*عنوان :-- چوتھے موسم کے د کھ*
*تحریر:---- زارا فراز*
آسمان کی وسعتوں میں پھیلی افق کی مضطر اور اداس منظر کی طرف دیکھتی ہوں تو میری نگاہیں اس کے پار کچھ تلاش کرنے لگتی ہیں
ہاں زندگی…… زندگی ہی تلاش کرتی ہیں ایک زندگی اس طرف ہی کھو گئی ہے
دسمبر آتے ہی لوگ سرد آہیں بھرنے لگتے ہیں۔ اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کرب ناک تنہائی میں جدائی کے عذاب جھیلتی رہتی ہوں۔ میرا غم صرف میری جیسی وہ عورت ہی سمجھ سکتی ہے جو اس سانحہ سے گزر چکی ہو۔ اس درد اور کرب سے آشنا ہو۔۔۔۔۔۔۔ جدائی جو موت کا روپ اختیار کر چکی ہو۔ اس کے بعد تو ساری امیدیں ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ میں نے موت کو چار بار اپنے قریب دیکھا۔۔۔ دوبار زندگی جنم دیتے ہوئے، دو بار زندگی کو پہلو سے جدا ہوتے ہوئے۔۔۔… اور اب تو موت سے ایسی شناسائی ہے کہ وہ کسی بھی روپ میں آئے اسے جان جاؤنگی۔۔
دسمبر آتے ہی چوتھے موسم کے تمام دکھ لمحہ بہ لمحہ آنکھوں کےسامنے پاتی ہوں
آخری سانس میں لپٹی ہوئی زندگی جب روح کی چادر اتار دیتی ہےتو آدم زاد اسم آعظم پڑھتے ہوئے اس پر سفید چادر ڈال کرمیرے پہلو سے اٹھا لیتے ہیں۔ میں ہوا میں ہاتھ پھیلاتی ہوں۔ چلاتی ہوں لیکن میری آواز اندر ہی کہیں گھٹ جاتی ہے رنج و الم سے میرا سارا وجود لرز رہا ہوتا ہے ، بےشمار آنسو مجھے دلاسہ دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔ میں انہیں بے دردی سے پونچھ لیتی ہوں تو دل آہ و فغاں کرنے لگتا ہے۔۔۔۔۔……
کمرے میں پھیلی کافور کی بو مجھ سے کہتی ہے
" یہ چوتھے موسم کے دکھ ہیں تیرا رونا برحق ہے۔۔۔۔۔!! "
میں پھر زارو قطار رونے لگتی ہوں۔۔۔۔
*نمبر :---- 27*
*عنوان:-- معصوم دہشت گرد*
*تحریر :---- زارا فراز*
کل شام اس نے بابا اور چاچو کی تمام گفتگو بغور سن لی تھی. وہ باتیں اب تک اس کے ذیہن میں انتشار پیدا کر رہیں تھیں۔ صبح سفید کرتا پاجامہ پہن کر سر پر ٹوپی جمائی، پرسوچ انداز میں امی کے پاس کھڑا الوداعی دعا کا منتظر تھا۔ امی ہمیشہ کی طرح اسے مدرسہ جانے سے پہلے پیشانی پر بوسہ لے کر دعاوں سے نوازا…
" امی کیا جب میں بڑا ہو جاوں گا اور داڑھی رکھ لوں گا
عالم مفتی بھی بن جاوں گا تو کیا میں بھی دہشت گرد کہلاوں گا۔۔۔۔……؟ "
*نمبر :----29*
*عنوان:--- پنجرے کا آدمی*
*تحریر:---- زارا فراز*
وہ اسے مار ڈالنا چاہتا تھا، جو اس کی ذات کا پہلا دشمن تھا، جس نے اسے شراب پلا کرخواہشوں کے اندھے کنویں میں ڈھکیل دیا تھا۔ خود سے بیگانہ کر دیا تھا۔ وہ جس نےدولت کے انبار پر کتنے معصوم کی عزت کو تار تار کرنے کا تماشا اس کی آنکھوں سے دیکھا تھا
وہ اس کوقتل کر دینا چاہتا تھا، پھر اس نے "نفس "کے گلے پر پاوں رکھ کر اسےمار بھی ڈالا، اور خود انسانی پنجرے میں قید ہو گیا۔۔۔ اس کی پیشی برزخ تک ٹال دی گئ ۔۔۔
*نمبر :-----28*
*عنوان:---- انٹر نیٹ کابیمار*
*تحریر :---- زارافراز*
سحر سے زرا پہلے بیڈ پر موبائل جس کی بیٹری ڈاون ہو چکی تھی ایک طرف پڑا ہوا تھا۔ آدھا کمبل سینے پر اور آدھا زمین بوس… تکیہ کب سر کے نیچے سے سرک کر رانوں کے درمیان چلا گیا تھا۔ رات بھر کا جاگا ہوا اب بے سدھ و بے ترتیب سو رہا تھا۔۔
سورج کی پہلی کرن اس کا جسم ٹٹولنے لگی۔ زندہ پا کر مطمئن ہو گئی۔
*نمبر :-----30*
*عنوان:--- "بند دروازے کا نوحہ"*
*تحریر :-----زارافراز*
وہ آج بھی دوازےسے لگا اندر کے احوال جاننے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ جہاں رات ہوتے ہی نہ سمجھ آنے والی طویل گفتگو۔۔۔۔۔ پھر چیخیں۔۔۔۔ نوحہ گری شروع ہو جاتیں۔۔۔۔۔
سحر کے قریب آواز آہوں میں تبدیل ہوکر معدوم ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ حیران تھا کہ جب دروازہ باہر سے بند ہےتو پھر اندر کون رہتا ہے۔؟
*نمبر :---31*
*تحریر :---- زارافراز*
"ایک ماں بچہ جنم دیتی ہے چار برس کے بعد ٹھیک اسی روز وہ بچہ فوت ہو جاتا ہےپھر وہ ماں ہر برس اس کی پیدائش کے دن اداس اور غم زرہ ہو جاتی ہےخوشیاں نہیں مناتی کیوں کہ اس روز اس کا بچہ اس سے بچھڑ گیا تھاہمیشہ کے لئے۔ ایسی عورت کی مثال کے لئے میں خود کو سامنے لاتی ہوں۔ میں نے جس روز بچے کو جنم دیا اس رات کی سورج طلوع ہونے سے پہلے۔۔۔۔۔۔ اسے کھو دیا ۔ اب ہر برس کا وہ دن میرے لئے بہت سخت ہوتا ہے۔ مجھے ایک پل کے لئے بھی یاد نہیں آتا کہ آج میں نے زندگی جنم دی تھی۔ یاد رہتا ہے تو بس اتنا کہ آج اسے کھو دیا تھا۔ ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئ۔۔۔۔۔۔۔ "
"آج عید میلاد کی جشن میری جیسی حساس عورت جو اب ماں کا روپ دھار چکی ہے۔ بہت حیران ہوتی ہے۔ آخر آج جشن منانے والے کون ساجذبہ رکھتے ہیں۔۔ آج کے روز تو پورے مدینے میں ماتم کا سما تھا۔۔ پھر کیسے آج لوگ جشن منا رہے ہیں شرعی احکام کو بھول کر تاشے بجا رہے ہیں۔ میوزک کے ساتھ تو نعت شریف پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔۔۔ توپھر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"لاکھ روکنے کے باوجود بھی۔۔۔۔ غیر شرعی احکام تو ہو ہی رہے ہیں۔۔۔۔۔ صبح شام گلیوں میں ڈھول تاشے اور میوزک کے ساتھ نوجوان اور بچے چندہ لینے کے غرض سے نکلتے ہیں۔۔ لیکن احکام جاری کرنے والوں کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔ (میری نظر میں بدعت ۔۔۔) ۔ آپ کی نظر میں عشق رسول ہے ناں۔۔ (تو عاشق کون…؟؟ آپ؟ اور معشوق؟؟……) جب اپ جلوس نکلوانے کی طاقت رکھتے لیں تو غیر شرعی احکام کے روکنے کا بھی حوصلہ رکھئے۔۔۔ ۔ صرف فیس بک میں پوسٹر لگا دینے سے آپ کی بات کوئ نہیں مانے گا۔۔۔ جس طرح ایک ایک گھر کا دروازہ بجا کر جشن میلاد کی تبلیغ کی تھی۔ اب پر گھر کے دروازے پہ جا کر انہیں دھول تاشوں سے روکنا ہوگا۔ دین میں نئ بات تو آپ عشق رسول کو جاوداں کرنے کے لئے نکال رہے ہیں مگر آپ کے بعد کم فہم لوگ۔۔۔۔ ۱۲ ربع الاول کو دھول تاشوں کے لئے مخصوص کر لیں گے۔۔ اور اپ سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ منائیں گے۔۔۔۔
