Monday, May 8, 2017

Zara Faraz

*نمبر :----24*
*عنوان:---- میرے تم*
*تحریر:---  زارا فراز*

تمہیں بتاؤں !! تم ہی میرا آئیڈیل تھیں۔  ہروقت ہنستی مسکراتی ،بےحد باتونی سی سارے ہاسٹل میں تتلی کی طرح اڑتی پھرتی مجھے تم عزیز تر تھیں۔  خدمت گزار،  ہمدرد طبیعت،  غم گسار، تھوڑی جذباتی، چنچل، شریرسی تم ہر ایک کی آنکھوں کا تارا تھیں  تم بے غرض دوستوں کو جس طرح چاہتی تھیں ویسے ہی غرض رکھنے والوں کے ساتھ پیش آتیں جب کہ تم حقیقت سے واقف ہوتی تھیں -
  ہائےوہ کیا ادا تھی تمہاری جب تم چہرہ پڑھ لیا کرتیں،سہلیاں تم سے نظریں چراتیں اور تم ان کے دل کا چور پکڑ لیتیں ان دنوں تم چہرہ اور آنکھیں پڑھنے میں بہت ماہر ہوا کرتی تھیں۔ تم ایسی کیوں تھیں؟ جس سے ملتیں فوراً دوست بنا لیتیں لوگوں کے دل میں اتر جانے کا فن بھی آتا تھا،ہاسٹل میں ہر گروپ کو تمہارا انتظار ہوتا  تم جس طرف سے گزرتیں بس ایک جملہ اچھال دیتیں تو لڑکیاں بے ساختہ قہقہہ لگاتیں  اور تم مسکرا کر رہ جاتیں -
شفق میڈم تک تمہاری باتوں سے محظوظ ہوا کرتیں وہ اکثر تمہیں اپنے کمرے میں بلاتیں جہاں صرف تم ہی جاسکتی تھیں۔   اگر ہیڈ سر سے کوئی اپیل کرنی ہوتی تو کلاس والیاں تمہیں ہی لکھنے کو کہتیں کیوں کہ تم الفاظ  کے انتخاب سے بھی واقف تھیں اور تم چھوٹی سی ایک فنکارہ بھی تھیں کتنی خوبصورتی سے کورے کاغذ میں رنگ بھرا کرتیں پھر کسی دوست کو تحفہ پیش کر دیتیں اور ہاں تم چپکےچپکے  لاکڈ ڈائری میں کچھ لکھا کرتی تھیں ایک دن طاہرہ میڈم تجسس میں تمہاری ڈائری پڑھ کر مسکرا پڑی تھیں کیوں کہ تم نےاس میں صرف خوبصورت لمحوں کو قید کر رکھا تھا۔۔۔
اور شریر لڑکی تم زاہدہ آپا کے ڈمپل پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کس طرح کھیلا کرتی تھیں۔۔۔
تم کیسی پھرتیلی تھیں ہر کام منٹوں میں نمٹا دیا کرتیں اور لطف بھی لیتیں
میں نااہل لڑکی سائے کی طرح تمہارے وجود سے چمٹی رہتی۔ کیا کہوں تم سے وابستہ یادیں تو بے شمار ہیں۔
مگر ایک روز جب تمہارے ہاتھ میں قسمت کی سند تھما دی گئی اس روز پہلی بار تمہیں اس قدرمایوس دیکھا تھا تم کس گناہ کی پاداش میں ماری گئی تھیں معلوم نہیں لیکن اس روز تم نے اپنے وجود کو ہی توڑ کر رکھ دیا پھر ہمیشہ کے لئے  کھو گئیں۔۔۔ 
میں نے بچپن، پڑھائی کا دور  عمر کے اٹھارہ برس تمہارے ساتھ گزارے ہیں
تم سے بچھڑے ہوئے آٹھ سال بیت گئے  لیکن میں  تمہاری طرح  کبھی نہیں بن پائی تم میرا آئیڈیل کل بھی تھیں آج بھی ہو۔۔۔
مجھے تمہارا انتظار ہے کہاں ہو
"میرے تم"…

؏۔۔۔ مجھے تم سے جدا رکھتا ہے اور دکھ تک نہیں ہوتا
میرے اندر ترے  جیسا یہ آخر کون رہتا ہے…........
*افسانہ :----*
*عنوان :----  کتابِ ذات کے دکھ*
*تحریر :------ زارافراز* 

داستان گو جانتا تھا۔ دنیا والوں کو سچائی نہیں بھاتی… افسانے اچھے لگتے ہیں۔ سو اس نے داستان کو تشبہات میں بدل کر کہانی یوں شروع کی……
اس قبیلے میں یہ رواج نسل در نسل چلتا آیا تھا۔ وہ اپنی قوم کی لڑکیوں پرآخری وقت تک حاکم رہتے تھے۔۔۔۔ قبیلے سے باہر نہیں جانے دیتے۔۔۔ تمام فیصلے ان کے ہاتھوں میں ہوتے۔۔۔  نادان لڑکیاں یہی سمجھتی آئی تھیں کہ ان کی تقدیر ان کا باپ ہی لکھتا ہے۔۔۔۔ اس بات سے انکار کرنے والی لڑکی گناہگار ٹھہرائی جاتی۔۔۔ ان کے بس میں ہوتا تو وہ اسے زندہ درگور کر دیتے۔ لیکن نہیں…  وہ انکار کرنے والی لڑکی کو اس سے بڑی سزا دینا جانتے تھے۔  
وہ اسی قبیلے سے تھی جہاں سپنے دیکھنے والی آنکھیں گروی رکھ لی جاتیں…  اس نے ابھی خواب سجانے کے ہنر بھی نہیں سیکھے تھے کہ اپنے مقدر کی اونچی فصیل کے پیچھے عمر بھر کے لئے قید ہو کر رہ گئی تھی۔
انا پرست،  منافق لوگ ایجاب کے مرحلے سے گزرے بغیر، اُسے زندگی بھر کی قید کا مژدہ سنا گئے۔ اس نے بہت سادہ لفظوں میں ماں جایوں کو پکارا تھا… لیکن وہ ہر پکار سے نا آشنا تھے۔ سو اس کی پکار اپنی ذات کے ہالے تک ہی محدود رہ گئی۔ 
سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔  ماں باپ اپنی اولاد کے حق  میں غلط فیصلہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔ اگر فیصلہ غلط ہو بھی جائے تو ان کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتی۔ وہ اس جملے کی سچائی میں اترنا چاہتی تھی۔۔۔ لیکن اس کی قوم کے تمام رواج دوسراقوام سے بہت مختلف تھے۔۔۔ قبیلے کی ساری لڑکیاں۔۔۔۔ سارے نوجوانوں سے منسوب ہو چکی تھیں۔ بس قبیلے کے سردار کا بیٹا جو شادی سے انکاری تھا، اچانک ہامی بھر بیٹھا۔  
اب وہ تھی۔۔۔ اور وہ شخص
وہ جانتی تھی اسے اسی شخص سے باندھا جا رہا ہے۔… انکار کی ہمت نہیں جٹا سکی۔۔ معجزے کے انتظار میں تھی۔۔۔  لیکن معجزے بھیہر جگہ رونما نہیں ہوتے اور اس کے  قبیلے میں تو ہرگز نہیں۔  
وہ دلہن بنا دی گئی۔ سہاگ کے گہنے پہنے وہ اپنے اندر نئی امنگیں پیدا کرنا چاہ رہی تھی۔ مگر نا کام تھی۔ اس نئے رستے پر اس کے خدشات، جذبات پر حاوی تھے۔ اس کا دل نہیں دھڑکا تھا۔ ۔۔۔بلکہ خون سرد ہو رہاتھا ۔ وہ اب اکیلی نہیں تھی۔ مجازی خدا کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ بھوکا شیرجھپٹ پڑا۔  وہ نازک سی لڑکی پریشان حال۔۔۔۔۔  ہوا میں اپنی ذات کا تحفظ ڈھونڈتی رہی۔ مگرطوفان کے زد میں اس کا وجود ٹوٹ کر بکھر گیا۔  
رات وہ سوئی نہیں۔۔۔۔  وہ پلٹ کر سو چکا تھا۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کرب  سے اپنے ہونٹ زخمی کر ڈالا۔ اس کا چھوٹا سا ذہن اب بالغ ہو چکا تھا۔اور وہ بے خبر سا، بے ترتیب کپڑوں میں طمانیت سے سو رہا تھا، غفلت میں اس کے منہ کے لعاب اس کے ہونٹوں پر آ کر جم گیا تھا۔ اس نے کراہیت سے رخ پھر لیا۔ اس کے جذبات گزرے لمحات کے کرب سے لہولہان تھے۔ وہ ایک رات میں کرب ذات کے تمام موسم سے گزر چکی تھی۔ جب اس کے کھردرے جسم کا لمس یاد آتا تو جھرجھری سی لیتی…  نہ جانے کون سی بیماری کے سبب، سارا جسم کھردرا اور داغ دار تھا۔ انگلیوں کی پوروں میں گندگیاں جمی ہوئی تھیں۔ پنڈلیوں تک عجیب بد نما سا پیر۔۔۔۔۔ جسم کے بوجھ سے خود اس شخص کی سانسیں پھول رہیں تھیں۔ سانسوں کی بو نے اس کے جی کو مکدر سا کر دیا تھا۔
اسے اپنے قوم سے نفرت اور اس شخص سے بیزاری محسوس ہوئی۔۔۔۔۔  وقت کے ساتھ سارے موسم اس پر بیت گئے۔ ۔ لیکن محبت کے سبز موسم کو اس نے کھو دیا تھا اس شخص کا مزاج بھی اس کی طبیعت سے میل نہ کھاتا تھا۔۔ وہ محبت کے لمس سے جس قدر نا آشنا تھا۔ وہ محبت کی طلب میں اسی قدر بیدار ہو رہی تھی۔  
وفا کے لفظ سے خالی لہجہ۔۔۔۔۔۔ محبت کے لمس سے محروم قربت……  ہاں پھر اس نے زندگی جنم دی تھی۔ 
کتابِ ذات کے صفحات الٹ کر دیکھتی تو کرب سے آنکھیں موند لیتی۔۔۔  ہر صفحہ،  ایک نیا عنوان لئے۔۔۔۔۔  اسے اپنے وجود کے اندر کھینچ کر زخمی کر دیتا ۔۔۔۔۔ کیا دکھ نہیں تھے اس کی کتابِ ذات میں۔ ٹوٹے ہوئے خواب، ادھوری خواہشیں، حسرتیں، یاسیت، محرومیاں، طلبِ محبت۔۔۔۔  اس درد میں ایک اور دکھ بھی شامل تھا
تین رتوں کے بعد۔۔…  چوتھے موسم کا دکھ۔۔۔   زندگی کےایک دسمبر نے۔۔  ایک معصوم زندگی کی جان لے لی تھی۔ یہ مہیب دکھ بھی اس کے مقدر میں لکھا تھا۔ 
ایک بار پھر اس نے زندگی جنم دی۔  اس بار قسمت سے شکایت نہیں تھی لیکن اب وہ تھک چکی تھی۔ ۔۔۔  
اب وہ فصیل کے اس پار کی تازہ ہوائیں لینا چاہتی تھی۔۔ ایک روز اس نے فصیل میں شگاف کیااور اس سفاک شخص کی دنیا سے نکلنے کے لئے قدم اٹھایا۔۔ تب اس ننھی سی کرن نے اس کی کلائی تھام لی۔ وہ اسے گود میں اٹھائی اور شگاف سے نکل گئی۔ ۔۔۔۔ باہر کی روشنی اندر کےحبس سے کہیں زیادہ تھی۔ اس روشنی میں اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اسے راستے کا رخ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ اور وہ بے سمت چل پڑی۔۔۔۔ تھوڑی دور چل کر واپس آئی شگاف میں ہاتھ ڈال کر کچھ تلاش کرنے لگی۔ پھر اندر اتر گئی کہ اس کا دل ادھر ہی اٹکا ہوا تھا
داستان گو اختتام پر تمام سامعین کا چہرہ دیکھتا ہے اور مطمئن ہو جاتا ہے۔۔۔ کیوں کہ اختتام ان کے توقع کے عین مطابق تھا۔۔۔۔
*افسانہ :------ 1*
*عنوان :------ امید کا ایک جگنو*
*تحریر :------ زارا فراز*

