Monday, May 8, 2017

Shairi Zara Faraz

📚 *غزل :---- 1*
✍🏻 *تحریر :---  زارافراز*

ایک محبت میں مری اتنا تماشہ ہوگا
میں نے سوچا ہی کہاں تھا کبھی ایسا ہوگا

یہ جو گلزار نظر آتا ہے شہر مجھ کو !
میرا دیوانہ یہاں سے کبھی گزرا ہوگا

ناز تھا جس کو رفعت پہ ہماری کل تک
آج اغیار کی محفل میں وہ بیٹھا ہوگا

روز ٹکراتی ہیں میری نگاہوں سے نگاہیں اس کی
وہ میرے گھر کے کہیں پاس ہی رہتا ہوگا

عکس رہتا ہے ہمیشہ ہی ہمارا ان میں
تم  نے آنکھوں میں مری جھانک کے دیکھا ہوگا

میں نے جس شخص کی راہوں میں بچھائی پلکیں
وہ کہیں غیر کی باہوں میں مچلتا ہوگا

ہاں مجھے  علم ہے وہ میرا نہیں ہے لیکن
مستقل میرا ہو جائے تو اچھا ہوگا

بدگماں ہو کے جو کل چھوڑ گیا تھا مجھ کو
آج وہ شخص بھی لگتا ہے اکیلا ہو گا
📚 *غزل :---- 2*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

معصوم محبت کا کیا خوب فسانہ ہے
ملنے کو ترستے ہیں دشمن یہ زمانہ ہے

آنکھوں سے چھلکے ہیں کیوں درد کے یہ آنسو
تکمیل وفا میں تو کچھ غم بھی اٹھانا ہے

دے مجھ کو خبر کوئی، آنکھوں کے سمندر میں
خوابوں سے لدی کشتی کس  سمت روانہ ہے

اب شہر محبت کی جادوئی فضا میں تو
آبیٹھ زرا مل کے کچھ خواب سجانا ہے

بس جاگتے رہنا کچھ خواب لئے جاناں
جذبات کے طوفاں کو سینے میں دبانا ہے
📚 *غزل :--- 3*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

بیتے لمحوں کے آنگن میں بے چینی دن رات ملی
پیار بنا جب دشمن دل کا کیا اچھی سوغات  ملی

سوچ کی گہری تاریکی میں روشن آنکھیں ڈوب  گئیں
تب بھیگی پلکوں میں مجھ کو اشکوں کی برسات  ملی

کھونا کیا اور پانا کیا،  بند آنکھوں کا سپنہ کیا
زیست  کی ساری دولت کھو کر مجھ کو میری ذات ملی

کیسی کیسی چال چلی الفت کے دوراہے پر
ہار کے جیتی بازی اس نے آندھی مجھ کو مات ملی

آئینے کے ہر ٹکڑے میں ٹوٹا بکھرا چہرہ تھا
خود پہ جس دم غور کیا تو کرچوں کی بارات  ملی

شعر انوکھے لکھے تھے جانِ غزل کی چاہت میں
تلخ میں ڈوبی لیکن مجھ کو اس کی ہر اک بات ملی
📚 *غزل :--- 4*
✍🏻 *تحرير :---  زارافراز*

کبھی سنسان وادی میں سفر تنہا بھی ہوتا ہے
مگر مطمئن ہے کوئی سورج ساتھ چلتا ہے

کسی بیتے ہوئے پل کی ہمیشہ یاد میں کھل کر
لحاف بے وفائی میں کوئی روتا بھی ہوتا ہے

شمع کے جب کبھی مدھم اجالے  ساتھ ہوتے ہیں
تو اس کی آنچ میں تپ کر وجود اپنا پگھلتا ہے

اکیلا زندگی میں خود کو تو محسوس مت کرنا
کوئی تو ہے جو سایہ بن کر تیرے ساتھ ہوتا ہے

تمہاری یاد  میں جاناں ،  میں خود کو بھول جاتی ہوں
افق کی سرخیوں میں جیسے سورج ڈوب جاتا ہے
📚 *غزل.... 5*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

نظروں  کی تڑپ کچھ اور  بڑھی،  دھڑکن کی صدا نمکین ہوئی
جب اس نے پکارا دل سے مجھے،
کچھ اور فضا رنگین ہوئی