آپ نے اور اس قوم کو جو کرنا ہے کیجئے لیکن آج گلی میں دھول تاشوں کا سبب بھی آپ ہی لیں۔۔ آپ خود سوچیں ہمارے نبیؑ اس فعل سے خوش ہوتے ہوں گے یا غم ذدہ۔۔۔۔۔
پچھے برس ایک صاحب میلادنبیؑ کے جلوس سے واپس آئے بڑے خوش تھے میں نے پوچھ لیا بھئ آج فجر کی نماز پڑھی؟
"نہیں جی"۔۔۔ لجاجت سے جواب دیا
" اور آج کتنی بار پیارے نبیؑ پر درود بھیجی؟ "تو صاحب لا جواب تھے۔۔۔۔۔
یہ ہیں عاشق رسول۔۔۔۔۔۔… "
میرے پوسٹ سے سارے لوگ متفق ہونگے۔۔ لائک کرینگے۔۔۔ لیکن میں پوچھونگی۔۔۔ پھر تاشے کون بجا رہا ہے۔۔؟ "
*افسانہ :------32*
*عنوان :--- دلنشیں کوئی اور تھا*
*تحریر : ----- زارا فراز*
پورے چھ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا، اس نے لرزتی ہوئی پلکیں اٹھائیں. سب سے پہلے جو چہرہ نظر آیا وہ زید کا تھا، کتنے بے تاب تھے وہ اس کے لئے. آنکھیں کھلتی دیکھتے ہی لپک کر پاس آئے، بے قرار لہجے میں پوچھا
"عظمی کیسی ہو؟ " کہتے ہوئے کمزور ہاتھ تھام لیا
" جی الحمدللہ " نقاہت کی وجہ کر اس کی آواز لڑکھڑا نے لگی.
"تمہیں مبار ک ہو، ہمارا بیٹا ہوا ہے" زید مسکراتے ہوئے اس کے رخسار چھو رہے تھے تب اس نے زرا سی گردن گھمائی، ایک بالکل ننھا وجود، اس کے جسم کا حصہ، اس کے جگر کا ٹکرا اس کی پہلو میں پڑا، اپنی بے حد بارک سی آواز میں روتا ہوا
اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا. وہ اٹھنے کی نا کام سی کوشش کرنے لگی تب ہی سسٹر آئی اور سہارا دے کر اسے بیٹھا دیا. گو کہ اسے تکلیف بہت تھی مگر اس کی ممتا ننھے سے وجود کو آغوش میں لینے کو بیتاب تھی. زید نے بچے کو اٹھا کر اس کی گود میں ڈال دیا، مگر خود بھی بچے کو تھامے رہے کیوں کہ عظمی پوری طرح سے اس پھول سے بچے کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہی تھی. زید مسکراتے ہوئے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہے تھے.. نقاہت کے باوجود بھی اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکان تھی. وہ بچے کو بڑے پیار سے تک رہی تھی. اور ننھا وجود مسلسل روئے جا رہا تھا.. اچانک اس کی ممتا جوش مارا اور اس نے بچے کو اپنے آغوش میں بھر لیا. ماں کی چھاتی سے لگ کر وہ ایک دم چپ ہو گیا. زید دھیرے سے ہنسے اور رخ پھیر لیا، وہ شرما گئی....
"تم نے کیا سوچا؟ کیا نام رکھو گی؟ "
" آپ کو جو پسند " اس نے د ھیرے سے کہا
" بیٹی ہوتی تو اپنی پسند کا رکھتا..... اب اس کا نام تم ہی رکھو گی" وہ ان کی محبت پر مسکرا دی..... زید کے موبائل پر کسی کا فون آیا وہ وارڈ روم سے نکل کر باہر چلے گئے وہ بچے میں مشغول ہوگئی
نام تو اس نے سوچ ہی رکھا تھا مگر زید نے اسے نام رکھنے کا اختیار دے کر اعزاز بخشا تھا
"طلحہ..... اگر اس نام سے خوبصورت کوئی اور نام ہوتا تو وہی رکھتی" وہ خود سے ہم کلام تھی....... اندر آتے زید نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر دروازے ہر ہی رک گئے...
"طلحہ.....؟ مجھے معلوم تھا تم یہی نام رکھو گی اور نہ بھی رکھتیں تو میں رکھ دیتا" اس نے حیرت اور اشتیاق سے اپنے بے حد خوبرو شوہر کو دیکھا.. جیسا ان کا حسن تھا ویسا ہی ان کا ظرف بھی ....... وہ انہیں ایسی نظر سے دیکھ رہی تھی جیسے عمر میں پہلی بار دیکھا ہو .......
"طلحہ......" یہ نام اس کی کتاب زندگی کے پہلے ورق پر بہت ہی روشن حروف میں سچے جذبوں کے ساتھ لکھا گیا تھا. وہ جذبے وقت کے ساتھ محبت کے رنگ میں ڈوبتے گئے..... وہ رنگ جو پھولوں سے چرایا جائے اس میں خوشبو کا ہونا لازمی تو ہے اور خوشبو کو کسی دور یا کسی جنم میں بھی قید نہیں کیا جا سکا... سو اس کی محبت کی خوشبو بھی سارے خاندان میں پھیل گئی...
"طلحہ اور عظمی"
"عظمی اور طلحہ"
عظمی اس شور سے ڈر گئی مگر طلحہ سارے کزنز کے شوخ جملوں کا جم کر مقابلہ کرتا اور ٹکر کا جواب دیتا. آخر سارے کزنز نے ہتھیار ڈال دئے اور بزرگوں تک دونوں کی نسبت کی بات لے کر پہنچے پھر ان کے درمیان لمحوں میں منگنی سے لے کر شادی تک کا فیصلہ ہو گیا. طلحہ خوش اور عظمی مطمئن تھی.. مگر اب دونوں کی ملاقات میں سارے کزنز نے پہرے لگا دئے . طلحہ تڑپ کر رہ گیا مگر عظمی محظوظ ہوتی رہی ..
“ظالم لڑکی تم ہی ملنے کی راہ نکالو ناں "اس کے موبائل پر طلحہ کا ٹیکسٹ تھا. وہ ہنس پڑی اور اسے رپلائی کر دیا.
زمستان کی یخ رات اور پورا چاند، سرگوشیوں میں محو تنہائی، خوابیدہ ماحول، چارو سمت اپنا حسن بکھیر رہے تھے....... وہ چھت کے اوپر کھلے آسمان کے نیچے گرم کپڑوں میں ملبوس خود کو سردی سے بچاتا اپنی جان حیات کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا .....
کھٹ.... کھٹ... کی آہٹ سنائی دی، وہ سیڑھیوں پر سے ہوتی ہوئی سامنے سے آتی دکھائی دی اور پھر اس کے قریب.... پھر بھی درمیان میں کافی فاصلہ رکھے ہوے.