"سنا تھا محبت  بھیگا بھیگا سا  احساس  ہے. یہ احساس جب  دلوں کو گھیر لیتا ہے تو زندگی میں  نئے  خوشنما رنگوں کا ادراک ہونے لگتا ہے ..... خزاں کے موسم میں بھی بے برگ اشجار،  بہار کا سماں پیش کرنے لگتے ہیں.  اس میں منظر کا کوئی  قصور نہیں ہوتا...  ہماری آنکھیں  ہی انہیں  دل کی   نظر سے دیکھتی ہیں....  اور جب یہ آنکھیں  اس چہرے پر ٹھہرتی ہیں جس پر دل ہار چکا ہوتا ہے....  تو پل بھر میں کتنے ہی موسم بدلنے لگتے ہیں...  کتنے شوخ  لمحات ان  آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہیں...... تب ہمیں زندگی  بے حد حسین لگنے لگتی ہے......... " اس پل شاید وہ مسکرائی تھی...  بکھری  یادوں کا کوئی گلاب لمحہ اس کے خیالوں  سے گزرا تھا
" لیکن یہ محبت جب زخم  بن کر دل میں اترتی ہے  تو دکھ  دیتی ہوئی  ہمارے اندر  سے ساری امنگیں  ہی چھین لیتی ہے..  ہمیں مار ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی....  اگر زندہ رہ بھی جائیں تو جینے کا جواز چھین لیتی ہے.....   یہ  محبت بھی کمال کی شے ہے، مل جائے تو بہار... بچھڑ جائے توزندگی ہی ویران ہو جاتی ہے"  اس کا مشاہدہ وسیع تھا سو وہ بہت یقین سے محبت کے بارے میں پرسوز  گفتگو کر رہی تھی.  اسے اس کی دلچسپ باتیں اچھی لگتی تھیں_ وہ بڑے انہماک کے ساتھ اس کے ٹیکسٹ پڑھ رہا تھا
" سنو یہ محبت کی ابتدا تو زندگی میں بہت سی سوغات  لے کر آتی ہے...  مگر پھر ہمارے ساتھ دغا کیوں کرتی ہے؟  یہ ہم کو چھوڑنے سے پہلے توڑ کیوں  دیتی ہے...  یہ ہم کو مار دیتی ہے...... "اس کے ٹیکسٹ متواتر آرہے تھے
" تم نے کبھی محبت  کی ہے؟ " ایک  دم ہی اس نے بات بدل کر استفہام کیا تھا.  اس کے اس سوال پر وہ چونک گیا
"یہ کیفیت تو اب تک مجھ پہ طاری نہیں ہوئی... "وہ سچ کہہ رہا تھا یا جھوٹ ابھی اس بات کا فیصلہ خود وہ بھی نہ کر پایا تھا
" بڑے خوش نصیب ہو تم...... یہ  درد...  یہ اذیت نہیں جھیلی..... " اس نے حسرت سے کہا
" ضروری نہیں کہ محبت ہر کسی کو درد ہی دے....  مجھے امید ہے یہ جب بھی ملے گی مجھے شادمانی بخشے گی"  جواب سینڈ کر کے چند لمحے وہ اس کے اگلے میسج کا انتظار کرتا رہا مگر وہ آف ہو چکی تھی...  پھر وہ خود بھی سسٹم سے اٹھ گیا..
شمائلہ احتشام اس کی قلمی دوست تھی.... مگر ایک  طویل عرصے  بعد دوبارہ فیس بک پر رابطہ ہوا_ لیکن یہاں تو اذہان تابش اسے ایک نئے روپ میں دیکھ رہا تھا. پہلے پہل تو اسے یقین ہی نہ آیا کہ وہ اس کی پرانی دوست شمائلہ ہے.. وہ  شمائلہ احتشام  جو ایک شوخ چنچل اور باتونی سی  تھی اب   اس کے لہجے سے  وہ ساری ادائیں روٹھ چکی تھیں.  جس کا وہ گرویدہ تھا....  اب وہ اس کی سنجیدہ اور مضمحل باتوں پر غور کرنے لگا.....  اس نے جو کچھ بھی اسے بتایا اسے ان باتوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا...   شمائلہ کے لہجے میں صرف سچائی کی گونج تھی  پھر وہ کیوں تنہائیوں سے تکرار کر رہا تھا...  عمر میں پہلی بار اس نے  خود کو  بہت مضمحل و بے قرار پایا.... اس کی آنکھیں  بے سبب  ہی گیلی ہوتی جا رہی تھیں...  نہیں بے سبب  نہیں بلکہ  شمائلہ کا   غم اس کے اپنے وجود پر طاری ہو گیا تھا...  مگر وہ تو مرد تھا اور مرد کو آنسو زیب نہیں دیتے اس نے بے دردی سے شرٹ کی آستین سے چہرہ اور آنکھیں رگڑ ڈالیں..  وہ بستر پر تھا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور.....  وہ اٹھ کر ٹیرس پر چلا آیا....  زمستاں کی یخ رات سارے  علاقے میں پھیلی ہوئی تھی..  ایک مہیب سناٹا تها جو ماحول کو وحشت زدہ کر رہا تھا.  مگر اسے کب ارد گرد کی خبر تھی  وہ  بس ایک بے نام سے احساس تلے سلگتا رہا..  وہ حساس تھا..  سو اس کے لئے یہ واقعہ  غیر اہم نہ ہو سکا..  وہ پوری  شدت سے اس کے درد کو محسوس  کر رہا تھا.  پھر کب وہ بھی اس کہانی کا حصہ  بن گیا... خود بھی نہیں جان پایا.....
اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک ایسے رزم گاہ سے لوٹی ہے جہاں اپنی متاع محبت لٹا کر بھی معرکے ہارتی گئی  ..  جہاں سے واپسی پر وہ بالکل تہی دامان ہو  چکی تھی.....  کتنی خالی تھی وہ....  یہ دکھ اس کے حصے میں کیوں آیا تھا کون اس درد کا سبب بنا تھا؟
شمائلہ نے اس سے کُچھ نہیں چھپایا تھا.....  پہلی بار وہ جملوں کو کوئی حسن دیے بغیر اپنی داستان، ٹیکسٹ کے ذریعہ اس کے گوش گزار کرتی چلی گئی......  وہ حیران پر حیران ہوتا جا رہا تھا اتنا کچھ اس پر بیت گیا مگر یہ ٹوٹی ہوئی لڑکی اسی ازلی  اعتماد کے ساتھ آنکھیں ملا کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے
"اس رات زندگی نے عجب کھیل کھیلا  میرے ساتھ....... ساڑھے گیارہ بجے رات میں لفٹ میں داخل ہوئی پانچویں منزل تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگ گئے...  جب تک میں اپنے فلیٹ تک پہنچتی ایک قیامت مجھ پر آ کر ٹھہر چکی تهی...... "
اس نے ٹھہر کر میسج کا سلسلہ پھر سے جوڑا "صرف تین گھنٹے لگے تھے زندگی کا نقشہ بدلنے میں...  گراونڈ فلور سے اوپر آتے وقت تو لفٹ ٹھیک تھی مگر دوسری اور تیسری منزل کے درمیان آ کر اچانک اٹک گئی میں  نے بیتابی سے لفٹ کے سارے سوئچ دبا ڈالے لیکن لفٹ ٹس سے مس نہ ہوئی.  عبداللہ بھی ایک دم پریشان ہو گیا وہ بھی لفٹ کا دروازہ کھولنے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا لیکن فولادی دروازہ نہ کھل رہا تھا اور نہ ٹوٹ رہا تھا.  ہاں... اس رات میرے ساتھ عبداللہ بھی لفٹ میں داخل ہوا تھا میری  اور اس کی  منزل ایک تھی اس کا آبائی گھر دوسرے گاؤں میں تھا یہ فلیٹ  اس کا عارضی قیام گا تھا اس لئے میں اسے لفٹ میں ساتھ آنے پر   منع نہ کر سکی چند لمحے لگنے تهے پانچویں منزل کا سفر طے  کرنے میں، مگر ہمیں نہیں معلوم تھا کہ لفٹ اس طرح خراب ہو جائے گی اور ہم دونوں یوں پھنس جائیں  گے.  اس نے اپنا موبائل  نکالا اور کہا  "اوہ شٹ ! بیٹری  ڈاؤن ہے  محترمہ  آپ  اپنے فون سے گارڈ انکل کو فون کریں..." میں نے پرس چیک کیا تو خیال آیا میں اپنا موبائل نیچے پھوپھی کے فلیٹ پہ  ہی چھوڑ آئی تھی.  میں اب  گھر والوں کو بھی  فون نہیں کر سکتی تھی.  عبد اللہ بہت دیر تک سامنے کے فلیٹ  والوں اور گارڈ انکل کو پکارتا رہا مگر اس رات سارے لوگ سوئے  نہیں مر گئے تھے شاید...... جنہیں عبداللہ کی آواز سنائی  نہیں دے رہی تھی. میں گھبرا کر رونے لگی.  تین گھنٹے بعد کسی طرح گارڈ انکل تک لفٹ کی خرابی کی خبر پہنچی، وہ دوڑتے ہوئے لفٹ تک آئے پھر دیکھتے ہی  دیکھتے سارے فلیٹ والے جمع ہوگئے لفٹ کا دروازہ توڑا گیا اور ہم دونوں  کو باہر نکالا گیا.... مجمع میں میرے گھر والے بھی تھے اور  شہام کے گھر والے بھی،   شہام بھی  ان کے درمیان نظر آیا اسکے ہاتھ میں میرا موبائل تھا میں روتی ہوئی  اپنے بھائی کے سینے سے جا لگی..  مگر ہر کسی کی نگاہیں خشمگیں تھیں...  ہر  کوئی ہمیں ایسی نظر سے دیکھ  رہا تھا جیسے چند ساعت پہلے ہم سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو گیا ہو اور یہ تمام نگاہیں اس کی شاہد ہوں...  عبداللہ لوگوں سے پریشان لہجے میں تین گھنٹے کی روداد سنا رہا تھا.  مگر اس کی بات کی سچائی بس اس کے چہرے پر رقم تھی جسے پڑھنے کا  فن شاید ان کم فہم لوگوں میں  نہیں تھا...  سب سے زیادہ نا فہم تو شہام نکلا جس نے اگلے روز میرے منہ پر منگنی کی انگوٹھی یہ کہہ کر مار دی .....  شمائلہ! میں نے تمہیں کیا سمجھا اور تم کیا نکلیں..  میں نے اتنی شدت اور  سچے جذبوں کے ساتھ تم سے  محبت کی، تم نے میرے جذبات کو مجروح کیا مجھے اتنا بڑا دھوکا دیا تمہیں ایسا کرتے ہوئے ہماری پانچ سالہ محبت یاد نہ آئی..  تم جیسی بے غیرت  بے حیا لڑکی میری محبت کے قابل نہیں ہو سکتی.....
میں صدمے کی کیفیت سے اس وقت جاگی جب شہام میرے کمرے سے ہی نہیں میری زندگی سے بھی جا چکا تھا ان  بے جا الزام اور تہمت،  جس کی حقیقت سے میں اس وقت متعارف ہوئی جب پورے  خاندان اور فلیٹ والوں کو میری منگنی ٹوٹنے  کی وجہ معلوم  ہوئی........ " بے ربط ٹائپنگ..  منتشر جملے..  بکھرتے الفاظ.....  شاید لرزتی انگلیوں  کی داستان بیان کر رہے تھے
تھوڑے توقف کے بعد پھر اس نے  ٹیکسٹ کرنا شروع  کیا
"بہت دیر کے  بعد مجھے شہام کی بے اعتباری کے بے دریغ اسباب  کا ادراک ہوا.......  کتنا کمزور تھا ہماری محبت کا بندھن زرا سی بد گمانی ہوئی اور ٹوٹ گیا.....  یا  شاید میری محبت اس کے  اعتبار کو کبھی چھو ہی نہ پائی تھی..... "  اس لمحے، اذہان کو  شمائلہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا محسوس  ہوا..  وہ خاموشی سے  اس کے پیغامات پڑھ رہا تھا مگر کوئی  انجانا سا احساس اسے اپنی گرفت میں لینے لگا  وہ خود کو سنبھالنے کی  مسلسل سعی میں  بالکل شمائلہ  کی طرح کرچی کرچی ہو کر بکھرتا جا رہا تھا.  ایسا نہیں تھا کہ وہ بہت کمزور لڑکا تھا بس اس کا درد ہی ایسا تھا کہ وہ خود پر ان عذاب لمحوں کو گزرتے ہوئے محسوس کر رہا تھا
اذہان اس کے اگلے میسج کا انتظار کرنے لگا. وہ میسج ٹائپ کر رہی تھی....
"اذہان...  کوئی شہام کی طرح   ایک پل میں سچی محبت سے دستبردار ہو سکتا ہے....؟  " کتنا بے یقین سا سوال تھا ... وہ جواب کیا دیتا نفی میں سر ہلا کر رہ گیا..   اس کا جواب نہ پا کر اس نے   اپنی بات پھر سے شروع  کی..
"ہشام نے تو مجھے اپنے دفاع کے لئے ایک موقع بھی نہیں  دیا..  اور پل بھر میں قیامت خیز فیصلہ سنا گیا...  شہام نے کب مجھ سے محبت کی تھی وہ تو میری صورت،  میرے جسم سے محبت کرتا تھا...  میں جس رات تین گھنٹے کے اس پریشان کن اور ناگہانی سانحے سے لوٹ کر فلیٹ تک پہنچی تھی وہ رات میرے پیچھے ایک  قیامت خیز کہانی لئے کھڑی  ہو گئی..  میں نہیں جانتی یہ بات لوگوں میں کس نے پھیلائی تھی اور کیوں کر.....  لیکن ایک شریف لڑکی کے دامن پر حرف آگیا  جس نے پھر مجھے کہیں کا بھی نہیں چھوڑا اپنوں کی نگاہوں میں بھی بے اعتمادی صاف جھلکتی تھی.  ایسے حالات میں  ایک شخص تھا جو میری پاکبازی  کا سچا گواہ تھا اس  نے میری طرف  اپنا ہاتھ بڑھایا میں اس وقت یہ  نہیں جانتی تھی  یہ ہاتھ ہمدردی کا ہے یا چاہت کا.  مگر میں نے وہ ہاتھ تھام لیا  کہ انکار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا،  تمام اعتراضات  کے باوجود بھی عبداللہ نے مجھے اپنایا مجھے  پناہ دی،   چاہت ،  مان...  کیا کچھ نہیں دیا  سب سے بڑھ کر جو اس نے عنایت کی تھی  وہ محبت تھی..  مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور  تھا.  میرے سکھ کے دن بہت تھوڑے تھے اور  عبداللہ  کی زندگی.............. "
"آہ...." اذہان کے ہونٹوں پر کرب میں ڈوبی ایک آہ تھی اس کی آنکھیں بے طرح سرخ  ہو رہی تھیں... 
"شمائلہ کس طرح گزری  ہوگی ان قیامت خیز لمحوں سے، کیسے خود کو سنبھالا ہو گا ان اداس لمحوں میں.... 
شمائلہ  اس کے سامنے نہیں تھی مگر وہ سمجھ سکتا تھا اپنی داستان رقم کرتے ہوئے وہ کتنی بار ٹوٹتی بکھرتی اور پھر  خود کو سمیٹتی جا رہی ہے...جملے کی بے ترتیبی اس کی کیفیت  بیان کر رہی تھی.
"کہتے ہیں....  محبت زندگی میں بس ایک بار ہوتی ہے....  شہام سے میری محبت کچھ ایسی ہی تھی....کچی عمر کی نوخیز محبت.......  میں سمجھتی تھی اس کے بغیر جینا نا ممکن ہے اور وہ بھی تو مجھے بے انتہا چاہتا تھا اس کی چاہت نے مجھے اس کے سوا کبھی کچھ سوچنے نہ دیا لیکن زرا سے  امتحان نے مجھے اس کا اصل چہرا دکھا دیا.. اس کی   محبت کی سچائی سمجھ آگئی .....  میں تب بہت روئی،  جس پہ میں آنکھیں بند کر  کے اعتبار کرتی تھی.   میں اس کے اعتبار کی حد میں کہیں تھی ہی نہیں....  شاید میں اس وقت ٹوٹ کر بکھر جاتی، اگر عبداللہ نے مجھے نہ تھاما ہوتا.........  جب عبد اللہ کی محبت سے لبریز  پہلا، پاکیزہ بوسے کا لمس میرے ماتھے پر چاندنی بکھیر رہا تھا اس وقت میرے وجدان نے میری سماعت سے شرگوشی میں ایک بات کہی. تب میں نے اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھا شہام میرے اندر...  دور تک کہیں نہیں تھا...  میری رگوں میں صرف عبداللہ کی محبت گردش کر رہی تھی.  میں اس لمحے زرا بھی حیران نہیں ہوئی کیوں کہ شہام کی محبت سے یہ محبت کہیں زیادہ پاکیزہ اور  حقیقی تھی....  اس رات میں نے اپنے دل میں پورے یقین سے اعتراف کیا کہ مجھے زندگی  میں دو بار بڑی شدتوں سے محبت ہوئی.  ایک نے میرے دل کو  برباد  کیا اور ایک نے میرے دل کو آباد کیا......  جس نے آباد کیا اس نے مجھے حوصلہ دیا، جینے کے ڈھنگ سکھائے  مگر خود زندگی سے ہار بیٹھا..... " اس کے بعد ایک طویل خاموشی تھی اذہان دیر تک ٹیکسٹ کا انتظار کرتا رہا پھر خود ہی میسج کیا...
" عبداللہ کی موت کا سبب کیا تھا شمائلہ؟ "
" موت کا کوئی سبب نہیں ہوتا دوست" اس نے تلخی سے کہا
"مگر وہ طبعی موت نہیں مرا ....  اسے مارا گیا تھا.  اگر اس کی موت طبعی ہوتی تو شاید صبر کر لیتی .." اس میسج کو پڑھ کر جانے کتنے ہی پل اذہان شاکڈ سی کیفیت  سے گزرتا رہا جب وہ اس کیفیت  سے باہر نکلا  شمائلہ آف لائن ہو چکی تھی..  اب کل تک اسے اس کا بے صبری سے انتظار کرنا تھا...
دوسرے دن شمائلہ جب آن لائن آئی اسے اپنا منتظر پایا....  "وہ مارا گیا تھا؟  کیوں آخر؟" فورا ہی اسے ٹیکسٹ بھیجا
"زر،  زن،  زمین کی لڑائی  تو ازل سے ہی چلتی آرہی ہے...  اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک ایسی لڑکی کو سماج میں وہ  عزت دلائی تھی جو اسی کی وجہ سے زمانے بھر میں رسوائی جھیل رہی تھی،  وہ لڑکی جس کے ساتھ تین گھنٹے کے بےضرر سے ساتھ نے اس کے دامن سے تہمتیں باندھ دی تھیں... اس نے زندگی بھر کے لئے اسے ہم سفر چن کر زمانے کا منہ بند کرنا چاہا، اسے اس کی عزت...اس کا مان لوٹانا چاہا تھا...   سو اس بار رزم گاہ_محبت میں اسے ہی  شکست دینے کی چال چلی گئی ...   جب اس نے مجھ سے نکاح کر لیا تو تین ماہ کے بعد اسے قتل کر دیا گیا..... " یہ سب ٹائپ کرتے ہوئے  وہ پھر گزرے ہوئے عذاب لمحوں میں جینے لگی تھی. آنسو چھلک پڑے تھے 
" اسے شہام نے قتل کیا تھا؟ "
" نہیں.... "
" تو پھر کس نے"
"اس کے  ماں جائے نے"
اذہان ایک دم ہی خاموش  ہو گیا....  وہ اتنا نادان بھی نہیں تھا کہ نہ سمجھتا اسے کیوں قتل کیا گیا...  بھلا سماج میں ٹھکرائی ہوئی لڑکی عزت کی زندگی اور سکھ کی سانس کیسے لے.....
"قتل کے بعد بھی اسے کے ماں جائے کو قرار نہیں تھا.  میں نے عدت کے ایام اسی گھر میں گزارے،  جہاں عبداللہ کے  بازو،  اور محبت  کا حصار میرے لئے محلوں کی فیصلوں سے کہیں زیادہ مضبوط تھے..  مگر اسکے بعد میری  ذات کے تحفظ کے  سارے حصار ٹوٹ گئے .  میں اب آتش نمرود کے زد میں تھی...  وہ رات عبداللہ کے گھر پہ میری آخری رات تھی اگر وہ رات میری زندگی کی آخری شب ہوتی اور میں اس گھر سے نہ بھاگی ہوتی  تو شاید مجھے اس رات پامال کر کے  قتل کر دیا جاتا ....  " اس نے سسکیاں لیں..  اذہان کی  آنکھیں  ضبط کے باوجود  بھی سرخ تھیں. وہ خاموشی سے  ہونٹ بھینجے میسجر پر  اس کے غم حالات پڑھتا جا  رہا تھا.....  شمائلہ پر جو کچھ گزرا وہ اس کی سوچ سے کہیں آگے تھا.
" اس رات کیا ہوا تھا..  کیا ہونے والا تھا یہ میں بہت دیر سے سمجھی.  خوب صورت ہونا بھی کبھی کبھی بڑی مصیبت بن جاتا ہے... کاش میں بد صورت ہی ہوتی اس امتحان سے گزرنے سے بچ جاتی.  مگر ہونی کو کون ٹالے .. اس رات  میں کمرے میں اکیلی سو رہی تھی، بہت ہلکی نیند میں تھی زرا سی آہٹ پر آنکھ کھلی  کوئی ہیولٰی سا مجھ پر جھکا ہوا تھا.  اتنے قریب... کہ میں اس کی سانسوں کی بو بھی سونگھ سکتی تھی میں نے نفرت اور کراہت سے اسے ایک طرف دھکیلا... جب اندھیرے میں  اس کا چہرہ پہچان میں آیا  میں اس لمحے بے یقینی کی کیفیت  میں تھی، وہ عبداللہ کا بدطینت  بھائی تھا.  میں وحشت زدہ انداز میں چیختی جا رہی تھی اور بھاگتی جا رہی تھی.  میں کہاں جا رہی تھی یہ خود نہیں جانتی تھی.  جب تک میں اپنے بھائی کے گھر تک پہنچتی،  اس سے پہلے ہی مجھے تہی دامان کر کے گھر سے نکالنے والے میرے بھائیوں کو یہ خبر پہنچا دی گئی جس نے میرے قدموں تلے سے زمین اور سر سے ہمیشہ کے لئے آسمان چھین لیا.......  میرے بھائی کا ایک ایک جملہ تلوار بن کر دل میں اتر گیا  میں زخم زخم ہو کر ان کے دروازے سے بھی پلٹ آئی.....  ایک اور جھوٹ..  ایک اور الزام..  ایک اور تہمت....  عبداللہ کے بے ضمیر بھائی نے میرے بھائی،بھاوج سے یہ کہہ دیا کہ رات شمائلہ اپنے کسی آشنا کے ساتھ گھر سے غائب ہو گئی ہے..  آخر اسے بھی تو انتقام لینا تھا کیوں کہ پچھلی شب وہ اپنے ناپاک ارادوں میں نا کام ہو گیا تھا...... اس کی شاطر چالوں کی وجہ کر اپنے ہی بھائیوں  کے گھر میں میرے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی.   میں بے ارادہ بے سمت چلتی گئی..  کب تک چلتی رہی کہاں تک پہنچی یہ جاننے سے میرا ذہن قاصر تھا.  میں دھیرے دھیرے  عالم و مافیہا  سے بے خبر ہوتی گئی..  شاید بے ہوش ہو گئی تھی"   اذہان اس کی داستان سن کر غم و غصے سے کانپنے لگا.  اس کی پیاری سی دوست  شمائلہ پر کیا کچھ بیت گیا تھا اور وہ یہ دکھ اکیلے جھیل رہی تھی  خود اپنی ذات کی بکهری کرچیاں سمیٹنے کی سعی کرنے کے اس عمل میں وہ اپنا اصل روپ ہی بھول گئی تھی.  فون پر اس کی شیشے  جیسی  شفاف ہنسی کی جھنکار..  کھنکتی آواز...  اور شریں لہجہ...  بڑے ترتیب سے تراشے الفاظ میں اس کی گفتگو....  سب کچھ گم ہو گیا تھا کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا......  وہ مسلسل سوچے جا رہا تھا اور پھر ایک فیصلے کو پہنچا
"تم اس وقت کہاں رہتی ہو" اس نے اپنا ایڈریس بتایا اور کہا کہ ویلفیئر اسکول میں معلمہ ہوں  مناسب تنخواہ پر اپنا خرچ نکال لیتی ہوں اور  ایک روم میٹ کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لیا ہوا ہے 
"سنو شمائلہ مجھے محبت ہو  گئ ہے"
کس سے؟ "بہت عام سے لہجے میں پوچھا
پرسوں شام تمہارے ایڈریس پر آرہا ہوں مل کر بتاوں گا...."  اس نے اس کا آخری ٹیکسٹ پڑھ لیا تھا مگر جواب دئے بغیر ہی آف ہو گئی.....
وہ اپنے وعدے پر تیسرے روز اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا..  شام کا وقت،  گلی بالکل سنسان تھی.... "شاید ان گلیوں میں شام بہت جلدی اتر جاتی ہے" سوچتے ہوئے اس نے دروازے پر دستک دی ایک لڑکی باہر آئی  جس کی آنکھوں میں نا آشنائی تھی
"شمائلہ  احتشام " اس کے  منہ سے ابھی اس کا نام ہی نکلا تھا کہ وہ دوڑ کر اندر گئی اور  ایک پرچی لا کر اسے تھما دی
" شمائلہ یہ کمرہ چھوڑ چکی ہے، اس نے یہ خط مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ  اگر کوئی مجھے ڈھونڈتے ہوئے آئے تو اسے  دے دینا. " اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ لڑکی اندر چلی گئی-
اس نے بیتابی سے رقعہ کھولا
" میں جانتی ہوں اذہان تم مجھ  سے ملنے ضرور آؤ گے  کیوں کہ میں نے یہ صاف محسوس کیا ہے کہ میری داستان سن کر تمہیں  مجھ سے ہمدردی ہو گئی ہے.  بعید نہیں کہ  تمہیں محبت ہو جائے.  مجھے تمہارے حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں ہے مگر جب جذبے آنچ دینے لگیں تو دوسری شے کو  جلا نے لگتے ہیں.   میں تم سے روبرو ہو کر بات کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی. کیوں کہ  عبداللہ  کے علاوہ  میری زندگی میں  اب کسی کی  گنجائش نہیں نکلتی.  اس کی محبت  میرے لئے عظیم دولت تھی اب اس کی یادیں ہی میرے لئے سرمایہ حیات ہیں.  میں خود کفیل ہوں جب تک زندگی ہے اعتماد کے ساتھ جی سکتی ہوں ......  اللہ تمہں ہمیشہ شاد رکھے"
ایک بے ربط و بے نظم   تحریر،  جو کبھی بھی اس کی طرز تحریر میں شامل  نہیں تھی... مگر تحریر اسی کی تھی.
وہ اس کے یوں  یقین، بے یقینی پر حیران رہ گیا شمائلہ  کو اس کے  آنے کا یقین بھی تھا  خاموش محبت کا ادراک بھی..  پھر بھی  وہ ان سلگتے جذبوں سے دامن بچا کر گریزاں تھی ایک سچی اور بے ریا محبت سے بھاگ رہی تھی...  وہ یہ نہیں جانتی تھی اگر اس بار اذہان نے اسے نہ تھاما تو وہ  اس دوڑ میں  پھر سے کرچی کرچی ہو کر بکھر جائے گی... اب کے زمانے سے مات کھائی تو پھر جی بھی نہ پائے گی......
گلی میں رات کا سایا پھیل رہا تھا ہر طرف سناٹوں کا راج ماحول کو غم ناک بنا رہا تھا ایسا ہی ایک مہیب سناٹا اذہان کے اندر زینہ در زینہ اترنے لگا.
ایک اور محبت،  منزل تک پہنچ کر ناکام لوٹی تھی ایک اور دل، نارسائی  کے احساس تلے ڈوبتا جا رہا تھا....   سنہری امیدوں کا ایک اور  چراغ بجھ گیا تھا....  مگر دو آنکھیں تھیں جو اندھیرے میں اس کے نقش پا دھونڈتے ہوئے انجانی  منزل کی طرف بڑھ رہی تھیں .....