ہم چھپ کے محبت کرتے ہیں،  دنیا کی نظر لگ جائے تو
انجام محبت کیا ہوگا،  یہ سوچ کے میں غمگین ہوئی

دو لفظ وفا کے مل نہ سکے،  جب مجھ کو حیا کی چلمن میں
مغموم  ہوئی،  مجبور ہوئی،  مفرور ہوئی شاہین ہوئی

ویسے تو بہت معصوم  تھا وہ،  تعظیم بھی میری کرتا تھا
نظروں  سے تراشا   اس نے مجھے،  پھر  اس کی نظر  بے دین ہوئی

بھنوروں سے لپٹ کر کلیوں نے   حسرت کا جہاں  آباد کیا
یہ دیکھ کسک  سی دل میں ہوئی، اور  طبع مری شوقین ہوئی

یہ ترک محبت  کا قصہ،  کچھ اتنا تعجب خیر نہیں
کچھ  میری وفا کی بھول تھی اور    کچھ اس سے خطا سنگین ہوئی

ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر  جب میری نظر میں آیا تو
جاناں میں بہت ہی گھبرائی،  بے چین ہوئی،  غمگین ہوئی.
📚 *غزل :----6*
✍🏻 *تحریر:--- زارافراز*

بھول جانے کی بات کرتے ہو
تم ستانے کی بات کرتے ہو

اس نے  پائی خرد کی ذوالنوری
کس دیوانے کی بات کرتے ہو

راہِ الفت میں ڈال کر جاناں
لوٹ جانے کی بات کرتے ہو

خوب ہنس کے مرے، رقیبوں سے
دل جلانے  کی بات کرتے ہو

دل پہ لکھا ہے بس تمہارا نام
کیوں مٹانے کی بات کرتے  ہو

مجھ سے کیا ہو گئی خطا جو تم
دور جانے کی بات کرتے  ہو

تم تو دھڑکن ہو میرے سینے کی
کیوں زمانے کی بات کرتے  ہو

ہے یقین تجھ پہ  جان سے زیادہ
قسمیں کھانے کی بات کرتے ہو
📚 *غزل :--- 7*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

سدا یادوں کی بستی میں اسی کی ذات ہوتی  ہے
مری ہر بات میں شامل،  اسی  کی بات ہوتی ہے

نہ کوئی بات کرتا ہے،  نہ کوئی مسکراتا ہے!
مری قسمت کی نگری میں،  ہمیشہ رات ہوتی ہے

اسی کی جیت ہوتی ہے،  اسے انعام ملتا ہے
یہ میری کم نصیبی ہے،  کہ میری مات ہوتی ہے

مری بانہوں میں رہتی تھی،  مرے پہلو میں سوتی تھی!
قضا جب لے گئی اس کو،  تو تنہا رات ہوتی ہے

میرا شاداب تھا گلشن،  اسی کی ذات کے دم سے
نہ اب موسم بدلتا ہے،  نہ اب برسات ہوتی ہے

مرے جیون کی صبحیں تو،  بہت خاموش ہیں جاناں
مگر جب رات ہوتی ہے وہ میرے سات ہوتی ہے
📚 *غزل :--- 8*
     *تحریر :---- زارافراز*

آغاز محبت  کا قصہ  کچھ ایسے عمل میں آیا ہے
آنکھوں نے لکھی چہرے  پر غزل، پھر  سچّا شعر  سنایا ہے

کس موڑ پہ   آ کر رشتے کو یہ درد  کا نقشہ بھایا ہے
غیروں  سے شکایت بے  جا ہے اپنوں نے مجھے ٹھکرایا ہے

جو میری شکایت جا جا کر  کرتا ہے زمانے والوں سے
اس نے  ہی مجھے الزام  دئے اس نے ہی مجھے جھٹلایا ہے

تاروں سی چمکتی آنکھوں میں حسرت کا جہاں آباد ہے اب
اس نےہی انہیں برباد کیا اس نے ہی نور چرایا ہے

اشکوں کو روک کے زندہ ہوں اب اور کہاں تک ضبط کروں
ممتا کا دامن چھوٹ گیا کچھ اتنی دور وہ لایا ہے

جو سارے زمانے کے آگے بیٹھا تھا مسیحا بن کے مرا
اس نے ہی مجھے بیمار کیا،  اس نے ہی مجھے تڑپایا ہے

