Monday, May 8, 2017

Zara Faraz

*کتاب دل سے*

*جب تک اس کے رگوں میں زندگی  کی لہر دوڑتی رہے گی...   وہ انگشت نمائی کر سکتا ہے*

*جس کی انگلیاں کاٹی جا  چکی ہیں وہ اپنے لہو سے زندگی کی  کہانی لکھنے کا حوصلہ  رکھے*

*جس نے اپنے سینے میں پیار کا بیج بویا ہے..  پیڑ اگنے کے  بعد ہر گز اسے اکھاڑنے کی کوشش نہ کریں.  یہ سوچ  کر کہ   شاید کسی کو سایہ میسر ہو جائے*
*41 عنوان.... کٹی ہوئی انگلیاں*
*تحریر...... زارا فراز*

کمرے کے بائیں جانب کھلنے والی کھڑکی  سے چاند  جھانک   کر اندر کی ویرانی کو حیرت سے دیکھتا  پھر بادلوں کے اوٹ میں چھپ جاتا اور پھر  کچھ لمحوں کے بعد  دوبارہ جھانکنے لگتا....... اس کی ٹھنڈی روشنی اسے  بار بار  چھو رہی تھی مگر اسے اس بات کا احساس  کب تھا............ ؟ 
اس نے جانے کیوں اپنے جینے کے انداز ہی بدل ڈالے  تھے.....  خود کلامی چھوڑ دی.... شعر کہنا بھی چھوڑ دیا...  سب سے حیران کن  بات تو یہ تھی کہ اس نے ڈائری لکھنا بھی چھوڑ دیا تھا .......  میں سمجھتی تھی.......... یہ لڑکی جینے کے چاہے جتنے طرز بدلے،  لیکن لکھنا نہیں  چھوڑے گی...  مگر میں پہلی  بار حیران تب ہوئی  جب وہ  رات کے  آخری پہر میں،  خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹے ہوئے، سست روی سے  چلتے ہوئے.............. کمرے میں  داخل ہوئی تھی .........اس وقت اس کے چہرے پر بڑی اذیت کے آثار نظر آرہے تھے۔
میں دوڑ کر اس کی جانب لپکی اور اسے تھام لیا.  وہ نڈھال سی بستر پر ڈھے گئی..... اس کی نگاہیں چھت کی دیوار پر ایک لا امتناہی نقطے کو مسلسل تلاش کر رہی تھیں........... اس کا ذہن کہیں خیالوں میں  الجھا ہوا تھا...... . میں ہوا کے مثل........ اس کے بکھرے  بالوں کو......... سہلاتی رہی...  میں دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پر کرب کے آثار بڑھتے ہی جا رہے ہیں .
رات یوں ہی آنکھوں میں کٹ گئی.  سحر نو نے  ہمیں آلیا......... پھر وہ شکستہ حال سی چلتی ہوئی کمرے سے نکل گئی  ہمارا ساتھ صرف کمرے کے دروازے تک تھا اور پھر میں  پلٹ کر اس کمرے میں  محدود ہو گئی................. مجھے شور و غل،   ہنگامے اور  اژدہام سے سخت نفرت ہے. سو اپنے لئے اس کمرے کو منتخب کیا تھا تھا ..  وہ بھی بالکل میری جیسی تھی ،  خاموش خاموش سی، محفلوں سے بھاگنے والی.............. اپنی ذات تک محدود رہنے والی............. میں سوچتی ہوں  وہ ایسی کیوں ہے........... ؟  اس نے دنیا والوں سے کنارہ  کشی کی بھی تو کیوں......... ؟  اس نے شعر کہنا کیوں چھوڑ دیا............؟ ڈائری اب کیوں  نہیں  لکھتی............ ؟ 
میں نے ٹھان لیا تھا کہ سچ جان کر رہوں گی.. ..   پھر جب وہ کمرے میں بڑی سی سفید  چادر میں خود کو  سمیٹے ہوئے آئی.......... تو جانے کیوں  مجھے لگا کہ اس نے خود ہی اپنے آپ کو اس چادر میں  کفن پوشی کر لی ہے........... میں نے سوچا  پوچھ کر رہوں گی اس نے شاعری کیوں چھوڑی............. ؟  ڈائری لکھنا کیوں چھوڑ دیا.............؟
وہ نڈھال سی تھی.  ایسا لگتا تھا کہ میں ایک لفظ بھی کہوں تو وہ اپنا ضبط کھو دے گی.... وہ ٹوٹ جائے  گی................. وہ میری گود میں سر رکھے گی اور پھر مر جائے  گی............. مگر وہ میرے سوال  کا جواب  دے نہ پائے گی......  کیا وہ سچ مچ مر جائے  گی.......... ؟
میں نے بہت قریب سے اس کے چہرے کو دیکھا  اذیت کے آثار صاف واضح تھے...  وہ اندر  سے ٹوٹ رہی ہے.......... ؟ اسے کوئی ہمدرد چاہیے، ہم راز چاہئے........ جس سے وہ دل کی بات کہہ سکے......... لیکن وہ کسے   ہم راز بنائے؟
ہاں...... وہ ڈائری تو لکھ سکتی ہے شاعری تو کر سکتی ہے........... ؟  مگر اس نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا........... ؟  شاید اس نے سوچ لیا ہے،  وہ اپنی زندگی  کی کہانی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دے گی..  شاید اپنی ہر کہانی اپنی ذات کی قبر میں دفن کر لینا چاہتی ہے ......  نہیں.... نہیں پھر تو وہ زندہ تابوت  بن جائے  گی............... چلتی پھرتی  لاش............. اپنے جسم کی میت کو خود اپنے کاندھے پر اٹھا  کر چلے گی.......... وہ اتنا حوصلہ کہاں سے لائے گی..........؟ وہ  ایک دن سچ مچ مر جائے  گی......... . 
اور تب میں؟  مجھے اس کمرے سے کوچ کرنا ہوگا...   یہاں دوسری ذی روحوں کا قیام ہوگا،  ہنگامہ خیز محفلیں ہوں گی.... میں ایک بار پھر دربدر ہو جاؤں گی................
دروازے پر آہٹ ہوئی تھی اس روز وہ    زرا جلدی لوٹی تھی میں نے اسے تھام لیا....   اس کے  چہرے پر پہلے سے بھی  زیادہ تھکن کے آثار تھے.  دکھ تھا بد حواسی تھی............  وہ خوف زدہ تھی......... ؟  مگر کیوں......... ؟ کیا پھر زمانے کے تھپیڑوں سے وہ ٹکرا کر آئی تھی......؟ پھر اس کے زخموں میں اضافہ ہوا  تھا.....؟
میں نے سوچ لیا تھا کہ  آج پوچھوں گی کہ  سچ کیا ہے.............. ؟   اس کی زندگی کی سچائی  جان کر رہوں گی............ وہ میرے حصار میں  تھی اس کا تھکن زدہ  وجود رفتہ رفتہ نیند کے آغوش میں ڈوب رہا تھا.... وہ سو گئی تھی
سوال  میرے اندر ہی دب کر رہ گیا....................
چاند نے  رات کا سفر طے  کر لیا تھا ..  آخری ستارہ بھی ڈوب گیا...........
مشرق کی جانب اجالے کا رنگ پھیل رہا تھا میں نے کھڑکی سے باہر سڑک پر  ٹھہرے سناٹے کو دیکھا پھر سہم کر اندر  کی طرف مڑ گئی چڑیوں کی  ایک جھنڈ ابھی ابھی کھڑکی کے بالکل پاس  سے گزری تھی.............. لوگ بیدار ہو رہے تھے.................. خاموشی کا راج ختم ہو گیا تھا شور و غل شروع.......... میں نے اس کی جانب دیکھا وہ آنکھیں موندے بے سدھ پڑی تھی.......  میں سوچنے لگی اسے میری موجودگی  کا احساس تو ہوگا........؟ کیا وہ مجھے پہچانتی ہوگی؟  نہیں  وہ مجھے پہچانتی بھی نہیں ہوگی............ وہ مجھے......!!!
میں اپنی سوچوں کے  ساتھ تکرار کر رہی تھی...... جب اس نے آنکھیں کھول کر  مجھے دیکھا.  اس کی آنکھوں میں  شناسائی کی جھلک واضح تھی وہ مجھے پہچانتی ہے............ وہ مجھے جانتی ہے.......... میرے اندر  خوشی کی لہر دوڑ گئی........
میں نے بہت ہمت جٹا کر  اس کی پیشانی پر بکھرے  بالوں کو  سنوارے........... سوال  میرے لبوں پر  کانپ رہا تھا
"تم نے ڈائری  لکھنا کیوں چھوڑ دیا............. ؟   شاعری کیوں چھوڑ دی........... ؟ " اسی لمحے اس نے ایسی نظروں سے مجھے دیکھا کہ لگا اس کی سرخ آنکھوں کے شرارے سے ایک ہی پل میں میرا وجود ختم ہو جائے گا
کمرے سے باہر  کہیں برتن گرنے کی آواز  آئی  میں سہم کر سمٹ گئی
" میری درد بھری  کہانی لکھو گی....... ؟  "  وہ چپ تھی
"  اقرار کرو یا انکار کر دو کچھ تو بولو........ تم چپ کیوں ہو؟ "
" انکار.........؟ " یک لخت وہ چیخ اٹھی جیسے اس نے میری آواز سن لی ہو..  
" میں انکار کروں......... ؟  میری کیا بساط کہ  انکار کروں....  کبھی انکار کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک ہوا ہے.......؟ کس نے دیکھے ہیں میرے زخم......جو میں اپنے ساتھ لئے پھرتی ہوں...........؟ میں نے انکار کیا تھا ان باتوں کا،  ان رسموں کا....... جن کو میرا دل تسلیم نہیں  کرتا تھا...  میرا جرم یہ ہے کہ میں نے قلم کو دوست بنایا.......  میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے مہیب لمحات کو ڈائری کے سپرد کرنا چاہا تھا..........  میں نے کائنات کے  درد کو اپنی شاعری کے پیراہن میں ڈھالنے  کا جرم کیا تھا..........جس کی مجھے سزا دی گئی  ہے............ "
میں دکھ و حیرت  سے اسے تکتی جا رہی تھی
اچانک اس نے  چادر کے نیچے سے اپنے دونوں  ہاتھ باہر نکالے....  جسے دیکھ کر خوف سے میری آنکھیں پھیل گئیں......
اس کے دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیاں  کٹی ہوئی  تھیں...............
اس خود کلامی کے  ٹھیک تین روز بعد وہ یہ کمرا چھوڑ چکی تھی.  اس کے ہجرت کرتے ہی  اس عارضی ٹھکانے میں میرا وجود  پھیلتا گیا......!!!!
*"ادبی تعارف ، بزم یاران اردو ادب "*

1.(ا)  آپ کا نام اور قلمی نام ؟ 
:  زینبؔ اور قلمی نام زاراؔ فراز ہے

(ب). آپ نے یہ نام کیوں رکھا ؟
ابو امی نے تو میرا نام نبیؑ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئےآپؑ کہ بڑی بیٹی کے نام پر میرا نام رکھا جو مجھے بے حد پسند ہے۔   خاص کر جب کوئی پورے تلفظ کے ساتھ نام ادا کر کے  مجھے پکارتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے میرے نام کے تمام حروف کی چاشنی پکارنے والے کی آواز میں گھل گئی ہو۔۔۔۔  مگر اس انداز میں مجھے بہت کم پکارا جاتا ہے😊
زارا میرا قلمی نام ہے   ایک غیر مسلم دوست کی زبان پر میرا نام نہیں آتا تھا۔  اس طرح میرے نام کے کئی ٹکڑے ہو جاتے۔۔  اسے زارا نام پسند تھا زارا کہنا شروع کردیا۔۔ اس کے سوا مجھے زارا کسی نے بھی نہیں کہا تھا۔۔  
پھر جب لکھنے کی خواہش جاگی۔  اس فلڈ میں اترنے سے پہلے مجھے فرضی نام کے سانچے میں اترنا تھا۔۔۔نام زارا فراز رکھ لیا تاکہ گھر والوں کو خبر نہ ہو۔ کیوں کہ گھر کا ماحول پڑا پابند اور سخت ہے۔  دینی کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں کی اجازت کل بھی نہیں تھی اب بھی نہیں ہے۔  اور مجھ سے قبل میرے خاندان میں کسی نے قلم نہیں اٹھایا تھا۔۔  میں پہلی ہوں۔  قلم اٹھا کر سب کے سامنے مخالفت کا سامنابھی کرنا پڑا۔  پھر بھی لکھنا نہیں چھوڑا خالہ ذاد بھائی میری تحریر چپکے سے پوسٹ کر دیا کرتا۔۔  وہ میرے قریب تر تھا۔  پھر ایک روز اچانک وہ مجھے داغ مفارقت دے گیا اس کے بعد میں نے اپنی بہت ساری تخلیق اور آرٹس جلا دئے۔۔۔۔ پھر تھوڑے وقت کے بعد میں نے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔  تقریباً ۴ سال لکھا ہی نہیں۔   اس درمیان میں، تخلیق کے مراحل سے گزری دو بچیاں ہوئیں اور انتقال کر گئیں۔  میں ڈائری لکھنے تک محدود رہ گئی ۔۔  پھر فس بک پر ادبی ماحول ملا تو قلم اٹھا لیا۔۔ احمد فراز کی شاعری اور نام دونوں پسند تھے سو انہیں کا نام  ساتھ رکھ لیا۔