ختم شد
*افسانہ :---- 2*
*عنوان :--- "شریک حیات"*
*تحریر :-----  زارافراز*

رمضان کا تیسرا عشرہ، آخری جمعہ کے دن حذیفہ بہت خوش تھا۔  میس میں جانے کے بجائے کمرے میں ہی سحری کی اور طوبیٰ کو فون کیا۔  وہ اس کے عمرہ کے سفر پر خوش تھی مگر اس مقدس سفر میں اس کے ساتھ نہ ہونے کا ملال بھی تھا۔ جس کا اظہار بھی  اس نےکیاتھا۔  حذیفہ نے اسے سمجھایا اور کہا " انشاءﷲ ائندہ ساتھ ہی عمرہ کریں گے " پھر طوبیٰ کی بہت ساری دعاؤں کے ساتھ بس پر سوار ہو گیا۔ اس کے ساتھ اس کے اور بھی تین ساتھی تھے۔۔  وہ لوگ مسجد عائشہ پہنچے.  احرام باندھ کر نماز ادا کی اور عمرہ کی نیت کی اور بس پر سوار ہو کر حرم کی طرف روانہ ہوئے۔ , اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔  احکم الحاکمین کے دربار میں حاضری دینے کا وقت تھا۔۔۔  اپنے گناہگار وجود کے ساتھ وہ رب کی بارگاہ میں سربسجود ہونا چاہتا تھا.
مسجدِحرم کے صحن پر قدم رکھتے ہوئے اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔  سلیپر اتار کر شاپر میں رکھا۔  اور نظر جھکائے قدم بڑھاتا ہوا خانہ کعبہ کے بالکل پاس پہنچا اورآہستہ سے نظر اٹھائی.  پھر وہ نظر جھکانا ہی بھول گیا. ایسا جاہ وجلال۔۔۔  ایسی رحمتیں اتر رہیں تھیں بیتﷲ پر۔۔۔  وہ بے خود سا ہو گیا۔  پہلی نظر میں مانگنے کی دعا بھی بھول گیا۔  دعا کے لئے ہاتھ اٹھے ہی رہ گئے۔ پہلی نظر کی اس محبت نے حذیفہ کو نور  سے نہلا دیا۔  اس نے عمرے کے ارکان ادا کئے،  طواف کے بعد  قبلہ رخ ہو کر زمزم پیا،  صفا مروا کی سعی  کی، پھر دو رکعت شکرانے کے نفل پڑھ کر بہت دیر تک دعائیں مانگتا رہا،  روتا رہا، زندگی میں اس قدر وہ کبھی نہیں رویا  تھا۔۔  مگر آج بچوں کی طرح روتا رہا  ۔   اپنے اعمال پر دل سے نادم تھا   سچے دل سے توبہ کی۔  پھر بیوی بچے اور ماں باپ رشتےداروں کی لئے دیر تک دعائیں مانگتا رہا۔ 
اس کے ساتھی فارغ ہو چکے تھے۔  بس حلق کرنا باقی رہ گیا تھادوست بار بار اسے اشارہ کر رہے تھے انہیں عصر کے بعدوہاں سے نکلنا تھا۔  افطار بھی بس میں کرنا تھا ۔۔  مجبوراً اسےدعا مکمل کرنی پڑی۔  وہ اٹھا،  ایک الوداعی نظر بیتﷲ پر ڈالی اور آہستہ روی کے ساتھ مسجد حرم کے صحن کو عبور کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ حلق کروانے کے بعد سب نے احرام اتار دیئے تھے۔۔  مگر خذیفہ نے کہا میں اب کمرے میں جا کر ہی احرام اتارونگا۔  سارے لوگ عصر کی نماز پڑھ کربس پر سوار ہوئے۔ بس تیز رفتاری کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہی تھی سارے لوگ مطمئن تھے مگر اچانک ہی ایک درد ناک واقعہ رونما ہو گیا۔۔  ٹرن لیتے ہوئے،  پیچھے سےآتی تیز رفتاری بس کی ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کھلونے کی طرح الٹ گئی ۔ دوساتھی موقعے پر ہی جاں بحق ہو گئے باقی سواریوں کوشدید چوٹ آئی تھی۔۔۔۔۔  حذیفہ بیہوش تھا۔  انتظامہ نے اسے ہاسپٹل میں داخل کیا اور اس کی کمپنی میں خبر کر دی۔  کمپنی نے اس کے گھر حادثے کی خبر دی۔۔۔۔  کمپنی خود اپنے ذمہ پر اس کا علاج کرا رہی تھی۔  مگر ایک ماہ کے مسلسل علاج کا کوئی اثر نہیں ہوا۔  حذیفہ اب بھی بیہوش تھا۔آخر کمپنی نے اسے واپس اس کے ملک بھیج دیا۔  میڈیکل سہولت کے ساتھ اب وہ اپنے شہر کے ہسپتال میں منتقل ہو چکا تھا سر میں شدید چوٹ آئی تھی جس کی وجہ کر وہ قومہ میں چلا گیا تھا ناک میں پائپ کے ذریعہ سے کھانا اور دوا دی جاتی۔۔۔ 
پندرہ دن ہسپتال میں رکھ کر ڈاکٹرز نے علاج کیا لیکن افاقہ نہیں ہوا ۔۔  آخر ڈاکٹر نے ڈسچارج کر دیا۔۔۔  حذیفہ کا ساکت وجود اب گھر کے اس کمرے میں تھا جہاں اس کی زندہ دلی کی کئی داستانیں وابستہ تھیں-