پھر بزم طرب میں ذکر  کوئی  ماضی کے  حوالے  دینے  لگا
وہ  نام ہے میرے دل پہ  رقم،  جو تیرے  لبوں پہ آیا ہے
📚 *غزل---------9*
✍🏻 *تحریر :------زارافراز*

آنسو نہ ملیں گے دل مضطر نہ ملے  گا
ان جھیل سی آنکھوں میں سمندر نہ ملے گا

چاہو تو یقیں کر لو ہے بے لوث  محبت
پھر عشق میں جلتا ہوا  پیکر نہ ملے گا

آ چوم لے  پلکوں پر یہ ٹھہرا ہوا  موتی
گر لوٹ کے آیا  تو یہ گوہر نہ ملے گا

مل جائیں گے ہر رہ پہ کئی چاہنے والے
بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا

سینے سے لگالے  اسے، معصوم بہت ہے
پردیس سے لوٹے تو یہ منظر نہ ملے گا

اس شہر کے میلے میں کئی رنگ کے ہیں لوگ
ڈھونڈوگے مگر جس کو وہ اکثر نہ ملے گا

کس شخص کو اپنا کہیں، کس پر کریں وشواس
مطلب کی یہ دنیا،  کوئی مل کر نہ ملے گا
📚  *غزل:---- 11*
🖋 *تحریر :---- زارافراز*

ضبط کتنا عشق میں ہے، آزمانا چاہئے
بےسبب ہی اب مجھے بھی مسکرانا چاہئے.

مسکرانا گرچہ مجھ کو آج تک آیا نہیں
سوچتی ہوں اشک آنکھوں کے چھپانا چاہے

ان لبوں پر کانپتا ہے ایک سوالِ زندگی
کیا کبھی اپنوں کا ایسے دل دکھانا چاہئے

جس نے بخشا ہے مجھے سوزِ غمِ پنہاں بہت
"دل یہ کہتا ہے اسے اپنا بنانا چاہئے..."

دور تک لمبے سفر میں تیرگی کا ساتھ تھا
مل گیا اب  نورِ الفت گھر بسانا چاہئے

جل رہی ہوں مدتوں سے میں غموں کی دھوپ میں
چاہتوں کی بارشوں میں اب نہانا چاہیے
📚 *غزل:---- 10*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

کیسے  دکھ تھے شباب  آنکھوں میں
میں نے پڑھ لی کتاب آنکھوں  میں

اس نے پل بھر چرائی تھی نظریں
جیسے اترا عذاب  آنکھوں میں

ایک چپ تھی گداز ہونٹوں پر
اور ابھرا جواب  آنکھوں  میں

میں نے سب سے چھپائے  رکھّا ہے
اپنی چاہت  کا خواب  آنکھوں میں

حسن  ٹھہرا ہوا ہے جذبوں گا
اس کی روشن گلاب آنکھوں میں

آج کل مضطرب سا لگتا ہے
میری جیون کا باب آنکھوں  میں

لے کے پھرتا ہے مئے کشی  کے لئے
ایک لڑکا،  شراب آنکھوں میں

وہ بھی ٹھہرا تھا ایک پل کو فقط
شعر کہتی رباب آنکھوں میں

وہ بھی جاناں سجائے رکھتا ہے
خوب غصہ عتاب آنکھوں میں
📚 *غزل :---- 12*
✍🏻 *تحریر :---- زارا فراز*

وہ ادھر رہ گئے ہم ادھر رہ گئے
ساتھ رہنا تھا،  تنہا... مگر رہ گئے

ہمسفر تھے کبھی آپ جس راہ کے
ہم اکیلے اسی راہ پر رہ گئے

جب سے تم ہوگئے  دور گھر بار سے
"اجنبی بن کے دیوارو در رہ گئے"
.