2. کب سے لکھنا شروع کیا ؟
:  شادی کے بعد 2006سے 18سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا

3. (ا) کون سی تحریریں لکھتے ہیں ؟
: نظمیں۔۔  افسانے۔۔  ڈائری

(ب) پسندیدہ صنف ؟
شاعری زیادہ پسند ہے مجھے۔۔

4. آپ کی سب سے پہلی تحریر کیا تھی ؟
: ایک خط

5 .آپ کی سب سے پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئ ؟
: میری پہلی تحریر  "ماہنامہ ھلال "رام پور 2007میں شائع ہوئی ۔  جو خط کی صورت میں تھی (یہ وہ خط نہیں ہے جس کا اوپر ذکر ہے) میری پہلی تحریر  پر مجھے انعام سے نوازا گیا۔ پھر سارے گھر پہ زارا فراز کا روز کھل گیا۔۔  مجھے حوصلہ ملا۔۔۔  یہ الگ بات کے باقی لوگوں کا منہ بن رہا تھا😉

6. آپ کی کوئی کتاب ؟
: کوئی نہیں جی۔۔۔۔  اور نہ ارادہ ہے

7 .آپ کی اپنی سب سے پسندیدہ تحریر کون سی ہے ؟
: میں خط اچھا لکھتی ہوں
مجھے میری وہ نظمیں زیادہ پسند ہیں جو قارئین کو زیادہ پسند آئیں۔  لیکن میری 600نظموں سے صرف 50 نظمیں ہی منظر عام پر آئیں ہیں۔۔  باقی تمام نظمیں وسیم احمد فدا بھائی کے سوا کسی نے بھی نہیں پڑھی ہیں۔۔۔۔

8. لکھنے کے لئے کون سا وقت ، کون سی جگہ  پسند ہے ، اور کیوں ؟
:  (بڑا مزےدار سوال)۔۔۔  آدھی رات کا وقت، گہری  خاموشی،  وحشت ذدہ ماحول،  کرب ذات کا موسم، ۔۔۔۔۔  اس وقت انتشار کے باوجود بھی ذیہن یکسو رہتا ہے۔ اپنے بیڈ پر بیٹھ کرآرام سے لکھتی ہوں۔۔ 

9. (ا)  آپ جو لکھتے ہیں کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟ 
:اطمنان کی خاطر لکھتی ہوں لکھ کراور  غیر مطمئن ہو جاتی ہوں۔۔  (جب تک فدا بھائی اوکے  نہ کر دیں۔   بیچینی سی رہتی ہے)

(ب) کون سی تحریر لکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک لکھ نہیں پائے ؟
:  سرگشت۔۔۔۔۔ جو کبھی لکھوں گی بھی نہیں😊

10.لکھنے کے لئے کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں ؟ کاغذ قلم ، موبائل یا کوئی اور ذریعہ اور کیوں ؟
:   قلم اور ڈائری۔۔۔۔۔  بہت کم موبائل۔۔۔

11. آپ ماحول  بنا کر سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یا شاعری کی طرح خیال کی آمد ہو تو ____؟
:  شاعری کا دن رات نزول ہوتا رہتا ہے۔  افسانہ لکھنے کے لئے ماحول بنانا اور ذیہن کو یکسو کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔  ورنہ کچھ نہیں لکھ پاتی اور اگر لکھ لیا تو بالکل اطمنان نہیں ہوتا۔ 

12. آپ کے خیال میں برقی کتب عام  کتاب کی جگہ لے سکتی ہیں ؟
: بالکل نہیں۔۔۔  کتاب تو زمین پر آسمانی شئے ہے۔۔۔

13.اردو ادب کے مستقبل سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں ؟
: آپ مجھے سے مطمئن ہیں؟

14. ( ا) کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہیں کہ سب کو پڑھنی چاہیئے ؟
: یہ بھی کوئی پوچھنےوالی بات ہے بھائی .؟۔۔۔ میں مسلمان ہوں ہمارے لئے قرآن  اتارا گیا ہے۔۔ میں سب سے کہوں گی قرآن روز بلا ناغہ پڑھیں۔۔  آپ سے بھی کہتی ہوں۔۔۔۔

(ب).نئے لکھنے والوں کے لئے کچھ کہنا چاہیں ؟
: اس سوال کا جواب اگلی دہائی  میں دے سکوں گی۔۔  انتظار کریں.....

15. (ا ) موجودہ دور میں جو ادب لکھا جا رہا ہے اس سے کس حد تک  مطمئن ہیں ؟ 
: پڑھ کر میرے سر میں درد ہوتا ہے😃😃😃😉

( ب) . ااپنے ادبی سفر کے لئے چند جملے۔ 
: آج لکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔  کل تک اپنے ہونے کا بالکل یقین نہیں ہے۔۔۔۔۔ 

آپ کے تمام سوالات بہت دلچسپ لگے۔۔۔  اس لئے دل سے جواب بھی دیا۔۔  شکریہ۔۔۔۔۔۔
*40 عنوان....... راہب*
*تحریر.... زارا فراز*

وہ ایک بار  پھر شہر ذات کی فصیلوں کے اندر  قید ہو کر رہ گیا تھا..........  برسوں پہلے وہ بھی ایک مخصوص دستک کا منتظر تھا....  اگر کسی نے   دستک  دی بھی تو  لَے غیر مانوس ہوتی...... 
دستک ہوتی رہی......  ہوتی رہی مگر اس کی سماعتیں ہر دستک سے بے نیاز تھیں.............. 
پھر ایک روز......   اس کے شہر ذات کے باب صد پرایک ایسی  دستک ہوئی......  دل نے شور مچایا....... اس نے جھانک کر  باہر  دیکھا
"میں محبت ہوں.....  میرے لئے  یہ بند قفل کھول دو......."
"یہاں تمہارے لئے کوئی  گنجائش نہیں  نکلتی... چلی جاؤ یہاں سے........ "
"اے اچھے انسان....!!! اگر تم نے مجھے  پناہ نہ دی تو میرا وجود ختم ہو جائے  گا" اس نے کچھ پل کو سوچا اور پھر اسے اندر آنے کی اجازت دے دی.... وہ دھیمی دھیمی رفتار سے چلتی ہوئی  اندر آئی تھی.......  اس کی ذات کی اونچی فصیل کے اندر یہ پہلی آہٹ تھی جو اسے سنائی دے رہی تھی....... وہ اس کے سامنے چلتے پھرتے مجسمے کی طرح تھی.....  اس کے  تن میں ایک خوشبو بھی تھی جو اسے اپنی جانب کھینچتی تھی.، لیکن وہ مسلسل اس کے وجود کو نظر انداز کرتا رہا.... مگر کب تک؟  آخر کار اس کی طبیعت اس کی  ذات سے مانوس ہونے لگی........  ایک دن اس کی سانسیں،  اِس کی سانسوں میں  محلول ہونے لگیں....  ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے......... اس کا وجود مہک اٹھا ......  جذبات جاگ گئے....  آنکھیں روشن تھیں......  جن میں نرمی در آئیں تھیں......  آج اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ بھی ایک عام  سا انسان ہے.......... اس کے سینے میں  بھی دل ہے......  اس کے اندر بھی جذبات ہیں..... اسے بھی برسوں محبت کی تلاش تھی جو آج اسے میسر ہے.....  
سانسیں ایک دوسرے کی سانسوں میں  بس رہیں تھیں..   وہ کوئی اورجہاں میں پہنچ گیا تھا،  یک لخت اس کے بازو ڈھلے پڑ گئے.....
"زمانہ کیا کہے گا.......؟ "
" لوگ مجھے طعنہ دیں گے....  خود کو بہت خاص سمجھنے والا.....   تو بھی تو ایک عام سا انسان نکلا........ تو بھی مہکتی سانسوں کا اسیر ہے.؟ "
" معاف کرنا....  اگر انا کا مسئلہ نہیں  ہوتا تو تمہارے وجود کو کبھی اپنے  شہر ذات سے باہر نہیں  کرتا......... "
وہ ایک بار پھر  شہر ذات کی اونچی فصیلوں کے  اندر قید ہو کر رہ گیا تھا  اس کے سارے جذبات فصیلوں میں  چن دئے گئے......  پھر اس نے رہبانیت اختیار کر  لی......
محبت  دروازے پر کھڑی دیر تک دستک دیتی رہی........
اس کی آنکھیں  اشکبار تھیں
"  کاش تم نے مجھے  اپنایا ہوتا.....  میں جس کی روح میں سرعت کر جاتی ہوں....   اسے مکمل کر دیتی ہوں.....  تم ادھورے ہو.....  اور سدا ادھورے رہو گے.......... "  یہ ٹھوس سچائی تھی
*42بچوں کی کہانی*
*عنوان:  تتلی*
*تحریر:  زارا فراز*
*جمشیدپور*

سات سالہ  سعدیہ کو پھول اور تتلیاں بہت پسند تھے۔  وہ ہر روز مکتب سے لوٹنے کے بعد اپنی چھوٹی سی کرسی پہ چڑھ کر بالکنی کے احاطے سے لگی ہوئی اپنے گھر کے خوبصورت سے لان کا نظارہ کرتی رہتی جہاں رنگ برنگے خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے۔  جس پر ہر وقت ننھی ننھی پیاری تتلیاں منڈلاتی رہتں۔  وہ انہیں محبت سے دیکھا کرتی اس کا دل چاہتا کہ ان معصوم تتلیوں کو پکڑ کر اپنے پینسل باکس میں چھپا لیں۔   لیکن وہ ان پھرتیلی تتلیوں کو کبھی پکڑ نہیں پاتی۔  اس نے اپنے ابو سے بھی التجا کیا 
"ابو مجھے تتلی پکڑ کر دیں میں اس سے کھیلوں گی"
"تتلی…؟ " ابو مسکرائے 
"جی ابو!    وہ والی… آسمانی رنگ کی تتلی جو گلاب کے پھول پر بیٹھی ہوئی ہے" سعدیہ نے ایک خوبصورت  سی تتلی کی طرف انگلی سے اشارہ کیا
"نہیں بیٹا یہ تتلیاں بہت معصوم اور نازک ہوتی ہیں  زرا سی چوٹ پر وہ زخمی ہو جاتی ہیں۔ تم اگر اس کے پروں کو زور سے چھو لو گی تو تتلی پھر کبھی نہیں اڑ سکے گی۔۔  وہ فضا  میں آزاد گھومنے اور پھولوں پر بیٹھ کر اپنی بھوک مٹانے کے لئے پیدا ہوئیں ہیں۔  انہیں پکڑ کر قید کرنے والوں سے ﷲ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں"
وہ ابو کی بات کچھ کچھ سمجھ رہی تھی مگر اس کا دل خوبصورت  تتلیوں کے درمیان ہی الجھا ہوا تھا۔ 
امی نے کھانے کے لئے آواز لگائی تو وہ بالکنی کے دروازے سے اندر چلی گئی جہاں سب لوگ کھانے پر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اس نے ہاتھ دھو کر کھانا کھایا اور کمرے جا کر سو گئی۔   کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہوگئی۔  تیز بارش کی آواز سے سعدیہ کی آنکھ کھل گئی وہ ادھوری نیند سے بیدار ہو کر بارش کا نظارہ کرنے لگی تب ہی ایک نیلے رنگ کی تتلی پھرتی  سے اس کے کمرے میں داخل ہوگئی اور کمرے کا چکر کاٹنے لگی۔  سعدیہ اس کے پیچھے نظر دوڑا رہی تھی۔  پھر وہ اسے پکڑنے اس کے لئے پیچھے دوڑی مگر پکڑ نہ سکی۔  کچھ دیر بعد تتلی سامنے دیوار پر بیٹھ گئی تب سعدیہ نے بہت ہوشیاری سے اسے پکڑ لیا۔  اب وہ بہت خوش تھی۔  اور خوشی میں ابو کی صبح  والی بات بھی بھول چکی تھی۔  اس نے تتلی کو اپنی ہتھیلی میں رکھ لیا۔  تتلی اس کی ہتھیلی پہ چپ چاپ بیٹھی رہی، اڑی نہیں،  وہ خوش ہو گئی کہ تتلی اس کی دوست بن گئی ہے۔  تب ہی اس کی نظر تتلی کی پروں پر پڑی۔  جس جگہ سےاس نے تتلی کے پروں کو پکڑا تھا وہاں کے سارے رنگ غائب ہو چکے تھے۔  اس نے اپنی انگلیاں دیکھی تو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی میں تتلی کے پروں کا چمکتا ہوا  نیلا رنگ لگا ہوا تھا۔۔  اسی وقت اس کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔  اس کے ہاتھ میں تتلی کو دیکھ کر خفا ہو گئیں
"یہ تم نے معصوم تتلی کو کیوں پکڑ لیا سعدیہ۔  دیکھو اس کے پروں کے رنگ اڑچکے ہیں اب یہ اڑ نہیں سکتی ۔ اور یہ اپنی تکلیف ہم سے کہہ بھی نہیں سکتی۔ یہ تم نے بے زبان تتلی پر ظلم کیا ہے دیکھو بیٹا بے زبان چرند پرند اور جانوروں کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہئے یہ ﷲ تعالی سے ہماری شکایت لگا دیں گے۔  "
سعدیہ کی آنکھیں بھر آئیں۔  اس نے امی سے وعدہ کیا کہ ائندہ وہ بے زبان تتلی کو نہیں پکڑے گی۔  اس نے تتلی کو لے جا کر لان میں پھولوں کے درمیان رکھ دیا۔   ایک آسمانی تتلی جو اسے بیحد پسند تھی،  اس کے سر پر منڈلانے لگی۔۔  امی نے دور سے آواز دے کر کہا 
"سعدیہ تتلی کو نہیں پکڑنا"
"جی امی" وہ سعادت مندی سے کہتے ہوئے لان سے نکل کر بر آمدے میں آگئی اور امی کے گلے لگ گئی۔  
ختم شد
*43 پہلا داؤ*
*تحریر....... زارا فراز جمشید پور، انڈیا*

