ہیں آپس میں ہماری نظریں
وہ میرے گھر کے کہیں پاس ہی رہتا ہوگا

عکس رہتا ہے ہمیشہ ہی تمھارا ان میں
تم  نے آنکھوں میں مری جھانک کے دیکھا ہوگا

میں نے جس شخص کی راہوں میں بچھائیں پلکیں
وہ کہیں غیر کی باہوں میں مچلتا ہوگا

ہاں مجھے  علم ہے وہ میرا نہیں ہے لیکن
مستقل میرا جو ہو جائے تو اچھا ہوگا

بدگماں ہو کے جو کل چھوڑ گیا تھا مجھ کو
آج وہ شخص بھی لگتا ہے اکیلا ہو گا
*39 غزل*
*زارا فراز*

کہتے ہیں تو پھر دیکھنا کر جائیں گے ہم لوگ
اک روز مصائب سے گزر جائیں گے ہم لوگ

بے خوف قلم کار ہیں لکھتے ہیں حقیقت
یہ سوچ لیا کیسے کہ ڈر جائیں گےہم لوگ

پھر دنیا کی رعنائی میں دل ہی نہ لگے گا
اک پل کو ذرا سوچ لیں مر جائیں گے ہم لوگ

کرنا ہے تو پھر کیجئے باتوں کا بھروسہ
ڈرئیے  نہ کہ باتوں سے مکر جائیں گےہم لوگ

تم نخلِ تمنا کو سدا سینچتے رہنا
اک شاخ بھی سوکھی تو بکھر جائیں گے ہم لوگ

اس کے سوا اب اپنا ٹھکانہ نہیں کوئی
اس شہر سے نکلیں تو کدھر جائیں گے ہم لوگ

تم دل سے،  محبت سے،  لگاوٹ سے ملو گے؟ 
محفل میں تمہاری کبھی گر جائیں گے ہم لوگ
*41*
*غزل*
*زارا فراز*

زندگی کے  میلے میں  عشق کھو گیا ہو گا
شہرِ دل کی بستی میں  کوئی  رو رہا ہوگا

لفظ کو پرونے میں پہلے کشمکش ہوگی
تھرتھراتے ہونٹوں سے شعر پھر ادا ہوگا

اعتبار جس پر تھا،  اپنی ذات سے بڑھ کر
میں نے کب یہ سوچاتھاوہ بھی بےوفاہوگا

جس نے مجھ کو چھوڑا تھا،  زندگی کے  صحرا میں
حسرتوں سے وہ مجھ کو اب بھی تک رہا ہوگا

اب نہیں یہ ممکن ہے، پیار بھول جائے تو
کر کے فیصلہ تیرا دل بھی ڈولتا ہوگا

جس کے ہر نَفَس میں ہی میرا قرب شامل تھا
اب بھی سوچتی ہوں میں کیسے جی رہا ہوگا

جب تمہاری  محفل میں شعر میں  تراشوں گی
لفظ کی تہوں میں پھر کچھ نہ کچھ چھپا ہوگا

زندگی  کی راہوں میں  شام یوں ہوئی ہوگی
خواب  کے دریچے سے  چاند جھانکتا ہوگا
*40 غزل*
*زارا فراز*

جدائی لکھ کے مقدر میں جا چکا ہے کوئی
کہ آنکھ میں مری چھپ چھپ کے رو رہا ہے کوئی

نہ جانے کون سے کردار کی کہانی ہے
غزل میں غم کی زبانی جو کہہ رہا ہےکوئی !!

تمہیں خبر ہے  نکل کر  تمہاری  محفل سے
کئی دنوں سے مسلسل بجھا بجھا ہے کوئی !!

غمِ حیات سے کہہ دو کہ خواب بنتے  ہوئے
"حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی"

تمہارا گھر یہ تمہارا ہی اب رہے گا سدا
دیار دل میں  بھی آ کر کے لوٹتا ہے کوئی !!

اسے تھا چھوڑ کےجانا، چلا گیا آخر
تڑپتے، روتے،  بلکتے ہی رہ گیا ہے کوئی

وصال کی سبھی  کوششیں تو لا حاصل
یہی بہت ہے  مجھے،  دل سے چاہتا ہے کوئی

اندھیری رات میں جب چاند جو نکلتا ہے
تو نور بن کے دریچےسےجھانکتا ہےکوئی
*43 غزل*
*زارا فراز*

کیا حسیں منظر ہے جاناں چاندنی بھی سات ہے
"عشق بھیگا جا رہا ہے حسن کی برسات ہے"

میں اسے تکتی رہی ہوں،  وہ مجھے تکتا رہا
وقت کی سرگوشیاں ہیں "کیا سہانی رات ہے"