ڈگریاں رہ گئیں بند صندوق میں
ہاتھ ملتے ہوئے با ہنر رہ گئے

تیغ کے سامنے زندگی جھک گئی
خون میں تر بتر یہ بشر رہ گئے

میری روداد غم آپ نے کب سنی
لفظ میرے سبھی بے اثر رہ گئے

رفتہ رفتہ بدلتے گئے  وہ نظر
اور ہم سادہ  دل بے خبر رہ گئے

لے گیا تیز طوفاں میرا آشیاں
تیز بارش میں ہم بھیگ کر رہ گئے

چاند سے اک ملاقات کی چاہ میں
دیکھئے! رات بھر بام پر رہ گئے

یاد ان کی  کتابوں میں دب کر رہی
ہجر میں  مور کے صرف  پر" رہ گئے

خون روتا رہا ماوں کا دل فقط
خون میں ڈوبے ان کے پسر  رہ گئے
📚 *غزل :---- 13*
✍🏻 *تحریر :--- زارا فراز*

سانس میں رکھ لوں میں آواز بنا لوں تجھ کو.
آ کہ ہونٹوں پہ...غزل ساز بنا لوں تجھ کو.

ذات پہ تیری یقیں خود سے زیادہ ہے مجھے.
خود کو ظاہر کروں ہمراز بنا لوں تجھ کو.

تیری دھڑکن، میری آواز مرے لہجے میں.
گفتگو سیکھ  لوں. انداز بنا لوں تجھ کو

تیری آواز سماعت  میں ہے امرت  کی طرح.
اپنی کم گوئی کا اعزاز بنا لوں تجھ کو

دیکھ نہ پائے کبھی کوئی تجھے میرے سوا .
بند پلکوں میں چھپا راز بنا لوں تجھ کو
*غزل :---- 14*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

درد  ویسے بھی آزمانا ہے
تم سے ملنا تو اک بہانا ہے

میں نے سوچا ہے حل نکالوں گی
درد کیسا ہے، کیا ٹھکانا ہے

ساتھ میرے  وہ دے نہ پائے گا
اب اکیلے ہی دور جانا ہے

سرخ آنکھوں میں رازہے پنہاں
مست نظروں کا کیا فسانہ ہے؟

اس کی نظریں شراب  جیسی ہیں
اس کی آنکھوں میں ڈوب جانا ہے

زخم لہجے کے سب پرانے ہیں
حروفِ ایذا، فقط بہانا ہے

میری باتوں میں تلخ سچائی
اس کا لہجہ  بھی جارحانہ ہے

باتوں باتوں میں روٹھ جاتا ہے
ایک لڑکا،  اسے منانا ہے

مجھ میں برسوں سے جی رہا کوئی
اب کہ بچھڑا تو مر ہی جانا ہے

رکھ دی ندیاں نچوڑ کر آنکھیں
میرے  چندا کو شہر جانا ہے
*غزل :-----16*
🕋  *نعت پاک*
📚 *(بسلسلہ نعتیہ مشاعرہ)*
✍🏻 *تحریر:----  زارا فراز*

مبارک فضا ہے مقدس  زمیں ہے
مدینے کی گلیاں تمہیں آفریں ہے

بدن ہندمیں،  روح میری وہیں ہے
بلائیں گے سرکار میرا یقیں ہیں

پتہ خود چلے گا جو قرآن کھولو
مقرر ہیں زلفیں مقرر جبیں ہے

مدینے کی گلیاں بھی رشکِ جناں ہیں
کہیں ایسا منظر نہ خوشبو کہیں ہے

جو سنت کا منکر  ہے سنت کا باغی
سکوں اس کو دنیا میں کوئی نہیں ہے

کہا ان کو قرآں نے یاسین،  طحہ
بدولت محمد کے دنیا حسیں ہے

تصوّر میں زارا  کا چمکا مقدر
درِ پاک ہے اور میری جبیں ہے
📚  *غزل :----- 15*
✍🏻 *تحریر:----  زارا فراز*

نگاہ شوق میں  سپنے سجا رہا ہے کوئی
ہماری روح کو اپنا بنا رہا ہے کوئی

ہماری آنکھ سے آنسو بھی چن لئے سارے
بڑے خلوص سے ہنس کر ہنسا رہا ہے کوئی

دئے امید کے آنکھوں میں کر دئیے  روشن
کہ میری پلکوں پہ جگنو سجا رہا ہے کوئی

بنا رہا ہے مرے دل کو پھر کوئی اپنا
"غمِ حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی"

ہمارے در پہ بھی دستک ہوائیں دیتی ہیں
ہمیں بھی لگتا ہے ایسا کہ آرہا ہے کوئی

ہماری روح  کے اندر بھی ساز بجنے لگے
وفا کے نغمے  محبت سے گا رہا ہے کوئی
📚 *غزل :-----17*
✍🏻 *تحریر :--- زارافراز*