"السلام علیکم "
" وعلیکم السلام.... بہت انتظار کروایا یار تم نے" طلحہ نے تھوڑی ناراضگی جتائی
سوری سب کے سونے کا انتظار کر رہی تھی... یہ کہو اتنی سردی میں چھت پر کیوں بلایا؟ ... اف ادھر تو کافی سردی ہے..... میں سردی سے مر رہی ہوں" جواب دیتی ہوئی وہ سچ مچ بری طرح کانپ رہی تھی.
"مرنے کی بات مت کرو عظمی... اس کی آنکھیں اندھیرے میں جھلملا اٹھی . اس نے اپنا گرم کوٹ اتارا اور دھیرے سے اس کے نازک شانے پر ڈال دیا
" بس تمہیں قریب سے دیکھنے کے لئے بلایا ہے. کتنے دن ہو گئے تمہیں پاس سے دیکھے ہوئے... اب یہ دوری سہی نہیں جاتی دل چاہتا ہے آج ہی بھگا لے چلوں. "
دھیرج.. .... ... شادی کو دن ہی کتنے رہ گئے ہیں"
"زندگی اتنی بھی اجازت نہ دے تو عظمی تم کیا کرو گی. میرے بغیر رہ پاؤ گی؟ " نا جانے اس لمحے طلحہ کے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ وہ پورے وجود سے لرز گئی..
" میں جاوں نیچے؟ "نا چاہتے ہوئے بھی وہ ناراض ہو گئی، اور پلٹ کر جانے کے لئے قدم اٹھائے
" ٹھہرو یار... " اس نے پیچھے سے اس کی کلائی تھام لی وہ رکی ضرور مگر پلٹ کر نہیں دیکھا
" جاؤ...... مگر ناراض تو نہیں ہو ناں ؟؟"وہ اس کے روبرو تھا. وہ بس نفی میں سر ہلا پائی.
"مسکراؤ پہلے پھر جانے دوں گا" اس کی کلائی اب بھی اس کے مضبوط ہاتھ کے گرفت میں تھی. وہ ناراض ناراض سی مسکراتی ہوئی سیدھے اس کے دل پر وار کر رہی تھی......... اس نے کلائی چھوڑ دی.
"اب جاؤں؟ " وہ اس کے بغل سے گزر کر جانے کو تھی
"چلی جانا.... پہلے یہ تو بتاؤ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟ " ہر دفعہ کا دوہرایا ہوا سوال، مگر اس سوال کے بغیر اس کی ملاقات مکمل ہو جاتی یہ ناممکن تھا
" بہت زیادہ" اس جواب نے اس کے اندر دور تک طمانیت پھیلا دی تھی...
وہ زمین پر بہت آہستہ آہستہ اپنے پیر کا وزن رکھتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگی طلحہ اس کے پیچھے تھا آخری سیڑھی پر اس کا کورٹ اتار کر اسے واپس کرتے ہوئے شکریہ کہا اور اپنے کمرے کے جانب مڑ گئی... طلحہ بھی محتاط قدموں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
وہ صبح عام صبحوں سے زرا بھی مختلف نہ تھی. وہی مرغوں کی بانگیں. ... فجر کے وقت مؤذن کی اذان....وہی چڑیوں کی چہچہاہٹ... وہی طلوع آفتاب.ہونے سے پہلے کا دلنشی منظر .... سب کچھ روز کے معمول کی طرح تھا.. مگر ایک چراغ سحر، رات کے جانے کس پہر بجھا، جس نے ہر آنکھوں تلے اندھیرا کر دیا، سارے گھر میں کہرام مچ گیا .آہ و فغاں کی دردناک صدائیں بلند ہونے لگیں ... ہر کسی کے لہجے میں بے یقینی کے ساتھ غم کی کیفیت..... ہر کوئی اس کے کمرے کی طرف دوڑتا ہوا دکھائی دے رہا تھا. دیکھتے ہی دیکھتے سارا گھر لوگوں سے بھر گیا... ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال......
"کیسے موت ہوئی..؟ "
" ہم نے اسے کل شام تک اچھا بھلا دیکھا تھا... اور آج؟ اس کی موت کا یقین نہیں ہوتا"
"میت کب اٹھے گی؟ "
"کب ہوا انتقال؟ "
وہ کتنا دلخراش منظر تھا جب اس کی میت اٹھائی جانے لگی... زور زور سے کلمہ طیبہ کی گونج... اور سسکیوں کی آوازیں اپنوں اور اہل بستی کا دل چھلنی کر رہی تھی، آنکھیں اشک بار، ہر چہرہ پر نم . مگر دو آنکھیں تھیں بالکل خشک اور ساکت...
"عظمی آخری دیدار کر لو بیٹی.. .. طلحہ کا جنازہ اٹھایا جا رہا ہے"
محبوب کا دیدار آخری تھا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بے جان وجود کو دیکھ رہی تھی اچانک ہی اس نے ایک دل خراش چیخ ماری، اور پورے قد سے لہراتے ہوئے گرنے لگی اس وقت جو دو بازوں نے اسے تھاما وہ زید کے بازو تھے. عظمی بیہوش ہو چکی تھی مگر طلحہ اپنے آخری سفر کو چل پڑا اس کی خاطر بھی نہ رکا تھا وہ .....
پورے گھر میں خاموشی اور اداسی نے ڈیرہ ڈال دیا . سبھی کا دردمشترکہ تھا، ہر کوئی ایک دوجے سے چھپ کر روتا مگر ایک دوسرے کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتا. عظمی کے سارے کزن اس کا خاص خیال رکھتے اسے ایک پل بھی تنہا نہیں چھوڑتے.. اور سب سے زیادہ زید اس کا خیال رکھتے وہ روتی تو اپنی انگلیوں کی پوریوں سے اس کے رخسار کے سارے آنسو چن لیتے.. وہ کھانا نہیں کھاتی تو اپنے ہاتھ سے لقمے بنا بنا کر اس کے منہ میں ڈال کر کبھی زبردستی اور کبھی پیار سے کھلاتے.... مگر خود وہ کھانا کھانا بھول جاتے .. عظمی کی حالت دیکھ کر سگے بھائی کا غم تازہ ہو جاتا، وہ خود تنہائی میں جا کر پھوٹ کر روتے تب انہیں چپ کرانے اور دلاسہ دلانے والا کوئی نہیں ہوتا... تب ان کے رخسار سے آنسو کوئی نہیں پونچھتا.
اس غم ناک سانحے کے بعد زید عظمی کے بہت زیادہ قریب ہوگئے. دونوں ہی کا غم مشترکہ تھا مگر عظمی اس بات سے بے نیاز آنسو بہاتی رہتی. مگر کب تک.... ایک دن آنسوؤں کا سمندر بھی خشک ہو گیا... بس دو خوبصورت اور اداس آنکھیں ہی رہ گئی... جو اپنی جانب دیکھنے والوں کا دل لرزا دیتی ....
پھر وہ دن بھی اس کی زندگی میں آیا. جب اسے بڑی سادگی اور خاموشی کے ساتھ ایجاب وقبول کے مرحلے سے گزار کر پھولوں کے سیج پر بٹھا دیا گیا. پھولوں کے رنگ اور خوشبو اس کے دل میں کوئی بہار نہ لا سکے... وہ آنکھوں میں حزن کا عکس لئے.. تمام جذبات سے عاری... ٹھنڈی عورت کی طرح سیج پر بیٹھی تھی. جب زید نے اس کے گھونگھٹ اٹھا کر رونمائی کا تحفہ پیش کیا، وہ تب بھی شاکڈ کی سی کیفیت میں تھی. خالی خالی نظروں سے پیش کئے گئے تحفے کو دیکھ رہی تھی. خوبصورت سی فنگر رنگ اس کے داہنے ہاتھ کے تیسری انگلی میں بالکل فٹ آئی تھی.