اس بہانے میں  رکی ہوں اجنبی ماحول میں
آج محفل میں مرا  دلبر بھی  میرے سات ہے

ہر کوئی ہے  دل شکستہ اپنے ہی حالات سے
درد میں ڈوبی ہوئی کیا اک مری ہی ذات ہے

یہ نہ سمجھے کوئی مجھ کو،  میں تہی دامان ہوں
میرے آنچل میں  بھی تھوڑی پیار کی سوغات ہے

مضطرب سی بام پر،مجھ کو اکیلی دیکھ کر
کہہ رہا ہے چاند مجھ سےکتنی تشنہ رات ہے
📚 *45 غزل*
✍🏻 *زارا فراز*

ظرف آزمانا ہے
اس کو بھول جانا ہے

شوخیاں بڑھانی ہے
روٹھنا منانا ہے

وہ مرا،  میں اس کی ہوں
مختصر فسانہ ہے

دل اسی کا حامی ہے
جس کے لب پہ "نا نا"  ہے

آنکھ سچ بتاتی ہے
ہونٹ پر بہانا ہے

جس قدر اداسی ہو
اس قدر ہنسانا ہے

لگ رہا ہے جیسے یہ
آخری زمانہ ہے

منزلوں کو پانے تک
راستہ بنانا ہے

زخم ہیں ہرے پھر بھی
ہم کومسکرانا ہے

یاد کی کتابوں سے
عشق کو مٹانا ہے

چوٹ اب نئی دے دو
زخم یہ پرانا ہے

میری ہر دعا میں ہو
میں نے تم کو پانا ہے

اس کے لوٹ آنے تک
اک دیا جلانا ہے
📚  *46 غزل*
✍🏻 *زارا فراز*

چاند ستارے کیوں لگتے ہیں آنکھوں میں  بس جانے  والے
حد سے پیارے کیوں ہوتے ہیں سانسوں کو مہکانے والے

پل میں دور چلے جاتے ہیں،  آنکھیں گیلی کر جاتے ہیں
جانے ایسا کیوں  کرتے ہیں  بے حد پیار جتانے  والے

شاخ تمھاری امیدوں کی عشق و وفا سے خالی کیوں ہے
پیار،  محبت کے جیون کے باغ میں پیڑ لگانے والے

مانا تم فن میں ماہر، آواز سے گھائل کردیتے ہو
میں باتوں میں آ نہیں سکتی، لفظوں سے بہلانے والے!

چپ چپ جانے کے مقصد سے آج تلک ناواقف ہوں
جرم مرا بتلاتے جاتے، چھوڑ کے مجھ کو جانے والے

روز امیدوں کی،  چوکھٹ پر ایک دیا روشن کرتی ہوں
راہ تمہاری دیکھ رہی ہوں،  لوٹ کے تم تھے  آنے والے
*44 غزل*
*زارا فراز*

اس شخص کا ہے اصرار بہت
میں آج کروں سنگار بہت

محرومِ محبت لوگوں کو
لگتا ہے ذرا سا پیار بہت

ہر بات اسی کی چلنی تھیں
ہم نے تو کیا انکار بہت

دیوار پہ غزلیں لکھ لکھ کر
برباد ہوئے شہکار بہت

تم بخش بھی دو اب مجھ کو نا
گر  بات  لگی بیکار بہت

ایک روز عیادت کو آؤ
میں رہنے لگی بیمار بہت

پھر بزم  سے ان کے جاتے  ہی
جی ہونے لگا بیزار بہت

کس بات پہ  نازاں ہوتے ہو؟
یاں اور  بھی ہیں فنکار بہت
📚 *47   غزل*
✍🏻 *زارا فراز*

دور جانے کو دل نہیں کرتا
ہاں رلانے کو دل نہیں  کرتا

شام چاہت کی کیا سہانی تھی
بھول جانے کو دل نہیں  کرتا

کیوں کسی کا کبھی برا سوچوں
دل دکھانے کو دل نہیں کرتا

آج میں عشق کے عروج پہ ہوں
لوٹ آنے کو دل نہیں  کرتا

تم بھی لگنے لگے ہو غیروں سے
پاس آنے کو دل نہیں  کرتا؟

زخم اتنے ملے محبت میں
"مسکرانے کو دل نہیں  کرتا"

کون عاشق ہےجسکو چاہت میں
چوٹ کھانے کو دل نہیں  کرتا

بھید سارے چھپا کے رکھتی ہوں
دکھ بتانے کو دل نہیں کرتا

کیسی معصومیت ہے جاناں میں
روٹھ جانے کو دل نہیں کرتا
📚 *48 غزل*
✍🏻 *زارا فراز*

سوچنا قیامت ہے، سانس تک  بہکتی ہے
"آپ کی محبت سے  زندگی  مہکتی ہے"