زندگی  عذاب ہو گئی
شاعری کتاب ہو گئی

ان کی آنکھیں پُر سوال تھیں
میں بھی لا جواب ہو گئی

چھو رہی ہے ان  کی بے خودی
ایک کلی گلاب ہو گئی

بن گئی میں ان کی مئے کشی
آنکھ اب شراب ہو گئی

ان کی ہر ہنسی میرے لئے
ایک حسین رباب ہو گئی

زندگی مری، ترے بغیر
ہر گھڑی عذاب ہو گئی

چاندنی سی ایک حسیں پری
زندگی کا باب ہو گئی
📚 *غزل :---- 18*
✍🏻 *تحرير :--- زارا فراز*

ضبط  آزما کے رو پڑے
ہم انھیں بھلا کے رو پڑے

عین، شین،  قاف،  واؤ،  میم
حرف سب مٹا کے روپڑے

فرحت و خلوص سے گلے
وہ مجھے لگا کے  رو پڑے

روتے روتے وہ بھی ہنس دئیے
ہم بھی مسکرا کے رو پڑے

ماضی ان میں پھر سے جی اٹھا
قربتیں بڑھا کے رو پڑے

دور سے دیا تھا حوصلہ
اور پاس آ کے رو پڑے

جن سے تھی وفا کی کچھ امید
ان سے چوٹ کھا کے رو پڑے

جو گِلے زباں پہ آ نے تھے
آنکھوں میں سجا کے رو پڑے

اب کریں گے ہم نئی  سحر
شمعِ دل جلا کے رو پڑے

جب جہاں نے در بدر کیا
رب کے در پہ جاکے رو پڑے

صرف یہ کہا"وہی ہو تم"؟
آئینہ دکھا کے رو پڑے

ان کی واہ ... آہ بن گئی
ہم غزل سنا کے رو پڑے

زارا ان کے نام کی غزل
خود ہی گنگنا کے رو پڑے
*📚غزل :----19*
*✍🏻تحریر..... زارا فراز*

میرے دل کا راجہ چاند
سپنوں کا شہزادہ چاند

آدھی رات کو فون کرے
کچی نیند سے جاگا چاند

چھوٹی سی ایک بات ہوئی
جس پر روٹھا میرا چاند

جان نہ لے لے اک پل میں
روٹھا روٹھا میرا چاند

مانگی تھی تصویر   میری
میری نا پہ ،  بھڑکا چاند

میں سر تاپا اس کی ہوں
یہ قصہ نہ سمجھا چاند

کرپاوں نہ خودکو معاف
جس دن مجھ سے روٹھا چاند

یادوں کی دہلیز پہ میں 
صرف تم ہی کو سوچا چاند

کب آؤ گے خوابوں میں
بولو نا میرے شونا ،  چاند

تم کیوں اکھڑے اکھڑے ہو
تم تو میرے ہونا چاند

پہلی چھت پہ سایہ  سا
دوسری چھت پہ تڑپا چاند

کہہ دو بس اک بار مجھے
زارا ...میری ہونا. ....چاند.....!!
📚 *غزل :----20*
✍🏻 *تحریر...... زارافراز*

دل میں  الفت اگر نہیں  ہوتی
میرے من کی سحر نہیں ہوتی

چھپ گیا چاند ابر کی تہہ میں
روشنی اب ادھر نہیں ہوتی

ہاں بصارت کو چاہیے  میعار
ہر  کسی کی نظر نہیں ہوتی

میں  بھی راہیں بدل کے چل پڑتی
کوئی منزل اگر نہیں ہوتی

ان کے چہرے  کے سیر کرتی ہوں
جن کو میری خبر نہیں ہوتی

میری دنیا اندھیری ہو جاتی
ساتھ *بیٹی* اگر نہیں ہوتی

کچھ سبب تو بتا جدائی کا
دل کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی

پاس آجاؤ اب میرے جاناں
زندگی  یوں  بسر  نہیں ہوتی

دیکھ..  پھیلا مہیب سنناٹا!!!
گفتگو  رات بھر نہیں  ہوتی

کتنی شدت ہے میرے لفظوں میں
کیوں دعا بااثر نہیں ہوتی
*غزل :----21*
*تحرير :----- زارافراز*