"میں نے تمہارے لئے گولڈ کی رنگ بنائی ہے"اس کے کانوں میں طلحہ کی آواز آئی
"دکھاؤ مجھے"
"ابھی نہیں... جب تم میری ہو جاؤ گی.تب .. " وہ اس کی ہو کر بھی کبھی اس کی نہ ہو سکی تھی.... ایک درد ایک کسک دل میں جاگا. ایک آنسو اس کی آنکھ سے سے ٹپکا جو زید کے ہاتھ کے پشت پر جذب ہو گیا اس لمحہ زید نے اسے چونک کر دیکھا اور پھر ایک دم ہی اپنے بازوں میں بھر لیا.... زید کے بس میں نہیں تھا کہ اس کے سارے درد سمیٹ لیتے.
شادی سے پہلے زید اس کا جس طرح خیال رکھتے تھے شادی کے بعد اور بھی زیادہ محبت اور خیال رکھنے لگے. بدلے میں وہ ان سے اکھڑی اکھڑی رہتی، قریب آتے تو جھڑک دیتی محبت کی بات کرتے تو بے دلی سے سنتی، یاموبائل پر لگی رہتی، ان کی موجودگی میں وہ کمرے میں کم سے کم آتی اورکچن میں زیادہ وقت گزار دیتی. .. زید اس کے احساسات کو سمجھ رہے تھے. انہیں یقین تھا وقت کے ساتھ ان کی بے لوث چاہت اسے بدل دے گی..... مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ عظمی ان سے سخت بد گمان ہے.. وہ سمجھتی تھی کہ زید کی محبت خالص نہیں ہے اس میں خود غرضی شامل ہے، وہ طلحہ کی محبوبہ تھی. سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس کے بھائی نے طلحہ کے دنیا سے جانے کے بعد زبردستی اسے نکاح کر لیا. شادی سے پہلے کی ہمدردی، اپنائیت سب ڈھونگ لگنے لگی تھی. اسے لگتا شادی رچانے کے مقصد سے وہ اسے اپنے قریب کر رہے تھے... وہ تو تمام عمر طلحہ کی یادوں کے ساتھ جینا چاہتی تھی . زید نے نکاح کر کے اس کے آنکھوں سے خوابوں کے شہر محبت کو اجاڑ دیا تھا.... وہ اس کے مجرم تھے..
وہ اب بھی ان کی قربت سے بھاگتی تھی وہ اب بھی ان سے بیزار تھی. اگر اسے شوہر کے حقوق کا خیال نہ ہوتا تو کبھی اپنا آپ ان کے سپرد نہ کرتی. مگر ان کے پہلو میں ہو کر بھی خیالوں میں کہیں اور ہوتی تھی، اسے لگتا اس کا دل بھی طلحہ کے ساتھ دفنایا جا چکا ہے.... زید اس کا سرد رویہ محسوس تو کرتے مگر شکایت نہیں کرتے. وہ اچھے وقت کے انتظار میں تھے. عظمی ہر کام اپنی مرضی سے کرتی ان سے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھتی... مگر جب اس کے اندر نئے وجود کا ادراک ہوا.. وہ خود بخود بدلنے لگی.. بہت زیادہ خیال رکھنے والے زید اسے تھوڑے تھوڑے اچھے لگنے لگے. دل کا غبار تو ابھی صاف نہیں ہوا تھا مگر اس کے روئیے میں نرمی آ گئی تھی، کوکھ بھرنے کے اس ادراک نےشرسار کر دیتا تھا وہ اب زرا زرا مسکرانے لگی تھی .... زید کے لئے اتنا ہی کافی تھا.. وہ قدم قدم پر اس کا خیال رکھتے. اور جب حمل کے تینوں موسم بیت گئے اور ان کے درمیان ایک ننھے وجود کا اضافہ ہوا.... ننھے طلحہ کا.....
"عظمی ہمارا طلحہ بالکل اپنے چاچو پر گیا ہے ناں ... "زید کی آواز پر وہ ایسے چونکی جیسے کسی گہری نیند سے جاگی ہو
. اس نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گئی وہ سچ مچ طلحہ کی صورت سے بہت مشابہت رکھتا تھا وہی نین نقوش.. بالکل ایک جیسی آنکھیں.. ہونٹ اور پیشانی...... وہ بے اختیار اسے بوسے لینے لگی. زید اسے دیر تک تکتا رہا. طلحہ کو پا کر وہ بے حد خوش تھی. وہ اب پہلے والی عظمی تھی ہی نہیں. اس نے خود کو پورے طور پر بدل لیا. خود بخود اس کے دل سے زید کے لئے بد گمانی چھٹ گئی.. کیوں نہیں چھٹتی بد گمانی .. زید ہی تھے جو اسے پھر سے طلحہ جیسے انمول موتی واپس پانے کا سبب بنے تھے .
اسے ان کی بے لوث محبت پر یقین آگیا . وہ طلحہ جو انہیں چھوڑ کر ابدی نیند سو گیا تھا وہ ان دونوں کے لئے اہم اور عزیز تھا طلحہ کے جانے کے بعد اس کے وجود کو سمیٹ کر انہوں نے تو اسے بکھر جانے سے بچایا تھا اور وہ کتنی نادان تھی کہ اتنی سی بات کو سمجھ نہ سکی اور اتنے عرصے ان سے بد گمان رہی
اب وہ گئے دنوں کا ازالہ کرنا چاہتی تھی، زید جس شدت سے اسے چاہتے اور اس سے جس محبت کے طلب گار تھے وہ سب انہیں لوٹانا چاہتی تھی.
آج پہلی بار بڑے دل سے تیار ہوئی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی زید نے جب اسے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں شتائش ابھر آئی..... خود سے چل کر ان کے پاس آتی ہوئی عظمی نے انہیں اور بھی حیران کر دیا. اب وہ ان کے باہوں کے حصار میں بغیر کسی مزاحمت کہ ایک نرم اور شرمیلی مسکراہٹ بکھیر رہی تھی...
طلحہ پاس کی جھولے پر پڑا بے خبر سو رہا تھا. کمرے کا خوابیدہ ماحول بہت پرکیف لگ رہا تھا. دو ہستیاں ایک دوسرے میں گم اچھے دنوں کے خواب چن رہی تھیں.
"طلحہ" اچانک ہی عظمی چیخی اور زید کے باہوں سے پھسلتی ہوئی نکل گئی. جھولے سے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا.... وہ روتی جا رہی تھی اور بچے کو چومتی بھی جا رہی تھی. بچے کو بے تحاشا چومتے ہوئے وہ ارد گرد سے بالکل بے خبر ہو چکی تھی اس لمحے وہ یہ نہیں دیکھ سکی کہ اس کے پشت کے جانب کھڑے زید کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا ہے
ختم شد
*نمبر :-----34*
*عنوان :----- دعوے دار*
*تحریر :---- زارافراز*
"تم کون ہو"
"عشق جاویداں کی پہلی سانس"
"مجھے ڈھونڈتے کیوں ہو"
"حصول ذات ، عشق ابدی کے لیے"
"میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے"
"کلائی تھام کر دیکھو !!
اپنی قیمت جان جاو گے"
"بے مول، بہتر ہوں۔ میری زکوٰۃ تم ادا نہیں کر سکتے"
"رئیس عشق ہوں۔ تمہارے حصول کے بعد سب طے ہو جائے گا"
"اور محبت کی قیمت۔۔۔۔۔؟ "
"کوئی نہیں چکا سکتا"
"پھر نازاں کیوں ہو"
"تمہیں اپنا بناؤں گا"
"ھاھاھا ...ایک اور دعوےدار……!