میری زندگانی میں چاند جتنی ہے روشن
چاند سی وہ گڑیا جو گود میں چہکتی ہے

یاد کے دریچے سے میرے دل کے آنگن میں
رات کے کسی لمحے چاندنی اترتی ہے

نیند، میری آنکھوں کوخواب جب دکھاتی ہے
دور تک اندھیرے میں  روشنی  بھٹکتی ہے

بادلوں سے اس لمحہ خوف مجھ کو آتا ہے
بارشوں کے موسم میں بجلی جب چمکتی ہے

عشق ایسی آتش ہے،  عاشق کے سینوں میں
جس قدر دباتے ہیں،  اس قدر بھڑکتی ہے

دور تک پہنچتا ہے سلسلہ  اداسی کا
سوچ کے دریچے سے یاد جب ابھرتی ہے
📚 *غزل 50*
✍🏻 *زارا فراز*

جلا ہے آس کا دیپک ،  مری بیمار آنکھوں میں
کوئی پھر سے اتر آیا ہے آخر کار آنکھوں میں

ادھورا لمس ہونٹوں پر، مکمل  پیار آنکھوں میں
محبت دل میں پوشیدہ  کھلا اظہار آنکھوں میں

میرا جی چاہتا ہے اب اسے دل میں چھپا لوں میں
فلک کا چاند اترا ہے، جو پہلی بار آنکھوں میں

تری نظروں کی گرمی سے مرا تن من سلگتا ہے
نہ جلتے خواب  اب رکھنا اے میرے یار! آنکھوں میں

کبھی فرصت ملے اے دوست! تو ملنے چلے آنا
تمھاری  دید سے آتا ہے اک تہوار آنکھوں میں

مسلسل سسکیاں سن کر یہ دل حیران ہوتا ہے
نہ جانے کون روتا ہے مری بیدار آنکھوں میں

جو اس کو دیکھ لے دو پل  تو دل قربان کر جائے
کیا اس نے ثبت رکھّی ہے سلگتی دار،  آنکھوں میں

زمانہ پڑھ نہیں  پایا تھا میری داستان دل
بڑا سنگین قصہ تھا مری لا چار آنکھوں میں

وہ اب رہنے لگا ہے ہر گھڑی بیزار یوں مجھ سے
کھٹکتی ہوں اسے ایسے  کہ جیسے خار آنکھوں میں

سنا ہے میں نے لوگوں سے، لئے پھرتا ہے اک لڑکا 
مری خاطر محبت کا حسیں سنسار آنکھوں میں
📚 *غزل49*
✍🏻 *زارا فراز*

وہ اک کومل سی لڑکی جو کہانی تھی،  محبت کی
سنا ہے،  لوگ کہتے ہیں ،، دوانی تھی محبت کی،،

وہ سارے پیار کے لمحے فقط اب خواب لگتے ہیں
کہ دو دل ساتھ ہوتے تھے جوانی تھی محبت کی

اُدھر اصرار ہوتا تھا،  اِدھر انکار ہوتا تھا
کسی صورت محبت نے نہ مانی تھی محبت کی

ہوا کرتی تھی میں بھی کل،  مکمل  حسن کا پیکر
مرے ہونٹوں  کی سرخی پر نشانی تھی محبت کی

مہک اٹھّا تھا میرا تن بدن تازہ گلابوں سا
کرم اس کا ہوا تھا گل فشانی تھی محبت  کی

ارے مت پوچھئے صاحب،  یہ دل ہوتا ہے نافرماں
اسے اک ضرب چھوٹی سی لگانی تھی محبت کی

کسی نے شوخ  باتوں میں چھپا لی ہر اداسی کو
کسی کے تلخ لہجے میں  کہانی تھی محبت کی

دلوں کو کب خبر تھی یہ جدائی ساتھ لائی ہے
نہ پوچھو رت مگر کتنی سہانی تھی محبت کی

قضا لے کر گئی اس کو بھی جبراً چھین کر مجھ سے
جو میری گود میں ننھی نشانی تھی محبت کی
📚 *غزل.51*
✍🏻 *زارا فراز*

قضا آ گئی میرے گھر دھیرے دھیرے
کہ زائل ہوا اس کا ڈر دھیرے دھیرے

تجھے زندگی اب یہ کیسی تھکن ہے
سمٹ تو رہا ہے سفر دھیرے دھیرے

جو نشتر چبھویا گیا تلخیوں کا
سو اب ہو رہا ہے اثر دھیرے دھیرے

میں کیسے،  کہاں،  کس طرح  مٹ رہی ہوں
زمانے کو ہوگی خبر دھیرے دھیرے

زرا شام ہو گی میرے اس سفر کی
میں پہنچوں گی اپنےہی گھر دھیرے دھیرے

یہی سوچ کر میں نے جیون بِتایا
وہ آئے گا پھر لوٹ کر دھیرے دھیرے

زمانے کے حاکم کے ہر فیصلے پر
بکھرتے گئے با ہنر دھیرے دھیرے

مرا عکس مجھ سے خفا ہو گیا ہے
جو میں نے چرالی نظر دھیرے دھیرے

No comments:

Post a Comment