مجھ کو سرشار سا کرتا  ہے اشارا تیرا
اے محبت مرے دل کو ہے سہارا تیرا

تو تو کہتا تھا کہ بچھڑو گے تو  مر جاؤں  گا
کیسے ہوتا ہے بنا میرے گزارا تیرا

مجھ کو لکھتا ہے سبھی خط میں محبت سے بہت
"تجھ  کو کرتا ہے بہت یاد یہ پیارا تیرا"
📚 *غزل:----   23*
✍🏻 *تحریر :---- زارافراز*

جب پانی پر  پھول کھلا تھا خوشبو سی مہکائی لال
جب  چندا سی صورت دیکھی،  یاد تمہاری آئی لال

جب سورج سے آنکھ ملائی،  آنکھ مری بھر آئی لال
آہ!  میں کیوں بھیگی پلکوں سے تجھ کو دیکھ نہ پائی لال

تجھ کو کھو کر میں نے پائی،  تنہائی  تنہائی لال
یادوں کی ویران گلی میں کیا بجتی شہنائی لال

خواب سے رشتہ ٹوٹ گیا جب،  ہے قسمت تنہائی  لال
جان گئی ہر جذبے تیرے،  تو بھی ہے  ہرجائی لال

چاند کا چہرہ  دیکھ  کے جب میں چھت سے نیچے آئی لال
دل بس تیری یاد میں گم ہے سب نے عید منائی لال

تین رتوں تک رستہ دیکھا پھر  کیوں  نہ تو آئی لال
دے کر  مجھ کو ہجر  کے دکھ یہ،  کیسی ریت نبھائی لال
*غزل :----- 24*
*تحرير:---  زارافراز*

اک روز محبت کی دہلیز سے  کھو جانا
تم میرے نہیں لیکن اس شخص کے ہو جانا

گر ہوگی مقدر میں مل جائےگی وہ اک دن
تم اپنی محبت سے مایوس نہ ہو جانا

ملنا تو بکھر جانا باہوں میں مری، جاناں!
تم میری محبت کی آغوش میں سو جانا

جانا ہے ؟چلے جانا یادیں بھی سبھی لے کر
اشکوں سے محبت کے ہر زخم بھی دھو جانا

یاد آئے گی جب تم کو ماضی کے  فسانوں کی
تنہائی میں  آنچل کو آنسو سے بھگو جانا

تعبیر نہ  لکھوں گی تقدیر کی  پلکوں پر
اے خواب مرے اب تم منہ ڈھانپ کے سو جانا

کیا  تلخ حقیقت تھی  اس شخص کی پلکوں پہ
محفل  کو ہنسا کر بھی  خود آپ ہی رو جانا

تم صبر کے پیکر ہو، تم ظرف کی مورت ہو
ہر درد زمانے  کا دامن میں سمو جانا

خالق کے بلاؤے پر جب  در پہ کھڑے ہونا
اشکوں سے ندامت کے دامن کو بھگو جانا
*غزل :----- 26*
*تحرير :--- زارافراز*

آج     انہیں   یاد    آنے     دو
یوں     من   کو   بہلانے   دو

من کے بھید بھلانے ہیں *جو*
پل     دو  پل    اترانے     دو

رو  لیں گے  مل  بیٹھ  کے  ہم
چاند!     مجھے   مسکانے  دو

زخم    زخم    سا   چہرہ  ہے
داغ  اپنا   ابھی    مٹانے   دو

چہرہ    چاند  کے   جیسا   ہے
آنکھوں   پہ   چھا   جانے  دو

روح   میں  شعلے بھڑکے  ہیں
تن   میں    آگ     لگانے    دو

مر  مر    کے   ہے    جینا   کیا
اک  بار مجھے مر  جانے    دو

زارا ان کی خوشی کی خاطر
درد     کا     نغمہ    گانے   دو
*غزل :---- 25*
*تحرير :---  زارافراز*

بزدلی   ہے  غموں  سے  ڈر    جانا
جو  بھی  سوچا   ہے آج  کر  جانا

مجھ کو خوشبو کی آرزو تو نہیں
بس  مری  سانس  میں  اتر  جانا

وادئی   عشق  میں  تو آکر  دیکھ
کتنا   مشکل  ہے    لوٹ   کر  جانا

ایک  پل   کو   مری  نگاہ   میں  آ
اور   پھر   بازوں  میں   بھر  جانا

تجھ  سے  ملنے  کی  آرزو  ہے مگر
غیر  ممکن   ہے  تیرے  گھر   جانا

یہ  ہنر  آپ   ہی   سے   سیکھا  ہے
آنکھ  سے  آنکھ   میں   اتر   جانا
📚 *غزل 27*
✍🏻 *زارا فراز*