*نمبر :---- 33*
*تحرير :---- زارافراز*
*"ایک گھنٹہ کے بعد"*
"یار سنو اپنی ایک تصویر تو دو"
"ہاں کیوں نہیں" فوراً تصویر برا آمد ہوئ تیکھے نقوش والی کومل سی لڑکی۔
"ملو گی مجھ سے؟ "
"مشکل ہے جناب"
ایک گھنٹہ بعد دوبادہ آن لائن آئ۔۔
"دھت تیری…… یہ بھی بلاک کر گیا
*نمبر :-----36*
*عنوان :--- سمجھدار*
*تحریر :------- زارافراز*
"ہیلو فاطمہ .....!"
"ارے شیریں السلام علیکم"
اگلے ہفتے ہمارے کالج میں پروگرام ہے میں نے تو فیصلہ کیا ہے ڈانس میں حصہ لوں گی اور پہلا انعام پاؤں گی اور تم......."
"اسلام ان لغویات کی اجازت نہیں دیتا....."میں صرف جنرل کوئیز میں حصہ لوں گی"
پاگل لڑکی تمہارے اندر تو بوڑھی روح بس گئی ہے میں تو تمام گیمس میں اہلیت رکھتی ہوں اور ثانیہ مرزا کی طرح مسلم خواتین کا میں نام پیدا کروں گی"
"شیریں میری دوست اگر تم میں ذرا بھی سمجھ ہو تو ثانیہ مرزا بن کر نہیں رابعہ بصری بن کر اپنے مذہب کا نام کرو اور نام کماو...."
فاطمہ نے مدبرانہ انداز میں اپنی بات کہی اور شیریں کے سرکتے آنچل کو سنبھال کر اس کے سر پر جما دیا
*نمبر:----37*
*تحریر :---- زارا فراز*
*عنوان :--- بد کردار*
"میں نکاح کر رہا ہوں خالہ ذاد سے"
"جلد ہی میں بھی نکاح ثانی کروں گا"
"لیکن طیبہؔ؟ "
"اسے طلاق دے دی"
"کیوں………؟ "
وہ عورت بدقماش تھی"
"تمہارے بابا نے تمہاری ماں کو چھوڑ دیا تھا…… کیا وہ بھی بدقماش تھیں؟ "
"بکواس بند کر"
"ایک سچ اور سنو…… طیبہ میری خالہ ذاد ہے"
*نمبر :----- 35*
*عنوان :----- عشق کی ذات*
*تحریر :------ زارافراز*
"سو رہے ہو"
"جگ رہا ہوں"
"سوئے نہیں؟ "
"نیند نہیں آرہی"
"سچ کیوں نہیں کہتے۔ "
"ہممم۔۔۔۔۔ انتظار کر رہا تھا۔"
"ہار گئے؟ "
"دل سے"
"اعتراف کرتے ہو؟ "
"یقین کر لوگی؟ "
"محبت ہوں مان جاونگی"
"تو لفظ کیوں مانگتی ہو"
"وجود چاہتی ہوں"
"قائم اب بھی ہو"
"لیکن۔۔۔۔ لمس سے محروم ہوں"
"چاہتی کیا ہو"
"تصویر"
"کیا کرو گی"
"دیکھ کر ڈلیٹ کر دونگی"
"ہممم"
"دوبج گئے"
"روز ہی تو بجتے ہیں"
"مجھے نیند آرہی ہے"
"سو جانا"
"مجھے کتنا پسند کرتے ہو"
"جتنا تم مجھے پسند کرتی ہو"
"اور محبت… "
"میں سمجھتا ہوں کہ تم مجھے زیادہ چاہتی ہو… "
"چاہت اور محبت میں فرق ہوتا ہے۔۔۔۔۔
چاہت طلب ہوتی ہے۔۔۔۔ محبت دان دیتی ہے"
"تم ہنستی کیوں نہیں؟ "
"مجھ میں کوئ نہیں جیتا"
"اور میں…؟ "
"تم دل ہو…… ڈھڑکتے "نہیں"
"میں زندہ ہوں"
"ثابت کرو".
"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"لفظ کیوں ڈھونڈ رہی ہو"
"تم جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ لمس چاہتی ہوں"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❧❧❧❧❧❧❧❧❧❧❧
"پشت پر بہت سی آوازیں ہیں…
میں واپس لوٹ رہا ہوں" "میری پکار پہ کیوں آئے تھے"
"تمہاری آواز کی ساحری کھینچ لائ تھی…
پشت کی آواز
تمہاری طرح دلکش نہیں ہے"
"پھر…؟
"مقدر ہے… "
"قبول کر لوگے؟ "
"انکار نہیں کر سکتا۔۔۔۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…۔۔۔۔۔۔۔۔۔
❧❧❧❧❧❧❧❧❧
"سو رہی ہو"
"تم۔۔۔۔۔۔ کتنی راتوں سے نہیں سوئے؟
"میرا سوال نظر انداز کرتی ہو"
"میں تمہاری آنکھوں کی سرخ ڈوریوں کو دیکھ رہی ہوں"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"تمہارا لہجہ کھنڈر سا ہے"
"جزبات سرد نہیں ہوئے"
"چاہتی کیا ہو؟ "
"داہنا ہاتھ کے پُشت پر ایک بوسہ"
"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"یہ خوش فہمی نہیں جاتی… کہ میں کسی کے دل میں ہوں"
"کون ہے وہ کمبخت"
"تمہارے سوا کوئ نہیں"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
"تم آج بھی لفظ چاہتی ہو؟ "
"ہممممم"
"کون سا لفظ ڈھونڈ رہی ہو"
"تقدیر"۔۔
"اسے میں خود لکھوں گی"
"کیا؟"
"میں اور تم"
*فلیش فکشن11*
*عنوان.... ڈالر*
*تحریر... زارا فراز جمشید پور*
جب تک جذبوں کا نور سانسوں میں نہیں اتر جاتا، سورج جیسی پتش بھی پھول بدن کو نہیں جلا سکتی… یہ محض اس کی نجی سوچ تھی، جو اس نے خشک پتوں کی طرح دماغ سے نچوڑ کر شعور کی دینا سے باہر پھینک دیا۔ وہ ہنسی…… جب وحشی سنناٹے نے بڑی بے باکیوں کے ساتھ اسے برہنہ کر کے ساری رات اس کے جسم پر نوکیلی ہتھیلیوں کی تیز دھار پوریاں گاڑ کر سرخ ذائقہ چوس رہا تھا
اسے جوزف کا چہرہ یاد آیا۔ سرخ و سپید رنگت، تازہ شیونگ کئے ہوئے رخسار ، ستواں ناک، چوڑی پیشانی پر لہراتی زلفیں، شرٹ کے گریبان سے ہر وقت جھانکتا کشادہ سینہ جس پر ہلکے ملائم بال۔
"محبت لمس چاہتی ہے" جوزف کہہ رہا تھا اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا وہ حزن سے مسکرایا اس نے نظریں چرا لیں۔ وہ اب اس کے سینے پر انگلیاں پھیر رہی تھی جوزف نے دھیرے سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
"مجھے تم خوش کرنا چاہتی ہو" اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر خاموش رہی
"محبت کرتی ہو" اس کے سامنے ہر بار کا اعتراف جانے کیوں ادھورا رہ جاتا ۔۔۔۔۔ شاید اس لئے کہ اس لمحے، اس کے سچائی اس کے اعتراف سے گم ہو جاتی تھی
"جانتی ہو۔۔۔۔۔۔ جب تک محبت کی خوشبو، لمس بن کر دل پر دستک نہیں دیتی جزبات کی شدت میں کوئی رنگ نہیں آتا، لاکھ اعتراف کر لو لہجہ خالی ہی رہے گا" جوزف نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ لیکن اس کے اندر کا چور لہجہ اس سے خود کلامی کر رہا تھا۔ اس رات، جوزف آخری باراس کے پاس آیا
صرف آنکھیں ہی ملی تھیں جہاں شکوے موجزن تھے