وہ منصف کے کمرے میں بے حجاب کھڑی تھی۔ ہمیشہ حیا کے آنچل میں چہرہ چھپا کر رکھنے والی، چبھتی ہوئی ہزاروں نگاہوں کے حصار میں تھی۔ اسے لگا وہ ریت کا پتلا ہے جس کے چہرے اور جسم کو وقت کے طوفان نے مسمار کر دیا تھا۔ گزرے وقت کے دفتر اس کے سامنے کھولے جانے لگے، سارامنظر آنکھوں میں گھومنے لگا۔ گھر سے کالج کے راستے میں کئ سنسان گلیاں تھیں۔ ان ہی گلیوں میں دو نگاہیں اس کا پیچھا کرتیں۔ وہ کون ہے اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔  پھر اس کے پیچھے قدموں کی چاپ بھی سنائ دینے لگی۔ مگر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔  بعض دفعہ چاپ اتنی قریب ہوتی کہ اسے لگتا اگر اس سے قدموں سے لپٹی تو وہ بھسم ہو جائے گی۔۔ مگر پھر وہ چاپ دور ہوجاتی۔ کسی طرح وہ وحشت کے راستے کاٹ کر منزل تک پہنچ ہی جاتی۔ ہمیشہ کی طرح اس کی ذات کے تحفظ کے لئے دروازہ اور دیواریں اپنی جگہ ایستادہ تھے۔۔۔۔ مگر تب کھڑکی کی چوکھٹ اپنی جگہ سے ہلنے لگی۔۔ طوفان نے اندر آنے کا راستہ دھونڈ لیا تھا۔ وہ اپنی مخصوص چاپ کے ساتھ اس کے قریب آ گیا۔ اس کی زندگی تار تار ہونے والی تھی۔ وہ تحفظ کے لئے چاروں سمت بھاگی۔۔ مگر ہر طرف دیواریں تھیں۔ اور پُشت پر کھڑا طوفان اس کا تماشہ دیکھ رہاتھا۔ اچانک اس کی نظر بیڈ کے سائیڈ پر رکھے بھاری گلدان پر پڑی، عزت کی امان کے لئے طاقت آجاتی ہے۔ اس نے گلدان اٹھایا اور پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا۔۔ پہلے داؤ پر ہی وہ ساکت ہو کر زمین پر گر پڑا تھا۔ اس کا خون فرش کو رنگین کرنے لگا۔ اس کے منہ سے فلک شگاف چیخ نکلی۔ "آپ ٹھیک تو ہیں میڈم" وہ ساکت وجامد نگاہوں سے اپنے وکیل کو دیکھتی گئ۔ اسے اپنی دفاع کے لئے وقت دیا گیا تھا۔۔ جو ایک طویل خاموشی کے بعد ایک چیخ پر ختم ہو گیا۔ آج فیصلے کا دن تھا۔ وہ بےحس و حرکت کھڑی منصف کے ہلتے ہوئے لب دیکھ رہی تھی۔ فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔ مگراس کی سماعت سائیں سائیں کرنے لگیں۔۔ ۔۔۔۔
*44 بچوں کی کہانی*
*عنوان:  وہ راستہ کوئی اور تھا*
*تحریر زارا فراز*
*آزادنگر، جمشیدپور، انڈیا*

؎قلم کی اہمیت کے خود کو جو قابل بناتے ہیں
وہی بچے کسی دن اپنا مستقبل بناتے ہیں

اس نے پہلے روز ہی شہر کے ہاسٹل میں داخلے سے انکار کر دیا تھا۔  مگر والدین اور بڑے بھائی کے آگے اس کی ایک نہ چلی۔  امّی ابّا کی خواہش تھی کہ ان کے دونوں بچے خوب پڑھیں مگر معاشی حالت  خراب ہونے کی وجہ کر ان کی خواہش کی تکمیل نہیں ہو پائی تھی۔  زیادؔ ان کا بڑا بیٹا چند جماعتیں پڑھ کر،  تعلیم کو خیرباد کہہ چکا تھا اور اپنی زندگی کے معصوم دور نئے جدوجہد اور آلام روزگار کے لئے وقفے کر چکا تھا۔ 
وہ ذہین تو تھا ہی اسے پڑھنے لکھنے کا شوق بہت تھا لیکن گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔  سو اس نے اپنی محنت اور  ذہانت کا استعمال اپنے فن میں آزمایا۔  اور پھر کامیاب ہوتا گیا۔  اب اس کے گھر کے حالات قدرے بہتر تھے۔  وہ اب اس قابل تھا کہ اپنے چھوٹے بھائی کو اچھی تعلیم دلوا کر اپنی دیرینہ خواہش اور والدین کی تمناؤں کی تکمیل کو پاتا۔ 
لیکن چھوٹے بھائی فرہاد کو پڑھائی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔  صرف  کھیل کود میں لگا رہتا۔  بس گھر والوں کے ڈر سے گاؤں کے پرائمری اسکول میں پڑھنے جایا کرتا۔   پڑھائی میں اس کا دل زرہ  برابر بھی نہیں لگتا تھا۔   جیسے تیسے  اس نے مڈل پاس کر لیا۔  مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسے شہر جانا تھا۔  کیوں کہ گاؤں میں ہائی اسکول نہ تھا  وہ گاؤں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا،  گاؤں کے چھوٹتے ہی اس کی ساری مستیاں ختم ہو جاتیں۔  اسے شہر میں گھومنے کا بہت شوق تھا،  مگر ہاسٹل میں رہنے کو وہ بالکل تیار نہ تھا۔! 
امّی ابّا اور بڑے  بھائی اسے مسلسل سمجھا رہے ۔  تعلیم کی اہمیت اور طالب علم کی افضلیت بتاتے رہے۔  لیکن وہ مان کر ہی نہیں دے رہا تھا۔  تب ابّا بے اختیار رو پڑے اور روتے ہوئے کہا۔ 
"بیٹا!  آج تو تعلیم کی اہمیت کو نہیں  سمجھ رہا ہے تو مجھ سے پوچھ مجھے تعلیم کا کتنا شوق تھا،  مگر ہمارے ابّا نے ہمیں پڑھنے ہی نہ دیا۔ اپنے بھائی سے پوچھ جب وہ اپنے ہم عمروں کو پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل پر کیا  گزرتی ہے۔…  علم حاصل کرنا تو انبیاء کی سنّت رہی ہے۔  اور جو طالب علم،  علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے،  وہ گھر واپس لوٹنے تک ﷲ تعالیٰ کی امان میں ہوتا ہے۔  علم سے اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے،  حلال وحرام کی پہچان ہوتی ہے…… بیٹا!  میری بات مان لے بعد میں بہت پچھتائے گا۔  اور تب وقت گزر جائے گا۔  تو ابھی تعلیم کی عظمت کو نہیں سمجھ رہا۔  بڑے ہو کر تجھے عقل آئے گی تب تو علم کی قدر کرے گا۔  پھر تو جان لے گا ایک طالب علم مستقبل کا عظیم انسان ہوتا ہے… آج تو علم حاصل کر لےگا تو دنیا  تیرے قدموں پر ہو گی۔  اور اگر تو جاہلوں کی طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے تو،  تو دنیا کے قدموں میں گر جائے گا۔  تجھے مذہب،  دین اسلام کی کوئی سمجھ نہیں ہوگی،  تو اچھے برے کی تمیز نہیں کرپائے گا……  بیٹا تو میری بات مان لے۔ "
فرہادؔ پر ابا کی تقریر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔  مگر آنسو اثر کر گئے  اس نے بادل ناخواستہ شہر جانے کی حامی بھر لی تھی۔  دوسرے دن زیادؔ اسے ہاسٹل چھوڑ دیا۔  اس سے بچھڑتے وقت فرہاد بہت رویا۔ 
"بھیّا فون کرتے رہنا اور ہر ہفتہ ملنے بھی آنا،  ورنہ میرا دل یہاں نہیں لگے گا" زیاد اسے پیار سے سمجھایا فون کرنے کا وعدہ کرکے گاؤں لوٹ گیا۔ 
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