طوبیٰ اپنے سارے کام نمٹا کر واپس کمرے میں آئی، دروازہ بند کیا اور خاموشی سے مصلی بچھا کر نماز ادا کی اور پھر دیر تک دعائیں مانگتی رہی۔  پھر اٹھ کر اس کے بیڈ کے پاس آئی.... ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر نرمی سے اس کا ہاتھ  تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔۔
"حذیفہ…… " اس کی پکار پر ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھوں کی پتیلی میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی۔۔  پھر ساکت ہو گئ۔ 
"حذیفہ۔۔…  آپ سن رہے ہیں نا مجھے ... آپ کی خاموشی مجھے اچھی نہیں لگتی۔  مجھ سے بولتے کیوں نہیں۔۔۔  میرے کان  آپ کی آواز کو ترس گئے ہیں۔۔  یہ کمرہ آپ کے قہقہوں کا منتظر ہے۔  ۔۔۔  مجھے یاد ہے حذیفہ  تین سال پہلے جب میں پہلی بار اس کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔  پھولوں سے سجا یہ کمرہ صرف آپ کے وجود سے مہک رہا تھا۔۔۔۔ آپ نے مدہوش سی کیفیت میں میری کتنی تعریف کی تھی۔۔۔۔  اب کیوں نہیں کہتے۔۔   "۔۔  آنسو اس کے رخسار پر ڈھل کر حذیفہ کا چہرا بھگو رہے تھے۔
"میرے محبوب آپ تو بہت باتونی تھے۔۔   بات بات پر قہقہہ لگانے والے ،  ہر بات شیئر کرنے والے اتنے خاموش ہو گئے  کہ اپنی  جانِ حیات سے اپنا درد بھی بیان نہیں کرتے۔   آپ کو کہاں چوٹ آئی ہے…  کہاں پہ درد ہو رہا ہے…؟ "
وہ بیتابانہ اس کا جسم ٹٹولنے لگی۔۔  جیسے سارے درد سمیٹ لینا چاہتی ہو۔۔  پھر سسکنے لگی۔ "حذیفہ ایسی کیا بیگانگی۔۔۔  مجھے بھی نہیں بتائیں گے۔۔  میں نہیں جان پاتی کہ کب آپ کو بھوک لگتی ہے، کب پیاس لگتی ہے،  کب حاجت ہوتی ہے۔۔۔۔۔" کسک اس کے لہجے میں تھی
وہ اس کے سینے پر سر رکھ دیتی۔۔۔۔
پھر سنبھل کر سر اٹھاتی
"مجھے آپ سےمحبت جیسے پہلے روز تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔۔۔  میں آپ کی زندگی سے مایوس نہیں ہوں۔۔  لیکن میرے سوا گھر اور خاندان کے لوگ مایوس ہو چکے ہیں مجھے ان کی مایوسی بالکل اچھی نہیں لگتی۔   آج میرے ابو آئےتھے مجھے لینے۔۔۔   بول رہے تھے میری بیٹی بالکل خاموش سی ہو گئی ہے شایدتھک گئی ہے۔۔۔  چلو گھر، کچھ دن آرام کر لینا۔۔  لیکن میں ان کے لہجے کو پہچان گئی ... اگر آج میں ان کے ساتھ چلی جاتی تو وہ  مجھے واپس لوٹ کر آپ کے پاس آنے نہیں دیتے۔۔۔۔  اور میں آپ کی جدائی میں گھٹ گھٹ کر مر جاتی۔۔  ابو نہیں سمجھتے شوہر کے وجود سے ہی عورت زندہ رہتی ہے۔   جب وجود خاموش ہو جائے تو ہم کلام ہونے کو دل نہیں چاہتا۔۔…  میں آپ کی خدمت آخری  دم تک بھی کروں تب بھی نہیں تھکوں گی۔ ۔ …   لیکن آپ کی یہ حالت دیکھ کر دل روتا ہے۔  میں اپنے لئے دعا مانگنا بھول گئی  بس اپ کی صحت یابی کی دعائیں مانگتی ہوں۔۔۔  اسامہ اب دو سال کا ہو گیا ہے بولنے لگا ہے سمجھداری کا سوال بھی کیا مجھ سے کہ مما،  بابا بولتے کیوں نہیں۔۔۔  اسے میں کیا جواب  دیتی، اس سوال کا جواب  تو میں خود ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔ "
"میرے ہمدم،  آپ ہماری زندگی میں واپس چلے آئیں…  آپ کے ساتھ کے ایک ایک پل کو میں بھول نہیں سکی۔ مگر اب آپ اپنی بیوی کو نظر گھما کر دیکھ نہیں سکتے۔  اب تو اسامہ بھی ہے آپ کو اسامہ سے کتنی محبت  ہے ناں؟؟۔۔  مگر اتنے دنوں میں اسامہ ہم دونوں سے دور ہو کر  اپنی دادی کے پاس چلا گیا ہے۔  آپ جب اچھے ہو جائیں گے تو میں واپس اسے اپنے پاس لے آؤں گی۔۔۔۔۔   پلیز آپ وعدہ کریں۔۔  آپ میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔  اچھے ہو جائیں گے بالکل اچھے۔۔۔۔۔۔"
مگر اس کے ہونٹ ساکت رہے ... کوئی جواب  نہیں دیا۔ وہ مضمحل سی اٹھی اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا، ناک پر لگی پائپ کو درست کیا اور پلٹ کر اپنے بیڈ پر دراز ہو گئی ۔۔۔  تھوڑی دیر کمرے میں اس کی سسکیوں کی آواز گونجتی رہی۔۔  پھر خاموشی چھا گئی۔۔۔۔

پھر ایک روز وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔
طوبیٰ کے کمرے سے دوا کی مہک  معدوم ہو کر کافور کی بو  دور تک پھیل رہی تھی۔  آہ وبکا کی آوازیں سارے گھر میں گونج رہی تھیں.
کفن میں لپٹی ہوئی حذیفہ کی لاش کمرے کے وسط  میں رکھ دی گئی تھی۔  ایک طرف اسامہ اپنی دادی کی گود میں نا سمجھی کے عالم میں رو رہا تھا۔ دو خواتین طوبیٰ کو تھامے ہوئے میّت کے پاس لے آئیں…  " بیٹی آخری بار دیدار کر لے… " طوبیٰ سکتے کی سی کیفیت میں آگے بڑھی۔  اس کی آنکھیں خشک تھیں… لوگ حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔  اچانک اس نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور لاش کے سینے پر گری۔   ۔ وہ آخری ہچکی لے رہی تھی۔  خاتون نے اسے اٹھانا چاہا مگر تب تک اس کا وجود بالکل ساکت ہو چکا تھا۔۔۔  حذیفہ اور طوبیٰ کا جنازہ ایک ساتھ اٹھایا گیا۔
"شریک حیات"نے "شریک موت" ہونےکی جاوداں مثال قائم کی تھی……۔

*دسمبر۔ ۲۰۱۵*
*افسانہ:----- 3*
*عنوان::----" دلِ صنم آشنا"*
*تحریر:------ زارا فراز*

وہ اچھا رہبر بھی تھا اور مخلص ناصح بھی۔ اس نے جتنی باتیں کہیں ساری  باتیں معقول  تھیں……۔۔۔۔۔  میں  اس کی ایک ایک نصیحت اپنے شعور کے کشکول میں ڈالتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں رہبر نے ہاتھ میں مشعل تھما کر مغرب کی سمت  جاتے ہوئے ایک  راستے کا رخ دکھایا۔۔۔……
میں نے چپ چاپ اس راہ پرقدم  بڑھا دیتا، ایسی راہ پر جہاں قدم قدم پر وقت کی ناگن، خواہشوں کا پھن اٹھائے   راستہ روکنے لگی۔۔۔۔ میں سہم گیا مگر ایک ماورا قوت نے میرے وجود کے گرد ہالہ بنا لیا، میری نظر میں رہبر  کا چہرہ; ابھر۔۔۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔  غور سے دیکھا وہ اسم اعظم کا ورد کر رہا تھا۔  ایک دم وقت کی ناگن اپنے پھن سمیٹ کر ایک طرف چلی گئی۔۔ ……  میں آگے کی سمت بڑھااور بہت دور نکل گیا…… جسم کی بھوک نے  مجھے روح کا بیمار بنا دیا تھا، بستر کی بے شکن  چادر میری تنہائی کے کرب سے آشنا تھی مگر ہر شب میری "لا حاصل محبت"کا مذاق اڑاتی رہی۔  مجھے اس آگ اگلتے  نرم بستر سے نفرت ہو گئی۔۔۔۔ میں نے وہ آرام کدہ  ہی چھوڑ دیا جس نے میرے باطن کو بے آرامی بخشی تھی۔ میں سب کچھ پیچھے چھوڑ کرچل پڑا، یہاں تک کہ وہ راستہ بیابان میں بدل گیا۔۔۔
لق ودق صحرا، جیسے  ساری دنیا کو لپیٹ کر اپنی چھاتی  کے اندرسما چکا ہو۔  اس کی خشک  پہاڑوں نے زمین کی ظاہری سطح کو پتھریلا بنا دیا تھا…… صحرا کے وسط میں عبادت گاہ کا منظر تھا جسےدیکھ کر…۔۔ دل کے ویران گوشے کو زرا اطمنان ہوا۔……
جس کی نشاندہی رہبر نے کی تھی
اس زمین پر  میں نےپہلا سجدہ عاجزی و انکساری  کے ساتھ ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔…… متاع دنیا،  دل سے پانی کی طرح اترتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔  خالی دل۔۔۔۔۔۔  خالی ذہن…… اپنی  ذات سے بے خبر…  رب کے حضور میں  دیر تک رضاے خداوندی…… اور زندگی کا مقصد طلب کرتا رہا۔۔۔۔  میری آہ و فغاں مدتوں تک ویرانے میں گونجتی رہی۔۔ میں نے کبھی اس ویرانے میں اپنے سوا کوئی ذی روح نہیں دیکھا تھا۔
چودہ برس۔۔۔۔۔۔۔۔…  ہاں چودہ برس میں سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔۔کتنے موسم آئے بیت گئے لیکن میرے اندر کا موسم ٹھہر گیا تھا۔ میں نے سب کچھ بھلا دیا ۔  اس کو بھی… اور اس کی دنیا کوبھی، پیشانی پر سجدے کی کثرت نے ایک گہرا سیاہ  رنگ کا  نورانی نشان چھوڑ دیا تھا…  قریب تھا کہ میں اسم اعظم سیکھ جاتا۔  رہبر کا کہنا تھا
"جب آنےوالے لمحوں کا ادراک ہونے لگے اور تمہاری عبادت میں خلل نہ پڑے تو سمجھ لینا تم نے خلوت کو پا لیا، اب تمہاری مراجعت ختم ہو چکی۔۔۔  "
مگر اس روز۔۔۔۔۔۔۔………
میں سجدے میں پڑا  خدا کے بیحد قریب تھا… پائل کی جھنکار…  دور سےآتی ہوئی……  قریب سے قریب تر ہوتی گئ…….۔۔۔۔ ذہن کو ایک دم بھٹکا دیا۔  دل کے تار کو چھیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میں سجدے سے اٹھا۔۔۔۔۔  منتشر سا کھڑا ہو گیا……۔۔۔۔  آواز کی سمت دیکھ کر حیران رہ گیا۔
جنت کا عنصر زمین پر تھا……  اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمحوں میں۔۔۔۔۔۔…  میں چودہ برس پیچھے……  مبتدائے راہ پرکھڑا تھا…  جہاں نہ ناصح تھا نہ رہبر۔۔……
صرف وہ تھی………
میں جان گیا
محبت جب بھی ملے گی
وجود چاہے گی…….!!
وہ مل گئ تھی……!!
*افسانہ :-----5*  
*عنوان :----   "خوف"*
*تحریر :-----  زارا فراز*