"جب تک جزبوں کا نور سانسوں میں نہیں اتر جاتا، سورج جیسی تپش بھی پھول بدن کو نہیں جلا سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے آنچ دیتے جزبے میرے دل کو چھو نہ سکے " شاید اس کی انا کو چوٹ لگی تھی یا مردانگی مجروح ہوئی، وہ اٹھا بغیر خدا حافظ کہے تیزی سے کمرے سے نکلتا چلا گیا، وہ دیر تک کھولے دروازے کو تکتی رہی، کرتی بھی کیا ہر رات اسے ایسی محبت کی تمثیل کرنی ہوتی ہے۔ لیکن جوزف کے لئے اس کے جزبے اول روز سے متزلزل ہو رہے تھے ادھڑکنیں ایک بار پھر بے قرار ہوئیں۔ ایک دم ہی کسی نے تیز دانت اس کے نرم، دودھیا بازو میں پیوست کر دیا. وہ سسک اٹھی.... جزبوں میں ہیجانی کیفیت طاری ہونے لگیں، سانسیں بے ڈول ہونے لگیں، یہ پھول بننے کا عمل، فضا میں دور تک خوشبو بانٹنے لگا۔ نشے میں ڈوبی آنکھیں رفتہ رفتہ بند ہونے لگیں۔ پھر اس نے وحشی سنناٹے کی باہوں میں اپنی ذات کو سمیٹ کر مدغم کر لیا۔
وقت تھوڑا سا اور سرکا، سحر نو نے اسے چھو کر جگایا، رات والی دارو کا ذائقہ اب بھی اس کے ہونٹوں پر تھا، اس نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر، کوٹ کی جیب کی تلاشی لی۔ پورے ایک سو پچاس ڈالر تھے۔ وہ ایک بار پھر طمانیت سے مسکرائی اور سوچا۔۔۔۔۔۔۔
"جذبوں میں نور تو تب آتا ہے جب ہتھیلیاں گرم. ہوں"
📚 *چند اقوال میری ڈائری سے*
✍🏻 *خوبصورت ہے وہ عورت جو صرف اپنے شوہر کو خوبصورت لگتی ہو*
✍🏻 *بدنصیب ہے وہ عورت جو اپنے شوہر پر بلاوجہ شک کرے اور اپنی بسی بسائی دنیا اجاڑ دے. ..*
✍🏻 *بد نصیب ہے وہ عورت جو حال میں جینے کے بجائے اپنے شوہر کے ماضی میں بار بار جھانکنے کی. کوشش کرے اور کوئی کمزوری پا کر اسے طعنے دے اور اپنے گھر کو جنت بنانے سے محروم رہے*
✍🏻 *منافق ہے وہ شخص جو کسی سچ یا راز کی تلاش میں، جھوٹ کا سہارا لے*
✍🏻 *شوہر اور بیوی کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ "محبت" کا ہوتا ہے. جسے "اعتبار" مذید خوب صورت بنا دیتا ہے*
*زارافراز*
*تحریر :----- زارافراز*
میں سدا سے پھول چننے کے عمل سے گریزاں تھی مگر
وقت نے میرے قدموں پر بھی کچھ بسنت پھولوں کی پنکھڑیاں ڈال دیں میں نےخوشبو کے لمس سے متزلزل ہو کر ہوا کا سہارا لے لیا لیکن کب ہوا نے کسی کو دیرتک تھام رکھا ہے...؟میں ایک بار پھر خوشبو کے حوالے کر دی گئی لوگ سمجھے کہ میں پھولوں کی سہیلی ہوں سو جب میں نے شہرِ گویائی کے. بابِ صدا پر دستک دی تو سخن فہم لوگ رُکے ضرور لیکن پلٹ کر نہیں دیکھا میں تب سمجھی محبت کتنی ہی فراواں ہو طرزِ فُغاں میں جذبوں کا نور ہونا اشد ضروری ہے.......
*تحریر :------- زارافراز*
وہ اکیلی تھی غموں کے دوش میں سانس لیتی ہوئی محبتوں کے پھول چن چن کر زندگی کے آنچل میں سجانا چاہتی تھی مگر اس کا آنچل تار تار تھا سو اس نے آنچل سمیٹ لیا اور ایک طرف چل پڑی اسے ایک ہمدرد کاندھے کی تلاش تھی وہ کاندھا بھی اس کو میسر ہوگیا وہ اس پر سر رکھ کر دیر تک روتی رہی اس کے آغوش میں سمٹ کےاپنی کہانی سناتی رہی بہت دیر کے بعد اسے احساس ہوا وہ جس کے آغوش میں سما کر کہانی سنا رہی ہے وہ تو اس کی زبان سے نا آشنا ہے اس نے اس کا کاندھا چھوڑ دیا وقت نے ایک بار پھر اسے تنہا
اور تہی داماں کر دیا---
*تحریر :------زارافراز*
خودکشی کرنے کا سب سے آسان طریقہ
شاید
کلائی کی شہہ رگ کاٹ لینا ہے
کہ مرتے مرتے
زندگی کا آخری سرخ رنگ
پھر دھیرے دھیرے
موت کے سارے تماشے
دیکھتے جاو۔۔۔۔۔
کہ اس میں مرنے کا مزہ بھی ہے
*عنوان.... دستک*
*تحریر.... زارا فراز*
"عشق نے ہر دور میں اپنے بے لوث جذبات کے ساتھ ہجر و فراق، درد و الم کی سزا پائی ہے.... عشق کی تپسیا جب تک پوری نہ ہو وصل نصیب نہیں ہوتا......... وہ آنکھیں ہی تھیں جس نے حسن یوسف کے عشق میں اسے گرفتار کیا تھا..... اور پھر ان ہی آنکھوں نے فراقِ یوسف میں رو رو کر بے نوری کی سزا پائی تھیں اور جب اس نے یوسف کے رب کو پکارا..... عشق کے در پر خود حسن نے آ کر دستک دی..... "
"آہ...... ایسی ہی کوئی دستک میرے گھر کے ویران دروازے پر ہوتی" سرد آہوں کے ساتھ یہ جملہ اس کی زبان پر حسرت بن کر ابھرا اور پھر کمرے کے خنک و خاموش فضا میں پھیل کر معدوم ہو گیا. اس نے ڈائری کے صفحہ پر قلم رکھا اور ڈائری بند کر کے خود سے پرے کیا اور پھر رائٹنگ ٹیبل سے منسلک کرسی کے پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں.... 'حسن یوسف اور عشق ذلیخا'
کی کہانی ادھوری رہ گئی تھی
کافی دیر وہ آنکھیں موندے لامتناہی خیالوں کے جنگل میں بھٹکتی رہی، پھر اچانک ہی آنکھیں کھلیں، موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا اور آٹھ کر کمرے سے منسلک باتھ روم میں فریش ہونے چلی گئی... پندرہ منٹ بعد وہ جائے نماز پر کھڑی اللہ سے راز و نیاز کر رہی تھی......
...... ہمیشہ کی طرح صادق سے زرا پہلے خنک ہواؤں کے نرم جھونکوں نے اس کے نرم رخسار کو چھو کر جگایا.. فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اس نے چائے بنائی ، چھوٹی سی تشتری میں کچھ بسکٹ اور دو کپ چائے رکھ کرابو امی کے کمرے میں پہنچانا اس کا روزانہ کا معمول تھا.. انہیں چائے دے کر وہ اپنی چائے پیالی میں ڈالی اور اپنے کمرے میں چلی آئی.. رات جو کہانی ادھری رہ گئی تھی اس کو مکمل کرنے کے خیال سے پھر سے رائٹنگ ٹیبل پر آبیٹھی..... ابھی اس نے چائے کی پہلی کش ہی لی تھی کہ موبائل کی ٹون کچھ اس انداز میں بجی جیسے ناخن سے کوئی دروازے پہ دستک دے رہا ہو، اس نے الٹے ہاتھ سے موبائل اٹھا کر وائسپ پر موصول ہونے والے میسج چیک کیا....