؎ کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں،  دیکھنا انھیں غور سے
جنہیں راہ میں یہ خبر ملی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
ہاسٹل آئے ہوئے اسے بیس دن گزر چکے تھے  ہفتہ بھر سے اس نے کتابوں کو کھول کر بھی نہیں دیکھا تھا۔  سہ ہر وقت کھویا کھویا سا رہتا تھز۔  کبھی کچھ سوچتا رہتا اور کبھی روتا رہتا۔  ایک دن وہ ہاسٹل کی راہداری سے گزر رہا تھا۔  بیرونی گیٹ کھلا ہوا تھا۔  اس نے ارد گرد دیکھا۔  چوکیدار کا کہیں پتا نہیں  تھا۔  راستہ بالکل صاف تھا۔  اسی پل شیطان نے بہت تیزی سے اس کے ذہن پر حملہ کیا۔  اور اسے نئی چال سمجھائی۔  وہ سرعت سے آگے بڑھا اور دوڑتا ہوا گیٹ عبور کر گیا۔  اس کے پیچھے شیطان ملعون ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے سردار کو ایک بہت بڑی خوش خبری سنانے چل پڑا تھا۔  کیوں کہ ابلیس کے محبوب افعال میں ایک فعل یہ بھی شامل ہے کہ طالب علم کو بہکا کر اسے علم کی روشن دنیا سے محروم کر کے ظلمت کی دنیا میں پھینک دے۔  
ہاسٹل سے نکل کر فرہاد طمانیت محسوس کر رہا تھا۔  گھر جانے کی نیت  سے بس اسٹینڈ پہنچا،۔  مگر جیب میں پیسے نہیں تھےجس کی وجہ کر وہ بس میں سفر نہیں کر سکتا تھا۔  اسے بھوک بھی لگ رہی تھی۔  بھوک اورمایوسی کے عالم میں نڈھال ہو کر اس نے ایک گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔  کئی گھنٹے یوں ہی گزر گئے۔  شاید اس پر غنودگی طاری ہو چکی تھی۔ جب اسے اپنے قریب کسی کی بات کرنے  کی آواز سنائی دی۔  اس نے زیادہ سے آنکھیں کھولیں۔  اور  اپنے سامنے عجیب سی شکل اور لباس والے دوشخصوں کو دیکھ کر خوف کے مارے سمٹ گیا۔  ان آدمیوں نے اسے جاگتے ہوئے دیکھا تو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔  جانے کیوں اسے خطرہ سا محسوس ہوا۔  اس نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی مگر بھوک اور نقاہت کی وجہ سے دوقدم نہ چل سکا اور منہ کے بل گر پڑا۔  اور  پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔  اس کے بعد اسے کچھ یا د نہ رہا۔ 
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مکرّم بھائی شہرکے ایک چھوٹے سے مِل میں کام کرتے تھے۔  وہ فرہاد کے گاؤں کے رہنے والے تھے۔  دوپہر کو کسی غرض سے مل سے باہر آئے تو فرہاد کو دیکھ کر چونک پڑے کہ فرہاد اس اجنبی شہر میں ایک عمر دراز اجنبی عیسائی آدمی کے پیچھے اداس اداس سا نظریں جھکائے آبادی سے دور چلا جارہا تھا۔  انھوں نے اسے آواز دی ٱگر اس نے ان کی آواز ان سنی کر دی۔  وہ تیزی سے آگےبڑھے اور  اس عیسائی کا گریبان پکڑ لیا اور  گرج کر بولے "اے کم بخت!  تو اس بچے کو کہاں لے جا رہا ہے"
عسائی ایک لمحہ کے لئے گبھرا گیا پھر سنبھل کر بولا۔  " اس کے مالک نے اسے کام پر لگانے کے لئے یہاں بھیجا ہے۔  اہم اسے کام پر لے جا رہے ہیں"
بدقمعاش!  یہ تمہیں کام والا لگتا ہے؟  اس کے بدن پر اسکول  یونیفارم نظر نہیں  آرہا۔  انھوں نے اس کے منہ پر تھپڑ لگاکر شور مچانا شروع کر دیا۔  لوگ جمع ہو گئے۔  عسائی نے حالات بدلتے دیکھا تو اپنے آپ کو بچاتا ہوا بھاگ نکلا۔  فرہاد اب بھی خاموش تماشائی بنا سارا منظر دیکھ رہا  تھا۔  لوگوں نے اس سے بہت کچھ پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ کچھ بولتا ہی نہیں تھا۔  مکرم بھائی اپنا کام چھوڑ کر اسے اس کے گاؤں چھوڑ آئے اور گھر والوں کو ساراواقعہ بتا دیا۔ 
زیاد اور  ابا نے بھی اس سے سوالات کئے مگر وہ بالکل خاموش تھا۔  گویا اس کی قوّت گویائی چھین کی گئی ہو۔  بس وہ ٹکر ٹکر سب کے چہرے تک رہا تھا۔  اسے  ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔  ڈاکٹر نے معائنے کے بعد بتایا کہ اسی کوئی ایسی دوا کھلائی گئی ہے جس سے وقتی طور پر سوچنے سمجھنے اور  بولنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔  بظاہر یہ چل پھر رہا ہے لیکن یہ مدہوش ہے دو چار دنوں میں دوا کا اثر ختم ہو جائے گا پھر یہ ٹھیک ہو جائے گا۔  ابھی اسے آرام کی ضرورت  ہے"
چند دنوں میں وہ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا مگر اس کی شوخیاں،  شرارتیں اور  ضد کہیں کافور ہو چکی تھیں۔  اس نے اپنی غلطی کی سزا پا لی تھی۔  آہستہ آہستہ اس نے خود پر گزرنے والے تمام حالات گھر والوں کو بتائے کہ وہ پانچ دن پہلے ہی ہاسٹل سے نکل چکا تھا۔  اس درمیان وہ کئی  آدمیوں کے درمیان اونچے داموں میں فروخت ہوتا رہا اور آخر مکرم بھائی کے شہر تک پہنچ گیا۔  وہ نہیں جان پایا تھا کہ وہ جرائم پیشہ لوگ اسے کہاں اور  کس مقصد کے تحت لے جا رہے تھے۔  وہ معصوم تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس روز مکرم بھائی فرشتہ بن کر اسے نہیں ملتے تو شاید وہ مہذب دنیا سے ہمیشہ کے لئے گم ہو جاتا۔ 
ساری بات سن کرگھر والے نادم تھے کہ ہم نےاپنے بچے پر ظلم کیا۔  اس کی مرضی کے بغیر اسے ہاسٹل بھیج دیا،  گاؤں والے بھی باتیں بنا رہے تھے،  اور کہہ رہے تھے "اب اسے کا پر لگا دو یہ لڑکا پڑھے گا نہیں۔ "
فرہاد بہت دیر تک ان کی باتیں خاموشی سے سنتا  رہا پھر اٹھ کر اپنے ابا کے قریب جا کھڑا ہوا  اور عاجزی و انکساری کے ساتھ بولا۔ 
"نہیں ابا! میں کام پر نہیں جاؤں گا۔  میں پڑھنا چاہتا ہوں،  میں ایک طالب علم ہوں،  میں اچھا انسان بننا چاہتا ہوں  ابا  مجھے میری غلطیوں کی سزا مل گئی ہے،  میں آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھا تھا،  کان ہوتے ہوئے بھی بہرہ تھا،  میں نے کبھی آپ لوگوں کی بات نہیں مانی،  میں جان گیا ہوں کہ جس راستے پر میں چلنا چاہتا تھا،  اور  جس پر چل نکلا تھا،  وہ راستہ میرا نہیں تھا،  وہ راستہ کوئی اور تھا،  میں اپنے فعل پر نادم ہوں،  آئندہ میں ایسی غلطی نہیں کروں گا،  ابا جان،  امی،  بھائی جان میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب کبھی پڑھائی سے نہیں بھاگوں گا۔  دل لگا کر پڑھوں گا اور وہ بنوں گا جو آپ چاہتے ہیں…  ابا…  ابّا…  جا… ن!  روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔  ابّا نے بے اختیار اسے سینے سے لگا  لیا۔  سب کی آنکھوں میں خوشی اور  طمانیت کے آنسو تھے۔ 
؎ سب سے حسّاس وہی،  بیدار وہی کہلاتے ہیں
بے حس کا احساس جگانا لازم ہے فنکاروں میں
ختم شد
*بچوں کی کہانی*
*45 عنوان: شرارت*
*تحریر:  زارا فراز*

بچپن کی شرارت ﷲ…  رے…  توبہ…۔۔۔۔  وہ شاید میری زندگی کی آخری شرارت تھی۔  اس کے بعد میں نے شرارت کرنا ہی  ، چھوڑ دی۔  اس وقت میں کلاس فورٹھ میں تھی۔  وہ جاڑے کی قہر بھری شام تھی۔  امّی جان اور تائی امّی کچن میں ناشتے کی تیاری میں مصروف  تھیں۔  میں، عاطر،  فہد اور مہرین داداجی کےبیڈ روم میں حشر برپا کئے ہوئے تھے۔ بیڈ، صوفہ، ٹیبل اورقالین پر…  کُشن بظاہر بکھرے پڑے تھے  جبکہ ہم نےانھیں ان کے مقابل جگہوں پر سیٹ کیا تھا۔  
عاطر نے صوفے کو اپنا کمرہ بنا لیا۔  فہد نےٹیبل کواپنا آفس روم بنایا ہوا تھا۔  میں جھٹ سے بیڈ پردراز ہو گئی کہ یہ میرا گھر ہےاور میں سب سے امیر ہوں۔  ناچار  مہرین کو قالین پر ہی ڈیرا ڈالنا پڑا۔  ہر روز کی طرح پھر کھیل کا آغاز ہو چکا تھا۔  پچھلے دنوں مہرین میری گڑیا کو  اپنےگھر  بیاہ کر لےگئی تھی۔  اس روز عاطر کے ٹیڈی بیر کا برتھ ڈے تھا، عاطر نے کیک کاٹا۔  اور ہم سب مزے لے کر کیک کھائے۔ پھر  سب اپنے اپنے گھروں کولوٹ آئے۔  میں بیڈ کی طرف آئی تو دیکھا۔  مہرین پہلے سے برجمان ہے۔ 
"مہرین چلو اپنے گھر جاؤ یہ میرا گھر ہے"
"نہیں یہ میرا گھر ہے تم قالین پر رہو"
اس نے ڈھٹائی سے جواب دیا اوربیڈ پر دراز ہو گئی۔  مجھے غصہ آگیا۔ پھر ہماری لڑائی شروع ہو گئی۔ مگر وہ اپنی جگہ سے مس نہیں ہوئی۔  میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر  فرش پر لانا چاہا۔   اسے سر کے بل  کھینچتے ہوئے آدھے آدھ فرش پر اتار دیا مگر میں تھک چکی تھی۔  درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔ 
لیکن یہ کیا دوسری طرف سے اس کا پیر خود بخود اٹھااور وہ سر کے بل کھڑی ہو گئی۔۔  ہم تینوں اسے حیرانی سے دیکھنے لگے۔  دوسرے لمحے وہ دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین پر گری۔۔  آواز سن کر امّی جان،  تائی امّی اور دادا جی کمرے میں  آگئے۔  مہرین گر کر  بے پوش ہو چکی تھی۔  اس کے سرسے خون بہہ رہا تھا۔ ہمارےتو پوش اڑگئے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔  خطرہ ٹل گیا لیکن بعد میں عاطر اور فہد کے ذریعہ امّی کو معلوم ہوا  کہ میں نے مہرین کو گرایا تھا۔  تو امّی نے میری ایسی پٹائی کی کہ بے وقت تارے نظر آنے لگے……
*46 عنوان۔  زخمی یادیں* 
*تحریر۔۔۔۔  زارا فراز*
*جمشیدپور،  انڈیا*

ہاں مجھے یاد ہے وہ گریزپا لمحہ……  جس نے مجھے درد کی اذیت سے آشنا کیا تھا۔ وہ لمحے کوئی نہیں بھولتا جس میں انسان خود مر جاتا ہے۔ 
میری پھول چننے والی آنکھوں نے بھی وہ منظر دیکھا،  جب کفن میں لپٹے ننھے وجود کو ابو نے میری گود سے  اٹھا لیا تھا۔  ﷲ جانے کیا مصلحت تھی، یہ دکھ بھی میرے حصے میں آیا،  یہ المیہ……  میرے گھر سے نکلنے والا پہلا جنازہ تھا…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   
درد بھری شام…… جب قضاء نے میرے گھر کا رستہ دیکھ لیا،  وہ نظر کے سامنے زندگی کی آخری  چند سانسیں چن رہی تھی۔  ڈاکٹرز اس کی سانسیں ہموار کرنے کی نا کام کوشش کر رہے تھے،  ڈاکٹر کی پشت پر کھڑی ایک ماں یہ بھی نہ جان سکی، اس کی بیٹی  حالتِ نزع میں ہے۔  پھر وہ وقت آیا جب  اس کی روح پرواز کر گئی…… 
وہ کیوں مر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔……؟ 
یہ کہتے ہوئے دل کٹ جاتا ہے…… موت کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ 
میں نے ایک بار پھر اس کے ساکت وجود  کو دیکھا، پہلی بار ایسا لگا موت بھی جیسے سانس لیتی ہو۔۔۔۔۔۔  وہ دل کا  گمان  تھا یا میرا وہم، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا پھر روٹھ کر آنکھیں موند لیں۔۔
*38   عنوان ... چاند کا ہالہ*
*زارا فراز*