اگلی نشست میں بیٹھی ہوئی لڑکی پچھلے پندرہ منت سے مجھے گھور رہی تھی.  اور پھر اچانک اٹھ کر میرے قریب والی سیٹ پر آ بیٹھی
"آپ زارا ہیں؟ "ملامیئت سے کہا۔
"جی…  اور آپ…؟ "میں نے جواب کے ساتھ سوال بھی کیا
"مجھے عائشہ کہتے ہیں.،  سنا ہے آپ "شاعری کا شوق رکھتی ہیں…؟ "
"جی ہاں…… "
اور کہانیاں بھی لکھتی ہیں…؟ "
"ہاں… "
کیسی کہانیاں…؟ "
وہی جو آج کے دود میں ہو رہا ہے، جس کا میں مشاہدہ کرتی ہوں،  وہی حادثات،  واقعات کو زرا سی تغیرات کے ساتھ پیش کرتی ہوں"
کیا آپ میری کہانی لکھو گی؟"
میں جو اب تک اس کے سوالات کے جواب بے دلی سے سے رہی تھی۔۔۔  ایک دم اس کی طرف متوجہ ہو گئی
"کیوں نہیں…  اگر اپ کی کہانی دلچسپ ہوں تو ضرور لکھونگی۔ "
"لیکن ایک شرط پر…  "میں نے دیکھا اس لمحہ اس لڑکی کی آنکھوں میں عجیب سی ساحرانہ چمک ابھری تھی۔.
کون سی شرط…؟ "
میں اپنی کہانی جیسے کہوں ویسے ہی لکھنا،  زرا بھی ردو بدل نہ کرنا… "
میں نے فوراًحامی بھر لی،  ڈائری کھول کر سامنے رکھی اور اسکی کہانی شروع کرنے کا انتظار کرنے لگئی۔  وہ کچھ دیر خلاوں میں گھورتی رہی پھر کرسی کے پُشت سے ٹیک لگاکر مجھے دیکھا اور پھر کہنا شروع کیا۔
"جانتی ہو…  وہ گرمی کی شام تھی۔  ہلکی ہلکی ہوئیں چل رہی تھیں۔  میں چھت پر چلی گئی جہاں میرا چھوٹا بھائی راشد رات کے آرام کے لئے گرم زمیں پر پانی ڈال کر اسے ٹھنڈی اور خوشگوار بنانے میں مصروف تھا۔ کچھ دیر چہل قدمی کے بعد مغرب کی آذان کی آواز سنائی دی۔  راشد اذان سنتے ہی مسجد کو جا چکا تھا۔ میرے گھر کے پاس ہی ایک قبرستان تھا میں بے ارادہ اس طرف رخ کر کے کھڑی ہو گئی۔  میں بار بار ڈوپٹے سے اپنے چہرے پر آئے پسینے پوچھتی جا رہی تھی۔  یک لخت تیز ہوا چلی میریے منہ سے بے اختیار نکلا۔
"واہ …!  کیا ہوا ہے…  گویا جنت کی بہاریں…… "
میرا اتنا کہنا تھا کہ میرے جسم میں سنسنی سی دوڑ  گئی،   جیسے سنسنی خیز ہوائیں میرے اندر اتر رہی ہو عجیب سی کیفیت میرے جسم میں طاری ہوئی اور مجھے ایسا لگا پاپا نے مجھ سے کچھ کہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"زیادہ مت بولو…  ورنہ اٹھا کر قبرستان میں پھینک دونگا۔  " ان کی آواز بہت خوف زدہ تھی میں پوری طرح ڈر گئی پلٹ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا
پھر وہ آواز…  وہ آواز کس کی تھی؟  اس سے آگے میں سوچ نہ سکی۔  تیز قدموں سے دوڑتی ہوئی سیرھیاں پھلانگتی نیچے کی طرف بھاگی۔ اپنے پیچھے دوبارہ پھر وہی آواز سنی…  دوڑتےہوئے کئی بار میرے پاوں میں چوٹ بھی آئی لیکن میں ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکی۔
آخری سیڑھی پرجب قدم رکھا…  پاپا نماز پڑھ کر لوٹ رہے تھے،  مجھے بے قابو دیکھا تو میری طرف لپکے۔  انہیں قریب پا کر میں ان کی باہوں میں جھول گئی،  سارا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا۔
پاپا۔  آپ مجھے ماردیں گے…؟  شدت کرب سے میں نے اتنا ہی کہا اور آنکھیں موندلیں۔ نہیں بیٹا…! تم میری پیاری بیٹی ہو، میں تمہیں نہیں مارونگا۔  میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا تھا اسُ کے بعدمجھے بے شمار آوازیں، شوروغل سنائی دیے۔  مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا میرا جسم انگاروں کی طرح جل رہا تھا،  یوں جیسےکسی نے میرے جسم پر تیل چھڑک کر آگ لگادی ہو،  میں چیختے چیختے بے ہوش ہو گئی۔
ہوش آیا تو جسم میں ویسی ہی جلن محسوس کیا۔ اپنے قریب ہی امی کے ساتھ ایک سفیدپوش بزرگ کھڑے تھے۔  ہاتھ میں میں پانی کا برتن دھرے قرآنی آیات پڑھ کر اس پر دم کرتے اور وہ مجھ پر چھڑک دیتے،  جب پانی چھڑکتے تو یوں محسوس ہورتا جیسے میرے جسم کے سارے زخم مٹ گئے ہوں۔۔۔…  انھوں نے میرے آنکھ کھولنے پہ کہا۔
"بیٹی…!  اب کیسامحسوس کر رہی ہو…؟ "
میں نے کچھ کہنا چاہا مگر کوششوں کے باوجود کچھ کہہ نہ سکی۔
"بزرگ حضرت…!  میری بچی بول کیوں نہیں رہی ہے…؟ "
میری امی دوپٹے میں آدھا چہرہ چھپائے روتے ہوئے بزرگ سے پوچھ رہی تھیں۔
آپ گھبائیں نہیں…  سب ٹھیک ہو جائے گا۔  انہوں نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
"لیکن اسے ہوا کیا ہے…؟  یہ بول کیوں نہیں رہی ہے۔  پیر صاحب……!۔۔۔۔۔۔  "اب کہ پاپا کی آواز میں بھی لرزش تھی۔
"میں اپنے موکل سے پوچھ کر بتاؤں گا،  پیر صاحب یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔  اور امی میرے سرہانے بیٹھ کر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں۔
میں سب کچھ دیکھ سکتی تھی، سن سکتی تھی، محسوس کر سکتی تھی،  لیکن بول نہیں سکتی تھی، بولنے کی کوشش کرتی تو زبان گنگ ہوجاتی۔
دوسرے دن دوپہر کو میں اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔  پاپا پیر صاحب کو ساتھ لے آئے۔  انہوں نے کچھ پڑھ کر مجھ پر دم کیا اور پاپا کی جانب دیکھ کر سوال کیا۔
"کل آپ نے کیا بتایا تھا…؟ اس کی حالت کا سبب،؟ "
پیر صاحب…! کل مغرب کی نماز پڑھ کر لوٹ ہی رہا تھا کہ عائشہ کو دیکھا وہ بے حواس سی چھت سے بھاگی چلی آرہی ہے،  اور میری گرفت میں بےہوش ہوتے ہوئے بس اتنا ہی کہا…
"پاپا…!  آپ مجھے مار دینگے…۔ "اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہ رہا۔
"اوہ… ساری  بات سمجھ آگئی۔۔۔ " پیر صاحب نے ایک گہری سانس خارج کی۔  "سلمان صاحب…!  اسی لئے دو وقتوں کے ملنے کے وقت لڑکیوں کوکھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہونے سے منع کیا جاتا ہے۔  آپ کی بچی عائشہ مغرب کے وقت چھت پر تھیں، اس وقت جناتوں کی جماعت جنات کا جنازہ اٹھائے قبرستان کی طرف جارہی تھی اور آپ کی بچی نے انجانے میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا کر دی تھی، وہ خفا ہو گئے اور مارنے کی دھمکی دی،  بچی آواز نہیں پہچان پائی،  اس کے گمان میں یہ بات آئی کہ آپ نے ایسا کہا۔  لیکن آپ نے انکار کر دیا تو خوف سے اس کی آواز بند ہو گئی۔  انشاءﷲ سب ٹھیک ہو جائے گا،  میں تعویز دے رہا ہوں۔
انہوں نے پانی میں ڈال کر نہانے اور گلے میں ڈالنے کے لئے بھی تعویز دئے۔  یٰسین اور منزل روزانہ صبح شام پڑھ کر دم کرنے کی تاکید کی۔
اسی روز سے امّی اور پاپا نے ان کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔  دھیرے دھیرے میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگی، پھر بولنا بھی شروع کر دیا۔اب میں اچھ طرح بول  اور سن سکتی ہوں میں ایک مطمئن زندگی گزار رہی ہوں لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہے۔  اس وقعہ  کو پانچ برس بیت گئے لیکن میں نے اس کے بعد کبھی چھت پہ قدم نہیں لکھا۔ کیوں کہ اس واقعہ نےمجھے اندرسے خوفزدہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔ "
وہ اپنی کہانی ختم کر کے جا چکی تھی، میرے آگے دائری جوں کی توں پڑی تھی، ایک حرف بھی نہیں لکھا تھا، میں بہت دیر تک اس کہانی کی حقیقت اور فسانے کامحاسبہ کرتی رہی۔  ذیہن اس قدر منتشر ہو چکا تھا کہ کچھ لکھا ہی نہ جا سکا۔۔۔  بعد میں کوشش بھی کی لیکن الفاظ ہی نہیں ملے……
*افسانہ :-----6*
*عنوان :--- "عذابِ آگہی"*
*تحریر :----- زارافراز*

ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سے فاریحہ کی نیند سے بوجھل آنکھ کھلی۔ طاہرہ بیڈ پر نہیں تھی۔ اسے تین روز سے تیز بخار تھا۔ دوپہر کی شدید گرمی میں گھر کے سارے افراد اپنے اپنے کمرے میں تیز چلتے پنکھے کے نیچے سو رہے تھے۔ طاہرہ کو بھی نیند آگئی، فاریحہ اسے بیڈ پر ڈال کر خود بھی اس کےپاس لیٹ گئی۔ تین دن کی مسلسل شب بیداری کی وجہ سے اسے بھی نیند آگئی۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ سسکیوں کی آواز نے اسے جگا دیا۔ طاہرہ بغل میں نہیں تھی وہ اٹھ کر تیزی سےباہر آئی، تب ہی وہ کسی چیز سے بری طرح ٹکرائی، طاہرہ اوندھے منہ زمین پر پڑی سسک رہی تھی۔
"میری بچی" اس نے جلدی سے اسے گود میں اٹھا لیا
"امی دروازے پر وہ آیا ہوا ہے اسے بھگائیے۔ مجھے ڈر لگتا ہے" اس نے کمزور آواز سے کہا
"کون ہے بیٹا؟ "وہ طاہرہ کو گود میں لے کر دروازے تک آئی۔ پوری گلی سنسان تھی لیکن اس نے کافی دور، ایک درویش کو جاتے دیکھا۔
"ہوگا کوئی مانگنے والا… چلو اندر۔ "وہ اسے ساتھ لے کر اندر چلی آئی۔ اس کے بعد نہ طاہرہ سوئی نہ ہی اس نے ماں کوسونے دیا۔
طاہرہ لگ بھگ ساڑے چار برس کی بہت معصوم، بھولی بھالی بچی تھی۔ ننھی پری، دلکش اور پیاری باتوں سے سب کا دل جیت لیتی، جو بھی دیکھتا اسے پیار کئے بنا نہیں رہتا۔ اس کے پاپا باہر رہتے تھے وہ اپنی ماں کے بے حد قریب تھی۔
بچے تو پھول ہوتے ہی ہیں۔ اور طاہرہ جیسی پھول سے تو ہر کوئی پیار کرتا تھا۔ مگر ایک عورت تھی جسے بچوں سے نفرت تھی۔ اسے طاہرہ جیسی خوبصورت بچی سے بھی چڑ اور نفرت تھی۔ جب بھی اسے دیکھتی اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا۔ ایسا لگتا جیسے نگل جائے گی۔
اس کا گھر فاریحہ کے گھر کے تین گھر بعد ہی تھا۔ وہ اکثر فاریحہ کے گھر آتی جاتی رہتی۔ ۔ اس کے آتے ہی طاہرہ رونا شروع کر دیتی یا خوف کے مارے کہیں چھپ جاتی۔ اس کے بارے میں فاریحہ نے سنا تھا کہ وہ اچھی خاتون نہیں ہے شرک جلی تعویز گنڈے کے ساتھ کئی طرح کے جادو بھی جانتی ہے۔ ہوس پرست عورت، دولت کے نشے میں ایک جادو سیکھ رہی تھی جس میں کسی بچے پر ہی وہ جادو کا کار آزمایاجانا تھا، اگر وہ کامیاب ہو گئی تو کالا جادو مکمل ہو جائے گا۔ لیکن فاریحہ کو ان باتوں پہ یقین نہیں تھا۔
ایک روز اس عورت نے طاہرہ کو اکیلی پا کر زور دار تھپڑ مار دیا۔ جس کی تا نہ لا کر وہ بیہوش ہو گئی۔ اس روز سے ہی اسے تیز بخار آگیا اور بخار کسی طور پر بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اکثر اس بچی پر غشی سی طاری ہو جاتی، وہ فاریحہ کو ایک پل کے لئے بھی نہیں چھوڑ رہی تھی۔
"امی مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا… وہ آجائے گا"
"کون آجائے گا بیٹی"
"وہ آدمی جو دن میں آیا تھا"وہ روز میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اے لڑکی تو مر جائے گی… امی کیا میں مر جاوں گی؟ پھر کہاں جاوں گی۔ آپ بھی میرے ساتھ چلنا مجھے ڈر لگتا ہے"وہ بچی جو موت کامفہوم بھی نہیں جانتی تھی خوف کے مارے ماں کے گلے لگ کر روتی جا رہی تھی اور ساتھ نہ چھوڑنے پر اصرار کررہی تھی۔ اس بات سے بے خبر کہ اس ماں کے دل پہ کیا بیت رہی ہے۔ ۔ فاریحہ جان گئی تھی جس شخص کو اس نے پیچھے سے دیکھا تھا وہ کون تھا۔ ایک زمانے سے یہ بات اس علاقے میں مشہور تھی کہ وہ درویش جس گھر کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اس گھر سے جنازہ نکلتا ہے۔ جس شخص سے بات کر لیتا ہے اسے موت کا پیغام دیتا ہے۔ اس نے اپنے پیغام کے ساتھ کتنے ہی گھروں کی چراغ بجھا دی تھی۔ وہ درویش اپنی مرضی سے آتا اور لقمہ اجل ہونے والے کو موت کا پیغام دے کر غائب ہو جاتا لوگوں نے اس کا نام قضاء رکھ دیا تھا۔
فاریحہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ آج وہ درویش اس کے گھر آیا تھا، اس کی بیٹی کو موت کا پیغام دے گیا۔ اب وہ ساری رات مصلہ بچھا کر سجدے میں پڑی رہتی اس کی ممتا رو رو کر اپنے ملک حقیقی سے اپنی بچی کی صیحت یابی اور لمبی عمر کی دعائیں مانگتی۔ ادھر بستر پر پڑی طاہرہ کی حالت پہلے سے ابتر ہوتی جا رہی تھی۔۔ مسلسل غشی کی حالت رہتی۔۔ کھانا پینا کئی ہفتوں سے چھوڈ دیا تھا۔ سوکھ کر ہدیوں کا ڈھانچہ ہو گئی۔ منہ سے سفید جھاگ کی طرح رال نکل کر اس کے ہونٹ پر جم گئی تھی۔ ڈاکٹر اس کی بیماری سمجھنے سے قاصر تھے۔ ان کے پاس اس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں تھا۔ جب بیماری سمجھ میں آئی بہت دیر ہو چکی تھی۔ مہنوں میں اس بیماری نے اپنی آخری حدود کو چھو لیا تھا۔ اس وقت وہ فاریحہ کی گود میں آخری چند ساسنیں کے رہی تھی۔ فارحہ کو تب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی بچی نزع کی حالت میں اس کی گود میں پڑی زندگی اور موت کی جنگ لڑ دہی ہے اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کی بچی طبعی موت نہیں مر رہی۔ وہ یہ بھی کہاں جانتی تھی اس کے جگر کے ٹکڑے پر کیا گیا جادو، مہلک بیماری کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ وہ مرنے والی ہے۔ اور پھر وہ مر بھی گئی۔ فاریحہ کی دعا ہونٹوں پر ہی دم توڑ گئی۔ بے یقینی اس کی آنکھوں میں اتر آئی تھی۔
وہ عورت اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔ اس نےاپنا جادو معصوم طاہرہ پر آزمایا تھا۔۔ اب وہ تیزی سےاپنے گھر کی طرف جا رہی تھی، اچانک ٹھٹھک کر رک گئی۔ اسے لگا کالی چادر لپیٹے کوئی شخص اس کےگھر کےدروازے پر کھڑا ہے
"کون ہے تو…؟ " سوال اس کے لبوں پر تھا جواب اس کا وجدان دے رہا تھا "عذاب آگہی… "
*افسانہ :----7*
*شیطان کی چال*
*تحریر:---- زارا فراز*