"السلام علیکم" نئے نمبر سے میسج تھا وہ ابھی جواب دینے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دوسرا میسج موصول ہوا
" کیا آپ محترمہ سودہ مریم ہیں" اس نے حیرت سے اس اجنبی کے پروفائل کو کھول کر دیکھا جہاں ایک پیارے سے چار پانچ بچے کی تصویر آویزاں تھی ....
"وعلیکم السلام.. جی میں سودہ مریم ہوں.... آپ کون؟" کچھ سوچ کر اس نے جواب کے ساتھ سوال بھی کیا
"میں جمشید پور سے ہوں"
"بھئی جمشید پور سے تو میں بھی ہوں" اس نے مزید حیران ہو کر رپلائی کیا
"جانتا ہوں.... ."
"مگر کیسے؟"
"میں نے رسالوں میں آپ کی تخلیق پڑھی ہے پتہ بھی اسی میں دیکھا"
"میں نے کبھی اپنا فون نمبر رسالوں میں نہیں دیا پھر آپ کو میرا نمبر کیسے ملا؟"
"یہ سوال مت پوچھیں محترمہ، یہ پوچھیں کہ کیوں میسج کیا ہے؟" وہ ہر میسج کے ساتھ اس کی مناسب سے اشارے بھی استعمال کر رہا تھا
" کہیں.. کیوں میسج کیا مجھے....؟" لہجے میں کچھ جھنجھلاہٹ تھی جسے دوسری طرف صاف محسوس کیا گیا
"دیکھیں محترمہ سودہ صاحبہ میں نے آپ کو تنگ کرنے کے غرض سے ہرگز میسج نہیں کیا ہے. میں آپ کا پرانا قاری ہوں. کئی رسائل میں آپ کے ناولز پڑھے ہیں.... مجھے آپ کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے میں. نے دیکھا ہے آپ کے ناولز کا مرکزی کردار بہت ہی جاندار ہوتا ہے... لڑکا بہادر خوب صورت عالی ظرف ہوتا ہے.. آپ اپنے ناولز میں ایسی لڑکی کی مورت تراشتی ہیں جو بالکل میرے خوابوں کی شہزادی جیسی ہوتی ہیں...... آپ کے ناولز یا تو معاشرتی ہوتے ہیں یا اصلاحی.... ہر طرح کے ناولز مجھے پسند آتے ہیں...میں آپ کو نیٹ کے ذریعہ بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتا رہتا ہوں....... بہت دنوں سے آپ کو اپنے دل کے تاثرات پیش کرنا چاہ رہا تھا مگر آپ تک پہنچنے کا کوئی سبیل نہیں تھا.. بہت مشکل سے آج..... " اس نے میسج ادھورا چھوڑ دیا تھا
" پھر؟ "
" مجھے نیک ، ہم درد، حساس دل لڑکی کی تلاش ہے. بالکل آپ کے ناول 'میرے تم' کی ہیروئن جیسی......." اس لڑکے کے اس میسج پر بے ساختہ اس کی ہنسی چھوٹ گئی
"جناب! وہ محض کہانی کا ایک کردار ہے. اس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے"
"میرا دل کہتا ہے تم بالکل ویسی ہی ہو" اس لڑکے کا اچانک "تم" کہنا اسے بالکل اچھا نہیں لگا اس نے جواب دئے بغیر ہی ڈیٹا نیٹ آف کر دیا.........!!
'حسن یوسف اور عشق ذلیخا' کی کہانی ایک بار پھر ادھوری رہ گئی. وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی جہاں بہت سارے کام اس کے منتظر تھے، اس نے سیلقے سے کام کا آغاز کیا. ناشتے کے بعد تیزی کے ساتھ گھر کی صفائی پھر جلدی جلدی دوپہر کے کھانے تیار کئے اور پھر باتھ روم سے فارغ ہو کر ظہر کی نماز پڑھی. امی ابو کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دو بج گئے، برتن سمیٹے سمٹے ٹیوشن لینے کے لئے بچے آگئے. پھر ڈھائی گھنٹے تک پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر وہ بچوں کو بڑے پیار سے پڑھائی رہی... عصر سے مغرب کے درمیان وہ ابو امی کے ساتھ باتوں میں مشغول تھی.. مغرب کے بعد رات کے کھانے کی تیاری پھر سارے کام اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں آئی تو واٹس اپ میسج دیکھنے کا خیال آیا ڈیٹا آن کے وہ مطالعے میں مشغول ہو گئی لیکن موبائل پر مسلسل میسجز کی بیپ سن کر اس نے کتاب بند کی اور موبائل ہاتھ میں اٹھا لیا......
"شاید برا لگا آپ کو"
"ارے محترمہ آپ تو سچ مچ ناراض ہو گئیں ڈیٹا بھی آف کر دیا"
"ساری.... ساری..... ساری.... معذرت چاہتا ہوں سودہ صاحبہ" ساتھ ہی معافی کا اشارہ دیا تھا اس کے ہونٹوں پر مہیم سی مسکراہٹ ٹھہر گئی
" میں سچ مچ شرمندہ ہوں پتا نہیں کیسے آپ کی جگہ تم کہہ دیا آئندہ خیال رکھوں گا... پلیز معاف کر دیں اور رپلائی دیں" یہ سارے پیغامات ڈیٹا آف کرنے بعد کے تھے جو اسے اب موصول ہوئے تھے.. چند سیکنڈ گزرے تھے کہ اسکرین پر وہ آن لائن دکھائی دینے لگا.. اب وہ ٹائپ کر رہا تھا. اگلے تین سیکنڈ کے بعد اس کا نیا پیغام سامنے تھا
"السلام علیکم. شکر خدا آپ آن لائن ہیں. میں تو سمجھا تھا کہ مجھے بلاک کر دیا گیا ہے"
"آپ کا نام؟ " اس نے نپے تلے الفاظ میں رپلائی میں صرف سوال ہی کیا
" بن عمر"
"والد کا نام نہیں اپنا نام بتائیں"
"ابو طلحہ..... "
" میں آپ کے بیٹے کا نام نہیں، آپ کا نام پوچھ رہی ہوں.."
"فی الحال میں بن عمر کے نام سے پکارا جاتا ہوں مستقبل میں مجھے ابو طلحہ کہا جائے گا" پہلے تو وہ اس کی بات پر حیران ہوئی اور پھر کچھ سمجھ کر مسکرائی
"کیا میں آپ سے میسج میں باتیں کر سکتا ہوں؟ کوئی دشواری تو نہیں ہوگی؟"
"اب جا کر اجازت کا خیال آیا؟ اتنی دیر سے کیا کر رہے تھے؟ "
" الفاظ تول رہا تھا" اس کا رپلائی بہت ہی فاسٹ آتا تھا
"اچھا اجازت دیں اس وقت مجھے بہت کام ہے" اس نے بیزاری سے میسج کیا
" ابھی سونے کے وقت کیا کام ہے؟ " عجیب لڑکا تھا باتوں سے باتیں نکال رہا تھا
" مطالعہ کرنا ہے. اور پھر ایک کہانی مکمل کرنی ہے، " سنجیدگی سے جواب دیا
" میں کل پھر میسج کروں گا" اس نے جواب نہیں دیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئی..
اسے کے روز کے معمولات ایک جیسے تھے..... وہ اپنے آپ میں مگن اور مطمئن رہنے والی لڑکی تھی بس اس سے ماں باپ کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی تھی... ان کی سب سے بڑی پریشانی وہ خود تھی... جب وہ ماں کے چہرے پر اپنے لئے فکر مندی اور باپ کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھتی تو اپنا ہی وجود، اسے بوجھ لگنے لگتا. ... وہ اپنی ذات کے احتساب میں مشغول ہو جاتی اور اپنا قصور تلاش کرنے لگتی پھر اداس اداس سی ہو کر ڈائری میں کچھ لکھنے لگتی یا پھر رب کے حضور میں کھڑی ہو جاتی.......