جب اس نے محبت کی سر زمین پر پہلا قدم رکھا. سکون قلب چیخ اٹھا بے ترتیب دھڑکنوں کی دھمک، سماعتوں کو صاف سنائی دینے لگی، اس کی نظریں بے سبب ہی چاند کے ہالے کو گھور رہی تھیں، کوئی چہرہ ابھر کر سامنے آیا اور پھر عکس دھندلا گیا......... ایسا محسوس ہو رہا تھا، چاندنی زینہ در زینہ اس کے اندر دور تک پھیلتی جا رہی ہو، ایک موسم، بھیگا بھیگا سا جو اس کے دل کے اندر تھا، اس نے اس موسم کی ٹھنڈک کو اپنے جسم رگ رگ میں پیوست ہوتے ہوئے محسوس کیاتھا.  ایسے ہی کئی موسم اس پر بیت گئے تھے... پیار کا موسم...لمس کا موسم... پھر ہجر وکرب کا موسم...
اسے کافی کی طلب شدت سے محسوس ہوئی.  وہ اٹھ کر کچن میں آیا  جہاں ہر طرف  سامان بے ترتیب  پڑے ہوئے تھے،  بالکل اس کی ذات کی طرح.  اس نے نہ کچن کے بکھرے سامان درست کئے اور نہ ہی اپنی ذات کو سنبھالنے کی سعی کی. ایک کپ کافی بنا کر کپ میں انڈیلا اور ہال کے صوفے پر بے ڈھنگے انداز میں  نیم دراز ہو گیا،  وہ دھیرے دھیرے کافی کے کش لینے لگا اس کی نظریں ٹی وی اسکرین پر تھی اور ذہن چاند کے ہالے میں الجھا ہوا......
"رہائی چاہتی ہوں میں۔۔۔"
"میں نے کب تمہیں قید کیا؟ "
 " تم نے میرے پرواز کے پر کاٹ ڈالے ہیں۔۔۔"
"تمہارے پر بھیگے ہوئے ہیں تیز دھوپ کی  ضرورت ہے  تمہیں"
"میں اڑنا چاہتی ہوں"
"تمہاری اڑان کتنی بھی اونچی ہو چاند پر نہیں پہنچ سکتیں"
"جلن ہے مجھ سے؟"
"ہنہہ..... تمہیں دھوپ جلائے گی"
"آخری فیصلہ کرو"
تم آزاد ہو یک لخت وہ اٹھا اور میز پر اپنے پاؤں کے جوتے سے شدید ٹھوکر ماری کپ اٹھا کر ہوا میں اچھال دیا،  چینی مٹی کے ٹکرے فرش پر جابجا بکھر گئے. بکھرے بکھرے سے اس شخص کو کمرے کی یہ حالت بھی نہیں بھائی. وہ سر جھکا کر فرش پر بیٹھتا چلا گیا
"حمزہ......." شانے پر امید کے لمس نے اسے بڑا بے قرار کیا..... اس نے نظریں پھیر کر امید کی جانب دیکھا
"میمونہ..........." 
"تم بھولے نہیں  اب تک؟"
"محبت کی میم، میمونہ کے نام. میں دو بار آتی ہے"
"پھر اسی نام کا احتساب؟"
"میرے اندر بس ایک ہی نام کی گونج ہے... وہ  میرا نشہ ہے ... وہ میرے دل میں ہے دماغ میں ہے..وہ رگوں میں لہو بن کر دوڑتی ہے......."
"تم نے اسے آزادی کیوں دی؟"
"وہ چاند کی خواہاں تھی"
"مگر دھوپ اسے جھلسا دے گی"
"قصور میرا ہے" امید حیران ہوئی تھی....  اس نے  پلٹ کر امید کو غور سے دیکھا
"کیا میں اس قدر برا ہوں" امید اس کے شانے سے لگی تھی اسے ایک دم ہی اس کا صبیح چہرہ یاد آیا گلاب کی ایک پنکھڑی لبوں کے درمیان دبائے اس پر جھکی ہوئی وہ لڑکی سراب جیسی تھی ... گلاب کی پنکھڑی اور اس کے ہونٹوں کی رنگت میں بڑی مماثلت تھی.. اس نے ایک ہی پل میں اس کے ہونٹوں کے سارے رنگ نچوڑ لئے....... جواب میں اس کا فلک شگاف قہقہہ ابھرا..... ہنستے ہوئے د گالوں پہ پڑنے والے بھنور میں اس کی نظر الجھ سی گئی. بے ساختہ ہی اس نے اس کے رخسار کو چھوا تھا بائیں ہاتھ کا انگوٹھا اس کے داہنے گال پر  پڑنے والے بھنور کا مسلسل طواف کر رہا تھا
تمہیں بہت  پسند ہیں ناں یہ؟
تمہارے گال کے اسی بھنور میں،  میں میرا دل ڈوبتا ہے وہ ایک ادا سے ہنسی تھی گالوں میں پڑنے والے گڑھے مزید گہرے ہو گئے
"کہاں کھو گئے؟"
"کیا وہ لوٹ کر آئے گی؟" امید چپ تھی اس کی بند  مٹھی میں ایک ستارہ تھا
اس نے  دروازے پر دستک دی.  وہ لوٹ آئی تھی شاید اسے سمجھ آگیا تھا کہ وہ کتنی بھی اونچی اڑان بھر لے چاند اس کی دسترس سے دور ہو گا
"آخری بار آئی ہوں....  کچھ ضروری  کاغذات ادھر ہی  رہ گئے تھے" وہ خالی نظروں سے اسے ایک بار پھر  جاتے ہوئے  دیکھ رہا تھا
"روک کیوں نہیں لیتے؟ " امید نے اس کی کلائی تھام لی
" مجھے اس کے فیصلے عزیز ہیں"
"نہیں....  تمہیں اپنی انا زیادہ عزیز ہے"
"اور ہاں سنو.... مجھے جاب مل گئی ہے..... میرا خواب سچ ہونے والا ہے،  بہت جلد میں بلندیوں کو چھو لوں گی. " اس نے دروازے کے پار جا کر آخری جملہ فضا میں اچھالا اور پردے کے پیچھے غائب ہو گئی،  امید نے دھیرے سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
" وہ ستارہ کہاں؟"
"میمونہ ساتھ لے گئی"
"اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟" اس کا لہجہ بڑا شکستہ ہو رہا  تھا... آنکھیں خشک تھیں مگر ضبط کی وجہ کر سرخ ہوتی جا رہیں تھیں دل کا گوشہ گوشہ اداس .وہ دیر تک سر جھکائے فرش پر بیٹھا رہا.  شانے پر امید کا لمس، رفتہ  رفتہ کم ہوتا گیا  وہ اس  کے شانے سے الگ ہو کر ٹوٹتی بکھرتی جا رہی تھی.کمرے میں اندھیرا اتر رہا تھا،  زندگی میں تاریکی پھیلتی جا رہی تھی
آج چاند نکلا  ہی نہیں تھا. امید اپنا وجود کھو چکی تھی، درو دیوار میں نقش ویرانیاں حیران تھیں  کہ یہ شخص تنہائی میں کس سے گفتگو کرتا ہے.......؟
*48 عنوان...  خودکشی سے پہلے*
*تحریر....  زارا فراز*

رابعہ نے کافی دنوں  کے بعد اس کے  اسٹڈی روم کا دروازہ  کھولا تھا...... کمرہ ویسا  ہی تھا جیسا اس نے چھوڑا تھا...  مگر اس کے بغیر کمرے میں   بہت ویرانی سی محسوس  ہو رہی تھی. کتابیں  بڑی ترتیب سے  ریک پر رکھی ہوئیں تھیں ....  اسٹڈی ٹیبل کے اوپر  ایک طرف کچھ سفید کاغذات پیپر ویٹ کے نیچے دبے ہوئے تھے....  پین اسٹینڈ پر  تین قلم....  سامنے بھورے  رنگ کی ڈائری تھی جس کے اوپر ایک کھلا ہوا قلم رکھا ہوا تھا ...   ٹیبل کے سامنے کرسی اس ترتیب سے  رکھی ہوئی تھی جیسے  ابھی ابھی کوئی   لکھتے لکھتے کرسی کھسکا کر  کمرے سے نکلا ہو........ مگر ہر شئے میں دھول جمی ہوئی  تھی، کون جانے تمام شئے پر جمنے والی  دھول یادوں کی تھی یا ماحول کی .....
وہ آگے بڑھی اور اسٹڈی  ٹیبل پر بیٹھ گئی..  بے ارادہ  ہی اس نے بھورے رنگ کی لاکڈ ڈائری کھولی اور پہلے ہی صفحے پر  اپنا نام  دیکھ کر  چونک سی گئی
تجسس جاگا توکرسی  پر مزید سنبھل کر بیٹھ گئی..... پہلے صفحے  پر جلی حروف میں  لکھا ہوا تھا
*رابعہ........!*
میں جانتا ہوں  ایک نہ ایک دن یہ ڈائری تمہارے ہاتھ لگے گی....  لیکن جب تم اسے پڑھو گی تب نقشہ بدل چکا ہوگا میرے اعمال کا بھی اور تمہاری زندگی  کا بھی..........
محبت کی تلاش ہر انسان کے اندر ہوتی ہے....  یہ پامال بھی کرتی ہے  آباد بھی کرتی ہے........  یہ زندگی  کو جنت  بھی بنا دیتی ھے اور جہنم بھی......  میں نے کون سی  زندگی  جی ہے، شاید تم نہیں  جاتیں اور نہ تمہیں  اس بات سے کبھی دلچسپی  رہی ہے..  لیکن میرے بعد، تمہارے اندر اٹھنے والے تمام  سوالات کے  جوابات  اس ڈائری میں  موجود ہیں ........"
اس نے اگلا  صفحہ پلٹا......
"انسان سے جب بھی  کوئی  غلطی یا گناہ  ہو  جائے  تب وہ کسی نہ کسی پہلو سے  کسی اور کو  گناہ گار ٹھہرانا چاہتا ہے......
میں سمجھتا ہوں میرے گناہوں کی ذمہ دار تم ہو........ نہ تم میری زندگی میں  آتیں اور نہ میں  اس گمراہی کے دلدل میں  پھنسا ہوتا.......  تم ضرور  حیران ہوگی کہ میرے گناہوں سے آخر تمہارا کیا تعلق ہے تو سنو......
ہر عورت مرد کا سکون نہیں  ہوتی.... لیکن   ہر  بیوی شوہر کا سکون ضرور ہوتی ہے....  جب تم میری زندگی میں آئیں.   مجھے لگا آج میں مکمل ہو گیا ہوں....  مگر تمہاری قربت کے کچھ ہی لمحوں  کے بعد  مجھے احساس  ہوا.....  تمہیں  مجھ میں کوئی  دلچسپی  نہیں......  وقت گزرنے کے  ساتھ ساتھ میرا یقین پختہ ہو گیا کہ تم ہمارے درمیان ایک فاصلہ رکھنا چاہتی ہو تمہارے  ساتھ  بہت  سارا وقت ایک چھت کے نیچے  ایک ہی کمرے میں گزارنے کے بعد  بھی بیوی کا سکھ نہ حاصل  کر سکا....  میں یہ تو نہیں  جان سکا کہ ہمارے درمیان  دوری کے اسباب کیا ہیں....؟  لیکن میں حیران ہوا کرتا تھا جب میری روح کی بے اطمینانی تمہارے چہرے  کے سکون  کو  بے سکون نہیں  کرپاتی تھی... میں جانتا ہوں میری بے خواب آنکھوں  کی شکایت نے کبھی تمہیں  پرسکون  نیند سے  نہیں جگایا..... کبھی میری تنہائیوں  کو تمہارے وجود نے  پُر نہیں کیا.......
اور پھر نہ جانے کب   مجھے بھی  تم سے نفرت  ہو گئی....  اتنی نفرت  کہ جیسے کبھی محبت ہی نہ ہوئی  ہو....
نفرت کی آگ انسان کو جلا دیتی ہے......  میں  اس آگ میں عرصے تک جلتا رہا ......  پھر جیسے وقت کی رنگینیوں نے میرا ہاتھ تھام لیا....   خوشبوؤں میں  بسا  ہوا ایک آنچل میری مٹھی سے کیا سرکا.....  میں  نے آنچل کے پیچھے کے سارے بھید جان لئے.......  وہ آنچل میری ماموں ذاد بہن کا تھا...... 
اگلی دفعہ  جب  اس نے مجھے بلایا...  میں اس کی طرف  کھنچتا چلا گیا.....  نیم تارکی  میں دو نسوانی وجود کو دیکھ کر میری آنکھیں چمک اٹھیں....  مگر پھر  اسی چمک نے  ہمیشہ کے لئے  میری زندگی  کو تاریک  کر دیا.......
ان سے مل کر  واپسی  پر  جانے کیوں  میرا دل بڑا غیر مطمئن تھا....  شاید گناہ بے لذت کا احساس  غالب تھا...  میں نے عہد  کر لیا کہ آئندہ  اس کے کوچے سے نہیں  گزروں گا
اس نے فون کیا تو  میں نے  آنے سے  انکار کر دیا....  اس انکار کو  اس نے اپنی توہین سمجھی....... اور مجھ سے سلسلہ  منقطع  کر لیا.....  مگر اس کی دوست..   آسانی سے ماننے والوں  میں نہیں  تھی اس نے مجھے بلیک میل  کرنا شروع  کیا.......
ایک روز اس نے مجھے میسج کیا
"عاشر آج رات ساڑھے دس بجے، مجھ سے میرے گھر پہ ملو"
"معذرت میں نہیں  آسکتا" میں جواب  دے کر آفس کے کاموں  میں مصروف  ہو گیا.
اس  وقت میں گھر  پہ ہی تھا جب  موبائل  کی بیپ بجی...  میسج اسی لڑکی کا تھا
" تم آرہے  ہو یا نہیں،؟"
"نہیں"
"تم آدھے گھنٹے میں میرے گھر پہنچو"
"کہا ناں میں نہیں  آؤں گا"
"ٹھیک ہے پھر یہ ویڈیو دیکھو" اگلے ہی پل اس نے ایک ایسی شرم ناک ویڈیو  بھیجی کہ ایسا محسوس  ہوا جیسے زمین پھٹے اور میں دھنس جاؤں...    اپنے آپ  کو اس قدر گھناؤنی حرکت کرتے ہوئے دیکھ کر خود میں شرم سے پانی پانی ہو گیا........
"یہ ویڈیو  کب کی ہے؟  کیسے بنائی تم نے؟" میں نے  خود کو سنبھالتے ہوئے  سوال کیا   گھبراہٹ کے  مارے میری پیشانی سے پسینے چھوٹنے لگے
"جب ہم پہلی بار ملے  تھے...  ہاہاہا" وہ خباثت سے ہنسی تھی میرا گلا خشک ہونے لگا
"ڈلیٹ کرو یہ بیہودہ  ویڈیو..... "
"ہاہا...... میری جان یہ بیہودہ  حرکتیں بھی تمہاری ہی ہیں....  آدھے گھنٹے  میں گھر پہنچ  جاؤ ورنہ یہ ویڈیو فیس بک پر ڈال دوں گی...... معاشرے میں تمہاری الگ پہچان ہے تم عزت والے ہو....  اپنی عزت  بچانی ہے تو چلے آؤ ورنہ........" اس لڑکی نے فوراً سیل آف کر دیا تھا..  کیوں کہ  اسے فون بھی نہیں  لگ رہا تھا..... مجبوراً  میں اٹھا اور شکستہ قدموں  سے گھر کے بیرون دروازے  کی طرف  بڑھا..
پشت پر کھڑی تم نے مجھے جاتے ہوئے  دیکھا لیکن وجہ نہیں  پوچھی....  میں گمراہی کے راستے پر چلتا ہوا بہت دور  نکل گیا.....  میں تمام تمام   رات گھر کے باہر گزارنے لگا، تم نے باز پرس نہیں  کی..   اکثر چار بجے صبح گھر واپسی  ہوتی تم نے کبھی سوال نہیں  کیا کہ میں نے رات کہاں  گزاری......  تھکا ہارا جب میں لوٹتا،  اس وقت  بھی میں تمہارے چہرے کو  ایک نظر میں پڑھ لیا کرتا تھا...... مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا تھا کہ تمہارے چہرے پر ہر طرف  اطمینان  رقم ہوتا ہے......  مجھ سے دوریاں  نبھانے کے  لئے  تمہیں اچھا موقع  میسر آتا تھا.....  لیکن میں؟  میں تو گناہوں کی  دلدل میں  پھنستا ہی چلا گیا....  جب بھی میں واپسی کا سوچتا تو دلدل میں  پلنے  والی ناگن میرے قدموں  سے لپٹ جاتیں..    مجھے ہر روز نئے طریقے سے بلیک  میل کیا جاتا تھا....... مجھے ہر روز   نئے نئے عذاب کے سپرد کر دیا جاتا تھا..... 
سچ کہوں میرے دل میں  جس قدر خدا کا خوف نہیں  تھا اس سے کہیں  زیادہ اپنی عزت  کا خوف غالب رہتا تھا..    جس کا فائدہ  ان عورتوں  نے خوب اٹھایا...... ایک روز میں اپنی ذات کی اس جنگ سے ہار گیا.....  میں نے ان عورتوں  کو صاف صاف  انکار کر دیا جو مجھے ہر طرح  سے استعمال کرنا چاہتی تھیں
میرا ارادہ  بھانپتے ہی ان عورتوں میں سے ایک نے آخری پتِہ پھینک کر مجھے  پھانسا دیا.....مگر اس بار میں اس کی باتوں میں نہیں  آیا....... چند ہی لمحوں میں فیس بک اور ٹیوٹر پر   میری  عزت  کے جنازے نکالے گئے..   میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں  سے دیکھا  اور ساری رات خون کے  آنسو رو تا رہا...  دھیرے دھیرے  سارے حوصلے  ہارتا گیا.... میں نے شہر سے فرار حاصل کی اور گاؤں چلا آیا.....  جہاں کی مٹی میں کھیل کود کر  پلا بڑھا تھا.  اب مجھے   اسی کی آغوش میں  سو جانا ہے.... اب  میرے اندر جینے کا حوصلہ باقی نہیں ہے.. میں نے آخری فیصلہ کر لیا ہے، سوچ رہا ہوں میں نے اک عمر حرام کاری میں گزار دی پھر مجھے حلال موت کیسے نصیب ہوتی؟
شاید میری زندگی  کی اب صرف چند سانسیں باقی  ہیں .  اور اس وقت میں اپنے آپ  سے پوچھ رہا ہوں کیا واقعی میرے گناہوں  کی ذمہ دار  تم ہو؟  تو میرے اندر سے آواز آرہی ہے "میں خود اپنے نفس کا دشمن بن گیا ہوں"
خودکشی سے پہلے، میں تمہیں اس جرم سے بری کرتا ہوں جس کا مجرم تمہیں سمجھ رہا تھا...... میں یہ اعتراف کرتا ہوں مجرم تو ہی میں ہوں.....!" رابعہ بھیگی پلکوں  میں ماضی کے  تمام یادوں  کو سمیٹے ڈائری پہ سر رکھے دکھ  سے سوچ رہی تھی....   "خودکشی اس نے بھی کی تھی عاشر کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے........!