*************************

ہمیشہ کی طرح دن بھر کی تکان کے بعدمیں وضو کر کے بستر پہ آئی ۔۔۔۔اپنا نڈھال ساوجود بستر پہ ڈالا۔۔۔۔۔ اور لمحوں میں عالم و مافیہا سے بیخبر… نیند کے مزے لوٹنے لگی، جانے کتنے لمحات گزرے کہ اچانک کمرے میں آہٹ سی ہوئی ۔۔۔ میری نیند بہت ہلکی ہے زرا سی آہٹ پہ آنکھ کھل گئی ۔۔ کمرہ دھواں دھواں سا لگا۔ عجیب سی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی، سامنے ایک ہیولٰی سا دکھائی دیا غور سے دیکھا تو ایک بے حد خوبصورت اجنبی تھا۔۔۔ اپنے کمرے میں رات گئے ایک غیر مرد کو دیکھ کر پہلے تومیں گھبرا گئی ۔۔۔۔ مگر پھر ازلی خود اعتمادی غالب آئی ۔۔۔
"کون ہو"
وہ نحیف سا مسکرایا
"شیطان"
"شیطان۔۔۔۔۔؟ " میں حیران ہوئی
"تم شیطان ہو مگر تم تو خوبصورت ہو میں نے سنا ہے شیطان بدصورت ہوا کرتا ہے"
"نہیں۔۔۔۔۔ یہ میری اصلی صورت ہے۔۔ میں بے حد حسین ہوں، لیکن آدم ذاد سے ازلی دشمنی نے مجھے بدصورت قرار دے دیا۔ حالانکہ میں بے حد خوبصورت ہوں۔ میں اپنی قوم کا سردار تھا، ﷲ نے مجھے حسن اور علم عطا کیا۔۔۔ میں اپنی قوم کو علم سکھاتا تھا، آدم کی اولاد میں جتنے بھی نبیؑ آئے سارے خوبصورت تھے اگر وہ بد صورت ہوتے تو لوگ کہتے پہلے اپنی صورت درست کر پھر ہمیں تعلیم دینا۔ سو ﷲ نے مجھے بھی اچھی صورت دی کہ میں علم کو پھیلاؤں ۔۔۔۔۔ مگر آخرمیں مردود قرار پایا۔ "
مجھے ماننا ہی پڑا کہ وہ شیطان ہے میں نے پوچھا۔۔
" مگر تم میرے کمرے میں کیسے اور کیوں آگئے؟ "
میری اس بات پہ اس نے خباثت کے ساتھ قہقہہ لگایا اور کہا" آج تم اپنے معمول کی دو سنت بھول گئیں۔۔۔ ایک بسمﷲ کہہ کر دروازہ بند نہیں کیا۔ اور دوسری تم دعا پڑھے بغیر سو گئیں۔۔۔ بس کیا تھا میرے لئے سارے در کھل گئے اور میں آگیا تمہارے بستر پر۔۔۔ اور آج میں تمہارے ساتھ قیام کروں گا۔۔۔ "
میں اس کی خباثت پہ سہم گئی
تو وہ نرمی سے کہنے لگا۔۔۔ "پیاری گڑیا تم سے کچھ کہنا ہے"۔۔۔ مجھے اس کی منافقت پر غصہ آگیا
میں نے کہا" جلدی بولو مجھے فجر کی نماز بھی پڑھنی ہے"
وہ زیر لب بدبدایا جو میں صاف سن سکتی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا۔۔۔ "اس لئے تو تاخیر کر رہا ہوں بی بی تاکہ تمہاری نماز قضا ہو جائے اور تم دوکڑوڑ اٹھاسی لاکھ برس جہنم کی آگ میں جھونکی جاؤ ۔۔۔ "
مجھے سخت بیزاری محسوس ہوئی ۔ مگر وہ میرے بستر پر آلتی پالتی مار کر آرام سے بیٹھ گیا۔
"یہ سال نو کی ابتدا ہے۔۔۔۔ مستی کا دن ہے۔۔۔۔ مگر تم بہت بور ہو۔۔۔ تم نے آج میوزک نہیں سنا ۔۔ کوئی پارٹی بھی نہیں رکھی۔۔۔۔ تم اتنی روکھی پھیکی کیوں ہو" اس نے کہتے ہوئے میرے رخسار کو سہلانا چاہا مگر ایک ماورا قوت تھی جو میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گئی ۔
اس نے شعلہ برساتی نظروں سے مجھے دیکھا، میں اپنی جگہ سمٹ گئی
اس نے مجھے سمجھایا۔۔۔۔ "دیکھ گڑیا۔۔۔ یہ آدم ذاد مجھے بہت برا سمجھتے ہیں۔۔ حالانکہ میں تنہائی کا ساتھی ہوں لوگوں کو بور ہونے سے بچاتا ہوں۔۔ کسی نا کسی کام میں لگا دیتا ہوں جو اسے وقتی سکون دیتا ہے، مگر پھر بھی لوگ سمجھتے ہیں میں انہیں بہکاتا ہوں گناہوں پہ ڈال دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
سچ کہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کا دشمن تو خود اس کا نفس ہے۔۔۔ مجھ سے بھی بڑا دشمن۔۔۔۔۔۔۔۔ ھا ھا ھا"
(زوردار قہقہہ)
"سن۔۔۔۔۔۔۔ جب میں ﷲ کے سامنے منکر ہوا تھا تب مجھے بہکانےوالا کوئی دوسرا شیطان وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔ بلکہ میرا نفس تھا جس کا تقاضہ پورا کرنے کی وجہ سے میں منکر ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
بےشک میں آدم اور اس کی قیامت تک آنے والی اولاد کا کھلا دشمن ہوں، میں اسے بہکاتا ہوں آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے۔۔۔۔۔… مگر میری طاقت اتنی ہی ہے کہ میں بندے کے دل میں وسوسے ڈالوں… یا بہکاوں… مگر میں کسی کا ہاتھ پکڑ کر تھئیٹر میں نہیں لےجاتا۔، میں کسی عیاش کو عیاشی کے لئے خزانے کی کنجی نہیں دیتا… میں تو بس وسوسے ڈالتا ہوں… باقی کام تو خود اس کا نفس کرواتا ہے۔… قیامت کے دن میں یہ کہہ کر پہلو بچا لوں گا کہ" اے ﷲمیں نے تیرے بندے کو بہکایا ضرور مگر ہاتھ پکڑکر کسی کو گناہ کرنے پر مجبور نہیں کیا… یہ لوگ خود مختار تھے۔۔ مگر نفس کے پجاری تھے… مشرک تھے۔۔۔۔۔۔ یہ وہ آدم ذاد ہیں جن سے میری دشمنی اوّل روز سے ہے۔۔۔ آج تو جو چاہے انہیں سزا دے.……… "
اس لمحہ اس کی انکھوں میں شاطرانہ چمک ابھری۔۔۔۔۔ مجھے اس کے وجود سے گھن آئی، مگر وہ بدبخت میرے بستر پر ایسے جم گیا تھا جیسے بستر پر بیٹھا نہیں دھنسا ہوا ہو۔۔۔۔
ﷲ نے اس کمبخت کو بلا کی شاطرانہ ذہانت بھی عطا کی ہے۔۔ میرے چہرے کی بیزاری کو وہ نوٹ کر کے بڑی کمینیت سے مسکرایا اور اپنی بات جاری رکھی ……
"تو بھی جانتی ہے گڑیا۔۔۔۔ میری اور تمہاری برادری کی دشمنی ازل سے ہے۔۔۔ مگر جو لوگ ﷲ کی پناہ چاہتے ہیں میں ان لوگوں سے دور بھاگتا ہوں۔۔ پھر لوٹ کر آتا ہوں اگر اس کے دل کوﷲکے ذکر سے غافل پاتا ہوں تو پھر اسے بہکانے کی کوشش کرتا ہوں……… مگر ﷲ کی قسم، میں جب ﷲ کے دربار میں منکر کھڑا تھا…… جب میں ذلیل ہو کر جنت سے نکالا جا رہا تھا… جب میں مردود ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اس وقت ﷲسے ایک شرط لگائی تھی کہ جس طرح آج تو نے مردود قرار دیا، میں بھی تیرے بندے کو تجھ سے دور کرونگا۔۔۔۔ بہکاوں گا، اوراس وقت تک بہکاوں گا جب تک اس کے جسم میں روح باقی رہے… میں نے اس وقت ایک قسم کھائی تھی… مگر ﷲ تعالیٰ نے دوقسم کھائیں.… کہا.
"تو چار جانب سے بہکائے گا۔ میں دوجانب سے اس کی حفاظت کرونگا۔ اوپر سے اور نیچے سے… میرا بندہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے گا، ہاتھ نیچے بھی نہیں گرائے گا کہ میں اس کی دعا قبول کر کے اس کی مغفرت کر دونگا، میرا بندہ مجھے سچے دل سے سجدہ کرے گا، اس کا سر سجدے سے اٹھنے سے پہلے اس کاسجدہ قبول کر لونگا۔۔۔۔
تو قیامت تک میرےبندوں کوبہکائے گا لیکن میرا بندہ جب بھی توبہ کریگا میں قبول کر لونگا۔۔۔۔۔ اور اسے جنت میں جگہ دونگا۔ "تب میں سر پٹکتا رہ گیا کہ میں یہ دو سمت کیوں بھول گیا۔۔۔۔ "
"بد بخت۔۔۔ میرے ﷲ نے ہی تمہیں دو سمت بھلا دی تھیں… کیوں کہ۔ ﷲ کی رحمت زیادہ قریب ہے"
میری بروقت جواب پر شیطان نے سخت غصیلی نظروں سے مجھے دیکھا
"میں پھر بھی اپنی کوشش میں رہتا ہوں۔ لوگوں کو بہکاتا ہوں۔ جب کوئی میری باتوں میں آ کر نفس کا پجاری بن جاتا ہے تو خوش ہو جاتا ہوں۔۔ پھر وہی بندہ توبہ کرتا ہے اور اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں تومیں بہت روتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ اپنی بات کہہ رہا تھا کہ مجھے اذان کی آواز سنائی دی۔۔ میں عادت کے مطابق اذان کا جواب دینے لگی۔۔ کمبخت شیطان لعن تعن کرتا ہوا میرے کمرے سے غائب ہو گیا۔۔۔۔
اچانک میری نیند ٹوٹی تو میری زبان پر اذان کے کلمات تھے…… آج وہ خبیث باتوں میں لگا کر میری نماز فوت کروانے کے چکر میں تھا۔۔۔۔ میں بستر جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔ ۔ فجر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
*افسانہ :------9*
*عنوان: مسکراہٹ زندگی ہے*
*تحریر :----- زارافراز*