ظلمت کی یہ دنیا ہے.... رنگین سمجھتا ہے
اے نفس مرے!  خود کو مسکین سمجھتا ہے؟

جو حق کی  گواہی دے  وہ شخص مسلماں ہے
پھر کوئی،  کسی کو کیوں بے دین سمجھتا ہے

وہ نام نہیں  لے گا محفل میں  ستمگر کا
یہ بات محبت کی توہین سمجھتا ہے

خوشیوں کے فسانے تو پڑھتے ہیں جہاں میں سب
اشکوں کی کہانی بس غمگین سمجھتا ہے

میں اپنے گلستاں  کی سہمی ہوئی  چڑیا ہوں
اور سارا جہاں مجھ کو شاہین سمجھتا ہے

ہر وقت دعائیں  وہ کرتا ہے مری خاطر
وہ جنبشِ لب میری آمین سمجھتا ہے
*نظم :-----   94*
*تحرير :-----  زارافراز*

ہمراز    مرے   جا    اس   کو    بتا
پیغام     مرا   اس   کو    بھی سنا

جس دن سے جدا وہ مجھ سے ہوا
میں  روتی رہی کچھ  بھی نہ  کہا

جو خط بھی لکھے اس نے مجھ کو
سب مجھ کو ملے سب میں نے  پڑھے
جو اس نے  کہا  سب میں  نے   سنا

تحفے  جو  مجھے  بھیجے  اس  نے
سب  میں  نے  لئے چاہت   سے  بڑی

ہم  راز  مرے    جا     اس   کو    بتا
جو اس  نے  کہا   سب میں   نے سنا
*غزل......29*
*زارافراز*

تم میری محبت کا اتنا تو صلہ دینا
آنکھوں میں  امیدوں کے  کچھ  دیپ جلا دینا

تم کرنا شبِ ہجراں اتنا سا کرم ہم پہ
ہم  تم کو پکاریں جب تم ہم کو صدا دینا

دھڑکن  کہ صدائیں جب بے چین تمہیں کر دیں
تم میری غزل پڑھ کر وحشت کو مٹا دینا

مل جائے زرا  فرصت گر اپنے مشاغل سے
پھر بزم میں  تم آنا،  کچھ شعر سنا دینا

جب تم کو لگے ایسا تنہائی ستاتی ہے
تم خط کو مرے پڑھنا،  ہر غم کو بھلا دینا

کیا آپ  بھلا دیں گے اس پل کی کہانی کو
نظروں کے تصادم پر پلکوں کا گرا دینا.....

فطرت میں ہے  *زارا* کی اک پل میں محبت کے
اشکوں کا بہا لینا، شکوؤں کا مٹا دینا
*غزل 30*
*زارا فراز*

جہاں دنیا مخالف ہو وہاں تسلیم کرتی ہوں
مجھے اس سے محبت ہے  "جی ہاں" تسلیم کرتی ہوں

وہی  ہے آشیاں میرا وہی میرا بسیرا ہے
میں اک لڑکے کی آنکھوں کو جہاں تسلیم کرتی ہوں

کوئی مجھ کو محبت میں بھلے جتنی اذیت دے
لبوں سے  نکلی آہوں کو کہاں تسلیم کرتی ہوں

وہ بانہیں میری جنت ہیں ، وہ  سانسیں ہیں  مرا گہنا 
تری قربت کی خوشبو کو جواں تسلیم کرتی ہوں

مری سانسوں کی ڈوری سے بندھا ہے نام بس اس کا
اسے اک پل  بھلا دینا،  زیاں تسلیم کرتی ہوں

وہ مجھ سے جب بھی ملتا  ہے، مجھے تکتا  ہی رہتا ہے.
میں اس کی بولتی  آنکھوں کو جاں تسلیم کرتی ہوں

میں جن لمحوں میں جیتی تھی، وہ لمحے مجھ میں ٹھہرے ہیں
میں ان لمحوں کو یادوں کا نشاں تسلیم کرتی ہوں

No comments:

Post a Comment