ختم شد
*افسانہ۔۔۔۔۔۔، 2*
*عنوان: "شریک حیات"*
*تحریر:  زارا فراز جمشیدپور،  انڈیا*

رمضان کا تیسرا عشرہ، آخری جمعہ کے دن حذیفہ بہت خوش تھا۔  میس میں جانے کے بجائے کمرے میں ہی سحری کی اور طوبیٰ کو فون کیا۔  وہ اس کے عمرہ کے سفر پر خوش تھی مگر اس مقدس سفر میں اس کے ساتھ نہ ہونے کا ملال بھی تھا۔ جس کا اظہار بھی  اس نےکیاتھا۔  حذیفہ نے اسے سمجھایا اور کہا " انشاءﷲ ائندہ ساتھ ہی عمرہ کریں گے " پھر طوبیٰ کی بہت ساری دعاؤں کے ساتھ بس پر سوار ہو گیا۔ اس کے ساتھ اس کے اور بھی تین ساتھی تھے۔۔  وہ لوگ مسجد عائشہ پہنچے.  احرام باندھ کر نماز ادا کی اور عمرہ کی نیت کی اور بس پر سوار ہو کر حرم کی طرف روانہ ہوئے۔ , اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔  احکم الحاکمین کے دربار میں حاضری دینے کا وقت تھا۔۔۔  اپنے گناہگار وجود کے ساتھ وہ رب کی بارگاہ میں سربسجود ہونا چاہتا تھا. 
مسجدِحرم کے صحن پر قدم رکھتے ہوئے اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔  سلیپر اتار کر شاپر میں رکھا۔  اور نظر جھکائے قدم بڑھاتا ہوا خانہ کعبہ کے بالکل پاس پہنچا اورآہستہ سے نظر اٹھائی.  پھر وہ نظر جھکانا ہی بھول گیا. ایسا جاہ وجلال۔۔۔  ایسی رحمتیں اتر رہیں تھیں بیتﷲ پر۔۔۔  وہ بے خود سا ہو گیا۔  پہلی نظر میں مانگنے کی دعا بھی بھول گیا۔  دعا کے لئے ہاتھ اٹھے ہی رہ گئے۔ پہلی نظر کی اس محبت نے حذیفہ کو نور  سے نہلا دیا۔  اس نے عمرے کے ارکان ادا کئے،  طواف کے بعد  قبلہ رخ ہو کر زمزم پیا،  صفا مروا کی سعی  کی، پھر دو رکعت شکرانے کے نفل پڑھ کر بہت دیر تک دعائیں مانگتا رہا،  روتا رہا، زندگی میں اس قدر وہ کبھی نہیں رویا  تھا۔۔  مگر آج بچوں کی طرح روتا رہا  ۔   اپنے اعمال پر دل سے نادم تھا   سچے دل سے توبہ کی۔  پھر بیوی بچے اور ماں باپ رشتےداروں کی لئے دیر تک دعائیں مانگتا رہا۔  
اس کے ساتھی فارغ ہو چکے تھے۔  بس حلق کرنا باقی رہ گیا تھادوست بار بار اسے اشارہ کر رہے تھے انہیں عصر کے بعدوہاں سے نکلنا تھا۔  افطار بھی بس میں کرنا تھا ۔۔  مجبوراً اسےدعا مکمل کرنی پڑی۔  وہ اٹھا،  ایک الوداعی نظر بیتﷲ پر ڈالی اور آہستہ روی کے ساتھ مسجد حرم کے صحن کو عبور کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ حلق کروانے کے بعد سب نے احرام اتار دیئے تھے۔۔  مگر خذیفہ نے کہا میں اب کمرے میں جا کر ہی احرام اتارونگا۔  سارے لوگ عصر کی نماز پڑھ کربس پر سوار ہوئے۔ بس تیز رفتاری کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہی تھی سارے لوگ مطمئن تھے مگر اچانک ہی ایک درد ناک واقعہ رونما ہو گیا۔۔  ٹرن لیتے ہوئے پیچھے سے آتی بس کی ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کھلونے کی طرح الٹ گئی ۔ دوساتھی موقعے پر ہی جاں بحق ہو گئے باقی سواریوں کوشدید چوٹ آئی تھی۔۔۔۔۔  حذیفہ بیہوش تھا۔  انتظامہ نے اسے ہاسپٹل میں داخل کیا اور اس کی کمپنی میں خبر کر دی۔  کمپنی نے اس کے گھر حادثے کی خبر دی۔۔۔۔  کمپنی خود اپنے ذمہ پر اس کا علاج کرا رہی تھی۔  مگر ایک ماہ کے مسلسل علاج کا کوئی اثر نہیں ہوا۔  حذیفہ اب بھی بیہوش تھا۔آخر کمپنی نے اسے واپس اس کے ملک بھیج دیا۔  میڈیکل سہولت کے ساتھ اب وہ اپنے شہر کے ہسپتال میں منتقل ہو چکا تھا سر میں شدید چوٹ آئی تھی جس کی وجہ کر وہ قومہ میں چلا گیا تھا ناک میں پائپ کے ذریعہ سے کھانا اور دوا دی جاتی۔۔۔  
پندرہ دن ہسپتال میں رکھ کر ڈاکٹرز نے علاج کیا لیکن افاقہ نہیں ہوا ۔۔  آخر ڈاکٹر نے ڈسچارج کر دیا۔۔۔  حذیفہ کا ساکت وجود اب گھر کے اس کمرے میں تھا جہاں اس کی زندہ دلی کی کئی داستانیں وابستہ تھیں-

طوبیٰ اپنے سارے کام نمٹا کر واپس کمرے میں آئی، دروازہ بند کیا اور خاموشی سے مصلی بچھا کر نماز ادا کی اور پھر دیر تک دعائیں مانگتی رہی۔  پھر اٹھ کر اس کے بیڈ کے پاس آئی.... ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر نرمی سے اس کا ہاتھ  تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔۔ 
"حذیفہ…… " اس کی پکار پر ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھوں کی پتیلی میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی۔۔  پھر ساکت ہو گئ۔  
"حذیفہ۔۔…  آپ سن رہے ہیں نا مجھے ... آپ کی خاموشی مجھے اچھی نہیں لگتی۔  مجھ سے بولتے کیوں نہیں۔۔۔  میرے کان  آپ کی آواز کو ترس گئے ہیں۔۔  یہ کمرہ آپ کے قہقہوں کا منتظر ہے۔  ۔۔۔  مجھے یاد ہے حذیفہ  تین سال پہلے جب میں پہلی بار اس کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔  پھولوں سے سجا یہ کمرہ صرف آپ کے وجود سے مہک رہا تھا۔۔۔۔ آپ نے مدہوش سی کیفیت میں میری کتنی تعریف کی تھی۔۔۔۔  اب کیوں نہیں کہتے۔۔   "۔۔  آنسو اس کے رخسار پر ڈھل کر حذیفہ کا چہرا بھگو رہے تھے۔ 
"میرے محبوب آپ تو بہت باتونی تھے۔۔   بات بات پر قہقہہ لگانے والے ،  ہر بات شیئر کرنے والے اتنے خاموش ہو گئے  کہ اپنی  جانِ حیات سے اپنا درد بھی بیان نہیں کرتے۔   آپ کو کہاں چوٹ آئی ہے…  کہاں پہ درد ہو رہا ہے…؟ "
وہ بیتابانہ اس کا جسم ٹٹولنے لگی۔۔  جیسے سارے درد سمیٹ لینا چاہتی ہو۔۔  پھر سسکنے لگی۔ "حذیفہ ایسی کیا بیگانگی۔۔۔  مجھے بھی نہیں بتائیں گے۔۔  میں نہیں جان پاتی کہ کب آپ کو بھوک لگتی ہے، کب پیاس لگتی ہے،  کب حاجت ہوتی ہے۔۔۔۔۔" کسک اس کے لہجے میں تھی
وہ اس کے سینے پر سر رکھ دیتی۔۔۔۔ 
پھر سنبھل کر سر اٹھاتی 
"مجھے آپ سےمحبت جیسے پہلے روز تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔۔۔  میں آپ کی زندگی سے مایوس نہیں ہوں۔۔  لیکن میرے سوا گھر اور خاندان کے لوگ مایوس ہو چکے ہیں مجھے ان کی مایوسی بالکل اچھی نہیں لگتی۔   آج میرے ابو آئےتھے مجھے لینے۔۔۔   بول رہے تھے میری بیٹی بالکل خاموش سی ہو گئی ہے شایدتھک گئی ہے۔۔۔  چلو گھر، کچھ دن آرام کر لینا۔۔  لیکن میں ان کے لہجے کو پہچان گئی ... اگر آج میں ان کے ساتھ چلی جاتی تو وہ  مجھے واپس لوٹ کر آپ کے پاس آنے نہیں دیتے۔۔۔۔  اور میں آپ کی جدائی میں گھٹ گھٹ کر مر جاتی۔۔  ابو نہیں سمجھتے شوہر کے وجود سے ہی عورت زندہ رہتی ہے۔   جب وجود خاموش ہو جائے تو ہم کلام ہونے کو دل نہیں چاہتا۔۔…  میں آپ کی خدمت آخری  دم تک بھی کروں تب بھی نہیں تھکوں گی۔ ۔ …   لیکن آپ کی یہ حالت دیکھ کر دل روتا ہے۔  میں اپنے لئے دعا مانگنا بھول گئی  بس اپ کی صحت یابی کی دعائیں مانگتی ہوں۔۔۔  اسامہ اب دو سال کا ہو گیا ہے بولنے لگا ہے سمجھداری کا سوال بھی کیا مجھ سے کہ مما،  بابا بولتے کیوں نہیں۔۔۔  اسے میں کیا جواب  دیتی، اس سوال کا جواب  تو میں خود ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔ "
"میرے ہمدم،  آپ ہماری زندگی میں واپس چلے آئیں…  آپ کے ساتھ کے ایک ایک پل کو میں بھول نہیں سکی۔ مگر اب آپ اپنی بیوی کو نظر گھما کر دیکھ نہیں سکتے۔  اب تو اسامہ بھی ہے آپ کو اسامہ سے کتنی محبت  ہے ناں؟؟۔۔  مگر اتنے دنوں میں اسامہ ہم دونوں سے دور ہو کر  اپنی دادی کے پاس چلا گیا ہے۔  آپ جب اچھے ہو جائیں گے تو میں واپس اسے اپنے پاس لے آؤں گی۔۔۔۔۔   پلیز آپ وعدہ کریں۔۔  آپ میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔  اچھے ہو جائیں گے بالکل اچھے۔۔۔۔۔۔"
مگر اس کے ہونٹ ساکت رہے ... کوئی جواب  نہیں دیا۔ وہ مضمحل سی اٹھی اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا، ناک پر لگی پائپ کو درست کیا اور پلٹ کر اپنے بیڈ پر دراز ہو گئی ۔۔۔  تھوڑی دیر کمرے میں اس کی سسکیوں کی آواز گونجتی رہی۔۔  پھر خاموشی چھا گئی۔۔۔۔