*کرب میں ڈوبے ایک ایسے شخص* *کی داستان جو واقعی  ٹوٹ چکا* *تھا......... مگر……*

"زخم بھر بھی جائے تو،  نشان نہیں مٹتے"
میں آج قد آور آئینہ کے سامنے کھڑا کچھ دیر تازہ شیونگ کئے چہرے کو دیکھتا اور سوچتا رہا۔ ۔  میرے سامنے میرا عکس تھا... آج پھرمیری آنکھوں کی سرخ ڈوریوں نے میرے اندر کے احمرؔکو میرے روبرو کر دیا تھا میں اس احمر کو دیکھ کر پھیکی سی ہنسی ہنس دیا اور اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ میری ڈائری، میری  تنہائیوں کی ساتھی میرے سامنے تھی۔۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ صبح میری زندگی میں بڑی عجیب قیامت لے کر آئی تھی۔۔۔   میں رات بھر کی نیند اتار کر جاگتی سوتی آنکھوں کے ساتھ لان کی طرف شبنمی بارش  کے پہلے قطرے کوہتھیلی میں روک لینے کی خواہش میں آگے بڑھا تب مجھے لگا میں زمین پر نہیں گہری دلدل  میں ہوں۔۔۔ اور دھنستا جا رہا ہوں۔   اس دلدل  میں پرورش  پانے والی ایک ناگن  میرے قدموں سے لپٹ گئی تھی۔   وہ پوری سرعت کے ساتھ میرے جسم سے لپٹتی گئی ۔۔۔  پھر اس نے بڑی بے رحمی کے ساتھ مجھے ڈس لیا۔  اس کے زہر سے میری سانسیں تو ساکت  نہیں ہوئیں مگر دل نیلا پڑ گیا۔  تب میرے مادر زاد میری طرف دوڑے۔   مجھے لان سے تھام کر کمرے میں لے آئے۔  مگر وہ ناگن اپنا پھن پھلائے میرے وجود سے لپٹی رہی۔  ایک شورسارے گھر میں گونج رہا تھا گھر کے سارے لوگ میرے سامنے کھڑے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے اور صورت حال سمجھنے کی کوشش کر  رہے تھے۔  
اس نے روپ بدل کر  لڑکی کی صورت  اختیار کر لی تھی۔  
"احمر…… احمر…… کہہ دو سب سے کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔  ہم ایک دوسرے کےبغیر جی نہیں سکتے۔۔  میں صرف  تمہاری بننا چاہتی ہوں۔۔۔۔  احمر تم خاموش کیوں ہو بولو ناں "وہ اب تک میری شرٹ کا کالر پکڑے مجھے جھنجھوڑ رہی تھی۔  اور میں حیران پریشان اسے دیکھے جا رہا تھا
"تم نے مجھ سے بولنا کیوں چھوڑ دیا۔۔  میں فون کرتی ہوں تو اٹھاتے نہیں۔۔۔  تم ایسا کیوں کرنے لگے ہو احمر...  بولو"
میں نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا۔ اب یہ لڑکی میری سمجھ میں آئی تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جو  مجھے تین ماہ سےمسلسل فون  کر رہی تھی ... اپنا نام منزہ بتایا تھا۔۔ میں نے اس کی کال سے پریشان ہو کر اسے بلاک کر دیا۔  تو نئے نئےنمبر سے فون کرنا شروع کر دیا۔  میں نےکئی بار اسے ڈرا دھمکا کر فون رکھ دیا تھا۔  مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ میرے گھر تک پہنچ جائے گی۔ 
وہ اب میرے قدموں سے چمٹی ہوئی تھی۔۔  میرا دل چاہا اسے اپنے قدموں کی ٹھوکروں سے دور کر دوں۔۔ 
"بابا اسے میری نظروں سے دور کر دیں ورنہ یہ میرے ہاتھوں سے قتل ہو جائے گی۔ میں پوری قوت  سے چلایا اس وقت میری آنکھوں میں خون اتر آیا تھاوہ سہم کر اپنا پھیلایا ہوا پھن سمیٹ کر بل کھاتی ہوئی ایک طرف چل دی۔۔۔  گھرکےسارے افراد اب بھی حیران پریشان معاملات سمجھنے کی کوشش کر رہے  تھے۔۔   میں نے تین مہینے کی ساری بات بتا دی کہ کس طرح سے اس نے فون کر کر کے مجھے پریشان کر رکھا تھا۔۔   میں اسے اس کے نام کی حد تک ہی جانتا تھا۔۔  ۔۔  لیکن وہ مجھے کہاں تک جانتی تھی کیسے جانتی تھی۔  میرا فون نمبر اسے کیسے ملا؟ یہ میں بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
گزرتے وقت نے میرے چہرے پر نشان چھوڑ کر مجھے بے نشان کرنا چاہا تھا لیکن میں مٹ نہ سکا،  قائم بھی ہوں اور زندہ بھی۔  کتنی معصوم سی زندگی تھی وہ بھی، جب میرے ساتھی کہتے تھے
"تیرے منہ سے اب بھی دودھ کی بو آتی ہے…… "اب وہی ساتھی مجھے دیکھ لیں تو شاید کہیں
"تو اپنی عمر سے بیس  سال بڑا لگنے لگا ہے "
زندگی کی وہ شوخ بہاریں،  جنہیں میں شوق سے جیتا تھا۔  مگر موسم کب ایک سے رہتے ہیں۔ جب میری زندگی کی بیس بہاریں گزر گئیں تو خزاں نے مجھے اپنی باہوں میں لے کر اپنے ہی رنگ میں رنگ کر زرد  کر دیا۔  
اس دن میں کالج جانے کے لئے گھر سے نکل ہی رہا تھا۔  دروازے پر آدم ذاد بھیڑیوں کے اژدھام میں اس کا مکروہ چہرہ بھی نظر آیا…… میرے پیچھے بابا اور بھائی تھے جنہوں نے مجھے پیچھے کیا اور خود اژدہام سے بھڑ گئے۔۔ گھنٹوں کے بعد   دروازے پر سے بھیڑ چھٹ گئی ۔  مجھے نہیں معلوم ان کے درمیان کیا معاہدہ ہوا۔   لیکن گھر والوں نےعزت کی خاطرمیری قربانی قبول کر لی تھی۔۔  
میں نے یاس بھری نظروں سے بابا پھر تمام بھائیوں کو پھرآخر میں اماں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔  تمام چہروں میں میرے لئے مان تھا۔   میں اب بھی ان کی نظر میں ان کا بیٹا…  ان کا چھوٹا بھائی تھا۔۔۔۔  انہیں مجھ پر اعتبار تھا۔۔ کیوں کہ وہ زمانے کی اس چال کو سمجھ گئے تھے۔۔۔۔۔  پھر بھی عزت کی خاطر انہوں نے یہ اقدام کیا تها۔۔۔۔  اور میں۔۔۔۔۔؟؟ ۔  اب میں اپنے لئے ہی ایک سوال بن گیا تھا۔
"احمر اب گھر کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہےتمہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا"
میرے وہ بھائی جو میرے سب سے قریب تھے مجھ سے صرف ایک بات  منوانے کے لئے انہوں نے ساری رات آنکھوں میں کاٹ دی تھی۔۔  میں جس طرح ٹوٹ رہا تھا۔  میرے بھائی میرا عکس بن کر میرے سامنے تھے... مگر آج میرے ماں جائے بھی کچھ نہیں کر پا رہے تھے۔ میرا صرف ایک ہی احتجاج تھا
"جب میرا قصور نہیں ہے تو یہ سزا مجھے کیوں سنائی گئی ہے"
بھائی نظر چرا گئے۔۔۔۔۔ 
ناگن کا زہر میری زندگی میں پھیل گیا تھا اور اس زہر کو نکالنے کے لئے مجھے اسی ناگن  کے پھن کو عمر بھر چوسنا تھا۔  میں مر سکتا تھا لیکن اس کے پھن کو نہیں چوس سکتا تھا۔۔۔  پھر بھی اسے مجھ پر مسلط کیا جانا تھا۔ 
بابا اور بھائی نے مجھے بہت ساری باتیں سمجھائیں اور نکاح خواں کے پاس بٹھا دیا۔   کتنے ہی لمحے گزر گئے.... میں خاموش بیٹھا مولوی صاحب کے ہلتے لبوں کو دیکھتا رہا،  وہ کیا کہہ رہے تھےمجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تها۔  مجھے صرف اتنا یاد تھا کہ نکاح نامہ پر میں نے دستخط کرنے ہیں۔  دفتر سامنے کیا گیا اور میں نے  اپنے نام کے دستخط بھی کر دیئے …  لیکن اس وقت دل ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا۔۔۔۔ نہ غم نہ غصہ نہ خوشی…… 
اس کے بعد مجلس  میں میری ضرورت  نہیں تھی۔۔  لوگ آگے بڑھ کر مجھے مبارک باد دینا چاہ رہے تھے لیکن میں ان کے درمیان سے نکلتا چلا  گیا۔ میرا رخ گھر کی دوسری سمت تھا۔  میں چلتا ہواشہر کو پیچھے چھوڑ گیا ،  سنسان علاقہ میرے سامنے تھا بالکل میرے دل کی طرح،  میرے قدموں کے نیچے سوکھے خزاں کے پتےچرمرا کر دم توڑ رہے تھے۔۔۔  میں بے دردی سے انہیں کچلتا ہوا آگے نکل گیا۔  شام گہری ہوتی جا رہی تھی۔ بھائی کی مسلسل کال آرہی تھی۔  آخر میں نے کال رسیو کی مگر خاموش رہا۔    ایک لفظ  بھی کہنے  کو دل نہیں چاہا۔۔۔۔ 
"احمر تم کہاں ہو؟  ٹھیک تو ہوناں؟ " ان کے لہجے میں فکرمندی تھی
"تم فارم  ہاوس  پہنچو…  میں اماں کو اور اسے لے کر  ادھر ہی آرہا ہوں" میں نے کوئی جواب دیئے بغیر ہی فون آف کر دیا  اور آگے بڑھ گیا۔
دو گھنٹے کے بعد فارم ہاوس پہنچا۔  یہاں معمول سے  ہٹ کر تھوڑی رونق  تھی۔  میں بیزاری سے آگے بڑھا۔  بھائی مجھے دیکھتے ہی قریب آئےاور اماں کے پاس لے گئے۔  وہ میری شکستہ کیفیت  دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں۔ 
"یہ سب تقدیر کا کھیل ہے بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا"
"سب کچھ تقدیر پہ کیوں  ڈال دیتی ہو اماں…  اختیار بھی کوئی چیز ہوتی ہے" میں تلخی سے سوچتا رہ گیا کہا کچھ نہیں۔ اماں نے زبردستی اپنے ہاتھ سے چند لقمے کھلائے۔  پھر میں "اب بھوک نہیں ہے"  کہہ کر اٹھ گیا۔  بھائی نے سامنے والے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔  
چند قدم کی مسافت طے کرتے ہوئے مجھ پر صدیوں کی تھکن غالب تھی۔ آج منزہ نے ناگن کا روپ اتار کر عورت کا روپ دھار لیا تھا۔وہ سیج پر میرا انتظار کر رہی تھی۔  میں نے اس پر ایک نگاہ غلط ڈال کر اسے دوبارہ نہیں دیکھا تھا۔  وہ آج بھی دلدل میں پلنے والی ناگن لگ رہی تھی۔ مجھے اس کے وجود سے کراہیت محسوس  ہوئی۔  میں خاموشی سے بیڈ کی سائڈ پر اس کی جانب سے پشت کر کے چہرے پر ہاتھ لپیٹ کر سوتا ہوا بن گیا۔۔۔  ایک ہی کمرے میں دونوں کی سانسیں مل کر حبس کا ماحول پیدا کر رہی تھیں۔۔۔  نہ میرے لئے یہ رات خاص تھی نہ یہ عورت۔۔   مجھے اس کی ذات سے کوئی  غرض نہیں تھی۔  جس نے مجھے اپنے مکرو فریب  کے جال میں پھنسا کر اس موڑ پر لا کهڑا کیا تھا۔  منزہ وہ عورت تھی، جس نے میرے اندر محبت  کا جذبہ پیدا کرنے سے پہلے  نفرت کا بیج بو دیا تھا۔ 
میں سمجھ گیا تھا اسے میری صورت، دولت  اور امارت قریب لائی  ہے۔۔۔   بابا نے جب اس کے خاندان کا پتا لگایا  تو معلوم ہوا یہ لوگ میراثن انجم بائی کے خاندان سے ہیں حالانکہ  انہیں اپنا پیشہ چھوڑے ہوئے عرصہ بیت گیا تھا۔۔   مگر اس کی رگوں میں حرام خوروں کا ہی خون دوڑ رہا تھا۔۔  سو اس نے اپنی اوقات دکھا کر   محبت کا ڈھونگ رچایا تھا۔  مجھے اپنے ہی ماں باپ کی نظروں میں ذلیل کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔  لیکن قربان جاؤں ایسے والدین اور بھائیوں پر،  جن کا اعتبار مجھ پر اپنی ذات سے بھی بڑھ کر تھا۔۔۔ انہوں نے مجھے میری نظر میں گرنے سے پہلے تھام  لیا ۔ 
"مجھے یقین ہےمیرا بچہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا" یہ بابا کی شفیق آواز تھی ... ایک ہی جملے نے مجھے میرا اعتماد واپس دے دیا تھا۔۔۔   
مگروہ میرا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔   اس کے ماں  باپ اور ان کے ساتھ ملے ہوئے بھیڑیا صفت لوگ، جنھیں ہماری امارت، عزت اور شرافت سے خواہ مخواہ دشمنی تھی۔۔ ہمارے پیچھے پڑ گئے تھے۔۔   بابا کوعزت پیاری تھی۔  وہ معاشرے میں بات پھیلانا نہیں چاہتے تھے۔  انہوں نےایک بڑی رقم دے کر جان چھڑانی چاہی مگر وہ لوگ نہیں مانے۔۔ مجبوراً یہ فیصلہ  کر کے بات سمیٹ لی گئی۔ 
ایک ماہ کہ بعد مجھ پر جو عقد کھلا تو میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔  غم و غصے کی لہر  میری رگوں میں دوڑ گئی ۔
"بیٹا…تمہیں احتیاط کرنی چاہئے تھی" میں نا سمجھی کے عالم میں اماں کو دیکھے گیا۔۔۔۔۔  بھائی مجھے ایک طرف لے گئے
"تمہاری بھابھی کہہ رہی ہیں منزہ حاملہ ہے.۔ " انہوں نےدھیرے سے کہا اور رخ  پھیر لیا۔ یہ خبر میرے لئے قیامت خیز اور حیران کن تھی۔۔  میں دیر تک خالی نظروں سے انہیں دیکھتا رہا۔۔  اب ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا  تھا۔۔  میں تیزی سے کار کی چابی  لے کر فارم ہاوس سے نکل گیا۔۔  سڑک پر کار بے سمت بے مقصد گھماتا رہا۔۔ غصہ،کرب اور مسلسل سوچوں کی وجہ سے میرے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھیں۔۔   سر میں شدید درد ہونے لگا۔۔۔   خود  بخود کار کا رخ اس طرف ہو گیا تھا ... تین منٹ میں، میں کیفے  کے سامنے تھا۔   کار لاک کر کے کیفے میں داخل ہو گیا۔  ہر طرف اجنبی ماحول تھا۔  میں ایک خالی ٹیبل کے سامنے گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔ فوراً میرے سامنے ویٹر آ کر کھڑا ہو گیا مجھے اس وقت بولنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا
"وسکی"
چند منٹ میں پیمانہ میرے سامنے تھا۔۔۔   میں نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا ہر شخص شراب پی کراپنے حال میں مست تھا۔۔    کوئی بہک  رہا تھا کوئی جھوم  رہا تھا۔۔   کچھ فاصلے پر ایک اجنبی شخص نشے میں دھت پیمانہ ہونٹوں سے لگائے مجھے اپنے جیسا لگا۔۔  اس نے چوتھا پیمانہ منہ سے لگایا تھا  میں حیرت سے اسے دیکھے گیا۔۔  کیا واقعی شراب پی کر لوگ غموں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں  کیا سچ میں ان کا ذہن ٹینشن سے خالی ہو جاتا ہے۔۔  کیا پھر اسے اپنے حال کی خبر نہیں ہوتی۔۔۔ ؟؟؟  نہیں پھر شراب اسے نئی آگ میں جلاتی ہے۔   جیسے جیسے کڑوا گھونٹ اندر اترتا جاتا ہے۔۔   تیزاب کی طرح وہ اندر سے انسان کو پگھلاتی جاتی ہے۔۔   شراب پینے  سے کچھ نہیں ہوتا۔۔   بس ظاہری آگ بجھ کر باطنی آگ لگ جاتی ہے۔۔۔۔۔   
میں ایک جھٹکے سے اٹھا قیمت ٹیبل پر رکھ کر تیزی سے باہر نکلنے لگا
"ہاہاہا…… لگتا ہے بچہ پہلی بار آیا ہے"شاید کسی منچلے نے فقرہ  کسا  تھا۔۔   میں پلٹ کر دیکھے بغیر ہی نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔
تین دنوں تک یوں ہی ادھر ادھر پھرتا رہا رات ہوتی ... کار میں ہی سو جاتا۔ بھائی  اور بابا کےکئی بار فون آ چکے تھے اس کے بعد شاید میرا موبائل خود ہی آف ہو گیا۔ میری بھوک ختم ہو چکی تھی۔۔   بس ایک ہی پیاس باقی تھی کہ شراب پی لوں تو ساری ٹینشن سے نجات پا لوں گا۔   کمزوری اور  نقاہت کے باوجود بھی میری کارایک بارپھر کیفے  والی سڑک پر تھی۔  کیفے کے سامنے کار روک کر میں بمشکل  نیچے اتر پایا۔۔  تب ہی اپنے کاندھے پر ہاتھ کا مخصوص لمس محسوس ہوا۔  میرا سارا وجود دھڑک اٹھا تھا۔۔  "بھائی… " میں ان کے شانے پر گرا  انہوں نےمجھے تھام لیا
"بھائی مجھے گھر جانا ہے"
میں بالکل تھک چکا تھا۔  انہوں نے میرے نڈھال وجود کو تھام کر کار کی پچھلی سیٹ پر ڈال دیا ۔۔  میں نے نقاہت کی وجہ سے آنکھیں موند لیں۔  بھائی نے مجھے کیفے کے باہر دیکھا تھا میرے بارے میں کیا سوچا ہوگا کہ میں بھی شراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اب شرمندہ ہو رہا تھا۔ اگر میں نے شراب پی لی ہوتی تو رب کے سامنے کیا منہ دکھاتا۔۔۔  
بھائی نے میری بات مان لی تھی مجھے فارم ہاوس کے بجائے گھر  لے آئے تھے ۔  جوس وغیرہ پلایا اور ڈاکٹر کو بلایا۔    میری حالت ایسی ہو چکی تھی کہ ڈاکٹر نے فوراً مجھے انگجکشن دیا۔۔۔۔۔۔  اور آرام کی تلقین کی۔  شام تک میں کچھ بہتر تھا نیند پوری کر کے جاگ چکا تھا۔۔   مغرب کے بعد بھائی میرے پاس آئے۔۔۔۔ 
"بولو…  تمہارا مسئلہ کیا ہے"
میں جواب کیا دیتا خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔۔ ۔۔  
"اگر تم اس کے ساتھ خوش نہیں ہو تو یہ پیچیدگی پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ "
"بھائی نہیں… وہ" مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ میں انہیں سچ کیسے بتاؤں ۔۔۔۔۔۔ 
"دیکھو اب کچھ مت چھپاؤ. " ان کی لہجے میں نرمی تھی
"بھائی… وہ… بچہ… میرا نہیں ہے" کہتے ہوئے میرا لہجہ بالکل خالی ہوگیا۔۔۔۔  "کیا؟ " ان کا لہجہ سوالی تھا مگر میں نے مجرم کی طرح سر جھکا لیا۔۔  میں انہیں کیا بتاتا۔۔۔ میرا اور منزہ کا تعلق  کہاں تک ہے۔۔  میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ میرے اندر خواہش ابھرتی مگر جب  اس کا چہرہ نظر آتا تو میں سرد پڑ جاتا۔    میں اس سے محبت نہ کر  سکا  تھا۔   شاید وہ خوبصورت  تھی لیکن مجھے اپنی طرف مائل نہیں کر پائی تھی۔  میں اس کے وجود سے دور بھاگتا تھا۔  مجھے ایک کمرے میں اس کے ساتھ سانس لیتے ہوئے گھٹن محسوس  ہوتی۔  میں ایسی عورت سے کیسے محبت  کر لیتا جس کے اصلی روپ سے پہلے روز ہی آشنا ہو گیا تھا۔۔۔   اس کی مکاری، فریب اور چال نے مجھے تباہ کرنے کی کوئی کسر  نہیں چھوڑی تھی۔۔۔   سارے شہر والوں کے سامنے میرا تماشہ....   ماں باپ کی نظروں میں شرمندگی،  میرے خواب،  
میری تعلیم،  میرا مستقبل سب کچھ تو تباہ  کر دیا تھا اس نے۔
میرے اندر اس نے خود نفرت کا زہر اتارا  تھا۔۔۔  میں اس سے خاموش انتقام لینا چاہتا تھا۔  اگر میں اس آگ میں جل رہا ہوں تو وہ بھی جلے گی۔   سکون اسے بھی نہیں ملے گا۔    میں نےاسے تمام عمر کے لئےاپنی محبت  اور قربت سے محروم کر دیا ۔۔۔   اسے میری امارت اور دولت نے متاثر کیا تھا ناں۔۔۔  میں نے سوچ لیا تھا دولت اس کے قدموں میں ڈال دوں گا۔   لیکن اگر وہ محبت  کی بھیک بھی مانگے گی تو نہیں دوں گا۔۔۔۔  میں اس قدر سفاک کیسے ہو گیا تھا یہ میں خود نہیں جانتا تھا ۔  
اب تو وہ میری نفرت کے قابل بھی نہیں رہی تھی۔۔   وہ عورت جو دنیا کی نظر میں میری بیوی تھی،   جو مکار اور فریبی تھی ، افسوس وہ باکرہ نہیں تھی…  پاکیزہ نہیں تھی۔۔۔  اپنے گناہ کی پردہ پوشی کے لئے اس نے مجھے اور میرے خاندان کو چنا تھا۔  اب اسے عزت، دولت،  اور چھت میسر تھی۔۔۔  اس نے سوچا تھا کہ اپنی چال میں کامیاب ہو جائے گی۔ شادی کے بعد جسمانی تعلقات کے  ہونے سے اس کا گناہ چھپ جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کے اندر پلنے والے ناجائز نطفے  کا گواہ میں خود تھا۔۔ میری سرد مہری کے باوجود بھی اس نے میرے قریب آنا چاہا تھا لیکن میری آنکھوں میں نفرتیں دیکھ کر وہ سمٹ گئی تھی  میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔   پھر میں اس بچے کو اپنا نام کیوں دوں۔۔۔ ۔۔  لیکن وہ اور اس کی ماں ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھیں۔۔۔۔  
"تم اسے اپنا بچہ نہیں مانتے تو ابارشن کروا دو"
میں نے نفرت سے ان دو عورتوں کو دیکھا جو سفاکی اور سنگ دلی کی انتہا کر رہی تھیں ۔۔  یہ عورت سچ مچ ناگن تھی۔  جو اپنے بچے کو بھی قتل کرنے کو تیار تھی
"میں تم لوگوں کے ساتھ اس گناہ میں شامل نہیں ہو سکتا…  تمہیں اس بچے کے لئے میرا نام چاہئے ناں تو میں بچے کو اپنا نام بھی دوں گا۔  تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے لیکن میں اس بچے کے ساتھ زیادتی نہں کروں گا کیوں کہ اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں ہے۔   قصور تمہارا اور اس بد طینت انسان کا ہے جس کی بدکاری کی یہ نشانی ہے … "
منزہ کی ماں اسے لے کر چلی گئی تھی.... ولادت کے بعد اسے لا کر پہنچا دیا  میں نے ایک نظر ماں اور بچے کو دیکھا۔    میرے دل میں اس کے لئےکوئی نرم گوشہ نہیں تھا۔  لیکن انسانیت کے ناطے میں نے صرف اتنا کیا اس کے نام اکاؤنٹ کھلوا دیا اور ATM کارڈ اسے تھماتے ہوئے کہا ... تمہیں اور بچے کو جتنے پیسوں کی ضرور ہو نکال لینا۔ مجھ سے مت کہنا۔۔۔   میں اس کی وجہ سے اب بھی فارم ہاؤس میں رہ رہا تھا۔  اماں واپس گھر جا چکی تھیں بھائی  ہر دو تین دن میں ملنے آجایا کرتے۔   کبھی کبھی بابا بھی آجاتے مجھے ان کے درمیان کچھ وقت گزار کر اچھا لگتا نہیں تو میں چپ چاپ کمرے میں پڑا رہتا۔۔   میں نے اپنا  کمرہ الگ کر لیا تھا وہ اور اس کابچہ ایک کمرے میں رہتے تھے۔۔۔  بھائی کے زور دینے پر میں نے تعلیم پھر سے شروع کر دی ۔   لیکن میں پوری توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔  ذہن ہر وقت ٹینشن میں رہتا، جتنی بار اس پر نظر پڑتی میں اتنی بار بکھرنے لگتا۔۔   دل چاہتا کہ میں فارم ہاؤس چھوڑ کر گھر چلا جاؤں جس گهر سے میری زندگی کی بیس بہاریں وابستہ ہیں۔۔   جہاں میرےبچپن کی یادیں ہیں۔   جہاں میرےدوست ہیں ساتھی ہیں، میرا خاندان، میرے ماں باپ بھائی ہیں۔۔۔۔ جہاں صرف  محبتیں ہیں۔   جہاں آسودگی ہے۔۔۔۔  
میں پہلے چھٹیوں میں فارم ہاؤس پہ وقت  گزارنے آیا کرتا تھا  آس پاس کے سارے علاقوں میں گھوم پھر کر کتنا لطف اندوز ہوا کرتا تھا ساری چھٹیاں ادھر ہی بیت جاتی تھیں۔  مگر  اب یہی فارم ہاؤس مجھے اچھا نہیں لگتا۔    ایسا لگتا اس گھر کی دیواروں میں آسیب بس گئے ہوں۔۔۔۔۔  میں راتوں کو چونک  کر اٹھ جاتا۔   اماں کو یاد کر کے رونے لگتا۔۔۔   
"بھائی مجھے گھر واپس جانا ہے"
کسی چھوٹے بچے کی طرح بھائی سے احتجاج کرتا، لیکن بھائی مصلحت کے تحت  ٹال دیتے۔۔۔  میں افسردہ سا ہو کر خاموش ہو جاتا۔ میں تو پہلے ہی کم سخن تھا لیکن اس  واقعے کے بعد بالکل خاموش ہو گیا۔ میں اس قید میں رہ کر تھک چکا تھا  میں آزادی چاہتا تھا۔۔  مجھے اب منزہ سے نفرت نہیں تھی کیوں کہ وہ نفرت کے قابل بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔   شاید وہ بھی تھک چکی تھی۔۔۔۔ اس کی ہر ضرورت  پوری ہو رہی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی ادھوری تھی۔۔   اسے میرا قرب  چاہئے تھا۔۔۔   جو میں کبھی نہیں دے سکتا تھا۔  یہ بات وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ میری زندگی میں وہ غیر اہم ہے۔  ۔۔ تین سال ہم دونوں ایک جیسی آگ میں جلتے رہے۔ روح کی آسودگی کے لئےاسے  میرا قرب چاہئے تھا۔۔   اور مجھے چاہئے تهی اس سے دوری ... اتنی دوری کہ پھر کبھی وہ مجھے نظر نہ آئے۔۔  ایک روزمیری تڑپ میری دعا رنگ لے آئی
"احمر مجھے معاف کر دو"اس روز وہ پہلی بار میری موجودگی میں میرے کمرےمیں آئی تھی۔ میں خالی نظروں سے اسےدیکھنے لگا 
"میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا تمہاری  زندگی،  تمہارا مستقبل برباد کر دیا۔  مجھے لگا گزرتے وقت کے ساتھ تمہارے دل میں جگہ بنا لوں گی۔۔   لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔  محبت  اور آسودگی کے بنا میں جی نہیں سکتی۔۔   مگر یہ سچ ہے کہ تین سال میں نے تم سے پوری شدت سے محبت کی اور تمہاری محبت کا انتظار کیا۔ لیکن میں تمہارا قرب نہیں پا سکی۔  میں  تمہاری نظر میں ہیچ عورت  ہوں۔   پھر بھلا تم مجھ سے محبت  کیوں کرو گے۔۔  کب تک اس آگ میں جلو گے؟  کب تک اس آگ میں مجھے جلاؤگے ؟ "وہ رو پڑی تھی۔  لیکن اس کے آنسو میرے دل کو نرم نہیں کر سکتے تھے
"یہ آگ تم نے خود لگائی ہے"
میں شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دو"  میں خاموش رہا
"احمر مجھے طلاق دے دو" شاید وہ سچ کہہ رہی تھی 
"تم اپنے گھر جا سکتی ہو" میرے سپاٹ سے جواب پر وہ روتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تھوڑی  دیر بعد میں نے اسے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا۔۔  وہ اپنا سامان لپیٹ کر جا  چکی تھی۔۔۔  جس طرح اس کے آنے سےمجھے خوشی نہیں تھی اسی طرح مجھے اس کے جانے کا غم بھی نہیں تھا۔۔
میں بہت دنوں  کے بعد اپنے گھر لوٹا تھا۔  اماں مجھے دیکھ کر نہال  ہو گئیں۔ 
"اور منزہ…؟ "
" وہ گھر جا چکی ہے"
"وہ گھر جانے کے لئےآسانی سے مان گئی ؟" اماں متعجب تھیں، میں تلخی سےمسکرادیا
"نہیں۔۔۔۔۔  "خزانے کی کنجی" اپنے ساتھ لے گئی ہے،  فارم ہاوس کے کاغذات میرے کمرے میں موجود نہیں ہیں"  میں زمین پر نظریں جمائےکہہ رہا تھا۔۔۔۔ 
"ﷲ کا شکر ہے بیٹا اس نے اتنے میں ہی جان چھوڑ دی…  " گھر کے کسی بھی فرد  کو  اس کے کاغذات لے جانے پر ملال نہیں تھا۔   سب کو خوشی اس بات کی تھی کہ  اس نے خود تعلق ختم کیا ہے تواب اس کی طرف سے کوئی ٹینشن نہیں ہے۔۔
"ویسے بھی بابا اور ہم لوگ تمہاری وجہ سے فکر مند تھے کہ جب تم خوش نہیں ہو تو یہ گاڑی کب تک چلے گی۔۔ ہم نے سوچ لیا تھا فارم ہاؤس اس کے نام کر دیں گے اس کے بعد بھی وہ جو کچھ بھی مانگے گی ہم دے دیں گے۔  لیکن  اسے علیحدہ کر دیں گے۔ ہم سب جانتے تھے ہم نے عجلت میں جو فیصلہ کیا  وہ تمہارے لئے غلط تھا۔۔   اب ہم اس کا ازالہ بھی کریں گے"
بھائی نے معنی خیر مسکراہٹ کے ساتھ  مجھے سینے سے لگا لیا۔۔  پھر اماں مجھے دیر تک پیار کرتی رہیں میں اماں کی گود  میں سر رکھ کر سو گیا۔ بہت دونوں کے بعد مجھے محبت  کی آغوش میں نیند آرہی تھی۔۔  
یہ سکون زیادہ دن قائم نہیں رہ سکا۔  منزہ اب  زخمی ناگن بن کر مجھے ڈسنا چاہتی تھی۔۔۔ ۔  میرے،  بابا اور بھائی کے نام وارنٹ آیا تھا۔    اس نے ہمارے خلاف مقدمہ درج کر دیا تھا کہ "تین سال میں نے اسے سخت تشدد میں رکھا ہر طرح کی ذہنی اذیت اسے پہنچائی۔۔  شادی سے پہلے نا جائز تعلقات رکھے۔  بچہ بھی میرا ہے لیکن اب میں اس تعلق سے مکر کر اسے بدکرداری کے الزام دیتا ہوں اور تمام اذیتوں کے ساتھ اسے بندش میں رکھتا ہوں۔  میرے ظلم سے نجات  پانے کے لئے ایک رات اس نے چپکے سے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی"۔۔    .... اب وہ مجھ سے اپنے اور بچے کے لئے جائداد طلب کر رہی تھی۔۔   فارم ہاؤس کے کاغذات جواس نے چوری کئے تھے ، وہ اس کے کسی کام کے نہیں تھے۔   کیوں کہ فارم ہاؤس بابا  کے نام پر تھا اور بابا  کے دستخط کے بغیر اس پر قبضہ مشکل تھا۔۔۔  اس نے نئی چال چلی تھی مگر ہم لوگ مقدمے کے لئے تیار ہو گئے۔۔ کیس اب تک جاری ہے ... اس کا فیصلہ جانے کب ہو۔۔۔۔ میں اب ذہن کو یکسو کر کے تعلیم جاری رکھنا چاہتا تھا۔۔   بہت حد  تک کامیاب بھی  رہا۔ میرا نتجہ بھی اچھا آیا۔   بابا کے حکم پر میں بھی بھائی کے  ساتھ باقاعدہ فیکٹری جانے  لگا۔۔۔۔ میں جواپنی ذات سے لا پرواہ تھا خود کا خیال رکھنے لگا۔  مگربہت سنجیدہ ہو گیا تھا شوخیاں، شرارتیں ختم ہو چکی تھیں میرے اندر ٹھہراؤ سا آگیا ۔۔۔  جو اماں اور بھائی کو بہت کھل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔  
گھر والوں کو لگ رہا تھا  میں اب پوری طرح سیٹ ہو چکا  ہوں   اس لئے میری شادی ہو جانی چاہئے اس بار وہ پہلی والی غلطی دہرانا نہیں چاہ رہے تھے۔۔  ان کی نظر میں میری پسند اور رضامندی سب سے اہم تھی…  جب اماں نے مجھے سے میری مرضی پوچھی…  میری آنکھوں میں اس کا شائبہ  ابھرا جس کی محبت کو میں اپنے اندر دفنا چکا تھا۔۔  میں نے ابھی کچھ کہنے کے لئے لبوں کو جنبش ہی دی تهی کہ  بھائی کا سات سالہ بیٹا عاطر میرے  انٹر کی فائل  اٹھا کر بھاگتا ہوا آیا مجھ تک پہنچنے سے پہلے وہ خود  بھی گرا ساتھ ہی فائل بھی گرتے ہی کھل گئی سارے کاغذات بکھر  گئے۔۔ جن کے درمیان میرا خواب جھانک رہا تھا۔۔۔ 
عاطر اپنی چوٹ بھول کر اٹھا 
"دادی دیکھو یہ حفصہ پھوپھی ہیں ناں " میں نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ سےتصویر لے لی سب ہنسنے لگے میں جھینپ گیا۔۔  اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔۔۔۔۔ 
آج میری ماموں زاد حفصہ کے ساتھ میرا نکاح ہو گیا۔۔۔۔  میری خاموش محبت میرے دسترس میں آ گئی ہے۔۔   مگر کیا آج میں خوش ہوں؟۔۔۔۔۔۔  میں گھر کی سب سے اوپری منزل پر بیٹھا دیر تک ماضی اورحال کا احتساب کرتا رہا۔    مجھے حال میں جینا تھا... اس لئے ماضی کے کرب کو ڈائری میں لپیٹ کر سگریٹ لائٹر کے ذریعہ نذر آتش  کر دیا۔۔۔ اور پھر زینے طے کرتا ہوا نیچے اترنے لگا۔  درمیان میں لانج  سے لڑکیوں کے ہنسنے کی آواز آرہی تھی  میں بے ارادہ ہی شیشہ کھول کے اندر جھانکنے لگا۔    لانج عورتوں اور لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا سب کے درمیان حفصہ بیٹھی ہوئی تھی اس کا رخ میری طرف  تھا چہرے سے گھونگھٹ ہٹا کر اسے کھیر کھلائی جا رہی تھی۔   کسی من چلی لڑکی نے اس کے کان میں کچھ کہا  وہ مسکرانے لگی۔ اس پل مجھے ایسالگا جیسے  وہ مسکراہٹ ہی میری زندگی ہے۔۔۔۔۔۔۔  میں بے اختیار مسکرانے لگا
"ہاہا ہاہا چوری پکڑی گئی"
اچانک افتاد  پر میں ایڑیوں پر گھوم گیا۔۔  پیچھے بھائی کھڑے ہنس رہے تھے پہلے تو میں جھینپ گیا پھران کی ہنسی میں شامل ہو گیا۔۔۔۔
*نمبر :----- 10*
*ﻋﻨﻮﺍﻥ:----- ﻟﻤﺲ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ*
*ﺗﺤﺮﯾﺮ :---- ﺯﺍﺭﺍ ﻓﺮﺍﺯ*