*باقی آئندہ*
*معراجِ دعا*
*زارا فراز*
دستک دیتے ہی اندر سےآواز آئی
"دروازہ کھلا ہے… آجاو"
"تمہیں یقین تھا میرے آنے کا؟ "
"بالکل"
"کیسے.…؟ "
"برسوں تمہاری یار میں ڈوبا رہا
سوچتا رہا
کل شب… اچانک رب یاد آگیا
ادراک ہوا… تمہیں سوچنے سے بہتر ہے
رب سے تمہیں مانگ لوں
تمام رات کروٹیں بدلنے کے عمل سے بیزار رہا
اٹھ کر دعا اور سجدے میں مشغول ہو گیا"
وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھتی رہی
لبوں پہ خاموشی کانپ رہی تھی… پھر بہت مشکل سے ٹوے ہوئے الفاظ اس کے ہونٹوں پر بکھر گئے......
"تمہاری دعا صرف فصیل کی بلندی تک پہنچی تھی… جسے پھلانگ کر میں یہاں تک آئی ہوں
دعا گر عرش سے چھوٹی …
تو ہم جنت میں ملتے…!! "
*39*
*شیر کی آخری دہاڑ*
*تحریر... زارا فراز*
"شیر...... شیر...... "
" ابھی میں نے شیر دیکھا"
"کہاں....کہاں؟ "
" کس طرف؟ "
"ادھر جنگلے کے پاس" کوئی ہکا بکا سا فام ہاوس کے طویل راہداری سے بھاگتا ہوا کہہ رہا تھا... آواز سن کر میں خنسا کو کے کر اپنے کمرے سے باہر آئی. باہر ہر طرف افراتفری کا ماحول تھا ہر کوئی بھاگ کر اپنے پناہ گاہوں میں محفوظ ہونے کی کوشش کر رہا تھا فارم ہاوس کے سارے دروازے تیزی سے بند ہونے لگے....
دور تک بچھی ہوئی لمبی سڑک کے کنارے قدیم طرز پہ بنی ہوئی تین منزلہ عمارت جو فارم ہاوس کے نام سے مشہور تھی، جس کے ایک جانب شفاف نہر اور دوسری سمت گھنا جنگل تھا.. فام ہاوس کے چاروں سمت بغیر سلاخوں اور، شیشے کی دو پٹوں والی کھڑکیاں کھلتی تھیں.. جس سے اطراف کے نظارے بہت ہی دلکش نظر آتے تھے ... میں نچلی منزل میں تھی میرے کمرے کی کھڑی جس جانب کھلتی تھی. اس طرف کشادہ سے میدان، جس کے ختم پر بہت ہی گھنا جنگل شروع ہوتا تھا. دن کے وقت تو یہ سارے مناظر بہت خوبصورت لگتے مگر جیسے جیسے شام اترتی، جنگل کے درخت پیڑ پودے عجیب و غریب حیوانات کی شکل اختیار کر جاتے، تب اس طرف دیکھتے ہوئے بھی ڈر سا محسوس ہوتا. شام ہوتے ہی میں شیشے کی کھڑکی پہ پردے ڈال دیتی، تاکہ اس طرف نظر نہ پڑے....
"لوگوں ہوشیار... شیر آس پاس ہی گھوم رہا ہے... آپ کی جان کو خطرہ ہے سب لوگ کمرے کے اندر رہیں. باہر ہرگز نہ نکلیں"
لوگ چیخ رہے تھے
" اپنے کمرے میں جائیں... دروازے اور کھڑکیاں مضبوطی سے بند لیں..." میں ابھی لوگوں کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کے ایک شخص نے مجھے دھکے دے کر کمرے کے اندر کر دیا..
"دروازہ بند کر لو اندر سے...."
"میں خنسا کو گود میں لئے گرتے گرتے سنبھلی .... تب ہی شیر کی زور دار دہاڑ سن کر خوف کے مارے خنسا مجھ سے چمٹ گئی.. میں بھی سہمی سہمی سی خنسا کو خود سے لگائے بیڈ پر بیٹھی رہی.. لوگوں کے چلانے کی آوازیں اب بھی آرہی تھیں. جب جب شیر دھاڑتا فام ہاوس کا کوئی بچہ چیخ کر رونے لگتا... کمرے کے باہر بھاگ دور اور قدموں کی آہٹ آنا بند ہوگئی تھی.... ماحول رفتہ رفتہ شانت ہو گیا تھا میں نے الماری سے بسکٹ نکال کر خنسا کو کھلایا اور خود بھی کھائی. کچھ ہی دیر کے بعد وہ میری گود میں ہی سو گئی.. مجھے بھی نیند آنے لگی اور رات کے جانے کس پہر میری آنکھ لگ گئی.... پتہ نہیں کتنے ساعتیں گزریں... چڑیوں کی چہچہاہٹ سے میری آنکھیں کھلیں. خنسا گود میں نہیں تھی... وہ کمرے میں بھی نہیں تھی. چند سیکنڈ میں میرا ذہن جیسے ہی بیدار ہوا میرے منہ سے چیخ نکل گئی.
"خنسا.... خنسا"
میرا بیڈ، کھڑکی سے منسلک تھا جس کا پٹ کھلا ہوا تھا. جو اتنا کشادہ تھا کہ ایک آدمی آرام سے درمیان سے گزر کے دوسری طرف جا سکتا تھا. کھڑکی کے باہرصبح کافی اجالا پھیل چکا تھا....
"خنسا" میں کھڑکی کے پاس آئی. اور یہ دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا کہ خنسا جانے کیسے کھڑکی کے ذریعہ دوسری سمت اتر چکی تھی. اب وہ ہراساں سی بیچ میدان میں کھڑی رو رہی تھی. اور خوف ناک شیر دھاڑتا ہوا اس سے محض دس قدم کے فاصلے پر تھا...
"خنسا.... میری خنسا"
"میری خنسا کو بچاؤ.. اے اللہ میری خنسا کو بچا لیجئے..... " میں دیوانہ وار چیخی جا رہی تھی.. میں کتنی بے بس تھی کہ اپنی بیٹی کو موت کے منہ پہ کھڑی دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہی تھی... لیکن میں اسے شیر کے لقمہ نہیں بنتے دیکھ سکتی تھی.. مجھے اپنی بچی کو بچانا تھا. میں کھڑکی پر چڑھ کر دوسری سمت اترنے والی تھی کہ کسی نے میرا بازو تھام لیا!
میں نے وحشت زدہ سی پلٹ کر دیکھا یہ وہی مرد تھا جس نے رات مجھے کمرے اندر ڈھکیلا تھا...
"پاگل عورت رکو کیوں جان کو خطرے میں ڈالتی ہو"
"میری بچی کی جان خطرے میں ہے مجھے چھوڑو" میں نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا اور تیزی سے کھڑکی کے پار اتر گئی.. اور تیزی سے خنسا کی طرف دوڑی. اس سے پہلے کے شیر خنسا پہ جھپٹنا، میں نے خنسا کو تھام لیا.. شیر نے دھاڑتے ہوئے ہم پر چھلانگ لگائی، میں خنسا کو لے کر زمین پر گری، شیر میرے اوپر... .....
اسی لمحے ایک دل خراش چیخ کے ساتھ میری آنکھیں کھل گئیں.. میں پسینے میں تربتر، سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں اور دھڑکن معمول کی رفتار سے بڑھ کرچل رہی تھی... خوف و ہراس میرے اندر پھیلا ہوا تھا کمرے میں مکمل خاموشی اور نیم اجالا.... خنسا میرے سینے پہ سر رکھے طمانیت سے سو رہی تھی... میں نے بے اختیار اس کی پیشانی چوم. لی........
No comments:
Post a Comment