پھر ایک روز وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ 
طوبیٰ کے کمرے سے دوا کی مہک  معدوم ہو کر کافور کی بو  دور تک پھیل رہی تھی۔  آہ وبکا کی آوازیں سارے گھر میں گونج رہی تھیں.
کفن میں لپٹی ہوئی حذیفہ کی لاش کمرے کے وسط  میں رکھ دی گئی تھی۔  ایک طرف اسامہ اپنی دادی کی گود میں نا سمجھی کے عالم میں رو رہا تھا۔ دو خواتین طوبیٰ کو تھامے ہوئے میّت کے پاس لے آئیں…  " بیٹی آخری بار دیدار کر لے… " طوبیٰ سکتے کی سی کیفیت میں آگے بڑھی۔  اس کی آنکھیں خشک تھیں… لوگ حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔  اچانک اس نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور لاش کے سینے پر گری۔   ۔ وہ آخری ہچکی لے رہی تھی۔  خاتون نے اسے اٹھانا چاہا مگر تب تک اس کا وجود بالکل ساکت ہو چکا تھا۔۔۔  حذیفہ اور طوبیٰ کا جنازہ ایک ساتھ اٹھایا گیا۔ 
"شریک حیات"نے "شریک موت" ہونےکی جاوداں مثال قائم کی تھی……۔
*عنوان....  انتظار* 