.............
ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﮕﻤﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ
ﻧﮯ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﮐﺎﻝ ﺭﯾﺴﻮ ﮐﯽ
"ﮨﯿﻠﻮ ﻓﺎﺭﺱ …
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻞ ﺭﺍﺕ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺯﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﺴﻨﺖ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﻨﮑﮭﮍﯾﺎﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﮑﮭﺮﯼ
ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﺍﻣﺎﮞ ﺧﺮﺍﻣﺎﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ  ﻣﯿﮟ
ﺍﻥ ﺧﻮﺷﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﻄﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤّﺮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﻠﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ
ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﻤﺮﻭﮞ ﺳﮯ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﺳﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﻭﺳﻂ ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﺟﮩﺎﺯﯼ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﯽ ﺁﺭﺍﻡ ﺟﺎ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﺱ
ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺮﻭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺁﮌﮮ ﺗﺮﭼﮭﮯﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﻢ
ﺩﺭﺍﺯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺘﺎﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﺮ
ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ … ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ؟ …… ۔۔۔۔۔ ﺧﯿﺮ ﭼﮭﻮﮌﻭ
ﺍﺱ
ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺭﺩ
ﮨﮯ ﺩﺑﺎ ﺩﻭ ﻧﺎﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺭﺍﻡ ﺟﺎ
ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻠﮑﯽ
ﺗﺮﺍﺷﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺭﯾﺶ ﺻﺒﯿﺢ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﯽ …
ﺍﺱ
ﮐﯽ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﮐﯽ، ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ
ﺑﮑﮭﺮﮮﺳﯿﺎﮦ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﺮﻧﮯ ﮐﯽ، ﺁﺝ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺗﮏ ﺟﻞ
ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺦ ﺍﭨﮭﯽ … ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺪﺍ … ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﯿﺰ
ﺑﺨﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﺗﺐ ﻭﮦ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ
ﮐﮯ ﭘﻮﺷﺖ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺑﺲ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮨﮯ۔ ……۔۔۔۔۔۔
ﭨﮭﯿﮏ
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ
ﻭﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﯽ
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺐ ﺳﮯ ﺑﺲ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﯽ
ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻟﻤﺲ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ . ؟ "
ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ
ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻭﮦ
ﭼﺎﮨﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺍﺱ ﮐﮯﺟﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎ ﮐﺮ ﮐﺎﻝ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ
ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔

No comments:

Post a Comment