*تحریر...... زارا فراز*

سرتاپا امید کے پیراہن میں لپٹی رحمتی انتظار کے خار دار بستر پر گھنٹوں پڑے سونے کی کوشش کر رہی تھی.... نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی......... دروازے کے باہر سڑک پر قدموں کی چاپ صاف سنائی دے رہی تھی...  چاپ دروازے  کے بے حد قریب  آتی اور پھر دور ہوتی سنائی دیتی .. کبھی کبھی قدمو  کی دھمک اس قدر قریب اور  تیز ہوتی کہ اسے لگتا بس ابھی لکڑی کےاس پرانے دروازے پر دستک  ہوگی.. یوسفے خوشخبری لے کر آئے گا. ذہن میں اس خیال کے آتے ہی اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگتا..... 
"رخسانہ بیٹی....کیا وقت ہوا ہے؟  ترا ابا ابھی تک نہیں  لوٹا؟" 
"نو بج گئے  ہیں  اماں........  ابا آتے ہی ہوں گے آپ سو جائیں....  میں انہیں کھانا دے دوں گی"
"یوسفے آئے تو مجھے  جگا دینا"
رحمتی نے لحاف سر تک کھینچ  لی....  رخسانہ، دری پر پڑی، گدڑی آدھے  جسم تک ڈالے چھت کو گھورنے لگی ....  گھڑی کی سوئی اپنا لا متناہی سفر طے کرتی رہی...... 
دروازے کے باہر  سڑک  پر قدموں کی چاپ ابھری.....  کوئی دروازے کے بالکل پاس سے ہو کر گزرا تھا.......  
"دیکھ رخسانہ  تیرا ابا آیا کیا؟" رحمتی نے  لحاف کے اندر سے  صدا لگائی 
" اماں  یہ راہگیروں کے  قدموں  کی آہٹیں ہیں...  ابا بس آتے ہی ہوں گے"
رحمتی پھر خاموش ہو گئی
  گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک کی آواز اور رحمتی کی سانسوں  کی دھمک، کمرے کی خاموشی کو ہر لمحہ  توڑ رہی تھیں ..   کمرے میں پھیلی بلب کی پیلی روشنی ،  ماحول کو اور بھی سو گوار بنا رہی تھی...  اچانک رخسار، فرش پہ بچھی دری سے اٹھی اور دروازے کی طرف  بڑھی دروازہ کھولتے ہی کمرے میں بیڑی کی ناگوار سی بو پھیل گئی
دروازے کے  عین وسط میں یوسفے کھڑا تھا
"ابا آگئے"  رحمتی لحاف سے باہر نکل آئی... 
 "کوئی خبر...... یوسفے؟  اس کا کچھ پتہ  چلا؟."     ..... سوال یوسفے  تھا مگر نظریں دروازے کے  باہر اندھیرے میں کسی انسانی سراپا کو تلاش کر رہی تھیں ......  باہر اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا... نظریں  واپس لوٹ آئیں....  اب اس کی نظریں  یوسفے کے تھکن زدہ چہرے پر تھیں......  
 "رحمتی ایک گلاس پانی دے"    مگر رحمتی اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ سرک پائی  تھی..  رخسانہ  باورچی خانے سے اسٹیل کے  گلاس میں  پانی بھر  کر لے آئی  جسے یوسف نے ایک ہی سانس میں پی کر لمبی سی  ڈکار لی
"کچھ پتہ چلا؟ " رحمتی اپنے سوال پر اٹکی ہوئی  تھی.  اس نے سر نفی میں  ہلانے پر اکتفا کیا...   اور وہ کہتا بھی کیا...؟ پانچ مہینے سے مسلسل دن بھر کی چھان بین... سرکاری دفتروں کے دھکے اور کالج کے سربراہان سے ملاقات کر کر کے اس کی ہمت ٹوٹ رہی تھی لیکن اس کا اب تک کچھ پتہ  نہیں  چل سکا تھا رحمتی کی آنکھوں کی روشنی ایک پل میں بجھ گئی. ........... چہرے پر تاریکی چھا گئی.....  وہ بڑھ کر  اپنے لحاف میں  جا گھسی.....  یوسفے ایک لمحے کو حیران  ہوا  کیوں کہ آج اس نے دن بھر کی روداد سننے کی ضد نہیں  کی تھی وہ  دری پر بیٹھ گیا رخسانہ کھانہ لگا چکی تھی،  اس نے قریب رکھے پیالے میں ہاتھ دھویا اور کھانے سے انصاف کرنے لگا آج جو گھر سے ناشتہ کر  کے  نکلا تو دوپہر بھی اس نے کچھ نہیں کھایا سارا دن  سڑکوں  پہ مارا مارا پھرتا رہا..وہ ہر روز امید کے ساتھ شہر کے سرکاری دفتروں میں  اپنا مدعا لے کر جاتا اور نامراد واپس لوٹتا اور جب بیٹی اور بیوی کی نظریں اس کے مایوس چہرے پر پڑتیں تو وہ چہرے بھی تاریکی میں ڈوب جاتے.... 
اس نے کھانا ختم کیا اور کمرے کی اندرونی سمت کے دروازے سے آنگن کی طرف نکل گیا آنگن میں بلب کی پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی. اس نے حاجت پوری کی اور اندر اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا رخسانہ برتن سمیٹ کر اپنی گدڑی میں دبک چکی تھی.. یوسفے جانتا تھا لحاف  کے اندر موجود دو ذی روح اپنے اپنے غم چھپا کر سونے کی اداکاری کر رہی ہیں. اس نے بھی کمبل سر تک تان لی اور سوتا بنا،  تھکان اس پر غالب تھی. چند لمحوں میں ہی نیند اس کی پلکوں سے لپٹنے لگی. پھر وہ سو گیا
کمرے میں  الگ الگ بستر پر تین افراد  سو رہے تھے. رات کے دوسرے پہر مدھم مدھم سسکیوں کی آواز ابھرنے لگی.  رخسانہ نے گدڑی سے سر نکال کر رحمتی کی بستر کی طرف دیکھا...  اس کے دل پر بھی قیامت گزر رہی تھی...  مگر وہ ضبط کرتی رہی  پھر اسے  نیند نے آن لیا
صبح ناشتے کے بعد  یوسفے گھر سے نکلنے لگا.
میں بھی چلوں گی تمہارے ساتھ........ بڑی سی سفید چادر اوڑھے رحمتی آج پھر ساتھ جانے کے لئے تیار کھڑی تھی.. یوسفے بیڑی سلگاتے ہوئے آگے بڑھ گیا.  چوک پر  جا کر اس نے  ایک  رکشے والے سے سواری کی بات کی اور دونوں اس پر سوار ہو گئے....  رکشہ لمبی سڑک پر دو کلو میٹر تک سیدھا چلتا رہا... اور پھر داہنا موڑ مڑ گیا .. کچھ ہی دور جا کر رکشہ تھانے کے سامنے رک گیا، رکشے والے کو پیسے دے کر یہ  لوگ آگے بڑھے..  یوسفے کے  قدموں میں  لڑکھڑاہٹ تھی لیکن رحمتی ہمت  سے آگے بڑھی.... 
"میڈم ادھر بیٹھیں..  ابھی صاحب  مشغول ہیں...."
دفتر  کے باہر  ہی داروغہ نے انہیں   روک لیا.....  وہ لوگ خاموشی سے بینچ پر بیٹھ گئے. تین گھنٹے  مزید انتظار کے بعد  بھی  انسپکٹر کی مشغولیت ختم نہیں  ہو رہی تھی....  بڑے بڑے   لوگ   کار سے اتر کر دفتر میں  جاتے اور  منٹوں  میں  کام نمٹا کر واپس نکل جاتے اور  ان لوگوں  کی  باری اب تک نہیں  آئی تھی 
"داروغہ صاحب  ہماری باری کب آئے  گی" 
"بس کچھ دیر اور..."     داروغہ اتنا کہہ کر اپنے نئے خریدے موبائل میں کامیڈی ویڈیو دیکھنے میں مشغول ہوگیا وقفے وقفے سے اس کے ہونٹوں پر ایک ہنسی پھیل جاتی.... رحمتی نے بیزاری سے اس کا چہرہ دیکھا اور یوسفے  کی کلائی تھام کر انسپکٹر کے کمرے کی طرف  بڑھی....  داروغہ  اپنے موبائل میں  ہی لگا رہا
"سلام صاحب" انسپکٹر لیپ ٹاپ  میں مشغول تھا ایک لمحے کو نظریں اٹھا کر دیکھا اور دوبارہ  اسکرین پر نظریں جمالیں.....  
"تم پھر آگئے منحوس منہ اٹھا کر؟ " یوسفے خجل سا ہو گیا لیکن رحمتی خود اعتمادی سے آگے بڑھی
 " انسپکٹر صاحب  ہماری  کچھ مدد کیجئے...  میرے بیٹے کو گم ہوئے پانچ مہینے ہونے کو ہے اور اس کا کہیں پتہ نہیں...  آپ  کے تو بہت  آدمی ہیں.  ان کے ذریعہ........."
"ہم  اپنا کام  کر رہے ہیں.. اور تلاش جاری ہے....   آپ کا  بیٹا زندہ  یا مردہ  جس حال میں بھی ملے گا آپ کے حوالے کر دیا جائے  گا...... " بے مروتی سے کہتے ہوئے انسپکٹر اپنے کاموں میں  مشغول ہو گیا 
یوسفے کی آنکھوں  میں خون اتر آیا...   رحمتی پلّو سے آنکھیں خشک کرنے لگیں..... 
" پانچ ماہ سے تو ہم یہی سن رہے ہیں صاحب........ ہم کو ہمارا بیٹا زندہ نہ سہی اس کی لاش بھی مل جاتی تو دل کو قرار آجاتا...... ہماری مدد کیجئے...... ہمارے بچے کو........" رحمتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
"کہا ناں ہم اپنا کام کر رہے ہیں  اس کی تلاش جاری ہے.....  اب جاؤ تم لوگ" انسپکٹر کی آنکھیں جذبات سے خالی تھیں 
اس بار آفس سے باہر نکلتے ہوئے یوسفے کے ساتھ رحمتی کے  قدم  بھی لڑکھڑا رہے تھے..  تھانے سے نکل کر انہیں چوراہے تک پیدل جانا تھا...  
انتہائی نظر تک تارکول کی چمکتی، بل کھاتی ہوئی سڑک  بچھی ہوئی تھی، وہ دونوں مرے مرے قدموں  سے آگے بڑھنے لگے
"یوسفے........... " 
 " ہنہہ" وہ کسی گہری سوچ  میں گم تھا
"ہمارے بیٹے کو زمین کھا گئی ہے یا آسمان نگل گیا ؟" کتنا دکھ تھا اس کے سوال میں.... اس لمحے آسمان بھی نے تاسف سے ان دونوں دکھوں کے مارے ماں باپ کو دیکھا، اور بے اختیار رو پڑا....  بارش کی بوندوں کو زمین اپنے سینے میں جذب کرتی رہی..... چند لمحوں کے بعد بارش رک گئی. 
وہ دونوں اپنی ہی ذات سے بے خبر، اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہے... سڑک کے کنارے سوروں کی ٹولی کچرے کے درمیان اپنی غذا تلاش کر رہی تھی...  سور کا ایک بچہ  اپنی ماں کے بدن سے بار بار اپنا بدن مس کر رہا تھا اور مادہ سور اس کے بدن کو چاٹ رہی تھی. رحمتی رک کر حسرت بھری نظروں سےیہ منظر دیکھنے لگی....... اس کی  نظر میں تین سالہ سعد کا چہرہ  ابھرا. 
جب وہ کسی کام میں مشغول ہوتی تو سعد آنچل پکڑ کر  اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہا ہوتا تھا. 
"اماں جی روٹی دو" جب وہ اس کے ہاتھ میں تازہ روٹی تھما دیتی تو وہ ایک طرف بیٹھ کر اس روٹی کو توڑ توڑ کر کھا لیتا اور پھر ماں کا آنچل تھام لیتا. اور اسے لگتا دنیا کے  ہر آنچل سے خوبصورت  آنچل اسی کا ہے کہ اس میں اس کے پیارے بیٹے کا لمس موجود ہے...   اور جب وہ اچانک ہی اس کی زندگی  سے گم ہو گیا تو لگا کہ اس کے آنچل کے سارے  ستارے جھڑ گئے ہیں، دنیا کی ساری رعنائیاں ہی ختم ہو چکی ہیں ..... 
"رحمتی!  اس طرف نہیں...   ادھر چل،  بس یہیں سے ہم رکشہ پکڑیں گے" یوسفے کی آواز پر اس نے نظروں کا زاویہ تبدیل  کیا..... سامنے سے رکشہ آرہا تھا وہ دونوں اس پر سوار ہو گئے.....  ان کا رخ اب اس کالج کی طرف  تھا جہاں سعد پانچ ماہ  قبل تک زیر تعلیم تھا ...  کالج کے منتظم سے مل کر بھی انہیں مایوسی ہوئی... منتظم کا  کہنا تھا "ہم نے گمشدہ لڑکے کی رپورٹ تھانے میں   درج کر دی ہے جیسے ہی اس کی کچھ خبر ملے گی آپ کو بتا دیں گے...... 
" چل رحمتی...  اب گھر چل....."
"میرا بچہ یہیں گم ہوا ہے اور وہ یہیں  ملے گا......" وہ، آتے جاتے کالج کے ہر ایک بچے کے چہرے میں اپنے بیٹے کو تلاش کرتے ہوئے یوسفے کے ساتھ واپسی کے راستے میں مڑ گئی اس کی آنکھیں اشکوں سے جھلملا رہی تھیں.....
"اماں جی رکیں......."
اچانک پشت سے ابھرنے والی آواز پر وہ دونوں سرعت سے گھومے....  وہی لب و لہجہ.....  وہی انداز............ وہی قدامت.......... وہی پوشاک.......... وہی عمر...  چہرے میں حد درجہ مماثلت...... مگر اسے ماں کہہ کر پکارنے والا سعد نہیں ، اس کا ہم جماعت ارباز تھا...... جسے دیکھ کر  اس کی آنکھیں  سیراب ہو رہی تھیں...... 
"اماں جی! ہم نے اس کی کھوج لگانے کی بہت  کوشش کی لیکن کچھ بھی پتہ نہ چل سکا" رحمتی  کو سامنے دیکھ کر جانے کیوں اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں 
اچھی طرح  سے یاد ہے ہم دونوں  کلاس ختم کر کے نکلے، گیٹ تک ہم دونوں  ساتھ تھے پھرمیرے  موبائل میں کسی کی کال آئی، میں نے فون پر صرف دو منٹ بات کی اس کے بعد مجھے سعد نظر نہیں  آیا میں یہی سمجھا کہ وہ گھر کے لئے  نکل چکا ہے اس لئے  میں بھی گھر چلا گیا. اس وقت میں نے ایک لمحے کے  لئے بھی نہیں  سوچا تھا کہ  یہ ہماری  آخری ملاقات تھی،  وہ کالج  کی بھیڑ میں نہیں  کھویا بلکہ  ہماری زندگی  سے کھو گیا ہے...."  اس نے آنسو اپنے اندر ہی اتارنے کی کوشش کی 
 "ہمیں یقین ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوگا اللہ کی امان میں ہوگا. آپ لوگ بالکل فکر نہ کریں بس اس کے  لئے دعا کریں  میں بھی آپ کا بیٹا ہوں،  اور آپ کے ساتھ ہوں....." 
رحمتی، آنکھوں میں محبت اور آس کے جگنو سجائے ارباز کی بلائیں لے رہی تھیں.. یوسفے خالی نظروں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا.... پھر ارباز نے رحمتی اور یوسفے کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور کالج کے دروازے سے  اندر داخل ہو گیا....  رحمتی کو لگا سعد ابھی ابھی اس سے مل کر گیا ہے.... 
جب وہ لوگ گھر میں داخل  ہوئے سورج غروب ہو چکا تھا....... پہلی  دستک پر ہی رخسانہ نے دروازہ کھول دیا....  اس کے چہرے پر امید کی آڑی ترچھی لکیریں رقص کر رہی تھیں.   جو ماں باپ کے تاریک اور تھکن زدہ چہرے کو دیکھ کر لمحوں میں معدوم ہو گئیں.... ہر روز بھائی کے لوٹ آنے کی امید لے کر  وہ سحر سے پہلے ہی جاگ جاتی اور پھر دن بھر کے انتظار رائیگاں ہونے پر مایوسی کی چادر اوڑھ لیتی.....  ماں کا دکھ وہ جانتی تھی کہ کسی جوان اولاد کے اچانک  گم ہو جانے کا صدمہ کیا ہوتا ہے..  سعد نے جوانی کی عمر میں  پہلا قدم رکھا تھا.....  ابھی تو اس نے جینے کا آغاز کیا تھا، ......... ابھی اس نے دنیا ہی کہاں دیکھی تھی......؟  بارویں جماعت میں پڑھنے والے بچے کی عمر ہی کیا ہوتی ہے؟  اس کے پاس دنیا کا کون سا تجربہ ہوتا ہے؟  پھر بھی وہ ہمیشہ  ماں سے کہتا تھا 
کچھ  برس کی بات ہے اماں جی.....  جب میری تعلیم مکمل ہو جائے  گی،  میں اچھی سی جاب کرنے لگوں گا  تو ابا کو بھی محنت کرنے کی  ضرورت نہیں ہوگی..   ہم ٹاؤن میں  اپنا نیا مکان خرید لیں گے  پھر اپنی رخسانہ کی شادی کروائیں گے.......کتنے معصوم  سے خواب تھے اس کے..   وہ سارے خواب  خود سے محبت  کرنے والے  لوگوں کے حوالے  کر کے خود ان کی کائنات  سے گم ہو گیا تھا...  وہ کہاں تھا؟ کس حال میں  تھا؟ یہ اللہ کے سوا کوئی  نہیں  جانتا تھا......
"بیٹی..... کھانا کھا لیا تو نے؟" یوسفے کی کھردری آواز نے اسے  یادوں کے صحرا سے واپس حال کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا..... وہ حزن سے مسکرائی اور نفی میں سر ہلایا..    
"میں کھانا لگا رہی ہوں ابا. آپ لوگ دسترخوان پر بیٹھیں....." دسترخوان پر کھانے والے تینوں  افراد روٹی مشکل سے چبا چبا کر اندر کی سمت انڈیل رہے تھے.... پانچ مہینے سے ان کا یہی معمول تھا..   آدھا مکان جو کرائے پر  اٹھایا ہوا تھا وہی ان کی آمدنی کا  ذریعہ تھا،......  یوسفے  نے مکان کے آگے مٹھائی اور کھلونوں کی ایک دکان کھول رکھی تھی جس میں خوب برکت تھی مگر سعد کے گمشدگی کے بعد دکان بھی بند پڑی تھی اس کا سارا دن بیٹے کی تلاش میں  نکل جاتا،اور  واپسی پر وہ تھک کر سو جاتا..... 
بستر پر  جاتے ہی یوسفے کو نیند آگئی.  آج تو اس نے سونے سے پہلے بیڑی بھی نہیں  پی تھی..... رخسانہ کو بڑا اطمینان ہوا اسے بیڑی کی بو سے بڑی بیزاری محسوس  ہوتی تھی لیکن وہ باپ کے سامنے کچھ کہہ نہیں  پاتی تھی.. .. وہ فرش پہ بچھی دری پر لیٹ گئی..... رحمتی اپنے لحاف میں پڑی مسلسل چھت کو گھور رہی تھی...... رات کے سناٹے میں سڑک پر قدموں کی دھمک اس کے  دل پر  پڑتی تھی، اس کے لوٹ آنے کا انتظار آنکھوں میں بس گیا تھا..... رخسانہ اٹھ کر کمرے کے پیلے  بلب کو بجھانے کے لئے سوئچ کی طرف بڑھی
"بیٹی بلب مت بجھا....... مجھے اندھیرے سے وحشت ہوتی ہے... بلب جلتا رہنے دے....  میں  اس کا انتظار کر رہی ہوں" رخسانہ نے تاسف سے ماں کی طرف دیکھا اور گدڑی میں  دبک کر سو گئی
قدموں کی چاپ سڑک پر سے ہو کر گزر گئی تھی....  چند لمحوں  میں چاپ پھر ابھری... انسانی قدموں کی آہٹ بالکل پاس ہوتی جا رہی تھی.. کوئی چلتا ہوا دروازے کے پاس آکر ٹھہر گیا تھا.....  دروازے پر  بہت ہی مدھم سی دستک ہوئی....کسی نے لکڑی کے دروازے پر ناخن بجایا تھا
"رک.... میں دیکھتی ہوں. دروازہ میں کھولوں گی... سعد آگیا  ہے. سعد لوٹ آیا ہے..... یہ اسی کی دستک ہے.."   رحمتی لڑکھڑاتے ہوئے اٹھی مگر بستر اور دروازے کے درمیان ہی مٹی کے ڈھیر کی طرح ڈھہ گئی.. ہوا نے ایک بار پھر دروازے پر ہولے سے دستک دی....!!!!!!!!!!!

*ختم شد*
*میری ڈائری سے اقتباس*

یہ تنہائی کے عذاب لمحے..  مجھے  ہر پل ڈستے ہیں..  میں ہر پل مرتی ہوں..  مگر جب محبت میرے اندر دھڑکتی ہے تو لگتا ہے. میں زندہ ہوں.  میرے رگوں میں بھی  ایک نام دوڑ رہا ہے....

*زارا فراز*
یہ ہمدردی جتانے والے لوگ
نہ جانے کون سی زبان سمجھتے ہیں
جنہیں نہ محبت میں ڈوبے
الفاظ سمجھ میں آتے ہیں
نہ الفاظ میں ڈوبے درد
سمجھ میں  آتے ہیں ....
زارافراز
💐............ *عورت*............💐

عورت *عشق* کے *"ع"* سے شروع ہوکر
*وفا* کے *"و"* سے اپنا وجود سجاتی ہے
*سیرت* کی *"ر"* کی ردا اوڑھ کر
*محبت* کی *"ت"*  پر ختم ہوجاتی ہے

*زارافراز*

No comments:

Post a Comment